Skip to content
آپریشن سیندور کی پہلی برسی یا سالگرہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن سندور کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کہا کہ ہندوستان کی شاندار کامیابی ملک کے بہادر سپاہیوں کی عظیم جرأت اور حب الوطنی کی ایک مثال ہے۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اس کے ساتھ موصوف نے بھی کہا کہ اور ہر باشندے کو اُن کے ناقابل تسخیر حوصلے، پختہ عزم اور فرض شناسی کے جذبے پر فخر ہے۔ انہوں نے ایک سنسکرت مقولہ کے ذریعہ یہ آفاقی حقیقت بھی بیان کی کہ :’’ جس فوج کے سپاہی پُرجوش، بہادر اور بلند حوصلے کے حامل ہوں، اور وہ اعلیٰ عسکری وسائل سے لیس ہو تو اسے یقینی طور پر فتح حاصل ہوتی ہے‘‘۔ان حقائق سے علی الرغم آپریشن سیندور محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ سفارتی جنگ بھی تھی ۔ اس کی کمان مودی کے ہاتھوں میں تھی اور وزیر خارجہ ان کے سپہ سالار تھے ۔ اس محاذ پرپچھلے ایک سال کی پیش رفت کو وزیر اعظم نے بڑی خوبصورتی سےفوج کے غلاف میں چھپادیا اور کہا ’’ مسلح افواج نے پہلگام میں بے گناہ ہندوستانی شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔ آپریشن سیندور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے مضبوط مؤقف اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’’آج، ایک سال بعد بھی، ہم دہشت گردی اور اس کے معاون نظام کو ختم کرنے کے اپنے عزم پر پوری طرح قائم ہیں۔‘‘لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آپریشن سیندور کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کا کام ہندوستانی فضائیہ کے جہازوں کے گرنے سےہوا۔ انڈیا ٹوڈے اورروزنامہ ہندوستان کے ترجمانوں نے میدان سے اس کی تصدیق کردی ۔ سرکاری طور پر اس کی تردید کی گئی مگر ایک دن کے لیے کارروائی کو روکنے نے شکوک و شبہات پیدا کردئیے ۔ اس کے بعد فضائیہ کے افسران کی جانب سے بلواسطہ اعتراف ہونے لگا اور پھر بہت دیر کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ہندوستانی فوج نے بھی پاکستانی طیارے گرائے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ہمارے طیارے نہیں گرے جبکہ پاکستان یہ دعویٰ بہت پہلے کرچکا تھا کہ اس نے 3؍رافیل ،2؍ سخوئی اورایک مگ 296 فائٹر جیٹ مار گرائے ۔جنگ کے دوران کیے جانے والے دعووں کی اہمیت زیادہ ہوتی لیکن یہ کیوں ہوگیا ؟ اب اس کو سمجھنا ضروری ہے۔
2019 میں انتخابی مہم کے دوران 28, فروری کو اُڑی فوجی چھاونی پر حملے کے ردعمل میں ہندوستان کی جانب سے ایک سرجیکل اسٹرائیک کیا گیا تھا ۔ اس کے جواب میں پاکستان کے طیاروں نے جموں کی فوجی چھاونی کے پاس ویران علاقوں میں کچھ بمباری کی جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس کارروائی میں ایک ہندوستانی جہاز پاکستان میں گرا اوراس کے پائلٹ کو پاکستان نے جینیوا کنونشن کے مطابق شرافت سے لوٹا دیا۔ مودی جی نے ’گھر میں گھس کر مارا‘ کا نعرہ لگایا اور انتخاب جیت گئے۔سارا معاملہ بحسن و خوبی نمٹ گیا۔ 2024؍ میں مودی جی خود اعتمادی بامِ عروج پر تھی ۔ انہوں نے سوچا پاکستان کے بجائے منگل سوتر اور بھینسوں یا ٹونٹی کے چھن جانے سے ہندو رائے دہندگان کو ڈرا کر انتخاب جیت لیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حزب اختلاف کے مطابق تقریباً ساٹھ نشستوں پر چوری کے باوجود چار سو پار تو دور دو سوچالیس پر گاڑی پنچرہوگئی۔ یہ کام چونکہ عبدل پنچر والے نے کیا تھا اس لیے اس کی خدمات لینے کے بجائے آپریشن سیندور کے ذریعہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے یہ سوال تو پیدا ہوجاتا ہے کہ پہلگام کی وجہ سے یہ آپریشن ہوا یا اس کے لیے پہلگام کا سانحہ پیش آیا ؟ خیر وجہ جو بھی ہو پہلگام کے بعد مودی سرکار کے بیانات نے پاکستان کو ردعمل کے لیے تیار ی کا موقع دے دیا۔
حکومتِ ہند تو سوچ رہی تھی کہ پرانی کہانی دوہرائی جائے گی پاکستان کے ارادے مختلف تھے۔ ہندو پاک چونکہ جوہری اسلحہ کے حامل ممالک ہیں اس لیے ان پر حملے سے قبل اطلاع دینا لازم ہے۔ اس کا لحاظ کرتے ہوئے پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں پر حملے سے قبل وزارت خارجہ نے خط لکھ کر یقین دلایا کہ یہ حملہ پاکستانی عوام یا فوجی تنصیبات پر نہیں ہوگا۔ ہندوستان اس کو پھیلانا نہیں چاہتا لیکن مخالف فریق بھی وہی چاہے یہ ضروری تو نہیں ۔ پاکستان نے اس خط کے بعد اپنے منصوبے کو آخری شکل دے کر کمر کس لی اورخاموشی سے انتظار کرنے لگا۔ اس کی جانب سے اگر کوئی سخت ردعمل آتا تو ہندوستان کی جانب سے احتیاط برتا جاتا مگر دشمن کی خاموشی کو خوف و بزدلی پر مہمول کیا گیا اور وہیں سے گڑ بڑ شروع ہوگئی۔پاکستان نے چین کی مدد سے تیار کردہ اپنے میزائل کے نظام اور طیاروں کو تیار کردیا ۔ اسے یہ امید نہیں رہی ہوگی کہ رافیل تک کا استعمال ہوگا مگر اس کی تو لاٹری لگ گئی ۔ ہندوستان نے رافیل کے گرنے کا انکار کیا تو اس کو بنانے والی کمپنی ڈیسالٹ نے اس کا اقرار کرکے الزام ہندوستانی پائلٹس کے سر منڈھ دیا۔ چینیوں اور امریکیوں نے اس خبر کو خوب تشہیر کی تاکہ دنیا بھر کے ممالک فرانس کے بجائے ان سے جنگی طیارے خریدیں ۔
آپریشن سیندور نے قیامِ بنگلہ دیش کےو قت قائم ہونے والے اس مفروضے کو خاک میں ملا دیا کہ ”پاکستان طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘بلکہ اس کی جگہ یہ فقرہ آگیا کہ ’’ پاکستان نہ صرف کھڑا رہ سکتا ہے بلکہ سر اٹھا کر اپنی تقدیر خود لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔‘‘اس طرح عالمی منظرنامے میں پاکستان صرف ایک جغرافیائی ریاست ہی نہیں بلکہ ایک مؤثر، مضبوط اور فیصلہ کن طاقت کے طور پر ابھرا اور ایران جنگ کے دوران اس نے بین الاقوامی سفارت کاری میں بھی ا پنالوہا منوا لیا ۔ آپریشن سیندورکو میدانِ جنگ سے زیادہ موثر انداز میں میڈیا کے اندر لڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس محاذ پر لاہور اور اسلام آباد سمیت کراچی پر بھی ترنگا لہرا دیا گیا۔عوام نے تصور خیال میں پاکستان کا وجود ہندوستان کے نقشے میں ضم کرلیا ۔ اس تناظر میں جب وزارت خارجہ کے ترجمان وکرم مصری نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو لوگ بپھر گئے اور انہیں برا بھلا کہنے لگے ۔ یہ ہندوتوا نواز اندھ بھگت بھول گئے وکرم مصری مودی سرکار کا موقف بیان کررہے ہیں اس لیے ان کا غم و غصہ حکومت کے خلاف ہونا چاہیے مگر وہ تو مودی جی کو مقدس گائے سمجھتے ہیں ۔ ان کے خلاف کچھ سوچنا تک ’گناہِ کبیرہ‘ ہے اس لیے وکرم مصری کو گالیاں بکتے بکتے ان کی اہلیہ اور بیٹی کو لپیٹ میں لے لیا۔
مذکورہ بالا نفسیات کا مظاہرہ بحریہ کے افسر ونے نروال کی اہلیہ ہمانشی نروال کی اہلیہ کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ اس بیچاری کو تو جے این یو میں ایک کشمیری عاشق سے بھی جوڑ دیا گیاصرف اس لیے کہ وہ ہندو مسلم سیاست سے پر ہیز کرنے کا مشورہ دے رہی تھی۔ ان احمقوں نے تو سرکاری ترجمان کرنل صوفیہ قریشی تک کو نہیں بخشا بلکہ انہیں دہشت گردوں کی بہن قرار دے دیا۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے سرکار نے مدھیہ پردیش کے وجئے شاہ نامی وزیر پر کارروائی کرنے کے بجائے اس کو سزا دینے والے جج کا تبادلہ کرکے ثابت کردیا کہ اس کے اندر بھی تعصب کا زہر کوٹ کوٹ کربھرا ہوا ہے۔آپریشن سیندور کے بعد جنگ بندی میں امریکی مداخلت نے امریکہ کے ساتھ ہندوستان و پاکستان کے تعلقات کو ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا۔ جنگ بندی کے اعلان کی ترتیب دیکھیں تو واضح ہے کہ سب سے پہلے امریکی صدر کا ٹویٹ آیا ۔ اس کے بعد پاکستان کی تائید اور بالآخر ہندوستان کی تسلیم و رضا سامنے آئی لیکن اس میں بہت بڑا فرق تھا ۔
ہندوستانی موقف تھا کہ کسی تیسرے یعنی ٹرمپ کی مداخلت کے بغیردونوں جانب کے فوجی افسران کی باہمی رضامندی سے جنگ بندی ہوگئی۔پاکستان نے اعتراف کیا اسے امریکی نائب صدر وینس کا فون آیا جس میں ہندوستان کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کا ذکر تھا ۔ اس پر پاکستان کا جواب تھا کہ ہندوستان نے حملہ کیا ہے۔ اس لیے اگر فریق ثانی حملے کرنا بند کردے تو وہ بھی جوابی کارروائی روک دے گا ۔ اس موقف میں نہ صرف امریکی صدر کی مداخلت کا اعتراف موجود تھا بلکہ ہندوستان کو جارح ملک کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس لیے جہاں ہندوستانی موقف نے امریکی صدر کو ناراض کیا وہیں پاکستان نے انہیں خوش کردیا۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے جنرل عاصم منیر کو قصر ابیض میں بلا کر دعوت طعام کا اہتمام کیا ۔ پاکستان نے آگے بڑھ کر نوبل انعام کی خاطر ٹرمپ کا نام پیش کرکے ان کا دل جیت لیا۔ اس کے برعکس ہندوستان کا پے درپے انکار ٹرمپ کو غصہ دلاتا رہا ۔مودی اورٹرمپ کے تعلقات وہیں سے خراب ہوتے چلےگئے۔ ٹرمپ موقع بموقع یہ اعلان کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپاتے رہے کہ انہوں نے جنگ روکوائی ہے اور ہندوستانی زخموں پر نمک پاشی ہوتی رہی۔ آپریشن سیندور کے بعد جنگ بندی کے معاملے میں ٹرمپ نے مودی کو جتنا رسوا کیا کسی اور معاملے میں نہیں کیا ۔ ہمارے وزیر اعظم نےتو کمال سعادتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افُ تک نہیں کیامگر جب ٹرمپ نے پاکستان سے دوستی کرلی تو مودی کی زبان پر یہ شعر آگیا ہوگا؎
دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو
میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا
Post Views: 55