Skip to content
بنگال: تہذیب کی سرزمین سے نفرت کی آگ تک
فسادات کے سلگتے زخم اور انسانیت کا نوحہ
محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،صحافی و ادیب،،گلبرگہ
Cell: 8277465374۔athar.gul@gmail.com
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کے لوگ صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ یہی تنوع اس ملک کی اصل طاقت اور خوبصورتی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک میں نفرت، تعصب اور فرقہ واریت کی سیاست میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی نفرت کا ایک اہم نشانہ مغربی بنگال بھی بنتا جا رہا ہے۔بنگال برصغیر کی اُن عظیم سرزمینوں میں شمار ہوتا ہے جس نے صدیوں تک علم، ادب، تہذیب اور انسانیت کی روشنی سے پورے خطے کو منور رکھا۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں شعور نے آنکھ کھولی، جہاں شاعری نے دلوں کو جوڑا، جہاں انسان دوستی اور رواداری کی مثالیں قائم ہوئیں۔ بنگال کی مٹی نے ایسے دانشور، ادیب اور مفکر پیدا کیے جنہوں نے صرف اپنے وطن ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے فکری افق کو روشن کیا۔رابندر ناتھ ٹیگور، قاضی نذرالاسلام اور دیگر عظیم شخصیات نے انسانیت، امن اور اتحاد کا پیغام دیا۔ یہاں کی تہذیب میں محبت، برداشت اور باہمی احترام کی خوشبو رچی بسی تھی۔بنگال اپنی گنگا جمنی تہذیب، علمی روایت، ادبی خدمات اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے مشہور رہا ہے۔ یہاں ہندو اور مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ امن و محبت سے رہتے آئے ہیں۔ بنگال نے ہمیشہ بھائی چارے، محبت اور سیکولر اقدار کو فروغ دیا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان عظیم روایات کو زندہ رکھیں اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔لیکن کچھ سیاسی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے بنگال کے اس اتحاد کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے اور نفرت انگیز بیانات کے ذریعے ماحول کو خراب کیا جا رہا ہے۔آج جب اسی بنگال کی طرف نظر جاتی ہے تو دل بے اختیار غم اور افسوس سے بھر جاتا ہے۔ وہ سرزمین جو کبھی امن اور علم کی علامت تھی، آج نفرت، تشدد اور خونریزی کی خبروں سے پہچانی جانے لگی ہے۔ انسان کی جان کی حرمت سیاست کے شور میں دبتی جا رہی ہے، اور اقتدار کی ہوس نے معاشرتی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ منظر صرف ایک خطے کی بدقسمتی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔بنگال کی اصل پہچان نفرت نہیں بلکہ علم، محبت اور تہذیب ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو کسی بھی معاشرے کو زندہ رکھتی ہیں۔ اگر آج حالات خراب ہیں تو اس کا حل بھی نفرت نہیں بلکہ شعور، انصاف اور رواداری میں پوشیدہ ہے۔ اہلِ قلم، اساتذہ، دانشور اور نوجوان نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔ کیونکہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ اخلاق اور کردار سے ترقی کرتی ہیں۔
بنگال ہمیشہ سے ہندوستان کی سیاست، ثقافت اور سماجی شعور کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی سیاسی فضا نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حالیہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بڑھتی ہوئی کامیابی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے بنگال کو ایک نئے سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ بی جے پی مکمل اقتدار حاصل نہ کر سکی، لیکن اس کی مضبوط موجودگی نے ریاست کی سیاست کو شدید تقسیم اور کشیدگی کا شکار بنا دیا ہے۔بی جے پی کی انتخابی کامیابی کے بعد سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو سیاسی تشدد کا بڑھنا ہے۔ مختلف علاقوں میں سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں، قتل و غارت، گھروں کو نذرِ آتش کیے جانے اور عوام میں خوف کی فضا نے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ حکمران طبقہ مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ بی جے پی ریاست میں نفرت اور فرقہ واریت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔بنگال کی سیاست میں مذہبی تقسیم بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے ہندو ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی کوشش کی، جبکہ ترنمول کانگریس خود کو سیکولر قوت کے طور پر پیش کرتی رہی۔ اس سیاسی کشمکش نے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا اور عام لوگوں میں بے چینی پیدا کی۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں سیاسی وابستگی اب صرف نظریاتی نہیں بلکہ سماجی تعلقات کا مسئلہ بھی بنتی جا رہی ہے۔معاشی صورتحال بھی ان سیاسی کشیدگیوں سے متاثر ہوئی ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی حالات کے باعث محتاط نظر آتے ہیں، جبکہ بے روزگاری اور مہنگائی نے عوامی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ صنعتوں کی کمی، نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کا فقدان اور مسلسل سیاسی احتجاج نے ریاست کی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔تعلیمی ادارے بھی اس سیاسی ماحول سے محفوظ نہیں رہے۔ طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم اور سیاسی مداخلت کے باعث تعلیمی فضا متاثر ہوئی ہے۔ نوجوان نسل، جو تعلیم اور روزگار کی امید رکھتی ہے، وہ سیاسی انتشار کے سبب ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے اہم ضرورت سیاسی برداشت، جمہوری روایات کے احترام اور عوامی مسائل پر توجہ دینے کی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں صرف اقتدار کی جنگ میں مصروف رہیں گی تو اس کا نقصان عام شہریوں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ بنگال کی ترقی، امن اور خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب سیاست نفرت اور تشدد کے بجائے مکالمے، برداشت اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کرے۔
آج کے دور میں سیاسی مفادات نے انسانوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ مذہب، زبان، نسل اور نظریات کے نام پر نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے حصول کے لیے انسانی جانوں کو بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشروں میں بے چینی، خوف اور عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ بنگال میں اقتدار کی ہوس نے معاشرتی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سیاسی مفادات کی جنگ نے نہ صرف عوام کو تقسیم کیا بلکہ محبت، رواداری اور بھائی چارے جیسی اعلیٰ انسانی قدروں کو بھی کمزور کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقتدار کے حصول کے لیے نفرت، خوف اور تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عام انسان سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔جب سیاست خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کا ذریعہ بن جائے تو معاشرے میں بے اعتمادی جنم لیتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں، اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے، اور انصاف کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یہی صورتحال آج بنگال میں دکھائی دیتی ہے جہاں سیاسی کشمکش نے انسانی رشتوں اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے۔کسی بھی قوم کی بقا صرف طاقت یا اقتدار میں نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور اتحاد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب معاشروں میں انصاف کمزور پڑ جائے اور نفرت کو طاقت مل جائے تو وہاں امن ختم ہونے لگتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر قیادت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور انسانیت کو سیاست پر ترجیح دے۔ کیونکہ اگر انسانیت ہی محفوظ نہ رہے تو ترقی، سیاست اور اقتدار سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
لیکن تاریخ ہمیں مایوسی نہیں بلکہ امید کا سبق دیتی ہے۔ دنیا میں ہمیشہ ایسے طاقتور لوگ آئے جنہوں نے ظلم و جبر کے ذریعے سچائی کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ انہوں نے تہذیب، ایمان اور انسانیت کے چراغ بجھانے چاہے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ ظلم کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوتی۔ تاریخ کے صفحات ایسے ظالموں کے انجام سے بھرے پڑے ہیں جو اپنے غرور اور طاقت کے باوجود مٹ گئے، مگر حق اور سچائی کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔وہ بنگال جس نے کبھی علم، تہذیب، ادب اور انسانیت کی روشنی سے پورے برصغیر کو منور کیا تھا، آج خود نفرت، تشدد اور خونریزی کی تاریکی میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ منظر صرف ایک خطے کا المیہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج انسان کی جان کی حرمت سیاسی مفادات، اقتدار کی ہوس اور ووٹ بینک کی سیاست کے سامنے بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔جب کسی بستی کو صرف اس بنیاد پر جلا دیا جائے کہ وہاں رہنے والوں کا عقیدہ، نظریہ یا سیاسی وابستگی مختلف ہے، تو حقیقت میں صرف چند گھر خاکستر نہیں ہوتے بلکہ انسانیت کی پوری عمارت لرز اٹھتی ہے۔ بچوں کی چیخیں، ماؤں کی سسکیاں اور بے گناہوں کا بہتا ہوا خون اس معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان بن کر ابھرتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے کان اب چیخوں کے عادی ہو چکے ہیں اور ہماری آنکھیں خون کے مناظر دیکھ دیکھ کر بے حس ہوتی جا رہی ہیں۔نفرت کے سوداگر شاید یہ بھول چکے ہیں کہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ تخت و تاج بدلتے رہتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر معاشروں میں بویا گیا نفرت کا زہر نسلوں تک اپنی تباہ کاریوں کے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ آج جو لوگ سیاسی فائدے کے لیے عوام کو مذہب، ذات، زبان اور جماعتوں کی بنیاد پر تقسیم کر رہے ہیں، وہ دراصل آنے والی نسلوں کے ہاتھوں میں بارود تھما رہے ہیں۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ وہ ادارے جو مظلوموں کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور امن و امان کے قیام کے لیے وجود میں آئے تھے، آج خود سیاسی دباؤ کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ جب قانون کی محافظ وردیاں اقتدار کے ایوانوں کی غلام بن جائیں، جب انصاف کے ترازو کو سیاسی مفاد کے مطابق جھکایا جانے لگے، تو عام آدمی آخر کس دروازے پر دستک دے؟ جب مظلوم کی فریاد سننے والا کوئی نہ رہے تو معاشرہ جنگل بننے میں دیر نہیں لگاتا۔سوشل میڈیا، سیاسی جلسوں اور بعض نیوز چینلوں کے ذریعے بنگال کی شبیہ کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی اسے غیر محفوظ ریاست کہا جاتا ہے اور کبھی یہاں کے عوام کو مذہبی بنیادوں پر بانٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ نفرت کی یہ سیاست نہ صرف بنگال بلکہ پورے ملک کے لیے خطرناک ہے۔لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ظلم، نفرت اور اقتدار کی اندھی خواہش کبھی مستقل نہیں رہتی۔ آخرکار وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو انصاف، برداشت اور انسانیت کو اپنا شعار بناتی ہیں۔ بنگال کی اصل شناخت بھی نفرت نہیں بلکہ علم، تہذیب اور محبت ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ ایک دن یہی روشن اقدار دوبارہ اس سرزمین کو امن اور بھائی چارے کی راہ پر لے آئیں گی۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تشدد کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہا۔ نفرت کے جواب میں نفرت صرف تباہی کو جنم دیتی ہے۔ اگر آج بھی عقل و دانش کے دروازے نہ کھولے گئے، اگر سیاسی قیادت نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کیا، اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر جانبدار نہ بنے، تو آنے والا وقت مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں برداشت، مکالمہ اور انسانی احترام کو فروغ دیا جائے۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا کسی بھی مہذب قوم کا شیوہ نہیں۔ انسان کی جان، عزت اور آزادی ہر نظریے، ہر جماعت اور ہر سیاست سے زیادہ قیمتی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی انسانیت کو سیاست کے قدموں تلے روندنے سے نہ روکا، تو تاریخ ہمیں ایک بے حس اور مردہ ضمیر قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اندھیرے چاہے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، روشنی کی ایک کرن انہیں چیرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ظلم اور نفرت وقتی طور پر غالب آ سکتے ہیں، مگر سچائی، انصاف اور انسانیت کی قوت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ تاریخ کا یہی سبق ہے اور یہی امید بھی کہ ایک دن پھر بنگال اپنی اصل پہچان، یعنی علم، تہذیب اور محبت کی روشنی سے جگمگا اٹھے گا۔ بنگال کو نشانہ بنانے کے بجائے ہمیں اس کی تہذیبی روایات اور اتحاد کے پیغام سے سبق سیکھنا چاہیے۔ یہی راستہ ملک کو مضبوط اور پرامن بنا سکتا ہے۔ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام مذاہب اور طبقات کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ اگر نفرت کی سیاست کو نہ روکا گیا تو اس سے قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بنگال سمیت پورے ہندوستان کو نفرت اور تقسیم کی نہیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور انصاف کی ضرورت ہے۔خاص طور سے بنگال اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ بی جے پی کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کے ردِعمل میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی نے ریاست کے سماجی و معاشی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں عوام کے مفاد کو ترجیح دیں تاکہ بنگال دوبارہ امن، ترقی اور بھائی چارے کی مثال بن سکے۔
Post Views: 19