Skip to content
پہلے بھی شکستوں پہ کھائی تھی شکست اس نے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
دنیا بھر کے ممالک میں وزارتِ دفاع ہوا کرتی ہے تاکہ اگر کوئی حملہ کرے تو اپنی مدافعت کی جائے یا اس کا جواب دیا جائے لیکن امریکہ میں وزارتِ جنگ ہوتی ہے کیونکہ کوئی اس پر تو حملہ نہیں کرتا لیکن وہ دوسروں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ کر آئے تھے امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کی خاطر اسے دنیا بھر میں دلچسپی لینے یعنی جنگ وجدال کرنے کے بجائے اپنے وسائل کو خود امریکہ کے اندر اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا چاہیے۔ اس ارادے نے امریکہ کے اندر اور باہر خوشی کی لہر دوڑا دی کیونکہ اندر والوں نے سوچا کہ ہم حکومت کے خیر سے استفادہ کریں گے اور باہر والوں نے چین کا سانس لیا ، اس توقع میں وہ امریکی شر سے محفوظ رہیں گے۔ صدر ٹرمپ کا یہ وعدہ جملہ نکلا ۔ انہوں نے پہلے تو وینزویلا کے صدر مودورو کو اغوا کرلیا اور ایران پر یکے بعد دیگرے دو حملے کرڈالے۔ اس بابت پینٹاگون کے معمر مالیاتی عہدیدار جولیس جے ہرسٹ نے ہاؤس آف آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں امریکی فوج نے تقریباً 25 بلین ڈالر خرچ کیے ۔ اس خرچ کا بیشتر حصہ گولہ بارود پر ہوا البتہ مرمت، نگہداشت اور یا آلات کی تبدیلی پر بھی کچھ رقم خرچ کی گئی۔ اس خطیر خرچ سے امریکہ اور ایران یا دنیا کو کیا ملے گا ؟ اس سوال کا جواب ساری دنیا کے لوگ ٹرمپ انتظامیہ سے پوچھ رہے ہیں۔
وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو ایوان پارلیمان ( کانگریس) میں مسلح خدمات کی کمیٹی کے سامنے محکمہ دفاع کے لیے مالی سال 2027 کے بجٹ کی منظوری کے لیے حاضر ہونا پڑا۔اس موقع پر کچھ ارکانِ پارلیمان نے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کردی ۔ اس سے ہیگسیتھ کے پیٹ میں درد ہونے لگا توانہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کرنے والے قانون سازوں کو "سب سے بڑا(یعنی ایران سے بھی) دشمن” قرار دےدیا۔ انہوں نے اتنہائی طیش کے عالم میں کہا، "سب سے بڑا چیلنج اور سب سے بڑا دشمن جس کا ہمیں اس وقت سامنا ہے وہ کانگریس کے ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکن ارکان بھی ہیں جو غیرذمہ دارانہ اور گھٹیا بیانات دیتے رہتے ہیں۔” ہیگسیتھ کا دعوی تھا کہ” یہ جنگ امریکی مفادات کے لیے بہت ضروری ہے اور ان کے بقول ٹرمپ میں ہی یہ ہمت تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائيں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ” اس دلیل کے جواب میں رکن کانگریس سارہ جیکبز نے وزیر دفاع سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صدر ذہنی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری نبھا سکیں؟‘ اس پرپھر ایک بار پیٹ ہیگستھ بپھر گئے اورجوابی سوال کردیا کہ کیا آپ نے یہی استفسار چار سال تک جو بائیڈن کے بارے میں بھی پوچھا تھا؟ آپ نے ایسا نہیں کیا۔ پیٹ ہیگستھ نے مزید پوچھا کہ آپ اور آپ کے ڈیموکریٹس ساتھی ایک ایسے صدر کا دفاع کرتے رہے جنھیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی۔اس کا یہ جواب سامنے آیا کہ جو بائیڈن سنہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار نہیں تھے۔ اس طرح ایک آپسی جنگ چھڑ گئی۔
پیٹ ہیگسیتھ کی اس دھونس دھمکی کا نہ تو کمیٹی کے ارکان پر کوئی اثر ہوا اور نہ باہر احتجاج کرنے والے مظاہرین متاثر ہوئے۔ پیٹ ہیگسیتھ کے جواب میں ایوان نمائندگان کے معمر ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے کہا کہ میں پینٹاگون کے اس دعوے کو انتہائی مضحکہ خیز سمجھتا ہوں کہ ہماری اسٹریٹیجی حقیقت پسندانہ ہے، کیونکہ ایران کے خلاف جنگ ہمیں حقیقت پسندی کے عین مخالف دکھائی دیتی ہے۔ ایڈم اسمتھ نے ہیگسیتھ سے پوچھا کہ آخر ٹرمپ انتظامیہ کے اس تنازعے کے پس پردہ مقاصد کیا تھے؟کیونکہ ان کے مطابق جنگ کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں اول تو مقصد غیر واضح ہے اور بہت زیادہ خرچ اس میں بدعنوانی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ہیگسیتھ نے اس استفسار کے جواب میں کہا کہ دنیا کی سب سے مضبوط اور قابل ترین فوج کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بجٹ ضروری ہے۔ ہیگسیتھ نے اعتراف کیا فی الحال امریکہ کو "متعدد محاذوں پر پیچیدہ خطرات ” کا سامنا ہے۔ کاش کے ہیگسیتھ یہ بھی بتاتے کہ خطرات کون اور کیوں پیدا کررہے ہیں کیونکہ وینزویلا ، گرین لینڈ، ایران کے بعد اب صدر ٹرمپ کیوبا کا محاذ کھولنے کے لیے پرتول رہے ہیں۔ اس طرح دنیا بھر میں پریشانیوں کے علاوہ امریکہ کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا ۔
امریکی دفاعی بجٹ کے اس خصوصی اجلاس میں سماعت کے دوران ڈیموکریٹک رکن کانگریس جان گریمینڈی نے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صدر اور وزیر جنگ پہلے دن سے امریکی عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ جنگ کر کے مشرق وسطیٰ کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ ایرانی قیادت اور ایران کی فوجی صلاحیت آج بھی قائم ہے۔ امریکہ کے 13 فوجی ہلاک، سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ تنازع نے ایران کے چین، روس اور شمالی کوریا سے تعلقات کو مضبوط کر دیا ہے۔ ایران سے جنگ امریکہ کا خود کو لگایا گیا زخم ثابت ہو رہا ہے۔وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ڈیموکریٹک رکن کانگریس جان گریمینڈی کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں امریکی مخالفین کو پروپیگنڈے کا مواد فراہم کریں گی، مسٹر جان گریمینڈی ٹرمپ سے نفرت نے آپ کو اندھا کردیا ہے۔کانگریس کمیٹی کے اجلاس کی خبر ملی تو جنگ مخالف مظاہرین بھی وہاں پہنچ گئے۔ دفاعی بجٹ کی سماعت کے دوران چیمبر کے باہر بڑی تعداد میں جو ارکان موجود تھے وہ سماعت میں شرکت کا مطالبہ کر رہےتھے۔ ان لوگوں کو جب اس کا موقع نہیں ملا تو انہوں نے اجلاس سے باہر نکلنے پر امریکی وزیر جنگ کا استقبال نعروں سے ہوا ۔مذکورہ بالا پیش رفت شاہد ہے کہ ایران کی اس جنگ یا اس میں شکست نے امریکہ کے اندر کھلبلی مچادی ہے ۔
اس شدید احتجاج اور نعرے بازی کرنے والوں نے وزیر دفاع کو گھیرکرانہیں “جنگی مجرم” کے لقب سے نوازہ اور ایسا کرنے والی امریکی خاتون صحافی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ۔ وہ ہتھکڑیاں ہاتھ میں لے کر مستقبل میں گرفتاری کی دھمکی دے رہی تھی ۔ اس پیشی کے دوران امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن نے صدر ٹرمپ کے ذاتی سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کی نامناسب اور مضحکہ خیز پوسٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے عقب میں ایک معاون صدر ٹرمپ کے کٹ آؤٹس اٹھا رکھے تھے۔ان پوسٹرز میں اے آئی(جعلی ذہانت) سے تیار کردہ وہ تصویر بھی شامل تھی جسے بعد میں صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹس سے حذف کر دیا تھا لیکن تب تک وہ کافی وائرل ہوچکی تھی اور اس پر مذہب کا مذاق اُڑانے اور دل آزاری کا الزام لگا تھا۔اس پوسٹ میں اے آئی کی مدد سے خود کو مسیحا نما انداز میں دکھایا گیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے کہا تھا ان کی شبیہ مردے میں جان ڈالنے والے حضرت عیسی ؑ کے طورپر نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر کا ہے۔وزیر جنگ اس احتجاج سے اتنے ڈر گئے کہ انہوں نے نہ تو مظاہرین کے نعروں پر کوئی تبصرہ کیا اور نہ ہی میڈیا کے سوالات کا جواب دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد امریکی وزیر دفاع نے باضابطہ طور پر ایوان نمائندگان کے سامنے گواہی دی، تاہم اجلاس کے آغاز ہی میں ہونے والے احتجاج نے اس اہم پیشی کو متنازع بنا دیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد نے وزیر دفاع کو گھیر کر انہیں ’’جنگی مجرم‘‘ کے طور پر بھی مخاطب کیا ۔
اس جنگ کو ابھی تک صرف دو ماہ ہوئے ہیں جبکہ ماضی میں عراق، افغانستان اور ویتنام کی جنگیں کافی طویل چلی تھیں مگر اس طرح کی بے چینی نظر نہیں آئی تھی۔ اس بار ڈیموکریٹس اور کچھ ری پبلیکنز ارکان بھی جنگ مخالف ،حوصلہ شکن اور لاپروائی کا الزام لگا رہے ہیں۔ اس بابت کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف نےایران جنگ کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت دینے کے لیےایک قرارداد بھی پیش کی تھی مگر 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہوگئی ۔ اس طرح امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی چھٹی کوشش بھی ناکام ہوگئی۔ اب تو امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے اعلان کردیا کہ ایران جنگ قانونی ڈیڈلائن کے باوجود بھی جاری رہ سکتی ہے لیکن اسے جاری رکھنا اب امریکہ کے بس کی بات نہیں۔ موجودہ جنگ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کا پول بھی کھول کر رکھ دیا ہے اور یہ ثابت کردیا ہے کہ ان بزدلوں کے سامنے جو ڈٹ جائے تو یہ دم دبا کر وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔ آج پوری دنیا امریکہ کی شکست کا نظارہ اپنے آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ امریکہ اس سے پہلے ویتنام ، افغانستان اور عراق میں شکست فاش سے دوچار ہورچکا ہے مگر ایران میں اس کی ناکامی پر یہ شعر صادق آتا ہے؎
پہلے بھی شکستوں پہ کھائی تھی شکست اس نے
لیکن وہ تیرے ہاتھوں ہارا،تو بہت رویا
Post Views: 56