Skip to content
ماں کا احترام ہرآن لازم ہے
ازقلم: ابنِ وکیل
نسل انسانی کے وجود، نشو و نما ، پرورش اور بقاء میں ماں کا جو مقام ہے، اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مقام انسانی فکر و خیال کا منتہا ہے، اسی لیے کسی بھی چیز کے مآخذ و منبع کو اور طریقہ وجود و بقا کو ماں سے موسوم و ملقب کر کے بیان کیا جاتا ہے ۔ ماں کا مقام بہت بڑا ہے ۔ماں وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ جس کی دعا عرش ہلا دیتی ہے اور جس کی آغوش میں انسان دنیا کا ہر غم بھول جاتا ہے۔ماں وہ خاموش دعا ہے جو ہر آفت کے آگے ڈھال بن جاتی ہے اور ہاتھ اٹھتے ہی رحمتیں برستی ہیں۔
اللہ تعالی نے قرآن میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں والدین کے اور خاص کر ماں کے مقام و حقوق کو جس اہتمام سے بیان کیا ہے، اس نے انسانی دنیا میں ماں کی حیثیت اور عظمت کو ایک نئی بلندی عطا کر دی ہے۔ قرآن کریم میں ان احسانات اور قربانیوں کا بھی خاص ذکر فرمایا ہے، جس کی وجہ سے والدین کو اور خاص کر ماں کو امتیازی مقام سے نوازا گیا ہے ۔ سیدنا حضرت موسی علیہ السلام کے قصہ میں ماں کے جذبات کو تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنُ اور إِنْ كَادَتُ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَنْ رَبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا سے بیان فرمایا ہے، تو دوسرے مقامات پر حمل اور وضع حمل کی تکالیف بھی خصوصی اہتمام سے ذکر کی گئیں ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں ماں کا مقام کسی خاص وقت، دن یا رسم کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ نے ہر آن اور ہر لمحہ ماں کے ادب، تعظیم اور خدمت کو لازم قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
﴿فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾
اس آیتِ مبارکہ میں کسی وقت یا موقع کی قید نہیں لگائی گئی، بلکہ والدین خصوصاً ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کو دائمی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے “قول” کو نکرہ ذکر فرما کر وسعت پیدا کی، پھر اس کے ساتھ “کریم” کی صفت لائی؛ اور جب قول کے ساتھ “کریم” کا لفظ استعمال ہو تو اس سے مراد ایسا باوقار، نرم، شائستہ اور محبت بھرا کلام ہوتا ہے جو احترام و عظمت کا آئینہ دار ہو۔ یہی تعبیر ماں کے بلند مقام، اس کے وقار اور اس کی عظمت پر روشن دلیل ہے۔
لہٰذا ماں کی اطاعت، اس کا خیال، اس کی خدمت اور اس کے جذبات کی رعایت ہر انسان پر واجب العمل ہے۔ احادیثِ مبارکہ اور اسلاف کے واقعات میں والدین خصوصاً ماں کے حقوق و فضائل کے متعلق بے شمار نصوص اور عبرت آموز حکایات وارد ہوئی ہیں۔
لیکن افسوس کہ موجودہ دور میں مغربی تہذیب سے مرعوب بعض نام نہاد مسلمان بھی “مدرز ڈے” جیسی رسوم کو اپنائے ہوئے ہیں، حالانکہ اسلام میں ماں کی محبت و عظمت کسی ایک دن کی محتاج نہیں۔ ماں کا احترام، اس کی یاد، اس کی قربانیوں کا احساس اور اس کی خدمت کا جذبہ انسان کے دل میں ہر لمحہ زندہ رہنا چاہیے، نہ کہ سال کے صرف ایک مخصوص دن میں۔ یہ بات برحق ہے کہ پوری دنیا ماں کی محبت کا بدل دینے سے قاصر ہے ۔ماں کی دعاؤں میں وہ اثر ہے جو انسان کو ثریا تک پہونچا دیتا ہے ۔ ماں کی دعا اللہ کی بارگاہ میں فورا قبول ہوتی ہے قبولیت دعا کے متعلق حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کی اپنی کتاب "ماں کا مقام” میں قلمطراز ہیں جس کو حافظ محمد سلیمان صاحب نے ترتیب دی ہے۔
موسی السلام نے کہا کہ یا اللہ میرا جنت کا ساتھی کون ہے فرمایا فلاں قصائی تیرا جنت کا ساتھی ہے، موسی علیہ السلام حیران ہوئے کہ قصائی اور موسیٰ علیہ السلام کا جوڑ کیا ہے وہ دیکھنے گئے، کہ ہے کون؟ دیکھا تو ایک قصائی عام قصابوں کی طرح گوشت کاٹ رہا ہے اور بیچ رہا ہے، شام ڈھلی تھیلا اٹھایا گوشت اس میں ڈالا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں بھی آؤں، تیرے ساتھ ، وہ نہیں پہچانا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، کہنے لگا آجاؤ، گھر گیا، گوشت صاف کیا، بوٹیاں بنا ئیں، سالن پکایا ، روٹیاں پکا ئیں اسے تھالی میں سجایا، ایک بوڑھیا روئی کے گالے کی طرح بستر پر تھی، اس کو اٹھایا اس کو نوالے بنا بنا کر اس کو کھلاتا رہا، کھلاتا رہا، جب اس نے سر ہلایا کہ بس ، تو اس نے . اس کا ایسے منہ صاف کیا تو وہ کچھ بڑ بڑانے لگی، اس کو لٹا دیا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کون ہے؟ کہا کہ میری ماں ہے ، صبح اس کی ساری خدمت کر کے جاتا ہوں شام کو پہلے آکر اس کی خدمت کرتا ہوں، اپنے بچوں کی بعد میں کروں گا۔
موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ کیا کہ رہی تھی؟ کہا جی! پاگل ماں ہے، جب بھی خدمت کرتا ہوں شروع ہو جاتی ہے، اللہ جنت میں تجھے موسیٰ کا ساتھی بناۓ ۔ میں کہاں اور موسی کہاں۔
چند اشعار ملاحظہ ہو!
*چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی، ماں دیکھی ہے
لبوں پہ اس کے کبھی بددعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی
ماں کے ہاتھوں کی دعا بن کے دعا چلتی ہے
ورنہ قسمت کی ہواؤں میں کسے رستہ ملتا
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابشؔ
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے والدین کے لیے مطیع و فرمانبردار ہوں اللہ ہم سب کے والدین کا سایہ ہم پر تا دیر قائم رکھے ۔ آمین
Post Views: 60