Skip to content
لوگ مجھ کو اب مرے نام سے پہچانتے ہیں.
یوپی اور اتراکھنڈ حکومت کے نام لکھنے کے حکم نامہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم ہے.
ازقلم:عبدالغفارصدیقی
9897565066
آج کل اترپردیش اور اتراکھنڈ میں ریاستی حکومتوں کے ایک حکم پر نامہ پر کافی گرما گرم بحث جاری ہے ۔اس حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جن کی دوکانیں اور ڈھابے ان راستوں پر ہیں جہاں سے مقدس کانوڑ یاترا نکلے گی وہ اپنی دوکانوں پر مالک کا نام ضرور لکھیں ۔یہ ہدایت خاص طور پر مسلمانوں کو دی گئی ہے ۔اس کا مقصد یہ ہے کہ زائرین غلطی سے کہیں مسلمان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا نہ کھالیں ،ان کے ہاتھ کی چائے نہ پی لیں اور ان سے اپنی ضرورت کا سامان نہ خرید لیں ۔ریاستی حکومت کے ذمہ داروں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے کانوڑزائرین کا دھرم بھرشٹ ہوجائے گا۔اس کا مطلب ہے کہ جب کوئی سچا ہندو اپنے ایشور کی محبت میں مقدس سفر پر جاتا ہے تو اس کو ادھرمیوں سے سامان نہیں خریدنا چاہئے ۔ورنہ اس کی آستھا خطرے میں پڑجائے گی ۔اس سے یہ بھی نتیجہ اخذہوتا ہے کہ کسی غیر مذہب کے فرد سے تعلقات رکھنا،اس سے کاروبار کرنا ،اس کے ساتھ سفر کرنا ،اس کے بیٹھنا اٹھنا ،اس کی خوشی و غم میں شریک ہونا سب پاپ اور گناہ کے کام ہیں ۔ذرا سوچئے جب ہم اپنی نسلوں کو یہ سبق پڑھائیں گے( جسے کسی دھرم گر و نہیں پڑھایا بلکہ یہ صرف ہماری پست ذہنی سیاست ہے)تو آنے والا ہندوستان کیسا ہوگا ؟کیا وہی ہندوستان نہیں ہوگا جو انگریزوں کے زمانے میں تھا ،جس میں گوروں اور کالوں کے لیے الگ الگ قانون تھے اور ان کے لیے ہر جگہ الگ الگ نظم (ویوستھا)کیا گیاتھا۔ریل میں ان کے ڈبے الگ تھے ۔ان کی ہائش گاہیں عام ہندوستانیوں سے دور تھیں۔کیا یہی وسودیوکٹمبھکم کی تعلیم ہے ،جس کا ڈھنڈورا ساری دنیا میں پیٹا جاتا ہے ۔کیا یہی 140کروڑ بھارتیوں کا پریوار ہے جس کے آپ مکھیا ہیں ،کیا یہی سب کا وکاس اور سب کا وشواس ہے ؟میں سمجھتا ہوں اس حکم نامہ سے آپ کے بارے میں تو جورائے قائم ہونی تھی وہ ہوچکی ،مگرافسوس کا مقام یہ ہے کہ بیرونی دنیا کے لوگ ہمارے ملک اور ’’ اہنسا پرمو دھرم‘‘ کا نعرہ رکھنے والے ہندودھرم کے بارے میںکیا رائے قائم کرے گی؟اللہ کا شکر ہے کہ سپریم کورٹ نے فی الحال اس حکمنامہ پر روک لگادی ہے۔
دکانداروں کو اپنی دوکانوں پر دوکان کے نام کے ساتھ اپنا نام ضرور لکھنا چاہئے اور بیشترلوگ لکھتے بھی ہیں ۔لیکن خاص موقع پر اورخاص راستوں پر آستھا کے نام پراس طرح کا حکم دینامناسب نہیں ہے ۔اس حکم نامہ کے بعد سننے میں آیا ہے کہ کئی ہندو مالکوں نے اپنے مسلم کارندوں کو اور مسلم مالکوں نے اپنے ہندو کارکنوں کو اپنے اپنے یہاں سے بھگا دیا ہے۔ایک ڈھابہ کا مالک مسلمان ہے اور اس کے تمام لارندے ہندو ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ اس آدیش کے بعد ہمارے ڈھابہ پر یاتری نہیں رکتے ۔اس لیے درجن بھر ہندو ملازم بے روزگار ہوگئے ہیں۔
ہمارے ملک کے کئی مقامات پر مسلم تاجروں اور مسلم سماجی تنظیموں کی جانب سے زائرین کے لیے ٹینٹ لگائے جاتے ہیں ،ان کے لیے ’’ جل پان ‘‘ کا انتظام وغیرہ کیا جاتا ہے ۔جس سے پورے ملک میں بھائی چارے کا ایک پیغام جاتا ہے ۔مگر آپ کے اس حکمنامہ سے بھائی چارہ بری طرح متاثر ہوگیا اور مزید ہوجائے گا۔ جو لوگ کل تک ایک دوسرے کا بھائی سمجھتے تھے وہ ایک دوسرے کو چارہ سمجھنے لگیں گے ۔سمجھ میں نہیں جاتا جو لوگ ایشور کے راستے میں گھر سے نکلے ہوں،جو اپنی مرادیں پوری کرنے کے لیے کاندھوں پر گنگا جل لارہے ہوں ،وہی لوگ اپنے من میں اپنے ہی جیسے اور اپنے ہی ملک کے انسانوں کے لیے نفرت اور حسد کی بھاونائیں بھی لے کر چل رہے ہیں ۔یہ کیسی بھکتی اور کون سے خدا کی عبادت ہے ،یہ کیسا خدا کا راستا ہے جس میں اپنے ہی بھائیوں سے نفرت کی تعلیم دی جارہی ہے ۔آج آپ نام لکھوا رہے ہیں ،کل آپ ذات اور برادریاں بھی لکھوائیں گے ۔آج کوئی ہندو کسی مسلمان سے سامان نہیں خریدے گا ،کل کوئی برہمن کسی دلت ہندو سے سامان نہیں خریدے گا ۔یعنی آپ ہزاروں سال پرانی وہی بھید بھائو اور اونچ نیچ والی پرم پرائیں شروع کرنے جارہے ہیں جس کو بڑی مشکل سے کسی حد تک ختم کیا گیا تھا ،حالانکہ وہ بالکل ختم نہیں ہوئی تھیں ۔مگر اس میں آپ کا کیا قصور؟آپ کی تربیت سنگھ کی جن شاکھائوں میں ہوئی ہے وہاں اسی نام نہاد رام راجیہ کے قیام کی بات کہی جاتی ہے جس میں راج پاٹ کا اختیار صرف برہمنوں کو ہوگا اور باقی تینوں ورنوں کو ان کی سیوا کرنی ہوگی اورکسی شمبوک کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ ہوگی ۔لیکن کیا ایسا ممکن ہے ؟میں سمجھتا ہوں کہ ممکن تو سب کچھ ہے ۔جب انسان ہٹلروادی وچاردھارا کے ساتھ کام کرتا ہے تو سب کچھ ممکن بنا لیتا ہے ،مگر ہٹلر کے انجام کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے ۔کیا زمین پر کوئی ایک بھی انسان ایسا ہے جو ہٹلر گیری کو اچھا سمجھتا ہے ۔
کہتے ہیں کہ نفرت کی جڑیں زمین میںنہیں ہوتیں ،نفرت کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے ۔ساری دنیا کی تاریخ یہی بتاتی ہے ۔ہٹلر ،مسولینی ،چنگیز خاںوغیرہ نے اپنی حکومتوں کی بنیادیں ظلم پر رکھیں ان کا انجام کیا ہوا؟ہٹلر 1933میں جرمنی کا چانسلر بنا ۔لاکھوں مخالفین کا قتل کرایا اور بالآخر 1945میں اس کو خودکشی کرنا پڑی ۔محض بارہ سال اس کی حکومت رہی ۔مسولینی نے بھی ایک فاششٹ حکومت قائم کی ۔اس نے بھی اپنے مخالفین کو بے دریغ قتل کیا ۔اس کی حکومت 21سال رہی اور انجام کار اس کو اس کے ساتھیوں سمیت گولیوں سے بھون دیا گیا ۔اس کی لاش پر ایک عورت نے سب کے سامنے پیشاب کردیا ۔چنگیز خان جو دہشت گردی کا مترادف ہے ۔ قبیلے کے سردار بننے سے لے کرحکومت قائم کرنے اور وفات تک اس کی کل مدت 52سال رہی ۔چنگیز کا زمانہ بارہویں صدی عیسوی کا تھا جب دنیا جدید ٹیکنالوجی سے متعارف نہ تھی اور ایک گلوبل ولیج نہیں بنی تھی ۔بی جے پی کو خود اپنی طرز حکمرانی کے انجام پر غور کرنا چاہئے ۔محض دس سال بعد ہی اسے بیک فٹ پر آنا پڑا ۔ایودھیا جیسی سیٹ وہ ہار گئی ۔ضمنی انتخابات میں لت آمیز شکست کا سامنا پڑا۔دنیا میں فاشزم کے انجام اور خود اپنی کارکردگی کا سنجید گی سے جائزہ لینا چاہئے اور بجائے اس کے کہ اپنی شکست کا انتقام لیں اور مزید ظلم کریں ،اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے اور نفرت و انتقام کے بجائے محبت کی راہ اپنانی چاہئے ۔
آستھا اور عقیدت کے بجائے اگر یہ کہا جاتا کہ ہم یہ کام مسلمانوں کے تحفظ کی خاطر کررہے ہیں تو اچھی رائے قائم ہوتی ۔نام لکھنے کی ہدایت سبھی دوکانداروں کے لیے ہوتی ۔پولس سبھی دوکانوں پر نام لکھواتی ۔وہ چاہے ہندو کی دوکان ہو یا مسلمان کی ۔اسی کے ساتھ مسلم دوکانوں کے آس پاس سیکورٹی کا انتظام کیا جاتا ۔زائرین کو بھی پیار محبت کے عملی اظہار کی تلقین کی جاتی ۔مسلم تنظیموں کی جانب سے چائے پانی اور استقبال کے اسٹال لگوائے جاتے ۔ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی تو آپ کی ہر طرف تعریف کی جاتی ۔آپ کے لیے جو غلط فہمیاں دلوں میں پل رہی ہیں وہ دور ہوجاتیں ۔اس سے آپ کے راجیہ میں خوش حالی آتی اور آپ کا راج سنگھاسن ایک لمبی مدت تک قائم رہتا۔
آج کی دنیا پرانی دنیا سے بہت الگ ہے ۔آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ۔آرٹی فیشیل انٹیلیجنس نے نئی نسلوں میں نئی جوت جگادی ہے ۔اب ایک آہ بھی تختہ پلٹ دیتی ہے ۔اب نہتے بھی سپر پاورز کو ملک بدر کردیتے ہیں اور ناکوں چنے چبوادیتے ہیں ۔وہ غیر مہذب دنیا تھی جس میں غریب اور کمزور ظلم سہہ کر خاموش ہوجاتا تھامگر آج آج منظر بدلتے دیر نہیں لگتی ہے ۔اس وقت ساری دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی ہے ۔اس لیے میرا مشورہ ہے کہ حاکم خواہ کوئی بھی ہو ہندو ہو یا مسلمان اسے اپنے محکوموں اور اپنی رعایا کے ساتھ عدل اور احسان کا معاملہ کرنا چاہئے ۔مذہب ،ذات ،رنگ ،زبان کے تعصبات سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہئے اور جس ملک میں اقلیت اور اکثریت کا مسئلہ ہو،وہاں اکثریت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ احسان کا رویہ اپنائے ۔ورنہ ’’ کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ کم تعداد والوں نے زیادہ تعداد والوں پر غلبہ حاصل کیا ہے ۔‘‘
امت مسلمہ کا ایمان ہے کہ اس کا خالق ہی اس کا رازق ہے جو پتھر کے کیڑوں کو روزی دیتا ہے وہی ان کو بھی پالتا ہے ۔اس ایمان کا تقاضا ہے کہ مسلمان دوکاندار خوش دلی سے اپنی دوکانوں پر اپنا نام لکھوائیں بلکہ کچھ اسلامی تعلیم بھی لکھیں ۔اپنی شخصیت کو ایک مسلمان کی حیثیت سے پیش کریں ۔ان کے دین نے ان کو یہی تعلیم دی ہے کہ وہ اپنی شناخت دوسروں سے ممیز کریں ۔دوسروں کو دھوکا دینے اور محض چار پیسے کمانے کے لیے اپنی دوکانوں کے نام ہندو دیوی دیوتائوں کے نام پر رکھناکسی طرح بھی مناسب نہیں ہے ۔یہ حرکت ہندو دیوی دیوتائوں کے احترام کے بھی خلاف ہے ۔جس کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا۔اس پہلو سے حکومت کا یہ اقدام مسلمانوں کے لیے سود مند ہے ۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی دوکانوں پر سب سے اچھا اور معیاری مال رکھیں ،مناسب قیمت پر فروخت کریں ،اپنی دوکانوں پر قیمتیں بھی آویزاں کریں ۔ اپنے غیر مسلم کارکنوں کو نہ ہٹائیں ،بلکہ ان کو تحفظ دیں ۔ملک کی سالمیت کے لیے ضروری ہے کہ یہاں محبت اور پیار کا دوردورہ ہو اوربھائی چارہ مضبوط ہو ۔انسانوں کے ساتھ حسن سلوک اس کا مذہب دیکھ کر نہیں کیا جانا چاہئے ۔اسلام کی تعلیم ہے کہ ’’ وہ شخص مسلمان نہیں جس کا پڑوسی بھوکا ہو۔چاہے وہ پڑوسی غیر مسلم ہی ہو۔‘‘مسلمان ان حالات سے دل برداشتہ نہ ہوں ،قطعا نہ گھبرائیں ۔دوکانیں چھوڑ کر نہ جائیں بلکہ نیک نیت کے ساتھ خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر نفرت کا مقابلہ کریں ۔وہ عنقریب دیکھیں گے کہ نفرت کے سوداگرمیدان چھوڑ کر بھاگنے لگے ہیں۔آپ پر لگنے والے الزامات ختم ہوجائیں گے اور نام کی یہی تختیاں آپ کی پہچان بن جائیں گی۔بقول قتیل شفائی:
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پچانتے ہیں
لوگ اب مجھ کو مرے نام سے پہچانتے ہیں
Like this:
Like Loading...