Skip to content
ہوسابلے اور پاکستان: دیر آید درست آید
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بھارتیہ جنتا پارٹی کی مادرِ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہے۔ بی جے پی کو جس طرح مودی اور شاہ کی جوڑی چلارہی ہے اسی طرح آر ایس ایس کو چلانے والے موہن بھاگوت اور دتاتریہ ہوسابلے ہیں ۔ آر ایس ایس سربراہ کو سرسنگھ چالک کہا جاتا ہے اسی طرح جنرل سیکریٹری کو سرکاریہ واہک کہلاتا ہے۔ یعنی اس تنظیم کا چہرا جہاں موہن بھاگوت ہیں اسی طرح دماغ ہوسابلے ہیں۔ دتاتریہ ہوسابلے نے پاکستان کے حوالے سے ایک بیان دے کر سارے بھگتوں کو چونکا دیا ۔ یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ موصوف وزیر اعظم نریندر مودی سے بہت زیادہ قریب ہیں۔ اس لیے اتنا اہم بیان وزیر اعظم کے ساتھ مشاورت کے بغیر دے دیا گیا ہو یہ ناقابلِ فہم ہے۔ موصوف نے فرمایا کہ پاکستان کے ساتھ تعطل کو توڑنے کے لیے عوام سے عوام کا رابطہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور بات چیت کے لیے ہمیشہ ایک کھڑکی ہونی چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن ہے۔ ہر تنظیم دوسطح پر کام کرتی ہے۔ آر ایس ایس کے ساتھ ہمارا نظریاتی اختلاف بنیادی نوعیت کا ہےجو اس وقت تک جاری رہے گا مگراس کی ہر عملی سرگرمیاں یا عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کی مخالفت بھی غیر عقلی ہے اور ہوسابلےکے معقول موقف کی مخالفت مناسب نہیں ہے۔ ان کا پاکستان والا بیانیہ اسی زمرے میں آتا ہے۔
آپریشن سندور کے بعد معروف سماجی کارکن ڈاکٹر سندیپ پانڈے کی قیادت میں سوشلسٹ پارٹی آف انڈیا کے ایک وفد جموں کشمیر کے سرحدی علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین سے ملاقات کی۔ اس دوران ہندو، مسلم اور سکھ برادری سے ملاقات کے بعد آخر میں جب ہم لوگ جموں کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے ملاقات کی تو ڈاکٹر صاحب نے بھی پاکستان کے ساتھ عوامی رابطے کی تجویر رکھی تھی اور اس کام کے لیے ایک وفد کے ساتھ خود پاکستان جانے کی پیشکش کی تھی ۔ انہوں نے یہاں تک کہ کہا تھا ارکان اسمبلی کے وفود کو دنیا کے پچاس ممالک میں بھیجنے کے بجائے صرف پاکستان روانہ کرنا کافی تھی ۔ ڈاکٹر صاحب کوئی معمولی انسان نہیں ہیں ۔انہوں نے غزہ کی نسل کشی پر احتجاجاً اپنا میگا سسیہ ایوارڈ لوٹا دیا تھا اب اگر ڈاکٹر صاحب یہ تجویر پیش فرمائیں تو اس کی تعریف اور دتا تریہ ہوسا بلے نے کہا تو اس کی مذمت کرنا جانبداری ہونے کے سبب خلافِ انصاف ہے۔
پی ٹی آئی ویڈیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ہوسابلے نے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ہندوستان کا اعتماد کھو چکی ہے اور اب وقت آگیا ہے۔ کہ سول سوسائٹی رہنمائی کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی قیادت کا اعتماد باقی ہے۔ کیا یہی الزام لوٹ کر مودی سرکارکی جانب نہیں آتا۔الیکشن جیتنے کے لیے سرجیکل اسٹرئیک کے بعد گھر میں گھس کر مارا کا نعرہ کس نے لگایا تھا ۔ آپریشن سندور کے بعد خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا اور گولی کا گولے سے دینے کا عزم کس نے کیا تھا ؟ اس وقت ہوسابلے کہاں تھے؟اب وہ کہہ رہے ہیں کہ "ہر ملک کی سلامتی اور عزت نفس کا تحفظ ہونا چاہیے اور اس وقت کی حکومت کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی، ہمیں دروازے بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔” ویسے حال میں وزیر دفاع بھی کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی ملک یا مذہب نہیں ہوتا ۔ اس بیان کو پاکستان کے لیے کلین چٹ قرار دیا گیا۔ حزب اختلاف اگر رافیل کے گرنے پر استفسار کرے تو اسے پاکستان کی بولی بولنے والے کے لقب سے نواز دیا جاتا ہے۔
آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری نے دونوں ممالک کے درمیان تعطل کو توڑنے میں عوام سے عوام کے رابطے کو کلیدی قرار دیا اور کہا کہ اسے "اب زیادہ سے زیادہ آزمایا جانا چاہئے” لیکن سونم وانگچوک پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت الزمات کی فہرست بنی تو ان کا پاکستان جانا بھی شامل کیا گیا۔ اب اگر کل کوئی فرد ہوسابلے کے مشورے پر عمل کرکے پاکستان چلا جائے تو اس پر بھی سرکار مہربان رہے گی۔ حکومت ہندتو ٹریک ٹو ڈپلومیسی پر خاموش ہے لیکن کئی دانشور، بشمول اپوزیشن لیڈر، طویل عرصے سے سول سوسائٹی کی شمولیت کی وکالت کر رہے ہیں۔ اس طرح گویا ہوسابلے نے اپنے قریبی دوست مودی کے بجائے راہل کی تائید کرتے نظر آئے جو نہایت خوش آئند تبدیلی ہے۔ اس کا استقبال ہونا چاہیے۔ہوسابلے کی دلیل یہ ہے کہ ان کے خیال میں یہی ایک امید ہے، کیونکہ انہیں پختہ یقین ہے کہ بالآخر سول سوسائٹی کے تعلقات (کام کریں گے۔) وہ کہنے ہیں ’’ہمارا ثقافتی رشتہ ہے اور ہم ایک ملک رہے ہیں، لہذا، اس پر زور دینا ہوگا۔”پاکستان کے ساتھ ثقافتی رشتوں کا اعتراف دراصل سنگھ کی نظریاتی شکست ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے نامہ نگار کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہورہا اس لیے اس نے آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری سے پوچھا گیا کہ بھارت کے خلاف پاکستان اور اس کی دہشت گردی کی مسلسل سرپرستی سے کیسے نمٹنا چاہیے۔اس پر بھی ان کا خون جوش نہیں مارا ۔ انہوں نے ممبئی، پلوامہ اور پہلگام جیسے دہشت گردانہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "دیکھیں ہر چیز کو (سفارتی طور پر) آزمایا گیا ہے اور پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔” اور مشورہ بھی دیا کہ تجارت، ویزوں کا اجراء بند نہیں ہونا چاہیےنیز "بات چیت کے لیے ہمیشہ ایک کھڑکی (کھلی) ہونی چاہیے”۔ہوسابلے بولےکہ ان سانحات کےباوجود سفارتی تعلقات برقرار رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ وہاں (پاکستان میں ) ماہرین تعلیم، کھلاڑیوں، سائنس دانوں اور کمیونٹی لیڈروں کو آگے آنا چاہئے، کیونکہ ان کی سیاسی قیادت اور فوجی قیادت نے ہندوستان سے نفرت کو فروغ دیا ہے۔یہ بات درست ہے کہ اگر عوام کے ایک دوسرے سے ملیں تو وہ دونوں قیادتوں پر اثر انداز ہوں گے تو کیا اب امیت شاہ کے فرزند جئے شاہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو موقع دیں گے۔
ویسے ہوسابلے کا یہ بیان کوئی حیرت انگیز شئے نہیں ہے ۔ پچھلے سال آپریشن سندور کے تین ماہ بعد29 ؍ اگست (2025) کوپاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار جو اب نائب وزیر اعظم بھی ہیں نے کہا تھا کہ ان کا ملک کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر باوقار اور احترام کے ساتھ ہندوستان سے جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ تو کیا وہ بیان ہوسابلے نے نہیں پڑھا اور اگروہ ان کی نظروں سےگزارا تو اس کا اس وقت تائید کیوں نہیں کیا ۔ پاکستا ن کے وقار کا لحاظ کرتے اسحاق نے اس بات پر زور دیا کہ ’’پاکستان مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گا‘‘۔ اس کے جواب میں مودی سرکار نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ صرف پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی واپسی اور دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کرے گا۔ان سارے امور پر نہیں جس کا ذکر حال میں ہوسابلے نے حال میں کیا ہے۔ ہند پاک مذاکرات کا آغاز 2003 میں ہوا تھا جب جنرل پرویز مشرف پاکستان ہندوستان کے دورے پرآئے تھے۔ اس میں آٹھ نکات ایسے تھے کہ جو متنازعہ مسائل تھے۔یہ بات چیت 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد پٹری سے اتر گئی تھی اور پھر مناسب شکل میں بحال نہیں ہوسکی۔ اس کا صاف مطلب ہے جو عالمی طاقتیں ہند پاک تعلقات کی بہتری کے دشمن ہے انہوں نے ہی وہ حملہ کروایا۔
ہندوستان نے 22؍ اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں 7 مئی کو ابتدائی طور پر دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے پر ‘آپریشن سندور’ کے تحت درست حملے کیے تھے۔ہندوستانی کارروائی کے بعد، پاکستان نے 8، 9 اور 10 مئی کو ہندوستانی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سے جنگ پھیل گئی ہندوستانی افواج نے کئی پاکستانی فوجی تنصیبات پر شدید جوابی حملہ کیا لیکن یہ معاملہ روس اور یوکرین کی طرح پھیل نہیں سکا بلکہ 10 مئی کو سرحد پار سے ہونے والے شدید ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمت ہوگئی۔ اس کے باوجود ایک سوال کے جواب میں ڈار نے کہا تھا کہ کہ پاکستانی افواج نے بھارت کے ساتھ تنازعہ میں فضا اور زمین پر اپنی صلاحیت کا ثبوت دیا اور "کسی بھی اشتعال انگیزی” کا بھرپور جواب دینے کا انتباہ دیا۔انہوں نے ڈینگ مارتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں پاکستان سمندری راستے سے بھی جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ہوسابلے کا بیان دیکھ کر فیروز خان کی فلم دیا وان کا یہ نغمہ یاد آگیا؎
آج پھر تم پے پیار آیا ہے
بے حد اور بے شمار آیا ہے
سنگھ پریوا ر اگر ماضی کی غلطیوں کا کفارہ ادا کررہا ہے تو اچھی بات ہے مگریہ سنگھ کی روایت کے مطابق بھی ہے۔ ویسے آزادی سے قبل ہندوتوانوازوں نے مسلم لیگ کی حکومت میں شامل تھی۔ شیاما پرشا د مکرجی اس میں شامل تھے بعد میں ان کو جن سنگھ کا صدر بنایا گیا۔ اس لیے یہ روایت پروری بھی ہے۔ اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھاہم دوست بدل سکتے ہیں پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ اڈوانی جی پاکستان جاکرقائدِ اعظم کو خراج عقیدت پیش کرچکے ہیں بعید نہیں کہ ہوسا بلے بھی وہی غلط کر بیٹھیں اور اس کی زبردست قیمت چکائیں محرکات کے کئی ہوسکتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ اِپسٹٹین فائل ذریعہ بلیک میل کا اثر یے خیر جتنےمنہ اتنی باتیں ۔ خیر وجہ سے قطع نظر ۔ ایران کی جنگ کے حوالے پاکستان کی جو عالمی سفارتکاری میں ترقی ہوئی ہے یہ اس کا بھی اثر ہوسکتاہے وجہ جو بھی ہو، یہ دونوں ممالک کی عوام کے لیےخوش آئند پیش رفت ہے۔
Post Views: 59