Skip to content
حسرتِ آزادی کا نعرہ: مولانا حسرت موہانی اور "انقلاب زندہ باد”
ازقلم:محمد امین نواز
برصغیر کی تحریکِ آزادی کی تاریخ چند ایسی نابغۂ روزگار شخصیات سے عبارت ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم، ملت اور وطن کی آزادی کے لیے وقف کردی۔ ان ہی عظیم المرتبت مجاہدینِ آزادی میں مولانا حسرت موہانی کا نام سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ وہ بیک وقت عظیم شاعر، نڈر صحافی، صاحبِ طرز ادیب، بااصول سیاست دان، مذہبی عالم اور سچے محبِ وطن تھے۔ ان کی شخصیت علم و ادب، سیاست و صحافت اور حریت و انقلاب کا حسین امتزاج تھی۔ “انقلاب زندہ باد” کا ولولہ انگیز نعرہ جس نے غلام ہندوستان کے نوجوانوں کے لہو میں آزادی کی حرارت پیدا کردی، اسی عظیم فرزندِ وطن کی فکر کا آئینہ دار تھا۔مولانا حسرت موہانی کا اصل نام "سید فضل الحسن” تھا۔ آپ یکم جنوری 1875ء کو ریاست اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے تاریخی قصبہ موہان میں پیدا ہوئے۔ "موہانی” نسبت اپنے وطن موہان کی وجہ سے اختیار کی جبکہ "حسرت ” آپ کا شعری تخلص تھا۔ آپ کا خاندان علمی، دینی اور ادبی روایات کا حامل تھا، اسی لیے ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر علمی ذوق پیدا ہوگیا تھا۔ عربی، فارسی، اردو اور اسلامی علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد آپ نے جدید تعلیم کی طرف بھی توجہ دی۔ 1899ء میں آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ میں انقلابی رجحانات نمایاں تھے۔ علی گڑھ میں قیام کے دوران آپ نے انگریز حکومت کی غلامانہ پالیسیوں کو شدت سے محسوس کیا اور آزادیٔ وطن کے جذبے نے آپ کے دل میں مستقل جگہ بنالی۔ اسی زمانے میں آپ نے شعر و ادب کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
1903ء میں مولانا حسرت موہانی نے "اردوئے معلیٰ” کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا۔ یہ رسالہ محض ادبی جریدہ نہیں تھا بلکہ برطانوی سامراج کے خلاف ایک فکری و انقلابی محاذ تھا۔ اس رسالے میں شائع ہونے والے اداریے، مضامین اور سیاسی تبصرے عوام میں بیداری پیدا کرتے تھے۔ انگریز حکومت نے اس رسالے کو اپنی اقتدار کے لیے خطرہ محسوس کیا۔ چنانچہ کئی مرتبہ رسالہ ضبط کیا گیا، جرمانے عائد ہوئے اور بالآخر مولانا کو جیل بھیج دیا گیا۔ 1908ء میں ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا اور دو سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس دور میں انہیں روزانہ تقریباً چالیس کلو اناج چکی پر پیسنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ جیل کی سختیوں، بھوک، مشقت اور ذہنی اذیتوں کے باوجود ان کے عزم میں ذرّہ برابر کمی نہ آئی۔ وہ قید کو وطن کی آزادی کے لیے قربانی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں متعدد بار گرفتار ہوئے۔ بعض محققین کے مطابق انہیں کم از کم چھ مرتبہ مختلف ادوار میں جیل جانا پڑا۔ مولانا حسرت موہانی ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے ان اولین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے "مکمل آزادی” کا واضح مطالبہ پیش کیا۔ دسمبر 1921ء میں احمد آباد میں منعقدہ انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انہوں نے "Complete Independence ” یعنی مکمل آزادی کی قرارداد پیش کی۔ اس وقت بیشتر سیاسی قائدین صرف محدود اختیارات یا برطانوی سلطنت کے اندر خودمختاری کے قائل تھے، مگر حسرت موہانی نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ ہندوستان کو مکمل آزاد ملک ہونا چاہیے۔ یہ ان کی غیرمعمولی سیاسی بصیرت تھی، کیونکہ بعد میں 1929ء میں کانگریس نے "پورن سوراج” کو اپنا باضابطہ نصب العین بنایا۔ مولانا حسرت موہانی کی انقلابی فکر کا سب سے مؤثر اظہار "انقلاب زندہ باد” کے نعرے میں نظر آتا ہے۔ یہ نعرہ صرف ایک سیاسی جملہ نہیں تھا بلکہ غلامی کے خلاف اعلانِ بغاوت تھا۔ بعد میں بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد اور دیگر انقلابیوں نے اسی نعرے کو پورے ہندوستان میں مقبول بنایا۔ جلسوں، جلوسوں، عدالتوں اور جیلوں میں "انقلاب زندہ باد” کی صدائیں گونجنے لگیں۔ اس نعرے نے نوجوانوں کے اندر آزادی کی نئی روح پھونک دی۔
مولانا حسرت موہانی کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی بے مثال سادگی تھی۔ وہ بڑے سیاسی قائد ہونے کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ کھدر کا لباس پہنتے، عام لوگوں کے ساتھ بیٹھتے اور شاہانہ طرزِ زندگی سے ہمیشہ دور رہے۔ ان کے پاس دولت، جائیداد یا سیاسی اقتدار کی کوئی خواہش نہ تھی۔ ان کے نزدیک اصل دولت حریتِ فکر اور آزادیٔ وطن تھی۔ وہ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس دونوں سے وابستہ رہے۔ یہ ایک غیرمعمولی بات تھی، کیونکہ اس زمانے میں دونوں جماعتوں کے نظریات میں اختلافات بڑھ رہے تھے، مگر حسرت موہانی قومی اتحاد کے قائل تھے۔ وہ ہندو مسلم یکجہتی کو ہندوستان کی آزادی کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے۔ ان کے سیاسی نظریات مذہبی تعصب سے پاک تھے اور وہ ہر اس قوت کے مخالف تھے جو قوم کو تقسیم کرنا چاہتی تھی۔ 1919ء میں تحریک خلافت اور تحریک عدم تعاون کے دوران مولانا حسرت موہانی نے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انگریز حکومت کے خلاف متحد ہوجائیں۔ اسی جدوجہد کی پاداش میں انہیں بارہا نگرانی، گرفتاری اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
مولانا حسرت موہانی نے صحافت کو قومی بیداری کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ "اردوئے معلیٰ” کے علاوہ انہوں نے متعدد سیاسی اور ادبی مضامین تحریر کیے جن میں آزادی، انصاف، جمہوریت اور قومی وقار کے موضوعات نمایاں تھے۔ ان کی تحریروں کا اسلوب بے حد فصیح، مدلل اور پرجوش ہوتا تھا۔ وہ لفظوں سے ایسی آگ پیدا کرتے تھے جو غلام قوم کے دلوں میں آزادی کی چنگاری روشن کردیتی تھی۔ ادبی اعتبار سے بھی مولانا حسرت موہانی اردو غزل کے صفِ اول کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں عشق کی لطافت، تصوف کی گہرائی اور انقلاب کی حرارت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ ان کا مشہور شعر ؎
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کاوہ زمانہ یاد ہے
آج بھی زبان زدِ عام ہے۔ یہ شعر ان کی عشقیہ شاعری کی مقبولیت کا مظہر ہے، لیکن ان کی شاعری صرف عشقِ مجازی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں حب الوطنی، حریتِ فکر اور قومی بیداری کے جذبات بھی موجزن تھے۔ انہوں نے اردو غزل کو کلاسیکی حسن کے ساتھ انقلابی شعور بھی عطا کیا۔ مولانا حسرت موہانی کا شمار اردو ادب کے ان معدودے چند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب اور سیاست دونوں میدانوں میں یکساں عظمت حاصل کی۔ ان کی شاعری کا مجموعہ "کلیاتِ حسرت "اردو ادب کا اہم سرمایہ تصور کیا جاتا ہے۔ ادبی محققین کے مطابق انہوں نے سیکڑوں غزلیں، نظمیں اور سیاسی مضامین تحریر کیے۔ ان کی زبان نہایت شستہ، فصیح اور اثر آفرین تھی۔ وہ غالب، میر اور مومن کی شعری روایت سے گہرا شغف رکھتے تھے، اسی لیے ان کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔
مولانا حسرت موہانی ہندوستان کے اُن چند سیاسی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی۔ آزادی کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنے کے باوجود انہوں نے کبھی وزارت، سرکاری منصب یا مالی منفعت کی خواہش ظاہر نہیں کی۔ ان کی پوری زندگی فقر و قناعت کی عملی تصویر تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق وہ اکثر ریلوے کے تیسرے درجے میں سفر کرتے اور عام لوگوں کے درمیان رہنا پسند کرتے تھے۔ ان کی حب الوطنی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ ہندوستان کی تہذیبی یکجہتی کے زبردست حامی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ مذہبی منافرت کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کا ماننا تھا کہ آزادی کی جدوجہد میں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر طبقات ایک ہی قوم کی مانند متحد رہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مختلف سیاسی مکاتبِ فکر میں یکساں احترام رکھتے تھے۔
1936ء کے بعد ہندوستان کی سیاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا، مگر مولانا حسرت موہانی آخری وقت تک اتحاد و یگانگت کا پیغام دیتے رہے۔ وہ ایسے ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے جہاں جمہوریت، انصاف اور عوامی مساوات قائم ہو۔ ان کی تقاریر میں قومی آزادی کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف کا مطالبہ بھی نمایاں ہوتا تھا۔ 1942ء میں بھارت چھوڑو تحریک کے دوران بھی مولانا حسرت موہانی نے آزادی کی حمایت میں اپنی آواز بلند رکھی۔ اگرچہ اس وقت ان کی عمر تقریباً 67 برس ہوچکی تھی، لیکن ان کے جذبۂ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ وہ مسلسل سیاسی اجتماعات، تحریروں اور بیانات کے ذریعے قوم میں بیداری پیدا کرتے رہے۔ 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی مولانا حسرت موہانی نے اصولی سیاست کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ انہوں نے تقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے فسادات اور انسانی المیوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ان کا خواب ایک پرامن، متحد اور انصاف پر مبنی معاشرہ تھا۔ وہ سیاسی اقتدار کے ایوانوں سے دور رہ کر بھی عوامی رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔
مولانا حسرت موہانی کو اردو صحافت کا بھی ایک عظیم ستون تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے رسالہ "اردوئے معلیٰ” نے برطانوی سامراج کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ صحافتی تاریخ میں یہ رسالہ آزادیٔ اظہار اور جرأتِ صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انگریز حکومت نے کئی بار اس پر پابندیاں عائد کیں، مگر مولانا نے کبھی قلم کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی شخصیت میں تصوف کا رنگ بھی نمایاں تھا۔ وہ حضرت مجدد الف ثانیؒ اور دیگر صوفیائے کرام سے عقیدت رکھتے تھے۔ اسی روحانی وابستگی نے ان کے کردار میں عاجزی، استقامت اور اخلاقی بلندی پیدا کی۔ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ عبادت، ذکر و فکر اور دینی مطالعہ ان کے معمولات میں شامل تھا۔مولانا حسرت موہانی کو حج اور زیارتِ حرمین شریفین سے بھی غیرمعمولی شغف تھا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ حج ادا کیا۔ سخت مالی مشکلات کے باوجود وہ عشقِ رسول ﷺ اور شوقِ حرم سے سرشار رہتے تھے۔ یہی روحانی وابستگی ان کی شاعری اور شخصیت دونوں میں جھلکتی ہے۔
13 مئی 1951ء کو یہ عظیم مجاہدِ آزادی، بے مثال شاعر اور نڈر صحافی دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ان کا انتقال لکھنؤ میں ہوا، مگر ان کی جدوجہد، فکر اور انقلابی آواز آج بھی زندہ ہے۔ ان کی وفات کے بعد ہندوستان بھر کے ادبی، سیاسی اور صحافتی حلقوں نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اردو ادب کی تاریخ میں وہ ایک ایسے شاعر کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جس نے غزل کو انقلاب کی روح عطا کی، جبکہ سیاسی تاریخ میں وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر زندہ ہیں جس نے غلام ہندوستان میں آزادی کی پہلی توانا صداؤں میں اپنی آواز شامل کی۔ مولانا حسرت موہانی کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ سچا محبِ وطن کبھی ظلم کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ انہوں نے قید و بند، غربت، سیاسی مخالفت اور حکومتی ظلم سب کچھ برداشت کیا مگر آزادی اور حق گوئی کا راستہ نہ چھوڑا۔ ان کی پوری حیات نوجوان نسل کے لیے حوصلہ، جرأت اور حب الوطنی کا پیغام ہے۔
آج جب ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو مولانا حسرت موہانی کا نام ایک درخشاں ستارے کی مانند نظر آتا ہے۔ "انقلاب زندہ باد” کا نعرہ آج بھی عوامی جدوجہد، آزادیٔ فکر اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ نعرہ دراصل مولانا حسرت موہانی کے اس خواب کی ترجمانی کرتا ہے جس میں ایک آزاد، خوددار، انصاف پسند اور باوقار قوم کی تصویر موجود تھی۔ بلاشبہ مولانا حسرت موہانی برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہیں جن کی ادبی عظمت، سیاسی بصیرت، صحافتی جرأت اور حب الوطنی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ آزادی محض ایک سیاسی نعمت نہیں بلکہ انسانی وقار، قومی غیرت اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہے۔ "انقلاب زندہ باد” کا نعرہ آج بھی اسی ولولۂ حریت کی گونج ہے جسے مولانا حسرت موہانی نے اپنے خونِ جگر سے زندہ کیا تھا۔
Post Views: 13