Skip to content
ملتِ اسلامیہ کے نام پیغام: موجودہ معاشی بحران اور ہماری ذمہ داریاں
حیدرآباد،13مئی(ایجنسیز) محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں ملت اسلامیہ بالخصوص شہر حیدرآباد کے معز ر بھائیوں اور بہنوسے کہا کہ اسلام ہمیں اعتدال اور میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ایک طرف سیاسی اور سماجی حالات ہمارے حق میں سازگار نہیں، تو دوسری طرف معاشی افق پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ 2026ء کا یہ سال ہندوستان، بالخصوص متوسط اور غریب طبقے کے لیے سخت آزمائش لے کر آیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرول اور خوردنی اشیاء کی قلت، اور بیروزگاری کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ایسے نازک وقت میں حیدرآباد کی مسلم برادری میں پھیلی ہوئی "نمائش اور فضول خرچی” نہایت افسوسناک اور شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہے۔
شادیوں، دعوتوں اور تہواروں کے نام پر لاکھوں روپے محض دکھاوے اور اسراف میں اڑا دیے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "بہترین شادی وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو اور سادگی زیادہ ہو۔آنے والے دن سخت ہیں، غلہ اور خوراک کی قلت کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا، میں جمعیۃ علماء تلنگانہ کی جانب سے آپ تمام حضرات سے درج ذیل اپیل کرتا ہوں:شادیوں میں سادگی: شادیوں کو محض نمائش کا ذریعہ نہ بنائیں۔ مہنگے ہوٹلوں، ضرورت سے زیادہ پکوانوں اور شاہانہ لباس پر پیسہ ضائع کرنے کے بجائے سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق سادگی اختیار کریں۔اسراف سے پرہیز: ہوٹلنگ، برانڈڈ شاپنگ اور پرتعیش طرزِ زندگی کو ترک کریں۔ فضول خرچی کرنے والا "شیطان کا بھائی” قرار دیا گیا ہے۔
آج کی گئی بچت کل آپ کے بچوں کی تعلیم اور فاقہ کشی سے بچنے کے کام آئے گی۔مواخات کا جذبہ (بھائی چارہ): ہمارے ارد گرد لاکھوں ایسے بھائی بہن ہیں جو سرکاری راشن پر گزارہ کر رہے ہیں۔ صاحبِ ثروت طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی فضول خرچی کو روک کر وہ پیسہ غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد پر خرچ کریں۔تعصب اور سیاسی حالات کا ادراک: موجودہ انتظامی اور سماجی سیٹ اپ میں ہمارے خلاف تعصب بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ہماری نمائش اور فضول خرچی دوسروں کو حسد اور تنقید کا موقع دیتی ہے۔ اپنی معیشت کو مضبوط کریں تاکہ ہم کسی کے محتاج نہ رہیں۔توبہ اور استغفار: معاشی تنگی اور سماجی دباؤ اللہ کی طرف سے تنبیہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔میرے عزیزو! اگر آج ہم نے اپنی عادات نہ بدلیں، تو کل کی معاشی تباہی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم "سادگی کو اپنا شعار بنائیں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ہمیں آنے والی آزمائشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Post Views: 14