Skip to content
پروفیسر محمد حسن کا تنقیدی شعور: مارکسی فکر اور جمالیاتی قدروں کا امتزاج
مقالہ نگار : ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت۔
تلخیص : یہ تحقیقی مقالہ اردو کے ممتاز نقاد، ڈرامہ نگار اور محقق پروفیسر محمد حسن (1926-2010) کے تنقیدی نظام اور فکری انفرادیت کا تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مقالے کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کس طرح محمد حسن نے اردو تنقید میں رائج روایتی مارکسی فکر کو محض سیاسی نعرہ بازی اور سخت گیر اصولوں سے آزاد کر کے اسے جمالیاتی اقدار، نفسیاتی بصیرت اور فنی تقاضوں کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ کیا۔ اس تحقیق میں متنی اور تقابلی طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے تاکہ محمد حسن کی کلیدی تنقیدی تصانیف، ان کے تاریخی مطالعے (مثلاً دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی و فکری پس منظر) اور ان کے اہم ڈرامہ "ضحاک” کا بھرپور تجزیہ کیا جا سکے۔ مطالعے کا اہم نتیجہ یہ ہے کہ پروفیسر محمد حسن کا "ادبی سماجیات” کا نظریہ مغرب کے جدید سماجیاتی نقادوں (جیسے ریمنڈ ولیمز) سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ وہ ادب کو سماجی ڈھانچے کا غیر فعال عکس یا محض اظہار نہیں، بلکہ ایک متحرک سماجی عمل اور ثقافتی تبدیلی کا آلہ کار تصور کرتے ہیں۔ یہ مقالہ انہیں محض سید احتشام حسین کے فکری جانشین کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے مجتہد اور کثیر الجہت نقاد کے طور پر قائم کرتا ہے جنہوں نے نظریاتی تنقید میں ہیئت، نفسیات اور اساطیر کے مباحث کو غیر معمولی کامیابی سے سمویا۔
1. تعارف اور مسئلہ تحقیق
اردو تنقید کی تاریخ میں پروفیسر محمد حسن کا دور ایک اہم فکری موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند تحریک اپنے کلاسیکی اور سخت گیر رویوں کے باعث تنزلی کا شکار ہو رہی تھی، اور بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں جدیدیت کے رجحانات زور پکڑ چکے تھے، جہاں "ادب برائے ادب” کا نعرہ مقبول ہو رہا تھا۔ اس دو راہے پر، محمد حسن نے اپنی فکری اساس مارکسیت پر قائم رکھی، مگر اس کے سخت گیر سیاسی پہلوؤں کو جمالیاتی منطق کے تابع کیا۔ انہوں نے ادب کے سماجی منصب کا بھرپور دفاع کیا، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ "ادب سب سے پہلے فن ہے” (حسن، 1961، ص 12)۔ اس متوازن رویے نے ان کی تنقید کو ایک نئی جہت دی۔
اس مقالے کا بنیادی مسئلہ اور سوال یہ ہے کہ محمد حسن نے ایک نظریاتی وابستگی (مارکسیت) اور خالص فنی تقاضوں (جمالیات) کے درمیان یہ نازک توازن کس طرح قائم کیا؟ اگرچہ عام طور پر انہیں سید احتشام حسین کا فکری وارث قرار دیا جاتا ہے (نقوی، 1990)، لیکن ہماری تحقیق اس مفروضے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے یہ استدلال پیش کرتی ہے کہ محمد حسن کا تنقیدی دائرہ کار اور اسلوب اپنے پیش رو سے کہیں زیادہ وسیع اور لچکدار تھا، جس میں نفسیات، اساطیر اور ہیئت پرستی کے مباحث بھی شامل تھے۔ وہ نظریاتی وابستگی کے ساتھ بھی ادب کی آفاقی قدروں اور انفرادی فنی حیثیت کو مکمل تسلیم کرتے تھے۔
2. فکری تشکیل، ادبی پس منظر اور طریقۂ کار
2.1. فکری و ادبی پس منظر
پروفیسر محمد حسن کی فکری تشکیل ایک ایسے عہد میں ہوئی جب برصغیر سیاسی، سماجی اور ثقافتی اعتبار سے بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ تقسیمِ ہند، فرقہ وارانہ فسادات اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے تجربات نے ان کے شعور پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کے ابتدائی افسانوی مجموعے جیسے تاریک گوشے (1948) اور زلفیں اور زنجیریں (1950) اسی سماجی انتشار، کرب اور طبقاتی کشمکش کی براہِ راست عکاسی کرتے ہیں۔ ادب سے سیاست اور سماج کے گہرے رشتے کا یہ ابتدائی شعور ہی آگے چل کر ان کے ادبی سماجیات کے نظریے کی بنیاد بنا۔
2.2. طریقۂ کار
زیر نظر مقالے میں متنی تجزیہ اور تقابلی مطالعہ کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ ان کی کلیدی تصانیف، بشمول ادبی تنقید (1954)، شعرِ نو (1961) اور دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی و فکری پس منظر (1990) کا گہرائی سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ان کے تصورات کا موازنہ مغربی سماجیاتی نقادوں (جیسے ریمنڈ ولیمز) اور اپنے پیش رو اردو نقادوں (سید احتشام حسین) کے نظریات سے کیا گیا ہے تاکہ ان کے مجتہدانہ پہلو کو نمایاں کیا جا سکے۔
2.3. ادبی سماجیات کی نظریاتی بنیاد
مقالے کا نظریاتی ڈھانچہ محمد حسن کے "ادبی سماجیات” کے نظریے پر مبنی ہے۔ جس طرح مغرب میں ریمنڈ ولیمز نے اپنے "ثقافتی مادیت” کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ ثقافت اور ادب، معاشی ڈھانچے کا محض غیر فعال یا جامد اُوپری ڈھانچہ (Superstructure) نہیں ہوتے، بلکہ یہ خود سماجی تبدیلی کا آلہ کار اور عمل کا حصہ بھی ہوتے ہیں، اسی طرح محمد حسن نے اردو میں یہ نظریہ پیش کیا کہ شاعری اور تہذیب ایک دوسرے کے ساتھ جدلیاتی رشتہ رکھتے ہیں (نوری، 2018)۔ یہ نقطہ نظر ادب کو سماج کا ایک متحرک حصہ تسلیم کرتا ہے۔
3. تصورِ ادب: مارکسزم اور جمالیات کا امتزاج
پروفیسر محمد حسن کے تنقیدی نظام کا سب سے زیادہ قابل ذکر پہلو ان کا متوازن رویہ ہے۔ ترقی پسند تحریک سے گہری وابستگی کے باوجود، انہوں نے اس انتہا پسندانہ رویے کو مسترد کر دیا جو ادب کو محض سیاسی یا طبقاتی پروپیگنڈا سمجھتا تھا۔ انہوں نے فن کے جوہر کو کبھی نظر انداز نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید میں ادب کی فنی حیثیت اور جمالیاتی تقاضوں کی پاسداری اولین شرط رہی۔
ان کا مشہور اور بنیادی قول ہے:
> "آرٹ کا پہلا کام جمالیاتی احساس کی تسکین ہے۔ اگر کوئی تحریر اس معیار پر پوری نہیں اترتی تو وہ کتنی ہی کارآمد کیوں نہ ہو، ادب میں جگہ نہیں پا سکتی۔” (حسن، 1961، ص 45)۔
>
اس واضح اعلان کے باوجود، وہ "فن برائے فن” کے حامی نہیں تھے۔ ان کے نزدیک جمالیاتی تسکین کا مقصد قاری یا ناظر کو حقیقت سے فرار فراہم کرنا نہیں، بلکہ اس کے شعور کی بیداری اور ترفع کرنا تھا۔ محمد حسن ادب کی تخلیق کو تین بنیادی سطحوں کا ایک مربوط عمل قرار دیتے ہیں، اور کامیاب ادب وہی ہے جو ان تینوں سطحوں کو یکجا کر سکے:
* مصنف کی ذات کا اظہار: (نفسیاتی اور انفرادی سطح)
* عہد کا اجتماعی شعور: (سماجی اور تاریخی سطح)
* آفاقی اقدار: (انسانیت اور حیات کی ابدی سچائیوں کی سطح)
یہ تین سطحی نظریہ انہیں ان کے ہم عصر نقادوں سے ممتاز کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ وہ مارکسی فکری پس منظر رکھنے کے باوجود ادب کی آفاقیت، انفرادیت اور نفسیاتی ابعاد کے منکر نہیں تھے (شارق و ردالوی، 2002)۔
4. ڈرامہ نگاری اور سیاسی شعور: "ضحاک” کا مطالعہ
محمد حسن کی ادبی شخصیت محض تنقید تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایک فعال ڈرامہ نگار اور تاریخ نگار بھی تھے، جنہوں نے اپنے نظریات کو عملی شکل دینے کے لیے تخلیقی میدان میں بھی طبع آزمائی کی۔
پروفیسر محمد حسن کے نزدیک ڈرامہ محض تفریح کا ذریعہ یا تفریحی سرگرمی نہیں تھا، بلکہ وہ اسے سماجی مکالمے اور معاشرتی احتساب کا سب سے مؤثر وسیلہ سمجھتے تھے (حسن، 1958)۔ ان کے ڈراموں میں پیسہ اور پرچھائیں، کوہرے کا چاند اور تماشا اور تماشائی جیسی اہم تخلیقات شامل ہیں، لیکن ان کا سب سے نمایاں کارنامہ ان کا منظوم ڈرامہ "ضحاک” (1980) ہے۔
تحقیقی نقطہ نظر سے "ضحاک” کو بھارت میں ہنگامی حالات (Emergency) کے دور کے سیاسی جبر، آمریت اور عوامی استحصال کا ایک سیاسی استعارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کا پلاٹ شاہنامۂ فردوسی کے اساطیری کردار ضحاک پر مبنی ہے، لیکن محمد حسن نے اسے اپنے معاصر عہد کی جابرانہ قوتوں کی علامت بنا کر پیش کیا۔ اس ڈرامے میں انہوں نے جرمن ڈرامہ نگار برتولٹ بریخت کی "تغریب” (Alienation یا اجنبیت) کی تکنیک کو اردو مزاج میں کامیابی سے برتا۔ اس تکنیک کا مقصد ناظرین کو کرداروں کے جذباتی رو میں بہانے کے بجائے انہیں ایک فکری فاصلہ دے کر سوچنے اور حالات کا تجزیہ کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
ڈرامے کا یہ طاقتور مکالمہ ان کے سیاسی شعور اور عوامی مزاحمت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے:
> "یہ سانپ ہمارے کاندھوں پر نہیں، ہمارے ذہنوں میں پل رہے ہیں۔ جب تک ہم خوفزدہ رہیں گے، ضحاک زندہ رہے گا۔” (حسن، 1980، ص 62)۔
>
یہ مکالمہ ثابت کرتا ہے کہ محمد حسن کے ہاں اساطیر کا استعمال ماضی کی محض نقل کے لیے نہیں بلکہ حال کی تفہیم اور مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک تنقیدی ٹول کے طور پر ہوتا ہے۔ اسی طرح، ڈرامہ کوہرے کا چاند (1969) میں انہوں نے مرزا غالب کی ذاتی زندگی کے کرب کو 1857ء کے سماجی و سیاسی انتشار سے جوڑ کر دکھایا، جو ان کے تاریخی شعور کا بھرپور ثبوت ہے۔
5. ادبی سماجیات اور تہذیبی تنقید کا نظریہ
پروفیسر محمد حسن کی تنقید کا سب سے روشن اور اجتہادی پہلو ان کا "تہذیبی مطالعہ” ہے۔ ان کی دو معرکہ آرا تصانیف دہلی میں اردو شاعری کا تہذیبی و فکری پس منظر (1990) اور اودھ میں اردو ادب کا تہذیبی و فکری پس منظر (1995) اردو تحقیق میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ان کتابوں میں انہوں نے روایتی تذکرہ نگاری سے انحراف کرتے ہوئے یہ سائنسی بنیاد رکھی کہ کوئی بھی شاعر خلا میں شاعری نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے عہد کے سماجی، معاشی اور تہذیبی حالات کا ایک عکس ہوتا ہے۔ انہوں نے میر تقی میر اور مرزا سودا کے کلام کا تجزیہ کرتے ہوئے اٹھارویں صدی کی دہلی کے معاشی انحطاط، سیاسی انتشار اور اخلاقی قدروں کی شکست و ریخت کو بنیاد بنایا۔
ان کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ دبستانِ دہلی کی داخلیت اور دبستانِ لکھنؤ کی خارجیت محض اتفاقی، ذاتی میلان یا شاعرانہ مزاج کی پیداوار نہیں تھی، بلکہ یہ ان مخصوص جغرافیائی علاقوں کے معاشی اور سماجی ڈھانچے اور سیاسی اقتدار کے زوال یا عروج کی براہِ راست پیداوار تھی۔
یہ اندازِ نظر اردو میں "ادبی سماجیات” کی مضبوط بنیاد بنا۔ محمد حسن نے دکھایا کہ کس طرح معاشی زوال، سیاسی بے یقینی اور سماجی تبدیلیاں زبان کے لہجے، شعری استعاروں اور اصناف کے انتخاب کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:
> "دہلی کا شاعر جب اجڑتے ہوئے شہر کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی ذات کا آئینہ سمجھتا ہے، جبکہ لکھنؤ کا شاعر عیش و نشاط کی محفلوں میں بھی زوال کی آہٹ سن لیتا ہے۔” (حسن، 1995، ص 112)۔
>
6. خاکہ نگاری اور شخصیت شناسی
محمد حسن کی تنقیدی بصیرت کا ایک اور اظہار ان کی کتاب "شناسا چہرے” (1982) ہے، جو خاکہ نگاری کے فن میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یہاں بھی ان کا تنقیدی شعور بیدار نظر آتا ہے۔ وہ شخصیت کو محض اس کے ظاہر، اچھے پہلوؤں یا حالات سے نہیں پرکھتے، بلکہ اس کی گہری نفسیاتی اور سماجی تہوں کو کریدتے ہیں۔ ان کے خاکے محض تعریف یا مدح سرائی نہیں ہوتے بلکہ شخصیت کے تضادات، خوبیوں اور سماجی پس منظر کا ایک متوازن اور تجزیاتی مطالعہ ہوتے ہیں، جو قاری کو ممدوح کی ذہنی ساخت، فن اور عہد کی تفہیم میں مدد دیتے ہیں۔
7. محاکمہ اور نتائجِ تحقیق
پروفیسر محمد حسن کی مجموعی ادبی و تنقیدی خدمات کے تفصیلی اور تجزیاتی مطالعے کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کو درج ذیل نکات میں مرتب کیا جا سکتا ہے:
* نظریہ اور فن کا توازن:
محمد حسن بھارت میں اردو کے ان چند نقادوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ترقی پسند تحریک کے زوال کے بعد مارکسی تنقید کو محض نعرہ بازی کی سطح سے اٹھا کر ایک سنجیدہ علمی اور جمالیاتی نظام میں تبدیل کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک نقاد بیک وقت "مقصدیت پسند” اور "حسن پسند” ہو سکتا ہے۔ ان کا تنقیدی نظام اس بنیادی اصول پر قائم ہے کہ آرٹ کا اولین وظیفہ جمالیاتی آسودگی ہے، لیکن وہ آسودگی جو شعور کو سلانے کے بجائے بیدار کرے (حسن، 1961)۔
* ادبی سماجیات کے بانی:
تحقیق کی رو سے انہیں اردو میں "ادبی سماجیات” کے بانیوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔ ان سے قبل بھی ادب اور سماج کے رشتے پر بات ہوتی تھی، لیکن محمد حسن نے دہلی اور اودھ کے تہذیبی پس منظر جیسی تصانیف کے ذریعے یہ سائنسی طریقہ کار وضع کیا کہ تہذیبی، فکری اور معاشی کوائف کس طرح ادبی اصناف کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ اردو تحقیق میں ان کا سب سے بڑا اجتہاد اور علمی اضافہ ہے۔
* سید احتشام حسین کی فکری توسیع:
اگرچہ انہیں سید احتشام حسین کا جانشین کہا جاتا ہے، لیکن تجزیہ بتاتا ہے کہ محمد حسن کا دائرہ کار احتشام حسین سے زیادہ وسیع تھا۔ احتشام حسین کی تنقید میں نظریاتی گرفت زیادہ سخت تھی، جبکہ محمد حسن نے نفسیات، وجودیت اور ہیئت پرستی کے مباحث کو بھی اپنے نظام میں سمویا۔ ان کی کتاب شناسا چہرے اور ڈرامہ ضحاک اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ وہ انسانی نفسیات کے باریک گوشوں کو بھی نظریاتی عینک کے بغیر دیکھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
* کثیر الجہت اور بین العلومی شخصیت:
وہ محض ایک نقاد نہیں تھے۔ ان کا ڈرامہ ضحاک سیاسی بصیرت کا عمدہ نمونہ ہے اور ان کی ادبی تاریخیں (جیسے ہندی ادب کی تاریخ) ان کی وسعتِ نظر اور بین العلومی (Interdisciplinary) بصیرت کی غماز ہیں۔
مختصر یہ کہ پروفیسر محمد حسن جدید اردو ادب کے وہ "پل” ہیں جو کلاسیکی روایت کو جدید شعور سے اور مارکسی فکر کو جمالیاتی تقاضوں سے جوڑتے ہیں۔ ان کی تحریریں آج بھی ان محققین اور ناقدین کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو ادب کو زندگی اور سماجی حقیقت سے الگ کر کے نہیں دیکھتے ہیں۔
Post Views: 40