Skip to content
ڈیجیٹل دور میں قلم کی اہمیت: ایک سائنسی و ثقافتی جائزہ
(خوش خطی اور ذہنی صحت: جدید نفسیاتی ابعاد)
از قلم: ڈاکٹر نسرین فرحت صدیقی
آج کسی بھی شہر کے اسکول میں جھانکیں تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف بچے ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ پر انگلیاں دوڑا رہے ہیں، دوسری طرف چند بچے اب بھی کاپی اور قلم کے ساتھ سطریں بھرنے میں محو ہیں۔ باہر کی دنیا مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل رفتار کی طرف بھاگ رہی ہے، مگر کلاس روم کے اندر ایک پرانا سوال پھر سر اٹھا رہا ہے کہ کیا ہاتھ سے لکھنا اور خاص طور پر خوش خطی کی باقاعدہ مشق اب بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی صدیوں پہلے تھی؟ یا ہم محض روایت کے نام پر ایک فرسودہ عادت سے چمٹے ہوئے ہیں؟
یہ سوال محض جذباتی یا روایت پسندانہ نہیں۔ ناروے سے بیجنگ تک ہونے والی جدید سائنسی تحقیق، یونیسکوکے رسمی فیصلے اور بھارت کی قومی تعلیمی پالیسی 2020؛ سب مل کر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہاتھ سے لکھنے اور خوش خطی کی مشق کو قبل از وقت ریٹائر نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ معاملہ یہ ہے کہ جوں جوں ڈیجیٹل دور آگے بڑھتا ہے، قلم کی واپسی کے دلائل کا وزن اور بڑھتا جاتا ہے۔
اسلامی تہذیب کے آغاز ہی سے قلم کو محض تحریر کا آلہ نہیں بلکہ علم اور تہذیب کا امین سمجھا گیا ہے۔ قرآن کریم کی سورہ قلم کا افتتاح ہی اس اعلان سے ہوتا ہے کہ ن والقلم وما یسطرون، یعنی قلم کی قسم اور اس سے رقم ہونے والی تحریر کی قسم۔ یہ آیت لکھنے کے عمل کو انسانی وجود کی ایک بنیادی جہت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ کلاسیکی مفسرین نے اس سے قلم کی عظمت اور علم کے تحفظ میں اس کے کردار کی طرف اشارہ لیا ہے۔
اس پس منظر میں عباسی دور کے مشہور کاتب اور وزیر ابو علی محمد بن علی ابن مقلہ (وفات 940) کا کارنامہ اور بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ مؤرخین خطاطی کے مطابق انہوں نے عربی خط کو تناسب اور ہندسی اصولوں پر مبنی ایک مستحکم علمی نظام کی شکل دی۔ انہوں نے حرف الف کی لمبائی کو بنیادی اکائی مقرر کیا اور اسی پیمانے سے تمام حروف کا تناسب طے کیا اور اس اصول کو خط منسوب کہا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر بعد میں نسخ، ثلث اور دیگر خطوط استوار ہوئے۔ خوش خطی یوں اسلامی تہذیب میں جمالیات اور عقل کے ملاپ کا وہ استعارہ بن گئی جو صدیوں سے زندہ چلا آ رہا ہے۔
ابتدائی مصاحف قرآنی میں کوفی اور اس سے قریب کے خطوط استعمال ہوئے۔ وقت کے ساتھ نسخ، ثلث اور نستعلیق نے مذہبی متون، مساجد کی آرائش اور سرکاری دستاویزات میں مرکزی مقام حاصل کر لیا۔ اس پورے سفر میں خطاط محض ایک فنکار نہیں بلکہ کلام الٰہی کا امین رہا جو حرف کی درستگی، صفحے کی ترتیب اور سطر کی روانی کو دینی ذمہ داری کے طور پر ادا کرتا تھا۔ یہی اخلاقی اور روحانی وزن ہے جس نے اردو، فارسی اور عربی خطاطی کو محض دیکھنے کی چیز نہیں بلکہ ایک مکتب فکر بنا دیا۔
عالمی برادری نے بھی اس ورثے کو رسمی اعتراف دیا ہے۔ 2021 میں یونیسکو نے عربی خطاطی: علم، مہارت اور روایات کو اپنی نمائندہ فہرست غیر مادی ثقافتی ورثہ انسانیت میں شامل کیا جو سعودی عرب کی قیادت میں 16 عرب ممالک کی مشترکہ نامزدگی پر ہوا۔ یونیسکو نے عربی خطاطی کو لوچ دار، رواں اور تناسب پر مبنی ایک فنی روایت قرار دیا جو ہم آہنگی، وقار اور خوبصورتی کی عکاس ہے۔ اس اندراج کا پیغام واضح ہے کہ دنیا عربی خطاطی کو ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ روایت سمجھتی ہے جسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔
تاہم یہ بحث محض ثقافتی یا تاریخی نہیں۔ جدید اعصابی سائنس (نیورو سائنس) بھی اب قلم کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ ناروے کی نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (Norwegian University of Science and Technology) کے محققین نے حالیہ برسوں میں ایک اہم مطالعہ کیا جس میں 36 یونیورسٹی طلبہ کو باری باری ہاتھ سے لکھنے اور کلیدی تختے (کی بورڈ) پر ٹائپ کرنے کے کام دیے گئے، اور ان کی دماغی سرگرمی کو کثیر الکثافت برقی دماغی نقشہ (High-density EEG) کے ذریعے حقیقی وقت میں ریکارڈ کیا گیا۔ نتائج میں ایک واضح فرق سامنے آیا کہ ہاتھ سے لکھنے کے دوران دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان برقی رابطہ خاص طور پر یادداشت، حرکت اور حسی معلومات سے متعلق علاقوں میں الفا اور تھیٹا تعددی پٹیوں (Frequency bands) میں ٹائپنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ تھا۔
محققین نے یہ نتیجہ احتیاط کے ساتھ اخذ کیا کہ ہاتھ سے لکھنا ایسے دماغی نمونوں کو تقویت دے سکتا ہے جو سیکھنے اور یادداشت کے لیے زیادہ موزوں ہیں اگرچہ اس مخصوص مطالعے میں تعلیمی نتائج کو براہ راست نہیں ناپا گیا۔ 2025 میں شائع ہونے والے ایک جامع علمی جائزے دی نیورو سائنس بیہائنڈ رائٹنگ: ہینڈ رائٹنگ ورسز ٹائپنگ (The Neuroscience Behind Writing: Handwriting vs. Typing) نے اسی رجحان کو مزید شواہد کے ساتھ پیش کیا اور بتایا کہ ہاتھ سے لکھنے والے طلبہ میں ہجے کی درستگی، تصوراتی تشکیل اور یادداشت کی باز آفرینی کئی صورتوں میں بہتر پائی گئی۔
خوش خطی کے نفسیاتی اثرات پر سب سے حالیہ اور مخصوص تحقیق چین کے صوبہ ہونان میں 450 سے زائد یونیورسٹی طلبہ پر وانگ، ٹانگ (Wang, Tang) اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں کی گئی، جو مئی 2025 میں فرنٹیئرز ان سائیکالوجی (Frontiers in Psychology) میں شائع ہوئی۔ یہ تحقیق اس سوال کا جائزہ لیتی ہے کہ خوش خطی جیسی سرگرمیاں یونیورسٹی طلبہ کی ذہنی صحت پر کیا اثر ڈالتی ہیں خاص طور پر تین پہلوؤں سے جو یکسوئی کی کیفیت، ذہنی سکون اور باطنی آگاہی ہیں۔
نتائج قابل توجہ ہیں کہ جو طلبہ خوش خطی کی مشق میں باقاعدگی سے شریک رہے، ان میں تینوں عناصر نمایاں حد تک زیادہ پائے گئے۔ محققین نے شماریاتی تحلیل کے ذریعے دکھایا کہ یکسوئی اور ذہنی سکون اس رشتے میں اہم واسطے کا کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ خوش خطی پہلے ان دو کیفیتوں کو فروغ دیتی ہے، اور یہ کیفیتیں آگے چل کر طالب علم کی توجہ اور جذباتی توازن کو مستحکم کرتی ہیں۔ مطالعے کے مصنفین کے بقول، خوش خطی ایک باشعور مشق کے طور پر توجہ، تخلیقیت اور سکون کو فروغ دیتی ہے اور یہ سب مل کر ذہنی صحت کی بہتری میں حصہ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے سفارش کی کہ خوش خطی کو طلبہ کی فلاحی سرگرمیوں میں ثقافتی طور پر بامعنی، کم خرچ اور قابل رسائی مداخلت کے طور پر شامل کیا جائے۔
اسی نتیجے کی تائید ہانگ کانگ میں ہونے والے ایک تصادفی ضبطی آزمائشی مطالعے (Randomized controlled trial) سے بھی ملتی ہے۔ کووک (Kwok) اور ان کے ساتھیوں نے 60 برس یا اس سے زائد عمر کے ایسے افراد پر تحقیق کی جنہیں ہلکی ذہنی تنزلی (Mild cognitive impairment) لاحق تھی۔ ایک گروپ کو 8 ہفتے تک منظم چینی خطاطی کی تربیت دی گئی۔ نتائج سے پتہ چلا کہ خطاطی گروپ کے شرکاء کی جہتی شناخت، توجہ اور حسابی اسکور نمایاں حد تک بہتر ہوئے، جبکہ ضابطہ گروپ میں کمی دیکھی گئی۔ یہ تحقیق اگرچہ بزرگ افراد پر مرکوز ہے، تاہم اس عمومی رجحان کی سائنسی تائید کرتی ہے کہ توجہ طلب باریک مشقیں دماغی سرگرمی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔
یہاں وہ لوگ بھی ہیں جو اس پوری بحث کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کا موقف بھی غور طلب ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ٹائپنگ کی رفتار، سہولت، تلاش پذیری اور رسائی ناقابل تردید فوائد ہیں خاص طور پر جب بات اشتراکی تحریر، طویل مقالات یا فوری ترسیل کی ہو۔ این ٹی این یو (NTNU) کے محققین نے خود بھی واضح کیا کہ نتائج کو یک طرفہ انداز میں نہیں لینا چاہیے کیونکہ ہاتھ سے لکھنا اور ٹائپنگ دونوں مہارتیں اپنے اپنے سیاق میں اہم ہیں، اور تعلیمی نظام کو یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ کب قلم بہتر ہے اور کب کلید تختہ۔ یہ اعتراض جائز ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے خوش خطی اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان تنازع نہیں بلکہ مکالمہ شروع ہونا چاہیے۔
پالیسی کی سطح پر بھارت کی قومی تعلیمی پالیسی 2020 اسی مکالمے کی ایک عملی کوشش ہے۔ یہ پالیسی خوش خطی کا لفظ بالصراحت استعمال نہیں کرتی، مگر فن پیوند تعلیم (Art-integrated education)، تجربی سیکھنے (Hands-on learning)، تخلیقی فنون اور دستکاری کو نصاب کے تمام مضامین میں شامل کرنے پر بھرپور زور دیتی ہے۔ اسکولوں میں مقامی فنکاروں اور کاریگروں کو مہمان استاذ کے طور پر بلانے اور آرٹسٹ ان ریزیڈنس (Artist-in-Residence) پروگرامز چلانے کی سفارش بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ این سی ای آر ٹی (NCERT) کی 2023 کی فن پیوند تعلیمی رہنما کتاب اس پالیسی کو عملی شکل دیتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ فن کو محض ایک مضمون نہیں بلکہ تمام مضامین کی تدریس کا طریقہ کار بنانا چاہیے۔ خوش خطی جو زبان، فن اور ثقافتی ورثے تینوں کو ایک ساتھ جوڑتی ہے اس پورے نصابی تصور کی ایک فطری اور بامعنی مثال ہے۔
اس پوری تصویر کو دیکھتے ہوئے ایک سوال ذہن میں ابھرتایے کہ ہم اپنے اسکولوں، کالجوں اور گھروں میں اس توازن کو کیسے برقرار رکھیں؟ کیا خوش خطی کو پرانے زمانے کی چیز کہہ کر نصاب سے باہر دھکیل دینا دانش مندی ہوگی جبکہ عالمی ادارے اسے زندہ ثقافتی ورثہ مان رہے ہیں، جدید تحقیق اسے ذہنی صحت اور توجہ کے لیے مفید بتا رہی ہے، اور حکومتی پالیسی فن پیوند تعلیم کو فروغ دے رہی ہے؟
شاید اس لمحے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ڈیجیٹل اسکرینوں کے ساتھ ساتھ قلم اور صفحے کے ساتھ گزارے گئے چند خاموش، یکسو اور تخلیقی لمحات بھی دیں جہاں وہ خوبصورتی سے لکھتے ہوئے دراصل اپنے دماغ، دل اور ثقافت سے جڑ سکیں۔ جواب یقیناً ہر کسی کا اپنا ہوگا، مگر سوال سے منہ موڑنا اب ممکن نہیں۔ کلاس روم میں وہ بچہ جو خاموشی سے اپنی کاپی میں سطریں بنا رہا ہے، شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم کردار ہے چاہے اسے ابھی خود اس کا احساس نہ ہو۔
Post Views: 44