Skip to content
مودی کی سات اپیلیں اور معاشی اضطراب:
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا..!
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
————
سیاست کی بساط پر بسا اوقات ایسی صورتِ حال بھی درپیش آتی ہے کہ مصلحت کی کمان سے نکلا ہوا تیر اپنے ہدف تک پہنچنے کے بجائے الٹا شکاری ہی کے سینے کا پیوند بن جاتا ہے۔۔ 10 مئی 2026 کا وہ اتوار، جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حیدرآباد کے پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد میں بی جے پی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قوم سے سات اپیلیں کیں، بھارت کی سیاست کی تاریخ میں اسی المناک روایت کا تازہ باب ثابت ہوا۔ ان اپیلوں میں عوام سے کہا گیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کم استعمال کریں، سونا خریدنے سے گریز کریں، بیرونِ ملک سفر ایک سال کے لیے ملتوی کریں، میٹرو اور عوامی ذرائع نقل و حمل اپنائیں، کار پولنگ (Car Pooling) کریں، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو ترجیح دیں، ریلوے کے ذریعے سامان منتقل کریں، جہاں ممکن ہو گھر سے کام کریں (Work from Home)، کھانے کے تیل کا استعمال کم کریں، اور کیمیائی کھادوں پر انحصار گھٹا کر قدرتی کاشتکاری کی جانب بڑھیں۔ یہ اپیلیں امریکہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے پسِ منظر میں کی گئیں، مگر ان کا نتیجہ وہ نہ نکلا جو اقتدار کے ایوانوں نے سوچا ہوگا۔ صیاد نے جال پھینکا تھا دوسروں کو پھنسانے کے لیے، مگر اپنے ہی قدم اس جال کے پھندے میں آ گئے۔
جیسے ہی یہ سات مطالبات منظرِ عام پر آئے، بھارت کی مالیاتی منڈیوں نے فی الفور اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک حتمی فیصلہ صادر کر دیا۔ پیر 11 مئی کو ‘بی ایس ای سینسیکس’ (BSE Sensex) 1,312.91 پوائنٹس یعنی 1.70 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 76,015.28 پر بند ہوا، جبکہ ‘نفٹی 50 انڈیکس’ (Nifty 50 Index) بھی 360 پوائنٹس یعنی 1.49 فیصد کی کمی کے بعد 23,815.85 کی سطح پر آ گیا۔ کرنسی مارکیٹ میں بھی شدید ارتعاش دیکھا گیا اور بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخی کم ترین سطح 95.31 پر بند ہوا، جو کہ مارچ کے بعد ایک ہی دن میں 0.9 فیصد کی تیز ترین تنزلی ہے۔
اس بحرانی کیفیت نے بالخصوص زیورات، طلا کاری اور ایندھن کے شعبوں کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کے 16 میں سے 13 کلیدی سیکٹرز خسارے کی زد میں رہے۔ عالمی تناظر میں برینٹ خام تیل 11 مئی 2026 کو 104.47 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار رہا۔ یوں وہ اپیل، جو بظاہر استحکام اور اطمینان کی نوید دینے کے لیے کی گئی تھی، خود مالیاتی منڈیوں میں ایک تلاطم خیز طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
اپوزیشن نے اس ابتر صورتحال کو فوری طور پر سیاسی مہماز کے طور پر استعمال کیا۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف، راہل گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (X) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ: ‘مودی جی نے عوام سے ایثار و قربانی کا مطالبہ تو کر دیا—سونا نہ خریدیں، بیرونِ ملک سفر سے اجتناب کریں، ایندھن کا استعمال کم کریں اور اشیائے خورد و نوش بشمول کھاد اور کوکنگ آئل میں کفایت شعاری برتیں—لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بارہ سالہ طویل اقتدار کے بعد ملک اس نہج پر کیوں پہنچا؟’
کانگریس نے اسے باقاعدہ طور پر ایک ‘مودی ساختہ آفت’ (Modi-made Disaster) قرار دیتے ہوئے کووڈ کے ایام سے تشبیہ دی، جب عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر بوجھ ان ہی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا تھا۔ پارٹی نے سنگین الزام عائد کیا کہ وزیرِ اعظم اپنی بارہ سالہ ناکامیوں کا ملبہ عوام پر گرا رہے ہیں اور خود صرف ایک ‘پی آر وزیر’ (PR Minister) کے طور پر نمائش اور اسفار میں مصروف ہیں۔ حزبِ اختلاف نے اس تضاد کو خاص طور پر ہدف بنایا کہ یہ اپیلیں چار ریاستوں اور ایک یونین ٹیریٹری کے انتخابات کے اختتام پذیر ہوتے ہی منظرِ عام پر آئیں، جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ حکومت بحران کی پیش بندی کے بجائے محض انتخابی مہمات کی نذر رہی۔
بی جے پی قیادت نے اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش ضرور کی۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل (IT Cell) سربراہ امت مالویا نے ایکس پر تفصیلی پوسٹ میں کہا کہ مودی کی اپیل اس بات کا اظہار تھی کہ ملک کی معاشی مضبوطی محض حکومت کی نہیں بلکہ شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے اپیل کو عالمی بے یقینی، سپلائی چین (Supply Chain) میں رکاوٹوں اور بین الاقوامی تنازعات سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے دباؤ کے مقابلے میں معاشی لچک (Economic Resilience) مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا۔ شیوراج سنگھ چوہان اور دیویندر فڑنویس نے بھی اپیل کو قومی مفاد کا تقاضا قرار دیا۔ یہ موقف اپنے آپ میں قطعی غلط نہیں، عالمی بحرانوں میں حکومتیں یقیناً عوام سے اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا کر سکتی ہیں۔ تاہم اس استدلال کا کمزور نکتہ یہ ہے کہ اس عمل کی ترتیب الٹ گئی، ہنگامی حکومتی اقدامات سے پہلے عوامی اپیل آ گئی، اور خود حکومت کو فوری وضاحت جاری کرنی پڑی کہ ایندھن اور توانائی کے وافر ذخائر موجود ہیں، جو بذاتِ خود اس بات کا اعتراف تھا کہ اپیل نے غیر ضروری گھبراہٹ پیدا کی تھی۔
اس پورے معاملے میں آر ایس ایس کے نظریاتی تضاد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ آر ایس ایس کا سودیشی معاشی فلسفہ روایتی طور پر درآمدی تیل پر انحصار گھٹانے، مقامی توانائی کے ذرائع فروغ دینے اور صارفانہ معیشت کے بجائے کفایت اور خودانحصاری کی ثقافت پروان چڑھانے کا علم بردار رہا ہے۔ مگر بارہ سالہ بی جے پی حکومت میں بھارت کا درآمدی تیل پر انحصار نہ صرف برقرار رہا بلکہ بڑھتا رہا، یہاں تک کہ مالی سال 2025-26 میں بھارت کی تیل درآمدی شرح 88.6 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح تک جا پہنچی۔ یہ اس سودیشی فلسفے کے ساتھ کھلا تضاد ہے۔ اب جب بحران آیا تو زبان سودیشی کی استعمال ہوئی، مگر اس زبان کو بولنے کا اخلاقی حق اسے ہوتا ہے جس نے اس فلسفے پر برسوں پہلے عمل کیا ہو۔ بے عملی کے بعد کی اپیل محض بیان بازی بن کر رہ جاتی ہے۔
یہاں ایک فکری نکتہ لازماً زیرِ بحث آنا چاہیے۔ جو حکومت وشوگرو بھارت، پانچویں سب سے بڑی معیشت اور امرت کال (Amrit Kaal) کے نعرے بلند کرتی آئی تھی، اسی حکومت کے وزیرِ اعظم کو مجبوراً عوام سے اپیل کرنی پڑی کہ تیل بچاؤ، بیرونِ ملک مت جاؤ، سونا مت خریدو۔ یہ تضاد محض بیانیاتی نہیں، پالیسی سازی کی گہری ناکامی کا آئینہ ہے۔ جب بھارت اپنی تیل کی 88.6 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہو، جب برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکا ہو، اور جب روپیہ پہلے سے ہی 95 کی سطح پر لڑکھڑا رہا ہو، تو ایک دوراندیش حکومت ہنگامی بنیادوں پر توانائی کے متبادل ذرائع فعال کرتی، اسٹریٹیجک تیل کے ذخائر (Strategic Oil Reserves) مضبوط بناتی، عوامی سبسڈیوں کا نظام محفوظ رکھتی اور مالیاتی منڈیوں کو اعتماد میں لیتی نہ کہ ایک انتخابی جلسے میں سات اپیلیں کر کے خود منڈیوں کو لرزا دیتی۔
تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ پہلا موقع نہیں جب عوام کو ریاستی غفلت کا بوجھ اٹھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ نومبر 2016 میں نوٹ بندی کے وقت عوام کو لمبی قطاروں میں کھڑا کر کے کالے دھن کے خلاف جہاد کا نام دیا گیا، مگر نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ (National Bureau of Economic Research) کی تحقیق کے مطابق اس فیصلے نے 2016 کی چوتھی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں میں کم از کم 3 فیصد پوائنٹس کی کمی کی اور روزگار اور پیداوار بری طرح متاثر ہوئے۔ کووڈ کے دور میں تالیاں و تھالیاں بجوائی گئیں اور بغیر تیاری کے اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔ اب امریکہ ایران جنگ کی آڑ میں ایک بار پھر عوام کو کہا جا رہا ہے کہ خود کو محدود کریں تاکہ حکومت کی غفلت اور ناکارہ پالیسی سازی کے نتائج کو چھپایا جا سکے۔ یہ اندازِ حکمرانی اس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہے جہاں جوابدہی کی جگہ جذباتی اپیل لے لیتی ہے اور احتساب کی جگہ قربانی کا مطالبہ۔
کانگریس نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ ملک کی معاشی صورتحال پر کھل کر بحث ہو سکے۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ جمہوری نظام میں جب حکومت عوام سے تعاون مانگتی ہے تو پارلیمان کا فلور ہی اس کا درست مقام ہے، ایک انتخابی ریلی نہیں۔ پارلیمانی فورم پر عوام کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا جاتا، حکومتی اقدامات واضح کیے جاتے، اپوزیشن کو سوال پوچھنے کا موقع ملتا اور قوم ایک مشترکہ سمجھ بوجھ کے ساتھ آگے بڑھتی۔ انتخابی جلسے میں کی گئی اچانک اپیل، جو بازاروں میں 1,312 پوائنٹس کی گراوٹ اور روپے کی تاریخی سطح تک پہنچنے کا سبب بنی، یہ حکومتی مواصلت کی نہیں بلکہ حکومتی حکمتِ عملی کی مجموعی ناکامی تھی۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو حاکم اپنی ناکامیوں کا بوجھ رعایا پر ڈالتے ہیں، وہ دیر یا سویر اسی بوجھ تلے خود دب جاتے ہیں۔ نریندر مودی کی ان سات اپیلوں نے ایک لمحے میں وہ کر دیا جو اپوزیشن برسوں کی کوشش سے نہ کر پائی تھی، انہوں نے خود ثابت کر دیا کہ بارہ سالہ اقتدار کے بعد بھی ملک کی معیشت اتنی نازک ہے کہ ایک بیرونی بحران کی ابتدائی لہریں بھی اسے بنیادوں تک ہلا دیتی ہیں۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل، آر ایس ایس کے تھنک ٹینک اور حکومت کے ترجمان سب کے سب اس بیانیے کو سنبھالنے میں لگے ہیں جو خود ان کے قائد کے الفاظ نے منہدم کر دیا ہے۔ صیاد نے جال بُنا تھا، صبر سے انتظار کیا تھا، مگر جب جال پھینکا تو اپنے ہی قدموں سے الجھ گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ بحران مزید گہرا ہوا، اگر تیل مزید مہنگا ہوا، اگر روپیہ 95 سے بھی نیچے گیا تو کیا آٹھویں اپیل تیار ہے؟ اور کیا اس بار بھی عوام سے توقع رکھی جائے گی کہ وہ اپنے وزیرِ اعظم کی اس اپیل کو قومی فرض سمجھ کر قبول کر لیں یا اس بار وہ خود اپنا تاریخی فیصلہ سنائیں گے؟
Post Views: 65