Skip to content
سیرت ابراہیم ؑقرآن کی نظر میں
ازقلم:مفتی سیدسلمان قاسمی
استاددارالعلوم رشیدیہ مہدی پٹنم حیدرآباد
تعارف سیدناابراہیم علیہ السلام
قرآن حکیم نے سیدنا ابراہیم علیہ السّلام کا تعارف اس طرح کروایا ہے
’’ ان إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتاً لِلَّهِ حَنِيفًا وَ لَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . شَاكِرًا لَأَنْعُمِهِ اجْتَبَهُ وَهَدِيهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ إِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ . ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ .({ FR 7 })
واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات میں ایک پوری اُمت کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ اللہ کے فرمانبردار تھے بالکل ایک رخ تھے اور شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے ، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے ،اللہ نے انہیں منتخب کر لیا تھا، اور انہیں سیدھا راستہ دکھایا تھا، اور دنیا میں اُن کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں ہوں گے، پھر ہم نے تمہاری طرف (اے نبی) وحی بھیجی کہ یک ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :
’’مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيَّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا‘‘({ FR 8 })
ابراہیمؑ نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی ، البتہ وہ ایک خدا کی طرف جھکنے والے مسلمان تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔
ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے :
’’وَاذْكُرُ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًانبيا‘‘({ FR 9 })
اور کتاب میں ابراہیم ؑ کاذکر کیجئے ، وہ ایک سچے نبی تھے وہ ایک اور جگہ ارشاد ہے :
’’وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشُدَہ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّابه علمين ‘‘({ FR 10 })
اور ہم نے (موسیؑ) سے پہلے ابراہیم ؑ دانائی عطاکی تھی اور ہم ان ( کی صلاحیت )سےخوب واقف تھے۔
ابراہیم ؑ کابچپن
حضرت ابراہیمؑ کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جو شرک ، بت پرستی اور کواکب پرستی میں ڈوبا ہوا تھا، آپ کے والدنہ صرف بت پرست بلکہ بت گر بھی تھے اورانہیںپنڈت کا مقام حاصل تھا ۔
حضرت ابراہیمؑ نے شعور کی آنکھیں کھولیں تو اپنے ارد گرد بتوں کی پرستش ہوتے دیکھی، اپنے ماں باپ ، افراد خاندان اور دوسرے لوگوں کولکڑی، مٹی اورپتھر کے بتوں کے آگے سر جھکاتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہوئے پایا، انھوں نے دیکھا کہ ان کےوالد قسم قسم کے بت بناتے اور انھیں پوجتے ہے، انھیں اللہ تعالیٰ نے فطرت سلیم پر پیدا کیا تھا، انھوں نے غورو تدبر کیا: کیا یہ مٹی پتھر کے بت خدا بن سکتے ہیں؟ یہ کھا پی سکتے ہیں نہ تو بول سکتے ہیں، ان پر مکھی بیٹھ جائے تو اسے ہٹا نہیں سکتے، جب یہ اپنے معاملے میں اتنے بے بس ہیں تو دوسروں کی حاجت روائی کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر یہ حقیقی معبود نہیں تو پھر کون ہے؟ عین ممکن ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس سلسلے میں اپنے والدین سے دریافت کیا ہو؟
حضرت ابراہیم ؑکی سلامت طبع، زہانت اور غور و تدبر کی بنا پر عین ممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اپنے ماں باپ سے اس انداز کی گفتگو ہوتی رہی ہو ۔
والد کو دعوت توحید
سیدنا ابراہیم ؑ کو بارگاہ الہی سے نبوت کےمرتبہ سے سرفراز کیا گیا اور حکم ملا کہ اللہ کے گمراہ بندوں تک اس کا پیغام پہنچا ئیں تو انھوں نے سب سے پہلے اپنے باپ کو مخاطب کیا اور ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کی ،یہ دعوت کے ابتدائی مرحلے میں سیدنا ابراہیم ؑنے اپنے باپ تک حق کا پیغام پہنچایا، اس کے سامنے غیر اللہ کی بے بسی واضح کی ، انہےشیطان کی غلامی چھوڑ کر رحمن کی غلامی میں آنے کی دعوت دی:
’’اِذقَالَ لِاَبِیہِ یٰاَبَتِ لِمَ تَعبُدُ مَا لَا یَسمَعُ وَ لَا یُبصِرُ وَ لَا یُغنِی عَنکَ شَیئًا ﴿۴۲﴾یابَتِ اِنِّی قَد جَآءَنِی مِنَ العِلمِ مَا لَم یَاتِکَ فَاتَّبِعِی اَہدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا ﴿۴۳﴾یٰاَبَتِ لَا تَعبُدِ الشَّیطٰنَ ؕ اِنَّ الشَّیطٰنَ کَانَ لِلرَّحمٰنِ عَصِیًّا ﴿۴۴﴾یاَبَتِ اِنِّی اَخَافُ اَن یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحمٰنِ فَتَکُونَ لِلشَّیطٰنِ وَلِیًّا ﴿۴۵﴾
جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں،ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو آپ میرے ساتھ ہو جائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر لے چلوں گا،ابا شیطان کی پوجا نہ کیجئے بیشک شیطان اللہ کا نافرمان ہے۔({ FR 13 })
ان آیات میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو دین کی بنیادوں پر ایمان لانے کی دعوت دی اور توحید ، رسالت اور آخرت کا واضح تصور پیش کیا ۔ انھوں نے والد کا پورا ادب واحترام ملحوظ رکھا اور انتہائی اپنائیت اور دل سوزی کے ساتھ سمجھایا ، انداز مخاطب سے محبت ، اپنائیت ، خلوص اور خیر خواہی کے جن احساسات کا اظہار ہورہا ہے وہ اہل زبان سے مخفی نہیں ، مگر اس کا جواب باپ نے انتہائی ڈانٹ ڈپٹ سے دیا:
’’قَالَ أَرَاغِبُ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا‘‘({ FR 14 })
ان کے والد نے کہا !کیا تو میرے معبود سے بے رغبتی کرنے والاہے اے ابراہیم ! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو میں ضرور ہی تجھے سنگسار کر دوں گا اور مجھے چھوڑ جا۔ اس حال میں کہ تو صحیح سالم ہے۔
قوم کو دعوت
دعوت کے دوسرے مرحلے میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ آپ کی قوم اپنے ہی تراشیدہ بتوں کے آگے سر جھکاتی تھی، انہیں اپنا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتی تھی ، اپنے اس عمل کی ان کے پاس کوئی اگر کوئی دلیل تھی تو بس یہ کہ اپنے باپ دادا کو صدیوں سے انھوں نے ایسا ہی کرتے دیکھا تھا ، سیدنا ابراہیمؑنے ان کے عقیدہ باطل پر کاری ضرب لگائی ، ان کی گمراہی واضح کی اور ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی :
’’إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ‘‘۔ ({ FR 15 })
جب انہوںنے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا : یہ مورتیاں کیسی ہیں ؟جن کے تم لوگ گرویدہ ہور ہے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا: ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے اس نے کہا: تم بھی گمراہ ہو اورتمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے انھوں نے کہا: کیا تو ہمارے سامنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کر رہا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ فی الواقع تمہارا رب وہی ہے ، جو زمین اور آسمانوں کا رب اور ان کا پیدا کرنے والاہے،اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ کی دعوت تو حید سن کر ان کی قوم کو یقین نہ آیا کہ وہ اس میں سنجیدہ ہیں ۔ اس نے دریافت کیا کہ باپ دادا کے رسم و رواج اور طریقے کے برخلاف ایک دوسرا طریقہ پیش کر کے کہیں وہ مذاق تو نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہےکہ قوم نے یہ بات آغاز دعوت میں کہی تھی
ایک موقع پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعوت ان الفاظ میں قرآن مجید میں مذکور ہے :
’’وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْکا، إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ‘‘۔ ({ FR 16 })
اور ابراہیم ؑکو بھیجا کہ اس نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوچ رہے ہو، وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو، وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے ۔ اللہ سے رزق مانگو اور اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔
ایک موقع پر اپنی قوم سے یوں گویا ہوئے :
’’إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ أَئِفْکا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ‘‘۔ ({ FR 17 })
انہوںنے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا: یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو؟ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو ۔ آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟
چاندستاروں ،سورج خدانہیں ہے
حضرت ابراہیم ؑ کی قوم سورج ، چانداورستاروں کو بھی پوجتی تھی، حضرت ابراہیم ؑ نےسوچاکہ ان کے اس عقیدے پر بھی ضرب لگائی جائے اور ان پر واضح کیا جائے کہ یہ معبود نہیں ہیں بلکہ خود اپنے پیداکرنے والےکے غلام اوراس کی مشیت کے پابندہیں، اس کے لیے انہوں نےاستدراج کا طریقہ اختیار کیا ۔’’ استداراج ‘‘ کامطلب یہ ہےکہ مخاطب کواس طرح درجہ بدجہ قائل کیا جائے کہ اس کے سامنے ایک ایک انکارکے دروازےبند ہوتے جائیں اور ہٹ دھرمی کے علاوہ پیش کردہ دلیل کا انکارکرنے کی اورکوئی صورت نہ بچے ، قرآن نے اسی نقشہ کو مزین اندازمیں پیش کیا :
’’فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ ۔ فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ، فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ،فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ،إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا۔وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ‘‘۔
جب اس پر رات چھاگئی تو اس نے ستارہ کو دیکھا اور کہا : ( کیا ) یہ میرا رب ہے ؟ جب ستارہ ڈوب گیا تو کہنے لگے : میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا ،پھر جب چاند کو روشن دیکھا تو کہنے لگے : (کیا ) یہ میرا رب ہے ؟ جب چاند بھی ڈوب گیا تو بول پڑے : اگر میرے پروردگار کی ہدایت مجھے حاصل نہ رہے تو میں یقینا گمراہوں میں ہوجاؤں،پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہنے لگے : (کیا) یہ میرا رب ہے ؟ یہ تو سب سے بڑا بھی ہے ، پھر جب سورج بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے: اے میری قوم ! میں ان چیزوں سے بری ہوں ، جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔
پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہنے لگے: (کیا) یہ میرا رب ہے ؟ یہ تو سب سے بڑا بھی ہے ، پھر جب سورج بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے : اے میری قوم ! میں ان چیزوں سے بری ہوں ، جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔({ FR 18 })
حضرت ابراہیم ؑکے تینوں جوابات سے واضح طور پر دعوت توحید کے بتدریج ارتقاء کا اظہار ہوتا ہے، ستارے کے ڈوبنے پر انھوں نے جو بات کہی تھی ، چاند کے ڈوبنے پر اس سے آگے کی بات فرمائی اور پھر سورج کے ڈوبنے پر مزید وضاحت کے ساتھ شرک سے براءت کا اعلان کیا اور توحید کی تعلیم پیش کی،یہ دیکھ کر حضرت ابراہیمؑ کی قوم تلملااٹھی ، دعوت توحید کے جواب میں وہ بحث و مجادلہ پر اتر آ ئی ، اپنے معبودوں سے ڈرانے دھمکانے لگی ،حضرت ابراہیم ؑنے جواب دیا کہ تمہارے یہ معبود کسی کا بال بیکا نہیں کر سکتے ،ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے:
’’وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّو نِي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ،وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ، وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ أَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا‘‘۔({ FR 19 })
اور ( ہوا یہ کہ ) ابراہیم سے ان کی قوم جھگڑنے لگی ، ابراہیم نے کہا : کیا تم مجھ سے اﷲ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو ؛ حالاں کہ اﷲ نے مجھے ہدایت سے نواز رکھا ہے اور جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ، میں ان سے نہیں ڈرتا ، سوائے اس کے کہ میرے رب ہی کو کچھ منظور ہو ، میرے رب کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے ، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
اور تم جنھیں شریک ٹھہراتے ہو ، میں ان سے کیوں ڈروں ؟ حالاں کہ تم اﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے پر نہیں ڈرتے ؛ باوجودیکہ اﷲ نے تم پر اس کے حق میں کوئی دلیل نہیںاُتاری۔
ابراہیم ؑ قوم کے بت کدے میں
قوم میلے میں مصروف تھی، سیدنا ابراہیمؑ قوم کے خداؤں سے ملاقات کرنے کے لئے بت کدے میں پہنچ جاتے ہیں اور جس طرح ان سے مخاطب ہوئے، قرآن مجید نے اس کا منظر یوں کھینچا ہے :
’’فَرَاغَ إِلَى آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِين‘‘({ FR 21 })
جب ابراہیم اُن کے معبودوں (یعنی بتوں ) میں گھس گئے اورکہنے لگے : تم کھاتے نہیں؟ تمہیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں؟ پھر وہ دائیں ہاتھ سے مارناشروع کیا ۔
اور ان کا جو حشر کیا اس کا نقشہ قرآن مجید نے یوں پیش کیا ہے:
’’فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَنَ الظَّالِمِينَ قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ‘‘({ FR 22 })
چنانچہ ابراہیم بڑے بت کو چھوڑ کرتمام بتوں کوٹکڑےٹکڑےکردیا؛ تاکہ وہ لوگ ان کی طرف سے رُجوع کریں ۔
انھوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ بلا شبہ وہ یقیناً ظالموں سے ہے۔ لوگوں نے کہا ہم نے ایک جو ان کو سنا ہے ، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔
ابراہیم ؑ بادشاہ کے دربار میں
بادشاہ وقت کی گستاخی کے الزام پرسید نا ابراہیم علیہ السلام کو بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا پھر حکم ہوا:
’’قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ‘‘({ FR 23 })
انھوں نے کہا پھر اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاؤ تا کہ وہ گواہ ہو جائیں ۔
چنانچہ آپ علیہ السلام کو لایا گیا اور یہ مکالمہ زیر بحث آیا:
’’قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ‘‘({ FR 24 })
لوگوں نے پوچھا : ائے ابراہیم ! کیاتم نے ہمارے معبودوں کےساتھ یہ حرکت کی ہے ؟ ابراہیم نے کہا : کہیں یہ حرکت اُن کے اس بڑے نے کی ہو ؟ تو اگر وہ بولتے ہوں تو ان سے ہی پوچھ لو، پھر ان لوگوں نے دل میں سوچا اور کہنے لگے: حقیقت یہ ہےکہ تم ہی لوگ غلطی پر ہو ، پھر مارے شرم کے اپنے سر جھکالئے (اور کہنے لگے : )تم کو اچھی طرح معلوم ہےکہ یہ بولتے نہیں ہیں،ابراہیم کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ نفع دیتی ہے اور نہ تمہیں نقصان پہنچاتی ہے؟ تُف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔
مجمع عام میں سیدنا ابراہیم ؑکے سامنے پوری قوم لاجواب ہو کر ہکی بکی رہ گئی ، آپ نے ان کے معبود ان باطلہ کی تردید کرنے کے بعد تو حید باری تعالی بیان کرنے کا موقع ملا :
’’وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْکا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُتُمْ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِين۔‘‘({ FR 25 })
اور ابراہیمؑ کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو تم اللہ کے سوا چند بتوں ہی کی عبادت کرتے ہو اور تم سراسر جھوٹ گھڑتے ہو، بلا شبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمہارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں ، سو تم اللہ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ،اوراگر تم جھٹلاؤتوتم سے پہلے کئ امتیں جھٹلاچکی ہیں اور رسول کےذمے تو کھلم کھلا پہنچادینے کےسواکچھ نہیں ۔
آگ کے شعلے اور سید نا ابراہیم علیہ السلام کی سلامتی
ارشاد باری تعالی ہے :
’’فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِقُوه‘‘({ FR 26 })
پھر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا کہ اسے قتل کر دو، یا اسے جلا دو۔
ایک اور دوسرے مقام پر فرمایا :
’’فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُونَ قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الجحيم‘‘۔ ({ FR 27 })
تو وہ دوڑے ہوئے اس کی طرف آئے۔ اس نے کہا کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو؟ حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔ انہوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دو۔
اور فہم و فراست سے عاری لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ :
’’قَالُوا حَرِقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ‘‘({ FR 28 })
انھوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تم کرنے والے ہو۔
یعنی اپنی ہی زبانوں سے اپنے معبودوں کی بے کسی کا نوحہ کر رہے تھے۔
لوگوں کے اس فیصلے کے مطابق ایک بہت بڑی عمارت میں آگ سلگائی گئی ، جس میں سیدنا ابراہیمؑکو ڈال دیا گیا ، اب ہر فرد منتظر تھا کہ ابھی ابھی ہمارے بزرگوں کا گستاخ جل کر راکھ ہو جائے گا اور ہمارے بزرگوں کی عظمت قائم رہے گی ، ہمارا مذہب سچا ثابت ہوگا، مگر اللہ رب العزت بھی اپنے وفادار بندے کو بھی بے یارو مددگار ہر گز نہیں چھوڑتا، چنانچہ رحمت خداوندی جوش میں آتی ہے اور آسمانوں سے اللہ کا حکم آگ پر نافذ ہوتا ہے :
’’قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ‘‘۔ ({ FR 29 })
ہم نے کہا اے آگ ! تو ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔ اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کاارادہ کیاتوہم نےانھی کو انتہائی خسارے والےکردیا۔
دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے:
’’فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ‘‘({ FR 30 })
تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
حکمرانوں سمیت ساری قوم حیران و ششدر رگئی، مگر اللہ کی اتنی بڑی نشانی دیکھ کر بھی انہیں ایمان لانے کی توفیق میسر نہ ہوئی۔
آگ سے نکلنے کے بعد قوم کو خطاب
آگ سے نکلنے کے بعد سید نا ابراہیمؑ نےقوم سے خطاب کیا
’’وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ‘‘۔({ FR 31 })
اور اس نے کہا بات یہی ہے کہ تم نے اللہ کے سوابت بنائے ہیں، دنیا کی زندگی میں آپس کی دوستی کی وجہ ہے، پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کرے گا اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہی ہے اور تمہارے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا باہم مناظرہ
اپنے آپ کو خدا کہلانے والے نمرود کو اپنی جھوٹی خدائی کے چلے جانے کا خدشہ لاحق ہو گیا تو اس نے اپنی انانیت کی خاطر ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے سیدنا ابراہیم السلام سے جھگڑنا شروع کر دیا ، جیسے قرآن مجید نے ان کلمات میں بیان کیا ہے :
’’أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ‘‘({ FR 32 })
(اےرسول ) آپ نے اس شخص کے حال پر نظر نہیں کی کہ چوں کہ اللہ نے اس کو حکومت عطا کی کی تھی ، اس نے ابراہین سے اس کے رب کے سلسلہ میں بحث کی ، جب ابراہیم نے کہا : میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشا اور موت دیتا ہے، اس نے کہا میں زندگی بخشا اور موت دیتا ہوں ، ابراہیم نے کہا پھر اللہ تو سورج کو مشرق سے لاتا ہے ، پس تو اسےمغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا حیرت زدہ رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
اب نمرود پر تمام حقائق واضح ہو چکے تھے اپنی سلطنت کو بچانے کی خاطر حق بات پر ایمان نہ لایا ،حق سے روگردانی کے بعد عذاب الہی اس طرح مسلط ہوتا ہے کہ انار بکم الاعلی کہلانے والے کی ناک کے راستے سے دماغ میں مچھر داخل ہوتا ہے، سر میں شدید درد ہوتی ہے، قلق واضطراب کا عالم طاری ہوجاتا ہے ، نوکر مقرر کیا جاتا ہے، سر میں جو جوتے مارتا ہے تو ا سے تو لمحہ بھر آرام نصیب ہوتا ہے، پھر درد شروع ہو جاتا ہے، پھر جوتے پڑتے ہیں، یوں خدائی کا دعویدار جوتے کھاتے کھاتے مر جاتا ہے۔
اسی طرح کی عداوت سیدنا ابراہیم ؑ نے مول لی ، اور قوم سے براءت کا اعلان ڈنکے کی چوٹ پر کیا، قوم کے عقائد کی نفی کی ، ان کے خداؤں کا قلع قمع کیا، حکمران سے ٹکر لی ، باپ اور قوم کی محبتوں کی پرواہ نہ کی ، پھر قرآن مجید نے بھی آپ کے اس عمل کو کلمہ باقیہ قرار دیا اور رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لئے ایمان کا معیار بنادیا ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَمَنْ يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الحَمِيدُ‘‘({ FR 33 })
یقینا تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے رفقا( کی زندگی ) میں بہترین نمونہ ہے ، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا :ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا ہے۔
یہاں تک کہ تم اس اکیلے االلہ پر ایمان لاؤ، ہاں ابراہیم کی اپنے والد سے یہ بات ضرور ہوئی تھی کہ میں آپ کےلئے مغفرت کی دُعاکروں گااور ( لیکن ) میں آپ کےلئے اللہ کے مقابلہ کوئی اختیار نہیں رکھتا ، ابراہیم نے دُعا کی : اے پروردگار !ہمارا آپ ہی پر بھروسہ ہے اور ہم آپ ہی کی طرف رُجوع کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف واپس لوٹ کرجانا ہے
یہی بات دوسرے مقام پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ان الفاظ میں بھی مرقوم ہے
’’وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءُ مِمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ‘‘۔ ({ FR 34 })
اور جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو، سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا ، پس بے شک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔ اور اس نے اس ( توحید کی بات ) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنادیا، تا کہ وہ رجوع کریں
سیدنا ابراہیم ؑنے گھر سے نکلتے وقت باپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا مگر جب یقین ہو گیا کہ ہدایت ان کی قسمت میں نہیں ، یہ رب کا پکا باغی ہے تو اس وعدے سے بھی باز آجانے کا اظہار کیا جس ذکر سورۃ التوبہ میں اس طرح ہے :
’’وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهُ حَلِيمٌ ‘‘۔({ FR 35 })
اور ابراہیم ؑکا اپنے والد کے لئے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا پھر جب اس کے لئے واضح ہو گیا کہ بے شک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا،بے شک ابراہیم یقینا بہت نرم دل، بڑا برد بار تھا۔
سفر ہجرت
جب آزار نمرود اور قوم پر تبلیغ کی ہر حجت قائم ہو چکی تو آپ علیہام کو ہجرت کرنے کا حکم ہوا تا کہ اس باغی قوم پر عذاب الہی مسلط کیا جائے تو آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی سارہ بنت باران ( علام) اور اپنے بھتیجے سیدنا لوط ( علی نام) کو ساتھ لیا اور فرمایا :
’’إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ ‘‘۔({ FR 36 })
بے شک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔
ایک دوسرے مقام پر فرمایا :
’’ وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ ‘‘({ FR 37 })
اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔
چنانچہ آپ دریائے فرات کے کنارے کنارے چلتے ہوئے حران تشریف لائے ، اہل حران پر بھی تبلیغ بے اثر رہی ، لہذا وہاں سے ملک شام کی طرف روانہ ہو گئے اور ارض فسلطین میں جا پہنچے، یہاں آپ نے گزران کے لیے بھیڑ بکریاں رکھ لیں ، جن میں خوب اضافہ ہوا مگر قحط سالی کی وجہ سے سبزہ ختم ہو گیا ، (بھتیجے لوط بن باران کو جو پیغمبر بن چکے تھے ) یہاں تبلیغ کے لیے چھوڑا اور خود مصر کی راہ لی ۔
ذبیح اللہ کی ولادت با سعادت
سیدنا ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی برس ہو چکی تھی ، عام انسانوں کی طرح اولاد جیسی پیش قدر نعمت کا ہر انسان خواہش مند ہوتا ہے، رب تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے تھے :
’’رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ‘‘({ FR 40 })
اے میرے رب ! مجھے نیکوں میں سے اولاد عطا فرما۔
رب تعالیٰ نے اپنے خلیل کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازا اور فرمایا
’’فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ‘‘({ FR 41 })
تو ہم نے اسے برد بارلڑکے کی بشارت دی ۔
اکثر مفسرین کے نزدیک سیدنا ابراہیمؑکے پہلے بیٹے جو دعائیں مانگ مانگ کر لئے تھے، وہ اسماعیلؑہیں ، جو سیدہ ہاجرہؑ کے بطن سے پیدا ہوئے اور یہی اکلوتے بیٹے ہیں جن کی قربانی اللہ نے مانگی اور انہیں ذبیح اللہ کے پر افتخار لقب سے ملقب کیا جاتا ہے۔
بے آب و گیاہ وادی میں
اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیمؑ کو بڑھاپے میں اولاد سے نوازا، وہ اس سے بہت محبت کرتے تھے ، جب سیدنا اسماعیل ؑ کچھ بڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیمؑ کو آزمایا، اس نے حکم دیا کہ اپنی اولاد کو اس کی ماں سمیت بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آؤ ،یہ بہت بڑی آزمائش تھی لیکن سیدنا ابراہیم ؑنے حکم الہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، بالآخر جب وہ اس آزمائش میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے اس بیابان میں زندگی کا سامان کر دیا۔ اس واقعے کی طرف قرآن حکیم میں یوں اشارہ ملتا ہے :
’’رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ‘‘({ FR 42 })
اے ہمارے رب ! بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں آباد کیا ہے، جو کسی کھیتی والی نہیں ، تیرے حرمت والے گھر کے پاس ، اے ہمارے
رب ! تا کہ وہ نماز قائم کریں۔ سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں پھلوں سے رزق عطا کر ، تا کہ وہ شکر کریں ۔
اعلان حج
باری تعالیٰ نے بیت اللہ کو مرکزیت عطا کرنے کے لیے سیدنا ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اس کا حج کرنے کے لیے عام منادی کر دیں اور ساتھ ہی خوشخبری بھی دے دیں کہ لوگ اس منادی پر دیوانہ وار دوڑ پڑیں اور دور دراز سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے اس کی زیارت کے لیے آئیں ، ارشاد ہے:
’’وَأَذِنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجِ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَتَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ‘‘۔ ({ FR 43 })
اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے، وہ تیرے پاس پیدل اور ہر لاغر سواری پر آئیں گے، جو ہر دور دراز راستے سے آئیں گی۔ تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں اور چند معلوم دنوں میں ان پالتو چو پاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انہیں دیے ہیں ، سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔
وفات حضرت ابراہیمؑ
حضرت ابراہیمؑ کی وفات بائبل کے مطابق ایک سو پچھتر (۱۷۵) سال کی عمر میں ہوئی اس وقت ان کے پاس حضرت اسماعیلؑ اور حضرت اسحاقؑ دونوں موجود تھے، انھوں نے اسی جگہ جہاں حضرت سارہؑ کو دفن کیا گیا تھا ، ان کی بھی تدفین کی۔
Post Views: 31