Skip to content
نیٹ 2026 اسکینڈل: کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟
58) ہزار کروڑ کی انڈسٹری، 24 لاکھ طلبہ کا بکتا مستقبل)
بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
صبح کی زرد روشنی میں امتحانی مراکز کے باہر کھڑے 24 لاکھ سے زائد طلبہ کے چہروں پر امید اور خوف کی جو ملی جلی کیفیت تھی، وہ محض ایک امتحان کا دباؤ نہیں تھی۔ یہ برسوں کی شبانہ روز محنت، والدین کی جمع پونجی اور ایک روشن مستقبل کے خوابوں کا بوجھ تھا۔ 3 مئی 2026 کو جب یہ طلبہ نیٹ یو جی (NEET-UG) کے امتحانی مراکز میں داخل ہوئے، تو ان کا اس نظام پر ایک غیر مشروط اعتماد تھا کہ ان کی محنت کا تول صرف اور صرف دیانت کی ترازو میں ہوگا۔ لیکن چند ہی روز بعد جب یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ یہ ترازو پہلے ہی بک چکا تھا، اور سوالات کا ایک مبینہ گیس پیپر (Guess Paper) امتحان سے قبل ہی مخصوص ہاتھوں میں گردش کر رہا تھا، تو یہ اعتماد شیشے کی طرح ٹوٹ کر بکھر گیا۔ نیٹ 2026 کا یہ اسکینڈل محض ایک انتظامی بے ضابطگی نہیں، بلکہ میرٹ کے قتل اور ہمارے تعلیمی نظام میں پیوست اس گہری سڑن کا استعارہ بن چکا ہے، جس نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
فیض احمد فیض نے کئی دہائیاں پہلے اپنی نظم "نثار میں تیری گلیوں کے” میں ایک ایسا سوال اٹھایا تھا جو آج بھی ہمارے تعلیمی نظام کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتا ہے "کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟” فیض نے یہ مصرعہ سیاسی جبر کے تناظر میں لکھا تھا، مگر آج یہی سوال ہمارے امتحانی نظام کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، جب جس نظام سے انصاف کی امید تھی، وہی نظام سب سے پہلے بکا۔ اور المیہ یہ ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا، نیٹ 2024 کے اسکینڈل کے بعد این ٹی اے (NTA) کے سربراہ کو برطرف کیا گیا، سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس دیے، حکومت نے اصلاحات کے پرشکوہ وعدے کیے، اور پھر 2026 میں وہی کہانی دہرائی گئی، صرف کرداروں کے نام بدل گئے تھے۔
یہ المیہ اچانک رونما نہیں ہوا، بلکہ اس کے تانے بانے ایک نہایت منظم اور بے رحم مافیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ تفتیشی اداروں اور بالخصوص راجستھان کے اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) کی ابتدائی جانچ نے ایک ایسے گھناؤنے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا، جس کی جڑیں راجستھان، ہریانہ، اور مہاراشٹر کے مختلف اضلاع تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاکھوں روپے کے مبینہ لین دین کے عوض سوالات کا یہ مجموعہ کوچنگ اور کنسلٹنسی کے خفیہ دالانوں سے گزرتا ہوا ان امیدواروں تک پہنچایا گیا، جن کے پاس قابلیت سے زیادہ سرمایہ موجود تھا۔ سی بی آئی (CBI) نے جب ملک کے مختلف حصوں میں چھاپے مارے تو راجستھان کے بیوال برادران سے لے کر مہاراشٹر کے دھنانجے لوکھنڈے تک، ایک پورا سنڈیکیٹ بے نقاب ہوا جو سرحدیں پار کر کے میرٹ کو نیلام کر رہا تھا۔ حیرت انگیز طور پر، اس مبینہ گیس پیپرکے متعدد سوالات ہو بہو اس اصل پرچے سے مماثلت رکھتے تھے، جسے ملک کا سب سے حساس اور محفوظ ترین امتحان قرار دیا جاتا ہے۔
اس ہولناک انکشاف نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے ان تمام بلند و بانگ دعووں کی قلعی کھول دی، جو برسوں سے واٹر مارکڈ (Watermarked) پرچوں، بائیومیٹرک (Biometric) تصدیق اور ایڈوانسڈ ڈیجیٹل (Advanced Digital) نگرانی کے نام پر کیے جاتے رہے تھے۔ این ٹی اے (NTA) نے 2026 میں جی پی ایس (GPS) ٹریکنگ اور جدید ترین سی سی ٹی وی (CCTV) نظام نصب کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر ان تمام ٹیکنالوجیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے پرچہ واٹس ایپ پر بے خوف گردش کرتا رہا۔ یہ صرف سکیورٹی کی ناکامی نہیں، یہ اس پورے نظام کی روح کی ناکامی ہے جو ظاہر میں چاق و چوبند مگر اندر سے کھوکھلا ہے۔ بالآخر حکومتِ بھارت کی منظوری سے این ٹی اے (NTA) نے اپنے سرکاری بیان میں اعلان کیا: "مرکزی ایجنسیوں سے مشاورت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحقیقاتی نتائج کی روشنی میں، 3 مئی 2026 کا نیٹ یو جی (NEET-UG) امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔” سی بی آئی (CBI) نے پبلک ایگزامینیشن ایکٹ 2024مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت ایف آئی آردرج کرتے ہوئے ملک گیر چھاپوں اور متعدد گرفتاریوں کا آغاز کیا۔
یہ معاملہ صرف قانونی گرفتاریوں تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے ایک زبردست سیاسی و سماجی طوفان بھی کھڑا کر دیا۔ کانگریس کے رہنما جے رام رمیش اور راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور این ٹی اےکو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے اسے 24 لاکھ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ بھیانک کھلواڑ قرار دیا۔ بی بی سی (BBC) نے اس اسکینڈل پر اپنی رپورٹ کا عنوان رکھا: "India’s aspiring doctors heartbroken by exam paper leak” یعنی دنیا نے بھی دیکھ لیا کہ یہ محض ایک امتحان کی منسوخی نہیں بلکہ لاکھوں خوابوں کا قتلِ عام ہے۔ یہ بین الاقوامی نظریں اس بات کی غماز ہیں کہ بھارت کے تعلیمی نظام کی یہ ناکامی اب صرف اندرونی معاملہ نہیں رہی، یہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کا مسئلہ بن چکی ہے۔
اگر اس المیے کو معروضی اور حسابی زاویے سے پرکھا جائے تو بحران کی اصل وجوہات ان بھیانک اعداد و شمار میں چھپی نظر آتی ہیں۔ ملک بھر میں ایم بی بی ایس کی سرکاری اور نجی نشستوں کی کل تعداد لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب ہے، جبکہ ہر سال 24 لاکھ امیدوار اس کے حصول کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کامیابی کی شرح 5 فیصد سے بھی نیچے ہے، یعنی ہر 20 میں سے 19 خواب چکناچور ہوتے ہیں۔ یہی شدید دباؤ اور ہارنے کا خوف ایک ایسے ماحول کو جنم دیتا ہے جہاں کوچنگ انڈسٹری ایک لامحدود معیشت بن جاتی ہے اور تعلیم ایک خالص کمرشل پراڈکٹ (Commercial Product)۔ تازہ ترین صنعتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کوچنگ کی صنعت کا حجم اب 58 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے اور 2028 تک یہ 1 لاکھ 34 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ کوٹا سے سیکر اور دہلی تک، یہ کوچنگ ہبزاب علم کے مندر نہیں بلکہ ایک بے رحم تجارت کے اڈے بن چکے ہیں، جہاں گیس پیپر (Guess Paper) اور شارٹ نوٹس (Short Notes) کی منڈی گرم رہتی ہے اور دیانتدار محنت کا بازار مندا پڑا رہتا ہے۔
اس منظم دھاندلی کے خلاف طبی اور تعلیمی حلقوں میں بھی شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن (FAIMA) سمیت متعدد طبی تنظیموں نے اس صورتحال کو نظام کا فیل ہونا قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ جب تک چار بنیادی اصلاحات نہیں ہوتیں، یہ سانحہ بار بار دہرایا جاتا رہے گا: اول، این ٹی اے (NTA) کی ازسرنو تشکیل اور ایک آزاد نگران ادارے کا قیام؛ دوم، داخلے کے لیے صرف ایک امتحان کی جگہ کثیر معیاری جانچ کا نظام؛ سوم، 58 ہزار کروڑ کی کوچنگ انڈسٹری کی سخت قانونی ریگولیشن؛ اور چہارم، پبلک ایگزامینیشن ایکٹ 2024 کا فوری اور مؤثر نفاذ۔ عدالتِ عظمیٰ تک پہنچنے والی یہ دہائیاں اس بات کی غماز ہیں کہ عوام کا موجودہ امتحانی اداروں پر سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا ہے اور اب وہ نظام کے بجائے عدالت کو اپنا آخری سہارا سمجھتے ہیں۔
نیٹ 2026 کے اس المناک باب نے ہمیں ایک ایسے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے جس میں ہم صرف ایک منسوخ امتحان نہیں دیکھتے، بلکہ ان آنسوؤں کو بھی دیکھتے ہیں جو راتوں کو جاگ کر پڑھنے والے طلبہ کی آنکھوں سے بہے، اور اس بے بسی کو بھی جو ان غریب والدین کے چہروں پر نظر آئی جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی فیسیں ادا کی تھیں۔ جب کسی معاشرے میں اہلیت اور دیانت کی جگہ رشوت اور مافیا لے لے، جب جی پی ایس ٹریکنگ اور بائیومیٹرک سکیورٹی کے باوجود پرچے واٹس ایپ پر اڑیں، جب اصلاحات کے وعدے دو سال میں ہوا ہو جائیں، تو پھر یہ صرف ایک نظام کی ناکامی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے ضمیر کی ناکامی ہے۔ اگر ہم نے اس قومی سانحے سے سبق نہ سیکھا اور نظام میں جراحی کی حد تک گہری اصلاحات نہ کیں، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اور ہر نئے اسکینڈل کے ساتھ فیض کا یہ سوال اور زیادہ درد کے ساتھ، اور زیادہ بلند آواز کے ساتھ گونجتا رہے گا”کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟”
Post Views: 49