Skip to content
بیدر کی باورچی گلی اور بریانی کی شاہی داستان
ازقلم:محمد امین نواز
رکن کرناٹک اُردو کادمی
دکن کی سرزمین ہمیشہ سے تہذیبوں، سلطنتوں، زبانوں اور ثقافتوں کے حسین امتزاج کی علامت رہی ہے۔ یہ خطہ صرف سیاسی اقتدار کا مرکز نہیں رہا بلکہ علم و ادب، فنِ تعمیر، موسیقی، لباس، زبان اور طعامی روایات کا بھی ایسا گہوارہ ثابت ہوا جس نے برصغیر کی تہذیبی شناخت کو نئی جہت عطا کی۔ دکن کی فضاؤں میں جہاں بہمنی، بریدشاہی، عادل شاہی اور قطب شاہی سلطنتوں کی گونج سنائی دیتی ہے، وہیں اس سرزمین کے دسترخوان بھی اپنی انفرادیت، نفاست اور ذائقے کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ انہی لازوال تہذیبی ورثوں میں ایک عظیم اور دلکش روایت ’’بریانی‘‘ کی بھی ہے، جو آج دنیا کے مقبول ترین اور شاہانہ کھانوں میں شمار کی جاتی ہے۔ بریانی محض چاول اور گوشت کا امتزاج نہیں بلکہ یہ صدیوں پر محیط تہذیبی میل جول، شاہی ذوق، مقامی مصالحوں کی خوشبو اور دکنی روایتوں کا ایسا حسین مرقع ہے جس نے ہر دور میں لوگوں کے ذوقِ طعام کو مسحور کیا ہے۔ اگرچہ بریانی کی تاریخ کسی ایک شخصیت، خاندان یا خطے تک محدود نہیں، اور اس کے پس منظر میں فارسی، عربی، ترک اور برصغیری اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دکن، خصوصاً بیدر نے اس شاہی پکوان کی تشکیل، ارتقا اور مقبولیت میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔بیدر، جو کبھی بہمنی سلطنت کا عظیم دارالحکومت رہا، صرف سیاسی اور عسکری مرکز ہی نہیں تھا بلکہ تہذیبی، ادبی اور طعامی روایات کا بھی محور سمجھا جاتا تھا۔ یہاں شاہی درباروں میں تیار ہونے والے نفیس کھانے، خاص طور پر خوشبودار چاول، عمدہ گوشت، دیسی گھی، زعفران اور مقامی مصالحوں سے مزین بریانی، رفتہ رفتہ عوامی دسترخوان تک پہنچی اور پھر پورے دکن کی شناخت بن گئی۔ بیدر کی سرزمین نے مختلف تہذیبوں اور اقوام کے ذائقوں کو اپنے اندر سمو کر ایک ایسی منفرد طعامی روایت کو جنم دیا جس میں شاہی وقار بھی تھا اور عوامی محبت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ دکن کی بریانی، خصوصاً بیدری اور دکنی اندازِ بریانی، اپنی خوشبو، لذت، پکانے کے منفرد طریقے اور مصالحوں کے توازن کے باعث دیگر علاقوں کی بریانی سے ممتاز سمجھی جاتی ہے۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ جب دکن کے درباروں میں فنونِ لطیفہ، شاعری اور موسیقی کو فروغ مل رہا تھا، اسی دور میں شاہی باورچی خانے بھی نت نئے ذائقوں اور پکوانوں کی تخلیق میں مصروف تھے، اور بریانی اسی تہذیبی عروج کی ایک زندہ یادگار بن کر ابھری۔
آج اگر دنیا کے مختلف ممالک میں دکنی بریانی کا چرچا سنائی دیتا ہے تو اس کے پس منظر میں صدیوں پر محیط وہ تہذیبی سفر پوشیدہ ہے جس کی ابتدا دکن کے تاریخی شہروں، خصوصاً بیدر کے شاہی ایوانوں اور عوامی بستیوں سے ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بریانی کی تاریخ کا مطالعہ دراصل دکن کی تہذیبی عظمت، تاریخی ورثے اور بیدر کی ثقافتی اہمیت کو سمجھنے کا ایک خوبصورت وسیلہ بھی ہے۔بریانی محض ایک غذا نہیں بلکہ تہذیبی ارتقا کی ایک جیتی جاگتی علامت ہے۔ اس کے اندر فارسی تہذیب کی نزاکت، عربی ذوق کی لطافت، ترک روایت کی شان اور ہندوستانی مصالحوں کی خوشبو یکجا نظر آتی ہے۔ ’’بریانی‘‘ لفظ فارسی زبان کے’’بریاں‘‘یا ’’بریان‘‘ سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے، جس کے معنی ’’بھونا ہوا‘‘ کے ہیں۔ ایران اور وسط ایشیا میں گوشت اور چاول کے کئی پکوان صدیوں سے رائج تھے، مگر جب یہ روایت دکن پہنچی تو یہاں کے موسم، مصالحوں، چاولوں اور مقامی ذوق نے اسے ایک نئی شناخت عطا کردی۔
پندرہویں صدی کا دکن سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے نہایت اہم دور سے گزر رہا تھا۔ بہمنی سلطنت جنوبی ہند کی ایک عظیم اسلامی سلطنت بن چکی تھی۔ 1427ء میں سلطان احمد شاہ ولی بہمنی نے دارالحکومت گلبرگہ سے منتقل کرکے بیدر کو سلطنت کا مرکز بنایا۔ یہ فیصلہ محض سیاسی نہیں تھا بلکہ تہذیبی اعتبار سے بھی انقلابی ثابت ہوا۔ بیدر دیکھتے ہی دیکھتے علم، ادب، فنِ تعمیر، موسیقی اور شاہی طعام کا مرکز بن گیا۔ایران، خراسان، عرب، ترکستان اور وسط ایشیا سے علما، صوفیا، فنکار، معمار اور باورچی بڑی تعداد میں بیدر آنے لگے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب بیدر کے شاہی محلات میں عظیم الشان مطابخ قائم کیے گئے۔ ان مطابخ میں روزانہ سینکڑوں افراد کے لیے کھانے تیار ہوتے تھے۔ شاہی دعوتیں سلطنت کی شان و شوکت کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اس لیے باورچیوں کو دربار میں خاص مقام حاصل تھا۔
بیدر کے انہی شاہی مطابخ میں فارسی ’’پلائو‘‘نے دکنی مصالحوں سے رشتہ جوڑا۔ عربی اور ایرانی انداز کے گوشت و چاول کے پکوان جب مقامی ذائقوں سے ہم آہنگ ہوئے تو ایک نئی ڈش وجود میں آنے لگی۔ اس ڈش میں باسمتی چاول، نرم گوشت، زعفران، دیسی گھی، خشک میوہ جات اور خوشبودار مصالحے استعمال کیے جاتے تھے۔ بعد ازاں ’’دم‘‘ کے طریقہ پکوان نے اسے مزید منفرد بنا دیا۔ ’’دم‘‘کا طریقہ دراصل دکن کی شاہی مطبخی روایت کا کمال تھا۔ دیگ کو اچھی طرح بند کرکے ہلکی آنچ پر پکایا جاتا تاکہ گوشت، چاول اور مصالحوں کی خوشبو ایک دوسرے میں پوری طرح جذب ہوجائے۔ یہی طریقہ بعد میں دکنی بریانی کی اصل شناخت بن گیا۔ اس فن کو بیدر کے شاہی باورچیوں نے کمال درجے تک پہنچایا۔
بیدر کی قدیم’’باورچی گلی‘‘ جو تاریخی جامع مسجد کے عقب میں واقع ہے جو اسی شاہی روایت کی زندہ علامت سمجھی جاتی ہے۔ مقامی روایات کے مطابق یہاں شاہی باورچیوں کے خاندان آباد تھے جو بہمنی سلاطین کے لیے کھانے تیار کیا کرتے تھے۔ اگرچہ تاریخ نے ان باورچیوں کے نام محفوظ نہیں رکھے، مگر ان کی مہارت کی خوشبو آج بھی عوامی حافظے میں زندہ ہے۔قدیم زمانوں میں شاہی باورچی صرف کھانا پکانے والے افراد نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ دربار کی تہذیبی شناخت کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ کسی بھی سلطنت کی عظمت اس کے محلات، فوج اور علم کے ساتھ ساتھ اس کی ضیافتوں سے بھی پہچانی جاتی تھی۔ بیدر کے شاہی دسترخوان اسی عظمت کی مثال تھے جہاں مختلف تہذیبوں کے ذوق ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے تھے۔ بعض دکنی روایات کے مطابق ’’باورچی گلی‘‘ کے ماہرین بعد میں دیگر دکنی ریاستوں تک بھی پہنچے۔ خاص طور پر حیدرآباد میں جب قطب شاہی سلطنت قائم ہوئی تو دکنی شاہی کھانوں کی روایت مزید فروغ پانے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآبادی بریانی کی جڑیں بھی دکن کے انہی قدیم شاہی مطابخ سے جا ملتی ہیں جن میں بیدر کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بریانی کی موجودہ شناخت دکن میں پروان چڑھی۔ اگرچہ مغلیہ تاریخ میں بھی بریانی کے حوالے ملتے ہیں، مگر کئی فوڈ ہسٹورینز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دکن میں بریانی کی روایت مغلوں سے پہلے موجود تھی۔ بہمنی دور کے شاہی مطابخ نے اس روایت کی بنیاد رکھی، جبکہ بعد کی دکنی سلطنتوں نے اسے مزید جلا بخشی۔
بریانی کی تاریخ دراصل تہذیبوں کے ملاپ کی تاریخ ہے، اور بیدر اس ملاپ کا سب سے روشن استعارہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں فارسی ذوق، عربی تہذیب، ترک روایت اور دکنی معاشرت اس طرح ایک دوسرے میں مدغم ہوئیں کہ ایک نئی ثقافتی شناخت وجود میں آئی۔ یہی شناخت بعد میں دکنی بریانی کی صورت میں دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔بیدر کی عظمت صرف اس کی سلطنتوں یا قلعوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی اصل شناخت اس تہذیبی روح میں پوشیدہ ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ یہاں کی زبان، لباس، موسیقی، فنِ تعمیر اور خوراک سب ایک ایسے تہذیبی امتزاج کی علامت بن گئے جس کی مثال پورے برصغیر میں کم ملتی ہے۔ بریانی اسی تہذیبی امتزاج کی سب سے خوشبودار علامت قرار دی جاسکتی ہے۔جب بہمنی سلطنت زوال پذیر ہوئی اور برید شاہی دور کا آغاز ہوا تو بیدر کی شاہی روایت ختم نہیں ہوئی بلکہ مزید نکھرتی گئی۔ شاہی مطابخ بدستور قائم رہے اور مختلف اقوام کے باورچی اپنی مہارت کے جوہر دکھاتے رہے۔ انہی ادوار میں گوشت، چاول اور مصالحوں کے مختلف تجربات نے بریانی کو مزید نفاست عطا کی۔ زعفران، کیوڑہ، عرقِ گلاب، جائفل، جاوتری اور خشک میوہ جات کے استعمال نے اسے شاہانہ وقار بخشا۔ دکن کے کھانوں میں مصالحوں کا استعمال ہمیشہ منفرد رہا ہے۔ شمالی ہند کے مقابلے میں دکنی پکوان زیادہ خوشبودار، تیز اور تہہ دار ذائقے رکھتے تھے۔ بیدر کے شاہی باورچیوں نے انہی مصالحوں کو اس مہارت سے استعمال کیا کہ کھانا صرف ذائقہ نہ رہا بلکہ ایک فن پارہ بن گیا۔ بریانی کی ہر پرت میں ذائقے کی ایک نئی کیفیت پوشیدہ ہوتی تھی۔ بعض روایات کے مطابق شاہی دعوتوں میں بریانی کو بڑی دیگوں میں تیار کیا جاتا تھا۔ دیگوں کو آٹے سے بند کرکے لکڑی کی ہلکی آنچ پر رکھا جاتا تاکہ خوشبو ضائع نہ ہو۔ جب دیگ کا ڈھکن کھولا جاتا تو زعفران، گوشت، چاول اور مصالحوں کی ملی جلی خوشبو پورے دربار کو معطر کردیتی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا تھا جب شاہی مہمان بیدر کے باورچیوں کی مہارت کے معترف ہوجاتے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دکن کی تہذیب میں کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ مہمان نوازی، محبت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بیدر کی شاہی روایت نے اسی تصور کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بریانی بعد میں عوامی سطح پر بھی مقبول ہوتی گئی اور رفتہ رفتہ پورے برصغیر کی محبوب ترین ڈش بن گئی۔
اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو بیدر نے صرف بریانی ہی نہیں بلکہ پورے دکنیCulinary Culture کو ایک سمت عطا کی۔ یہاں کے شاہی مطابخ نے کھانوں کو ایک فن کی حیثیت دی۔ ’’باورچی گلی‘‘ اسی فن کی علامت بن کر ابھری جہاں نسل در نسل باورچی اپنے ہنر کو منتقل کرتے رہے۔ اگرچہ تاریخ میں کسی ایک باورچی کا نام محفوظ نہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ بیدر کے شاہی باورچیوں نے اجتماعی طور پر ایک ایسی روایت کو جنم دیا جس نے دنیا بھر کے ذائقوں کو متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب دکنی بریانی کا ذکر ہوتا ہے تو تاریخ کے اوراق میں بیدر کا نام عقیدت اور احترام کے ساتھ ابھرتا ہے۔آج دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بریانی کے بے شمار انداز رائج ہیں۔ کہیں حیدرآبادی بریانی مشہور ہے، کہیں لکھنوی، کہیں کلکتہ بریانی اور کہیں مالابار بریانی۔ مگر ان تمام روایتوں کے پس منظر میں دکن کی وہ تہذیبی خوشبو موجود ہے جس کی ابتدائی لہریں بیدر کے شاہی مطابخ سے اٹھتی محسوس ہوتی ہیں۔ بیدر کی’’باورچی گلی‘‘ دراصل ایک تاریخی استعارہ ہے۔ یہ صرف ایک محلہ نہیں بلکہ اس عہد کی یادگار ہے جب کھانا بھی تہذیب تھا، ذائقہ بھی فن تھا، اور باورچی بھی دربار کے معزز افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ان گلیوں سے اٹھنے والی خوشبو نے وقت کی سرحدیں عبور کرکے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر بریانی دکن کی تہذیبی روح ہے تو بیدر اس روح کا ایک روشن اور معطر باب ہے۔ یہاں کی شاہی دیگوں میں صرف چاول اور گوشت نہیں پکتا تھا بلکہ تہذیبیں ایک دوسرے میں گھلتی تھیں، ثقافتیں ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی تھیں، اور ذائقے تاریخ کا حصہ بن جاتے تھے۔
Post Views: 24