Skip to content
سود کی نحوست عزت و عصمت کے بعد جان بھی محفوظ نہیں!!!
✍️ ذوالقرنین احمد
چکھلی ضلع بلڈانہ میں گزشتہ روز ایک خاتون نے قرض کے معاملے سے پریشان ہوکر کنویں میں کود کر خودکشی کرلی۔ پھوکٹ پورہ علاقے میں 30 سالہ خاتون نے صرف تیس ہزار روپے کی رقم قرضہ دلانے میں مدد کی تھی یعنی گیرنٹر تھی لیکن سامنے والے کے قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے جس سے قرض لیا گیا تھا وہ اس خاتون گیرنٹر کو گھر پر آکر دھمکیاں دینے لگے، بار بار ذہنی تشدد کی وجہ سے خاتون نے کنویں میں کود کر اپنی جان گنوا دیں۔ یہ ہمارے شہر کوادوسرا واقعہ ہے ۔ ناجانے ایسے کتنے واقعات ہوگے جو منظر پر آنے نہیں دییے جاتے ہیں کیونکہ اس میں کوئی بڑا چہرہ چھپا ہوا ہوتا ہے جو سسٹم کے افراد کو ہینڈل کرتا ہے۔
آج معاشرے میں سودی کاروبار انتہائی عروج پر ہے بلکہ بے روزگار نوجوان بھی اب سود پر قرض دینے کو ہی اپنا کاروبار بنا چکے ہیں۔ اور بھاری فی صد پر سودی کاروبار شروع ہے۔ اس میں بڑے بڑے سرمایہ کار چھوٹی چھوٹی پرائیویٹ کمپنیوں اور کریڈیٹ سوسائٹی کے ذریعے سودی قرض بڑی آسانی سے فراہم کر رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں صرف آدھار کارڈ اور بین کارڈ کے ذریعے آسانی سے موبائل ایپس لیکیشپر قرض فراہم کیا جا رہا ہے، اور نوجوان موبائل اور بائیکس وغیرہ کے لیے جوا سٹہ کھیلنے کے لیے سود پر سود لیتے جارہے ہیں۔
ہمارے معاشرہ میں سود ایک ناسور بن چکا ہے ہر دوسرا شخص قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے وہ اپنی محنت اور خون پسینے کی کمائی سود خوروں کے جیبوں میں اور بینکوں میں بھر رہے ہیں۔ نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے چھوٹے چھوٹے پروگرام رسم، شادی وغیرہ کے موقعوں پر سود سے رقم حاصل کی جارہی ہیں اور اس کی بھر پائی کرتے کرتے انسان کی عمریں نکل جا رہی ہیں لیکن اصل رقم ادا ہونے کا نام نہیں لی رہی ہیں۔ آج معاشرے پر نظر ڈالی جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ لوگ اپنی اوقات سے بڑھ کر شوق پورے کرنے اور اپنے بچوں کی نفسانی خواہشات کی تکمیل دکھلاوے کے لیے بچت گٹ اور فائننس سے پیسہ لے رہے ہیں، لیکن ادا کرنے کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں ہے نہ ہی کوئی انکم سورس ہے۔
بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے،مہنگائی انتہا پر پہنچ چکی ہے لیکن ہم ذرا سی خواہشات کی تکمیل کے لیے لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کا کام کر رہے ہیں اتنا ہی نہیں بلکہ ہم اپنے گھروں کے امن و سکون کو برباد کر ہے ہی، اور تباہی کیوں نہ ہو جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سود کھانے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے تمام کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور وہ ہی اس کائنات کی تمام تر بھلائیوں اور برائیوں سے باخبر ہے اور جب اپنے بندوں سے کہ رہا ہے کہ سود حرام ہے تو پھر انسانوں کو چاہیے کہ وہ بلا تردد اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے سودی کاروبار سے دور رہیں۔
یہ سودی نظام یہودیوں کا تیار کیا گیا پروپیگنڈا ہے جس کے ذریعے وہ انسانوں پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ انہیں اپنا غلام بنا سکے ۔خصوصا مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کرکے انہیں قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر ان کی نسلوں کے اندر سے ایمانی غیرت و حمیت کو ختم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اور وہ اپنے پروپیگنڈا میں کامیاب ہوتےنظر آرہے ہیں۔ سودی لین دین دراصل انسانیت کو اس کے اشراف المخلوقات کے درجے سے گرا کر حیوان بننے پر مجبور کردینا ہے تاکہ وہ انسانوں کا خون پینے والے بن جائیں۔
سود کے تعلق سے بڑی خطرناک وعیدیں آئی ہیں
نبی کریم ﷺ نے خون کی قیمت ، کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اور سود لینے والے اور دینے والے ، گودنے والی اور گدوانے والی ( پر لعنت بھیجی ) ۔ (صحیح بخاری 5945)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔‘‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا :’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔‘‘ (صحیح مسلم: 262 )
معاشرہ کو سود کی نہوست سے پاک کرنے کے لیے شہر کے غیور ایمانی غیرت و حمیت رکھنے والے افراد کو کھڑا ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ ایک ایسا بلا سودی نظام قائم کیا جا سکے جس کے ذریعے سے ملت کے مرد و خواتین کو خودکفیل بنایا جائے اور سودی قرضوں میں ڈوبے ہوئیں افراد کو اس نہوست سے پاک کیا جاسکے۔ سونے چاندی یا گھر کے کاغذات کو ڈپاذٹ کروا کر بلا سودی قرض دینے کے لیے چھوٹے سے پیمانے پر بلا سودی بینک کے نظام کی شروعات کی جائے ورنہ ہنستے کھیلتے گھر ہماری آنکھوں کے سامنے تباہ و برباد ہوتے رہ گے بچے یتیم ہوتے رہے گے خواتین کی عزتیں و عصمتیں تار تار ہوتی رہی گی، خودکشیوں کو یہ سلسلہ دراز ہوتا رہ گا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے سود سے ہماری حفاظت فرمائے۔
8/5/2026
Post Views: 32