Skip to content
آپریشن سیندور سے کس کی مانگ بھری اور کس کی اجڑی؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آپریشن سیندور کی سالگرہ کے موقع پر پاکستانی بحریہ نے بحیرۂ عرب میں تکنیکی خرابی کے باعث پھنسنے والے ہندوستانی بحری جہاز ایم وی گوتم کو ڈوبنے سے بچاکر ہندوستان کوایک حسین تحفہ دے دیا۔ احسانمندی کا تقاضہ تھا کہ وزیر اعظم ، وزیر خارجہ یا کم ازکم جہاز رانی کے وزیر ممنون ہوتے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی سے اس اعلیٰ ظرفی کی امید کرنا فضول ہے۔یہ امداد اگر امریکہ یا اسرائیل کرتا تو گودی میڈیا اوراندھے بھگت اس کو سر پر اٹھا لیتے مگر پاکستان سے نفرت ان کے پیروں کی زنجیر بن گئی۔ مذکورہ جہاز عمان سے ہندوستان جا رہا تھا جب اسے شدید تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی فوج کے مطابق جہاز میں سات افراد سوار تھے، جن میں چھ ہندوستانی اور ایک انڈونیشیائی شہری شامل تھا۔ ممبئی میری ٹائم ریسکیو اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کو جب اس کی اطلاع ملی تو اس نے پاکستانی بحریہ سے درخواست کی۔ پاکستانی بحریہ نے بحیرۂ عرب میں پھنسے اس ہندوستانی بحری جہاز کی مدد کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائی انجام دی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود اس بحری تعاون کو دنیا بھر میں سراہا گیا ۔
ایم وی گوتم نامی جہاز کے اندر عمان سے ہندوستان آتے ہوئے بحیرہ عرب میں شدید تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی ۔اس کے باعث وہ سمندر میں پھنس گیا توممبئی سے پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے مدد طلب کی گئی۔ اس کے بعد پاکستان نیوی نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ اس نے فوراًاپنا امدادی جہاز روانہ کیا اور متاثرہ جہاز تک پہنچ کر سب سے پہلے عملے کو خوراک بہم پہنچائی ۔ اس کے بعد طبی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کی تاکہ جہاز کو مستحکم کیا جا سکے اور عملے کی حفاظت یقینی بنایا جا سکے۔ یہ امدادی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور بالآخر جہاز کو کنارے لگا دیا ۔ فی الحال بحیرہ عرب اور خلیجی سمندری راستوں میں کشیدگی اور سلامتی کے خدشات کی وجہ سے خطے میں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور سمندری راستوں کی نگرانی کے لیے کئی ممالک نے اپنی بحری سرگرمیاں بڑھا دی ہیں ان میں پاکستان پیش پیش ہے۔ پاکستانی بحریہ نے گزشتہ ماہ بھی بحیرہ عرب میں ایک تجارتی جہاز کے عملے کے 18؍ افراد کو بچایا تھا۔ سمندر میں پھنسنے والے جہازوں کی فوری امداد بین الاقوامی بحری قوانین اور انسانی ہمدردی کے تحت سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر یہ کارِ خیر کیا جاتاہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے جنوبی ایشیا میں کشیدہ سیاسی ماحول کے باوجود انسانی ہمدردی اور بحری تعاون کی اس مثال کو خوب سراہا ۔
ایک سال قبل آپریشن سیندور کے بعد ہندو پاک کے درمیان تعلقات بے حد خراب ہوگئے تھے اور اس وقت بھی سفارتی سطح پر پاکستان کا پلہ بھاری تھا اور عالمی رائے عامہ اس کے ساتھ تھی۔حکومتِ ہندکو جب اس کا احساس ہوا کہ پاکستان عالمی سطح پر آپریشن سیندور کے حوالے سے ہندوستان کو پہلی بار ایک جارح ملک کے طور پرپیش کرنے میں کامیاب ہورہا ہے تو ان منفی اثرات کو زائل کرنے کی خاطر پچاس ارکان پارلیمان پر مشتمل وفود دنیا بھر میں بھیجے گئے ۔ اس کام کے لیے اسدالدین اویسی اور ششی تھرور تک کی خدمات حاصل کرکے مودی سرکار نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرلیا۔ یہ اکڑفوں دکھانے والے اگر ایم جے اکبر کو وزیر بنا کر رکھتے تو اویسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آتی اور اگر ایس جئے شنکر موثر ہوتے تو ششی تھرور کو کیوں بلانا پڑتا؟یہ سفارتی مشن بھی ناکام رہا کیونکہ اس وقت تک پہلگام پر کوئی تفتیش پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچی تھی۔ ان وفود کے پاس الزامات کی پوٹلی تو تھی مگر شواہد کاصندوق نہیں تھا۔ پہلگام میں دہشت گردوں کا بہ آسانی پہنچ جانا اور وہاں سے صحیح سلامت نکل جانا حفاظتی انتظامات میں کجی کی چغلی کھاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود یہ حضرات پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز و محور ثابت کرنے میں ناکام رہے اوراس کا ثبوت مذکورہ دورے کے دوران ہی 5 ؍جون (2025) کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آگیا ۔
یہ عجب اتفاق ہے کہ حکومتِ ہند جس پاکستان کو پہلگام کا مجرم بناکر پیش کررہی تھی اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسداد دہشت گردی کمیٹی کا نائب چیئرمین اور طالبان پرعائد پابندی کے نفاذ کی نگراں کمیٹی کا چیئرمین مقرر کر کے ہندوستان کو ایک بڑا سفارتی جھٹکا دے دیا۔پچھلے سال کے پہلے دن جب یو این ایس سی میں غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کی دو سالہ مدت کا آغاز ہوا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۶؍ ماہ بعد اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کا نائب سربراہ کی اہم ذمہ داری سے نوازہ جائے گا اور اضافی طور پرپاکستان 1988 کی طالبان پر پابندیوں کی کمیٹی کی سربراہی بھی کرے گا۔ یہ کمیٹی دراصل افغانستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد، گروہوں، اداروں اور طالبان سے وابستہ افراد پر اثاثے منجمد، سفری پابندی اور ہتھیاروں پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اس کمیٹی میں گیانا اور روس کو نائب سربراہ کے عہدے پر فائز کرکے پاکستان کا معاون بنایا گیا ۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نےپاکستان کو پابندیوں کے عمومی مسائل پر غیر رسمی ورکنگ گروپس کا بھی شریک چیئرمین مقرر کیا ۔ اس عزت افزائی میں آپریشن سیندور کا بھی اہم حصہ ہے۔
اس پیش رفت سے خوش ہوکرحکومتِ پاکستان نے اعلان کیا کہ ’’یہ تقرریاں اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ پاکستان کی فعال شمولیت اور سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اس کے تعمیری کردار کا اعتراف اور پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کا مظہر ہیں۔‘‘ اس بیان کے بعد کہ :’’پاکستان اقوام متحدہ اور دوسرے رکن ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے چارٹر اور مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرے گانیز اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے کردار کو نبھانے کیلئے پرعزم ہے‘‘ وزیر خارجہ جئے شنکر پر کیا گزری ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ عالمی سطح پر اسلام آباد کی یہ سفارتی پذیرائی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ہندوستان کے متعدد پارلیمانی وفود دنیا کے مختلف ملکوں کے دورے سے لوٹے بھی نہیں تھے۔ 2021-22 کے دوران جب ہندوستان کو انسداد دہشت گردی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا تو اس نے بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھانے میں کامیابی حاصل کی تھی کہ پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے ممنوع دہشت گردوں اور اداروں کی میزبانی کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے لیکن پھر یہ بازی الٹ گئی ۔
آپریشن سیندور کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے اس سفارتی ناکامی کی جانب توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے یاددلایا کہ آپریشن سیندور کے دوران جہاں وزیر اعظم نے یہ اعلان کیا تھا کہ سیندور ان کے خون میں دوڑ رہا ہے وہیں یہ بھی کہا تھا کہ اب کھیل کے ضابطےبدل چکے ہیں ۔ آپریشن سیندور بند نہیں ہوا بلکہ جاری و ساری ہے اور پاکستان کی جانب سے آنے والی ہر گولی کا جواب گولے سے دیا جائے گا۔ اس کے بعد جب راجدھانی دہلی میں زبردست دھماکہ ہوا تو لوگ یہ توقع کررہے تھے اب پاکستان پر پھر ایک بار حملہ ہوگا مگر حکومت ہند نے پاکستان کا نام لینے میں بھی احتیاط کیا۔ تو کیا یہ مان لیا جائےکہ اس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا؟ اس کے بعد پہلگام کی برسی پر وزیر دفاع تو بہت کچھ بولے مگرچین کے اندر شنگھائی تعاون کانفرنس میں جاکر اعلان فرما دیا کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب یا ملک نہیں ہوتا‘۔ ان کے اس بیان کو پاکستان کے لیے کلین چِٹ قرار دیا گیا اور حکومت کو حزب اختلاف نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یار دوستوں نے اسے امریکی دباو سے بھی منسوب کیا کیونکہ ایرانی تنازع کے بعد پاکستان اور امریکہ کی خوب گاڑھی چھن رہی ہے ایسے میں مودی سرکارٹرمپ کو ناراض کرنے کا خطرہ نہیں مول لے سکتی۔
ہندوستان فی الحال برکس ممالک کا صدر نشین ہے۔ ایرانی تنازع میں اس کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے تھا مگر اسرائیل کا دورہ اور امریکی ناراضی کے خوف مودی سرکار کے پیروں کی زنجیر بن گیا جبکہ آپریشن سیندور کے دوران پاکستان نے امریکہ کا اعتماد حاصل کرکے خود کو امن کی فاختہ بنا دیا۔ کانگریس نے تو اب آپریشن سیندور کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کیے جانے کی تصدیق ہوجانے کے باوجود بیجنگ کے سامنے یہ سوال نہیں اٹھانے پر جواب طلب کیا ۔پارٹی کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے تو اس سے متعلق معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کردیا کیونکہ نائب فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ 4 جولائی 2025 کو عوامی طور پر چین کے کردار کی تفصیلات کا اعتراف کرچکے ہیں ۔ رمیش نے سوال کیا کہ، ”5.6 انچ کی چھاتی اور آنسو بھری لال آنکھوں والے وزیر اعظم نریندر مودی نے 19 جون 2020 کو چین کو کلین چٹ کیوں دی اور ہماری مذاکراتی پوزیشن کو مکمل طور پر کمزور کیوں کر دیا؟ کانگریس پارٹی جانتی ہے مودی جی میں چین کو آنکھ دکھانے کی جرأت نہیں ہے اس لیے وہ ان کی اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ پارلیمانی کا خصوصی اجلاس بلا کر اس سوال کا معروضی جائزہ لینےکی ضرورت ہے کہ آخر آپریشن سیندور نے کس کی مانگ بھری اور کس کی اجاڑی ؟
Post Views: 97