Skip to content
مسلمانوں کی خاموش ناراضی یا کانگریس کیلئے آخری سیاسی انتباہ؟
داونگیرے جنوب کے نتائج نے کئی سیاسی بھرم توڑ دیے
از: عبدالحلیم منصور
کرناٹک کے حالیہ ضمنی انتخابات، خصوصاً داونگیرے جنوب اسمبلی حلقے کے نتائج نے ریاستی سیاست کے کئی پردے چاک کر دیے ہیں۔ بظاہر کانگریس اپنی روایتی نشست بچانے میں کامیاب رہی، لیکن اگر نتائج کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ کامیابی دراصل ایک خاموش سیاسی انتباہ، بڑھتی ناراضی اور مستقبل کے خطرات کی واضح علامت دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں ہونے کے باوجود وہ سیاسی جوش، اعتماد اور جشن اس کامیابی کے بعد نظر نہیں آیا جو عام طور پر حکمراں جماعت کی فتح کے بعد دکھائی دیتا ہے۔
داونگیرے جنوب کا نتیجہ دراصل مسلمانوں کے سیاسی صبر، ناراضی اور شعوری انتباہ کا مجموعہ ہے۔ یہ حلقہ روایتی طور پر کانگریس اور خصوصاً شامنور خاندان کا مضبوط سیاسی قلعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں کانگریس نے تقریباً 27,888 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی، مگر اس مرتبہ وہی نشست صرف تقریباً 5,708 ووٹوں کے فرق سے بچائی جا سکی۔ کانگریس امیدوار سمرتھ شامنور کو تقریباً 69,578 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی امیدوار سری نواس داس کریپا 63,870 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ سب سے اہم اور معنی خیز پہلو یہ رہا کہ ایس ڈی پی آئی نے تقریباً 18,975 ووٹ حاصل کیے، جبکہ گزشتہ انتخاب میں اس کی موجودگی تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔
یہ اعداد و شمار محض انتخابی تفصیل نہیں بلکہ سیاسی مزاج کی تبدیلی کا اشارہ ہیں۔ اگر گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں دیکھا جائے تو کانگریس تقریباً 22 سے 25 ہزار ووٹ کھو چکی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے کانگریس قیادت کو اندرونی طور پر پریشان کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ووٹ گئے کہاں؟ اس کا سیدھا جواب یہی ہے کہ ان میں بڑی تعداد اُن مسلمانوں کی تھی جنہوں نے اس مرتبہ کانگریس کو ایک “خاموش مگر سخت سیاسی پیغام” دینے کا فیصلہ کیا۔
داونگیرے میں مسلمانوں کا مطالبہ یہ تھا کہ جس حلقے میں ان کی فیصلہ کن تعداد موجود ہے وہاں کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے۔ یہ مطالبہ نہ غیر منطقی تھا، نہ غیر جمہوری اور نہ ہی پارٹی دشمنی پر مبنی تھا، بلکہ یہ نمائندگی، سیاسی شمولیت اور جمہوری حق کا فطری مطالبہ تھا۔ لیکن کانگریس نے ایک مرتبہ پھر خاندانی سیاست کو ترجیح دی اور شامنور خاندان کے ناتجربہ کار نوجوان امیدوار کو میدان میں اتارا۔ اس فیصلے نے مسلم قیادت اور کارکنوں میں شدید ناراضی پیدا کی۔ مسئلہ صرف ٹکٹ نہ دینا نہیں تھا بلکہ اس کے بعد مسلم قائدین کے ساتھ اختیار کیا گیا رویہ زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا۔
اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟،کانگریس اور اس کے حامی حلقے مسلسل یہ جواز پیش کررہے ہیں کہ چونکہ یہ ضمنی انتخاب تھا، اس لیے متوفی رکن کے خاندان کو ٹکٹ دینا ایک سیاسی روایت ہے، اور باگلکوٹ میں بھی آنجہانی ایچ وائی میٹی کے فرزند کو ہی ٹکٹ دیا گیا۔بظاہر یہ دلیل مناسب محسوس ہوسکتی ہے، لیکن زمینی حقائق اس دلیل کو کمزور بلکہ بے معنی بنا دیتے ہیں۔باگلکوٹ اور داونگیرے کا تقابل سرے سے درست ہی نہیں۔ ایچ وائی میٹی کے خاندان میں کوئی دوسرا منتخب نمائندہ موجود نہیں تھا۔ ان کے انتقال کے بعد سیاسی وراثت سنبھالنے کیلئے ان کے فرزند کو موقع دیا گیا، جسے عوام نے قبول بھی کیا۔ لیکن داونگیرے میں صورت حال مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہاں آنجہانی شامنور شیوشنکرپا کے خاندان کا پہلے ہی ضلع کی سیاست، اقتدار اور نمائندگی پر غیر معمولی اثر و رسوخ قائم ہے۔ان کے فرزند ایس ایس ملیکارجن ریاستی کابینہ میں بااثر وزیر اور ضلع انچارج کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی بہو ڈاکٹر پربھا ملیکارجن رکنِ پارلیمان ہیں، اور اب اسی سیاسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے خاندان کی نئی نسل سے سمرتھ شامنور بھی اسمبلی تک پہنچ گئے ہیں۔ یوں وزارت، پارلیمنٹ، اسمبلی اور ضلعی سیاسی اثر و رسوخ ایک ہی خانوادے کے گرد مرتکز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر داونگیرے جنوب جیسے مسلم اکثریتی حلقے سے مسلمان اپنی سیاسی نمائندگی کا مطالبہ کریں تو اسے بغاوت یا پارٹی مخالفت کے طور پر کیوں دیکھا جائے؟
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے جائز مطالبے کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے اسے “پارٹی ڈسپلن” کا مسئلہ بنا دیا گیا۔ مسلم قیادت نے جب سوال اٹھایا تو ان کے خلاف دھڑا دھڑ کارروائیاں شروع ہوئیں۔ کسی کو معطل کیا گیا، کسی کو عہدے سے ہٹایا گیا اور بعض کو سیاسی طور پر بے اثر بنانے کی کوشش کی گئی۔ گویا مسلمانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ صرف ووٹ دیں، سوال نہ کریں؛ ساتھ کھڑے رہیں مگر حصہ مانگنے کی جرأت نہ کریں۔
مزید افسوسناک پہلو یہ رہا کہ بعض مسلم لیڈروں نے بھی وقتی مفاد، ذاتی قربت اور محدود سیاسی فائدے کیلئے اس فیصلے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پارٹی کو آئینہ دکھانے اور مسلمانوں کے اجتماعی موقف کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنی ہی مسلم قیادت کو کمزور کرنے کی راہ اختیار کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنی ہی قیادت کو کمزور کرنے لگے تو دوسروں کو اسے نقصان پہنچانے کیلئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔
اس پورے معاملے میں کانگریس کا دوہرا معیار بھی کھل کر سامنے آیا۔ یہی آنجہانی شامنور شیوشنکرپا ماضی میں شیموگہ لوک سبھا انتخابات کے دوران برسرعام ذات کی بنیاد پر بی جے پی امیدوار بی وائی راگھویندرا کے حق میں ووٹ مانگ چکے تھے۔ اس وقت نہ پارٹی ڈسپلن خطرے میں پڑا، نہ سیکولرازم کو ٹھیس پہنچی اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی۔ لیکن جب مسلمانوں نے جمہوری انداز میں نمائندگی کا سوال اٹھایا تو اچانک پارٹی کو نظم و ضبط یاد آگیا۔ آخر یہ فرق کیوں؟
یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ جب کانگریس کے بعض مسلم لیڈران ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، الزام تراشی کرنے اور گروہ بندی میں مصروف تھے تو پارٹی قیادت نے انہیں روکنے کی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کی؟ کیوں یہ تاثر پیدا ہوا کہ مسلم قیادت کو آپس میں الجھا کر اجتماعی سیاسی آواز کو کمزور کیا جا رہا ہے؟ اگر پارٹی واقعی سنجیدہ ہوتی تو اختلافات ختم کرنے، اعتماد بحال کرنے اور نمائندگی کے سوال کو عزت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرتی۔
داونگیرے کے نتائج نے ایک اور حقیقت واضح کردی ہے۔ مسلمان اب صرف “خوف” کی سیاست سے قابو میں رہنے والے نہیں رہے۔ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے ووٹ سے حکومتیں بنتی ہیں، لیکن اقتدار میں ان کی نمائندگی مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ انہیں انتخابی مہم میں یاد کیا جاتا ہے، مگر ٹکٹوں کی تقسیم، فیصلہ سازی اور اقتدار میں حصہ داری کے وقت اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
اسی لیے اس مرتبہ مسلمانوں نے نہایت حکمت اور احتیاط کے ساتھ ووٹ کا استعمال کیا۔ انہوں نے مکمل طور پر کانگریس سے منہ نہیں موڑا، کیونکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کرناٹک سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں مسلمانوں کے پاس فی الحال کوئی مضبوط اور قابلِ عمل سیاسی متبادل موجود نہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ سیاسی مجبوری کو ہمیشہ خاموشی سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔
ایس ڈی پی آئی کے تقریباً انیس ہزار ووٹ محض ایک انتخابی عدد نہیں بلکہ ایک سیاسی وارننگ ہیں۔ یہ ووٹ اس بات کی علامت ہیں کہ مسلم ووٹر اب خاموش ناراضی کو سیاسی اظہار میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ بڑی تعداد نے بی جے پی کو روکنے کیلئے اب بھی کانگریس کا ساتھ دیا، مگر ساتھ ہی پارٹی کو یہ سخت پیغام بھی دے دیا کہ عزت، نمائندگی اور سیاسی انصاف کے بغیر غیر مشروط حمایت کا دور کمزور پڑنے لگا ہے۔
قومی سطح پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ آسام میں کانگریس کے منتخب ارکان کی بڑی تعداد مسلم اکثریتی علاقوں سے آتی ہے۔ مغربی بنگال میں کانگریس کی سیاسی موجودگی زیادہ تر انہی خطوں تک محدود رہی جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ کیرالا میں کانگریس قیادت والے اتحاد کی کامیابی میں انڈین یونین مسلم لیگ اور مسلم ووٹ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اگر کانگریس کے پاس کوئی مستقل، نظریاتی، قربانی دینے والا اور ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہنے والا وفادار ووٹ بینک موجود ہے تو وہ بڑی حد تک مسلمان ہی ہیں۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ پارٹی اس وفاداری کو سیاسی شعور کے بجائے مجبوری سمجھنے لگی ہے۔ یہی سوچ مستقبل میں اس کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر مسلمانوں کو مسلسل نمائندگی سے محروم رکھا گیا، صرف ووٹ کیلئے استعمال کیا گیا اور سیاسی متبادل نہ ہونے کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا تو ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب خاموش ناراضی کھلے سیاسی فاصلے میں تبدیل ہوجائے۔
مسلمانوں کیلئے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ صرف جذباتی سیاست، وقتی غصہ یا انتخابی ردعمل کافی نہیں۔ انہیں اپنے ووٹ کو منظم سیاسی قوت میں تبدیل کرنا ہوگا۔ تعلیم یافتہ، باوقار اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے والی قیادت تیار کرنی ہوگی۔ نمائندگی، ٹکٹوں میں حصہ، پالیسی سازی میں شمولیت اور سیاسی خودداری جیسے سوالات کو مستقل بنیادوں پر اٹھانا ہوگا۔
داونگیرے جنوب کا نتیجہ دراصل ایک خاموش سیاسی انقلاب کی ابتدائی دستک ہے۔ مسلمانوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے نہایت واضح انداز میں یہ پیغام دے دیا کہ عزت، نمائندگی اور سیاسی انصاف کے بغیر اب غیر مشروط حمایت ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔
اب فیصلہ کانگریس کو کرنا ہے۔ وہ اس خاموش سبق کو سمجھتی ہے یا وقتی جیت کے فریب میں اصل خطرے کو نظر انداز کردیتی ہے۔ کیونکہ اگر پارٹی نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، مسلمانوں کے سیاسی استحصال کا سلسلہ بند نہ کیا، جائز حقوق کو تسلیم نہ کیا اور انہیں صرف انتخابی ایندھن سمجھنے کی روش جاری رکھی، تو آنے والے دنوں میں اس کا سب سے بڑا سیاسی نقصان خود کانگریس کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
haleemmansoor@gmail.com
Post Views: 67