Skip to content
اسلام میں قربانی کا مقصد اور فلسفہ
از:مفتی محمد سلمان قاسمی کریم نگری
امام وخطیب مسجد عبد الغفور کریم نگر تلنگانہ
دین اسلام ہر دور میں ایک ایسا روشن چراغ ہے جو انسانی قافلے کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے بچا کر ایمان و یقین اور کامیاب زندگی کی طرف لے جاتا ہے،جس کی تعلیمات و احکام انسانی فطرت کے ہم آہنگ ہیں جس پر انسان کی عقلِ خام سے پیوند کاری نہیں کی جا سکتی، مذہب اسلام کے ہر حکم میں ایسی بے شمار حکمتیں اور مقاصد پنہاں ہیں جہاں تک انسانی عقل و فکر کی رسائی ممکن نہیں، ان ہی میں سے ایک اہم اور عظیم الشان عمل قربانی کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم سے لیکر امت محمدیہ تک ہر دین و ملت میں قربانی کا عمل موجود رہا ہے البتہ اس کے طریقے اور صورت میں فرق ضرور رہا ہے۔
اسلام میں قربانی کا تصور
مذہب اسلام قربانی کا تصور پیش کرتا ہے لیکن اسلام کا تصور قربانی سب مذاہب سے جدا ہے،اسلام جان و مال کی قربانی دینے کا درس دیتا ہے لیکن اس طرح کے کسی کے حقوق ضائع نہ ہوں،اس میں کوئی شک نہیں کہ قربانی اسلامی شعائر میں سے ہے جس کے ذریعے سے اسلام کی شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے چنانچہ قران کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: والبدن جعلناها لكم من شعائر الله لكم فيها خير: اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے ایک دوسری ایت میں اس طرح ارشاد فرمایا کہ”ولكل أمة جعلنا منسكا ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الأنعام” اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائی ہیں(سورہ حج آیت:34)
ان دونوں آیتوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ قربانی پیش کرنا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایسی عظیم الشان عبادت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر امت محمدیہ تک ہر دین و ملت میں موجود رہی ہے چنانچہ حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانوی رح فرماتے ہیں کہ جب حضرت آدم زمین پر تشریف لائے تب ہی سے ان جانوروں کا ذبح کرنا بحکم الٰہی جاری ہے، حضرت آدم کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا قصہ قرآن میں مذکور ہے کہ ہابیل نے قربانی کی تھی اور اللہ کے یہاں قبول ہوئی۔
(تحفۂ قربانی ص : 49)
اس سے یہ حقیقت آشکارہ ہوجاتی ہے کہ قربانی کا عمل ہر امت کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور اس امت میں قربانی کا عمل حضرت ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے ۔
مختلف مذاہب میں قربانی کا تصور اور مقصد
اس دنیائے فانی میں رائج مختلف مذاہب میں چند باتیں مشترک رہی ہیں ان میں عملا قربانی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دنیا کے ہر مذہب میں طریقۂ کار کے اختلاف کے ساتھ اپنے دیوتاؤں کے چرنوں میں نظرانہ اور قربانی پیش کرنے کا تصور پایا جاتا ہے چنانچہ قبل از اسلام مصری باشندے دریائے نیل کی روانی برقرار رکھنے کے لئے ہر سال ایک خوبصورت کنواری لڑکی کی قربانی دیتے تھے اسی طرح افریقہ جنوبی امریکہ جرمن کے بعض قبائل اپنے دیوتاؤں کے غضب سے بچنے ان کی خوشنودی حاصل کرنے یا ناگہانی آفت کے وقت انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے، قدیم ایرانیوں کے ہاں بھی قربانی کا تصور موجود تھا البتہ طریقۂ کار الگ تھا کوئی پورے جانور کو اگ لگا دیتا تو کوئی صرف جانور کی دم جلاتا۔نیز مشرکین مکہ بھی قربانی کے قائل تھے اور اپنے جانور خانہ کعبہ کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے اور موجودہ دور میں بعض ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والے اپنے مندروں میں خود جانوروں کو جھٹکا دیکر کاٹتے ہیں اور وہ قوم خود ہی دوسرے مرغیوں اور بکریوں کی قربانی دیتی ہیں۔(قربانی کا فلسفہ ص/8) اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں قربانی محض دنیاوی امور کے حصول دیوتاؤں کی خوشنودی اور موسموں میں تبدیلی کے لئے کی جاتی ہے۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم ہندو دھرم میں قربانی کے تصور کو پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: کہ بائبل میں قربانی کے بہت سے واقعات ائے ہیں بلکہ بہت سے ایسے مذاہب جو پوری طرح شرک کی الائش میں لت پت ہیں جیسے ہندو دھرم تو ان کے یہاں بھی قربانی کا تصور موجود ہے البتہ فرق یہ ہے کہ قربانی ہونی چاہیے تھی خدائے واحد کے لیے جیسا کہ امت مسلمہ کا عمل ہے لیکن دنیا کی اکثر قوموں نے قربانی کے اس عمل میں شرک کی ملاوٹ پیدا کر دی۔(آسان تفسیر قرآن مجید، حصہ دوم ص/127)
اسلام میں قربانی کا مقصد اور فلسفہ
قربانی جیسی اہم ترین عبادت اپنے اندر ایک عظیم مقصد لیے ہوئے ہے کہ بندہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے ہمہ وقت اور ہمہ تن مستعد رہے اللہ تعالی کے احکامات کو اپنی تمام خواہشات پر مقدم رکھے کیونکہ دین اسلام میں قربانی کا مقصد محض حصول گوشت نہیں ہے جیسا کہ بعض دین سے ناواقف حضرات کا گمان ہے بلکہ قربانی کا مقصد تو حکم الہی کے اگے اپنا سب کچھ نچھاور کرنا ہے اور یہی قربانی کا فلسفہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے اگے سر جھکا کر اپنے سارے مفادات کو قربان کر دے جس کا ہمیں حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کے واقعے سے سبق ملتا ہے چنانچہ قران نے قربانی کے مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں فرمایاکہ ‘لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناله التقوى منكم’اس آیت میں یہ بتلانا مقصود ہےکہ کہ قربانی جو ایک عظیم عبادت ہے اللہ کے پاس اس کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا ہے نہ وہ مقصود قربانی ہے بلکہ مقصود اصلی اس پر اللہ کا نام لینا ہے اور حکمِ ربّی کی بجا آوری دلی اخلاص کے ساتھ ہے یہی حکم تمام عبادات کا ہے کہ نماز میں نشست و برخاست اور روزے میں بھوکا پیاسا رہنا مقصودِ اصلی نہیں بلکہ مقصودِ اصلی اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل دلی اخلاص ومحبت کے ساتھ ہے اگر یہ عبادت اخلاص سے خالی ہے تو صرف صورت اور ڈھانچہ ہے روح غائب ہے (معارف القرآن ٣٣٣/٦،روح المعانى ج:٧، ص:١٥١)
اسی طرح قربانی کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ قربانی کا گوشت محتاجوں تک پہنچایا جائے چنانچہ قران کے الفاظ میں یوں کہا گیاکہ واطعموا القانع والمعترالخ یعنی قربانی کا گوشت ایسے محتاجوں کو کھلاؤ جو خود داری سے کام لے اور سوال نہ کرے یا ایسا شخص جو ہاتھ پھیلاتا ہو بہرحال قربانی کی روح یہی ہے کہ اس میں فقراء کا خاص طور پر حصہ رکھا جائے(آسان تفسیر قرآن ص/127) الغرض قربانی کا مقصد اور فلسفہ رضائے الہی کا حصول، گناہوں سے معافی، سنت ابراہیم کی پیروی اور حکم خداوندی کی تکمیل ہے علاوہ ازیں اللہ تعالی کی محبت تمام محبتوں پر غالب رہے اللہ تعالی کے لیے اپنی جان مال اور اولاد اور خالصات سمیت سب کچھ قربان کرنے سے دریغ نہ کرے اور اللہ کے حکم کے اگے سر تسلیم خم کر دیں۔
کیا قربانی عقل کے خلاف ہے؟
یہ بات ایک طئے شدہ حقیقت ہے کہ مذہب اسلام میں قربانی کی یہ عظیم ترین عبادت جانور کو ذبح کرنے سے ہی ادا ہو سکتی ہے جس کی بے شمار فضیلتیں قران و حدیث میں وارد ہوئی ہیں لیکن آج دنیا کا ایک بڑا طبقہ جو ہر جگہ عقل پرستی اور عقلی گھوڑے دوڑانے میں مبتلا ہے اور جن کو یہ دعوی ہے کہ ہم اپنی عقل سے کام لیتے ہیں وہ لوگ قربانی والے اس اہم عمل سے متعلق امت مسلمہ کے ذہنوں میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات اور اعتراضات پیدا کر رہے ہیں اور قوم کو یہ باور کرانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ قربانی کرنے کے بجائے کسی غریب کی مدد کرنی چاہیے اس میں زیادہ ثواب ملے گا کیونکہ ہر سال لاکھوں جانور ذبح کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ قوم کا اربوں پیسہ اس کے اندر خرچ ہو کر نالیوں میں بہہ جاتا ہے بلکہ یہ تو جانوروں پر ایک طرح کا ظلم ہے. اس قسم کی بے بنیاد اور کھوکھلی باتوں سے ہمارے بعض دین سے ناواقف اور سوشل میڈیا سے متاثر مسلمان بھائی اثر لے لیتے ہیں۔اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ شریعت میں ہر عبادت کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے یعنی جو کام اللہ نے جس وقت فرض کیا ہے اس کو ادا کرنا ہی بندگی ہے کیونکہ ایک مومن کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا حکم سب سے مقدم ہے ان کے حکم کے مقابلے میں کسی تاویل یا کسی عقلی توجیہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے،چنانچہ حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ قربانی کے سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں:جو لوگ قربانی کو خلاف عقل کہتے ہیں وہ سن لے کہ کل دنیا میں قربانی کا رواج ہے اور قوموں کی تاریخ پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادنی چیز اعلی کے بدلے میں قربان کی جاتی ہے گویا کہ ادنی کی خوشی اعلی کی خوشی پر قربان ہوتی ہے ادنی سپاہی اپنے افسر کے لیے اور افسر اپنے بادشاہ کے بدلے قربان ہوتاہے پس خدا نے اس فطری مسئلے کو برقرار رکھا ہے اور اس سے وہ سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور میں اسی طرح قربان ہو جاؤ اور یہ بھی تمہارا ہی قربان ہونا ہے کہ اپنے بدلے اپنا قیمتی جانور قربان کر دو۔(ماخوذ از: احکام اسلام عقل کی نظر میں ص/164)
مذکورہ بالا سطور سے یہ بات یا ہو جاتی ہے کہ درحقیقت قربانی تو جان کی ہی تھی لیکن اللہ نے اپنی رحمت سے یہ قربانی جان سے ٹال کر ایسی مالی قربانی کی طرف منتقل کر دی جس میں جانور قربان کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ عبادت مالی اور جانی قربانی کا ایک حسین مجسمہ بن گئی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک معمولی احساس رکھنے والے انسان کو بوقت قربانی یہ احساس ہوگا کہ میں اس بے زبان جانور کو کس لیے قربان کر رہا ہوں اور جب یہ احساس پیدا ہوگا تو دل میں جذبہ بندگی بیدار ہوگا کہ حقیقت میں میرے نفس اور میری جان کی قربانی تھی اللہ نے اسے میرے مال کی صورت میں قبول کر لیا ہے اور پھر ظاہر ہے کہ قربانی کے یہ مقاصد صرف صدقہ کرنے یا غریب کی مدد کرنے سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے۔
خلاصۂ کلام
قربانی کی ان بے شمار حکمتوں اور مقاصد کے پیش نظر ایک مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ رضائے الہی کے لیے شریعت کے اصولوں کے عین مطابق قربانی کرے تاکہ معاشرے میں اس کے بہترین ثمرات رونما ہو جائیں اور ہماری قربانی دیگر مذاہب کی طرح محض ایک رسم بن کر نہ رہ جائے اور ہماری قربانی محض حصول گوشت کے لیے نہ ہوں بلکہ حصول رضائے الہی کے لیے ہو۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی سے متعلق غلط فہمیوں اور رسمیت کے مرض کا شکار ہونے کے بجائے اپنے دل میں اخلاص و للہیت کا دیا جلاتے ہوئے قربانی ادا کریں تاکہ ہماری یہ قربانی بگڑتے حالات کی تاریکیوں میں روشنی کا کام کرے اللہ تعالی ہم سب کو توفیق عمل نصیب فرمائے۔
Post Views: 60