Skip to content
حضرت ابراہیم کا خاندان ، مسلم خاندانوں کے لئے نمونہ ہے.
آن لائن انسٹی ٹیوٹ آف عربک کےدسویں سیمینار سےمفتی سید آصف الدین ندوی کی مخاطبت.
حٰیدرآباد،13مئی (الہلال میڈیا) مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز حیدرآباد نے دسویں آن لائن سیمیناربعنوان “حضرت ابراہیمؑ کے خاندان کی قربانیاں”کے صدارتی خطاب میں کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن ہے، آپ کو قرآن مجیدنے ایک ملت قرار دیا ہے،اور ایسی ملت جس کی اتباع وپیروی اور ان کی اقتدا کا حکم معلم انسانیت رہبر خلائق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے دیا ہےتو ہمیں جاننا چاہیے کہ حضرت ابراہیم کے اندر کیا کیا کمالات وخوبیاں اورکیاکیا اوصاف حمیدہ اور شمائل محمودہ اللہ تعالی نے ودیعت فرمائے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید کے علم بردار ، شرک سے بیزار ، خالق کے چہیتے مخلوق کے ہمدرد ، صبر وشکر کی نمایاں مثال، پیکر اخلاق، ایک مخلص سرپرست، ایک مثالی شوہر اور ایک مثالی باپ اور ہر ہر باب میں ایک نمونہ ہے ۔ مولانا محتر م نے اپنے سلسلہ خطاب میں کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ساتھ ان کے اہل وعیال کو بھی مثال ونمونہ بنانے کا ذکرقرآن مجید میں ہے،حج وقربانی خاندان ابراہیم کی یادگار ہے، صفا ومروہ خاندان ابراہیم کی یادگار ہے، کنکریاں خاندان ابراہیم کی یادگار ہے، دسویں سیمینار میں دنیا بھر کے مختلف مقامات سے طلبہ، طالبات اور شائقینِ علم نے بھرپور شرکت کی۔سیمینار کا بنیادی مقصد سنتِ ابراہیمی کی حقیقی روح کو اجاگر کرنا اور قربانی کے عظیم پیغام کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھانا تھا۔ مولانا محترم نے اپنے خطاب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی بے مثال قربانیوں، صبر، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کامل تسلیم و رضا کے مختلف پہلوؤں کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز حیدرآباد کے مختلف کورسیس کے طلبہ وطالبات جن میں حافظ محمد یونس مدن پلی ، خواجہ معین الدین،پرنسپل ٹمریز حافظ مصباح احمد، فہیم سلطانہ، اویس حمدان، سیدہ شاکرہ، سراج الرحمن، سید ہاشم نقوی اور خنساء میمنت شامل ہیں۔ مقالات پیش کیے اور جن کا مجموعی تاثر یہ تھا کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات، مفادات اور نفس کی قربانی دینا بھی سنتِ ابراہیمی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو اسلامی اقدار، دینی شعور اور عملی زندگی میں اخلاص اپنانے کی تلقین کی۔پروگرام کے اختتام پر حضرت مفتی سید آصف الدین ندوی صاحب نے تمام مقالہ نگاران ، مقررین، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے علمی و اصلاحی پروگرام امت میں دینی بیداری پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اسی طرح کے تربیتی اور اصلاحی سیمینارز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ آن لائن انسٹی ٹیوٹ آف عربک حیدرآباد دینی، تعلیمی اور تربیتی میدان میں مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ ادارہ اپنی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یوٹیوب، فیس بک اور لنکڈ اِن کے ذریعے بھی عوام تک پہنچا رہا ہے۔مزید معلومات کے لیے ادارے کی ویب
سائٹwww.deeniyat.onlineا ور رابطہ نمبر 8639257153 پر رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر صابرہ سلطانہ ، شمع پروین ، محمد نواب انجینئر ، مرزا سھیل باشا نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ علمی و تحقیقی قافلہ اور اس کے مربی قابل مبارکباد ہیں ۔
مفتی سید آصف الدین ندوی
Post Views: 30