Skip to content
ظریفانہ: دھوکہ ہوئی گوا رے ہم کا مغربی بنگال ما
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن ادھیکاری سے کلن گھوش نے کہا یار ہمارے ساتھ تو دھوکہ ہوگیا۔
للن بولا کیا بکتے ہو کلن ۔ اپنا شبھیندو ادھیکاری وزیر اعلیٰ بن گیا ہے۔ اب کس کی مجال ہے ہمارے ساتھ دھوکہ کرے وہ اس کی کھال اھیڑ دے گا ۔
کلن بولا یہ بات تو درست ہے مگر وہ خود اپنی کھال کیسے ادھیڑ سکتا ہے؟
اس کی کھال کوئی نہیں ادھیڑ سکتا اب دیکھنا کہ وہ ابھیشک کی کیا حالت کرتا ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں وہ ممتا کو بھی نہیں چھوڑے گا۔
ارے بھیا وہ سب ٹھیک ہے مگر خوداس کو کون پکڑے گا ؟
یار یہ تم بار بار الٹی بات کیوں کررہے ہو ۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے؟
اس میں سمجھنے والی کیا بات ہے؟ تم نے نہیں سنا کل اس نے کس طرح ہم لوگوں کو ڈانٹ دیا ۔
وہ ہم کو کیوں ڈانٹے گا۔ ہم لوگوں نے نے ہی تو اسے ریاست کا وزیر اعلیٰ بنایا ہے۔ اس کو تو ہمارا احسانمند رہنا چاہیے ۔
جی ہاں میں بھی یہی سمجھ رہا تھا لیکن اس نے ہماری ساری امیدوں پر ابھی سے پانی پھیرنا شروع کردیا ۔
ارے بھیا ایسا کیا کردیا اس بیچارے شبھیندو نے؟ کہیں تمہیں کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوگئی۔
زیادہ بات نہ بناو کلن بولا آج تک ممتا نے بھی ہمیں اس طرح شٹ اپ نہیں کہا تھا ۔ میں تو شرم سے پانی پانی ہوگیا۔
کیا بک رہے ہو۔ وہ کبھی ایسا نہیں کرسکتے ۔ میں ان کو جانتا ہوں ۔
تم کیا خاک جانتے ہو ۔ حلف برداری کے بعد تو تم جھال موڑی کھانے کے لیے کھسک گئے تھے ۔ میں ان کے ساتھ جور سانکو ٹھاکور باڑی گیا تھا ۔
اچھا لیکن اس کو ٹھاکور باڑی جانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اسے تو وندے ماترم کے خالق بنکم چند چٹرجی یا شیاما پرساد مکرجی کی یاد گار پر جانا چاہیے تھا ؟
جی ہاں وہ سب ہمیں بیوقوف بنانے کے لیے گھڑیالی آنسو تھے۔ اس نے تین بعد قبل رابندر ناتھ ٹیگور کی سالگرہ پر کیا لکھا تھا تمہیں یاد ہے؟
میں نے پڑھا ہی نہیں تو یاد کہاں سے رہتا ؟اچھا چلو تم ہی بتا دو کہ کیا لکھ دیا ۔
بھیا اس منافق نے رابندر ناتھ ٹیگور کی جینتی کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئےانہیں بنگالی ادب اور ثقافت کا ”امر ستارہ” قرار دے دیا۔
یہ نہیں ہوسکتا ٹیگور تو ہمارے نظریاتی حریف تھے ۔ ان کی تعریف اور توصیف ہم کیسے کرسکتے ہیں؟
ارے بھائی اگر ہم لوگ اپنے سنگھ پر پابندی لگانے والے ولبھ بھائی پٹیل اور کٹر اشتراکی بھگت سنگھ کو اپنا سکتے ہیں تو ٹیگور کس کھیت کی مولی ہے؟
تب تو ٹھیک ہے ۔ سیاسی لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ہمیں اس کو نظر انداز کردینا چاہیے۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر اقتدار سنبھالتے ہی ٹیگور کی ”امر تخلیقات، انسان دوست فلسفہ اور حب الوطنی” کی تعریف تو نظریاتی غداری ہے ۔
للن بولا جی ہاں ہمارا انسان دوستی سے کیا لینا دینا کیونکہ انسان تو مسلمان بھی ہیں اور سویندو خود کہہ چکے ہیں کہ وہ ہمیں ووٹ نہیں دیتے ۔
جی ہاں اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کا نہیں صرف ہندووں کا کام کریں گے ۔ اس نے کہا تھا ہم سب کے ساتھ نہیں جو ہمارے ساتھ ہم اس کے ساتھ
ارے بھائی یہ سب ہم لوگوں کو بہلانے کے لیے کہا جارہا تھا مگر اب وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل چکا ہے ۔
یار تم اپنے ادھیکاری کو ایسے بھلے برے القاب سے یاد نہ کرو ۔ وہ اب ہمارا بنگال کی دھرتی پر پہلا زعفرانی وزیر اعلیٰ اس سے پہلے لال یا سفید ہوتے تھے۔
ارے بھائی اسی لیے تو غصہ لگتا ہے رابندر ناتھ ٹیگور کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی وہ تو قوم پرستی کے دشمن تھے۔
تھے تو تھے یہ کس کو پتہ کہ وہ کیا تھے اب تو سب کو ہمارا ہندوتوا ہی نظر آتا ہے ۔ یہ بتاو کہ کیا اتنی سی بات کا تم برا مان گئے ؟
جی نہیں ادھیکاری تو بریگیڈ پریڈ گراؤنڈسے عہدے کا حلف لینےکے بعد ائیرکنڈیشن گاڑی میں ٹھاکورباڑی نکل لیے۔
جی ہاں میں بھی جانا چاہتا تھا مگر گرمی اتنی تھی کہ ہمت نہیں کرسکا ۔
اچھا کیا جو نہیں آئے مگر میں بس کے دھکے کھاتے ہوے پسینے سے شرابور ٹھاکور باڑی پہنچا۔ اب سوچتا ہوں اگر تمہاری طرح نہ جاتا تو اچھا تھا ۔
ارے بھائی ایسا کون سا آسمان پھٹ گیا ۔ نیتا گری میں تھوڑا بہت اونچ نیچ ہوجاتا ہے۔
مجھے زیادہ گیان مت دو۔ یہ بتاو کیا اس دیش میں ’جئے شری رام ‘ کا نعرہ لگانا کوئی جرم ہوگیا ہے؟
کیسی بات کررہے ہو۔ اس پر تو کبھی ممتا بھی پابندی نہیں لگا سکی۔ وہ تو ہم سے اونچی آواز میں نہ صرف نعرہ لگاتی تھی بلکہ ہنومان چالیسا بھی پڑھتی تھی ۔
وہی تو،ہم سب نے شبیندو کو رابندر ناتھ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے دیکھا تو اپنا پیارا نعرہ لگانے لگے ۔
للن بولا ایسے وقت اپنا اصلی تشخص ظاہر کرنے کے لیے یہ ضروری تھا ۔
کلن بگڑ کر بولا ایسا تم کو لگتا ہے لیکن تمہارے شبھیندو کو نہیں لگتا ۔
اچھا یہ تمہیں کیسے معلوم ۔ تم نے اس کے من کی بات جان لی کوئی انتریامی ہو کیا؟
انتریامی ہونے کی کیا ضرورت؟ اس نے ہمیں ڈانٹ کر خاموش کروادیا ۔
تم نے دوسری بار یہ بات کہی۔ میرے لیے یہ ناقابلِ یقین ہے۔
تو کیا میں جھوٹ بھول رہا ہوں۔ تم نے اپنے دوست کلن کو کیا سمجھ رکھا ہے؟ اور مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟
اچھا کیا ہوا مجھے تفصیل سے بتاو پھر میں تمہیں اس کا مطلب سمجھاتا ہوں۔
بھائی سمجھنے سمجھانے کی کوئی بات ہی نہیں پہلے تو ہمیں ڈانٹ کر خاموش کیا اور ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے کہہ دیا میں سب کا وزیر اعلیٰ ہوں۔
سب کی وزیر اعلیٰ تو ممتا تھی کیونکہ سب ووٹ دیتے تھے۔ اب اس میں اور ادھیکاری میں فرق ہے؟
وہی تو جب ادھیکاری کو صرف ہندووں نے ووٹ دیا اور اگر مسلمانوں کے کام کرنے ہی نہ ہوں ان کا وزیر اعلیٰ ہونے کا کیا فائدہ؟
یار مجھے تو کچھ گڑ بڑ لگتا ہے۔ کہیں یہ صرف وزیر اعلیٰ بننے کے لیے ہی تو ہمارے ساتھ نہیں آگیا اور اب واپس جانے کا ارادہ تو نہیں رکھتا؟
دیکھو بھائی جب تک مرکز میں ہماری حکومت ہے وہ ایسی غلطی نہیں کرے گا ورنہ جیل جانا پڑے گا لیکن ۰۰۰۰۰۰
لیکن کیا للن؟ لیکن تم کیا کہنا چاہتے ہو؟
یہی کہ اگر بھول چوک سے راہُل گاندھی وزیر اعظم بن جائے تو کچھ کہہ نہیں سکتے ۔
یار یہ ناممکن ہے کیونکہ اب تو ممتا انڈیا محاذ سے بہت قریب ہوگئی ہیں ۔ ایسے راہل اس کو اپنے ساتھ کیسے لے سکیں گے؟
اچھا تم نے تمل ناڈو کو نہیں دیکھا وہاں بھی تو اسٹالن انڈیا محاذ میں شامل تھا۔ اس کے ساتھ کیا ہوا؟
کیا مطلب اگر شبیھندو ایک علاقائی جماعت بناکر اکثریت سے قریب آجائیں تو کیا راہل اسے بھی گلے لگا لیں گے؟
کیوں نہیں جو بات جنوبی ہند میں ممکن ہے وہ مشرقی ریاست میں کیوں نہیں؟
للن بات بدلنے کے لیے بولا یار تم تو بہت دور کی کوڑی لے آئے۔ راہل اگلے جنم میں بھی وزیر اعظم نہیں بن سکتا
دیکھو یہ دور نہیں سامنے پڑی کوڑی ہے اب اگر تم آنکھ موند کر دودھ پینا چاہتے ہو تو تمہاری مرضی۔
للن بولااچھا یہ بتاو کہ آخر وزیر اعلی ادھیکاری کے معاون چندر ناتھ رتھ کے قتل کا کوئی سراغ ملا؟
جی ہاں اس قتل کے سلسلے میں اتر پردیش سے تین افراد کو ایس آئی ٹی حراست میں لے کر 24 پرگنہ لےآئی ۔
کیا!تمہارا مطلب ہے تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس ائی ٹی) نے انہیں گرفتار کرلیا۔
اچھا تووہ مسلمان شوٹر بھی یوگی کے اترپردیش بھاگ گیا ۔ کمال بیوقوف ہے۔
وہ بیوقوف مسلمان نہیں بلکہ شاطر ہندو راج سنگھ ہے اور اس کے ساتھ گرفتار ہونے والے مینک مشرا اور وویک موریہ بھی ہندو ہیں۔
لیکن یہ گرفتاریاں ہوئیں کیسے؟
پولیس افسر کے مطابق تفتیش کاروں نے کیس میں “ڈیجیٹل سراغ اور بین ریاستی روابط” کا پتہ لگایا۔کچھ بہار اور کچھ یوپی میں ملے۔
ان تینوں ریاستوں میں کمل کھلا ہوا ہے۔پھر بھی یہ سب ہوگیااور یوگی کا تو دعویٰ تھا کہ انہوں نے جرائم سے پاک یوپی بنادیا ہے۔
ارے بھائی ایک عتیق احمد اور مرحوم مختار انصاری کی اہلیہ پر انعام رکھ دینے سے جرائم کم نہیں ہوتے ۔
لیکن یار کلن یہ راج سنگھ کون ہے ؟کوئی سماجوادی تو نہیں۔ سارے مجر م اسی پارٹی سے آتے ہیں۔
بھیا پتہ چلا ہے کہ وہ شتریہ (راجپوت) تنظیم کا مقامی صدر ہے اور یوگی راج میں راجپوت بدمعاشوں کو پولیس نہیں چھیڑتی۔
یار کہیں ہمارے یوگی جی کا اس قتل میں ہاتھ تو نہیں کیونکہ ہیمنتا کی مانند نفرت کے بازار میں ادھیکاری نے یوگی کو پیچھے دھکیل دیا ہے
بھیا دیکھو اگر یہ پہلا سانحہ ہوتا لوگ یہ سوچتے لیکن یہ تو چوتھا شکار ہے۔
یار کہیں شبیندو اپنے راز داروں کا کانٹا نکلنے کے لیے توخود۰۰۰۰۰۰
بھیا دیکھو بغیر ٹھوس ثبوت کے میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر شک کی سوئی کا کیا کریں جو اس طرف مڑ جاتی ہے۔
Post Views: 55