Skip to content
جمعہ نامہ: کتھنی اور کرنی کا فرق
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو، اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے‘‘۔ ان آیات کے دو مطالب ہیں۔ اول تو یہ انسان ایسی نصیحت نہ کرے جن پر وہ خود عمل نہ کرتا ہوگویا اللہ تعالیٰ نے قول و فعل میں تضاد کے تئیں اپنی شدید ناراضی کےاظہارفرمایا اور اس کی خا طر کئی الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ سب سے پہلے ڈانٹ اور ملامت کے لیے استفہام انکاری کے ساتھ فرمایا کہ ایمان لانے کے باوجود تم وہ کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ، پھر اس پر زور دینے کے لیے اس کی ضمیر کے بجائے دوسری آیت میں انہی الفاظ کو دہرایا گیا ، چنانچہ پہلے سوال اور پھر جواب بھی دیا گیا۔ اپنی ناراضی میں شدت کی غرض سے ” مقتا “ کا لفظ استعمال ہوا، جس کا معنی شدید بغض کےہیں اور اس کے ساتھ ” کبر “ یعنی کبیرمنسلک فرما کراس شدت میں اضافہ فرمایا گیا۔سوال یہ ہے کہ معاملہ کس کے ساتھ ہے تو جواب ہے ” عند اللہ “ یعنی یہ کسی عام شخص کا نہیں بلکہ اس عمل سے تم اللہ جل جلالہ کی شدید ناراضی مول لے رہے ہو۔ یہ آہنگ گواہ ہے کہ قول و عمل کا تضاد کس قدر ناپسندیدہ خصلت ہے ۔
مذکورہ بالا آیات کا شانِ نزول یہ ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ نے آپس میں کہا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اﷲ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے تو ہم اس کے لئے جان تک قربان کردیں۔ نبیٔ کریم ﷺنے ان کو بلایا، اور یہ سورت پڑھ کر سنادی۔ اس کے معنیٰ ہیں کہ کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالی جائے کہ میں فلاں کام کرکے رہوں گا، کیونکہ اگرکسی وجہ سے وہ کام نہ ہو سکے تو دعوی جھوٹا ہوجائے۔ اس لیے رسماً نہیں بلکہ شعور کے ساتھ ان شاء اللہ کہا جائے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو منظور ہوگا تو ہوسکے گا ورنہ انسان تو کوشش کا مکلف ہے۔یہ رویہ انسان کو شیخیاں بگھارنے سے روکتا ہے۔ دعوت و تبلیغ فرض ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” مجھ سے آگے پہنچا دو ، خواہ ایک آیت ہو “۔ یہاں عمل کی شرط نہیں کہ کہنا بھی چھوڑ دو ، بلکہ اپنی کوتاہی پر ندامت اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دعوت و تبلیغ اس امیدسے کرنی چاہیے کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کوتاہی کودور فرمادے ۔ فرائض کی بابت عمل اور تبلیغ دونوں لازم ہیں ، جبکہ مستحباب پر عمل کرے تو اجر ہے ، نہ کرسکے تو مؤاخذہ نہیں ۔
مذکورہ بالا آیات کے مخاطب تو اہل ایمان مخاطب ہیں مگر قول اور فعل کا تضاد سے ہر انسان دوسروں کی نظروں میں گر جاتا ہے لہٰذا انسان اپنی زبان کو قابو میں رکھے اور کوئی بات نہ کہے جس کو نباہنا آسان نہ ہو اور اس کی نصیحت مذاق بن جائے جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ پروچن سے ہوا۔ انہوں عوام کو قوم کی خاطرسونا خریدنے، غیر ملکی سفر پر جانے ، ایندھن یعنی پٹرول کم استعمال کرنے نیز غیر ملکی دورہ نہ کرنے تک کا مشورہ دے دیا تاکہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کا بوجھ کم کیا جاسکے۔ انہوں نے تو کسانوں سے کہا کہ وہ کھاد کم استعمال کریں اور عوام کھانے کا تیل بھی کم کھائیں ۔اول تو یہ سارے خیالی مشورے غیر عملی ہیں ۔ وزیر اعظم پٹرول بچانے کی بڑی بڑی ہانکنے کے بعد روڈ شو پر نکل پڑے جس میں سیکڑوں گاڑیاں تھیں کیا وہ سب ایندھن کے بجائے پانی سے چلتی ہیں۔ انہوں نے عوام کو بیرونِ ملک جانے سے منع کیا مگر خود غیر ملکی دورےکی تیاری میں جٹ گئے۔ موصوف 15 مئی سے پانچ روزہ غیر ملکی دورے پر روانہ ہوں گےاورمتحدہ عرب امارات سمیت چار یورپی ممالک کا دورہ کریں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے غیر ملکی دوروں پر 2014 سے 2018 کے درمیان 1484 روپئے کروڑ روپئےخرچ کیےاور فروری 2019 سے جون 2023 کے دوران، 21 غیر ملکی دوروں پر تقریباً 22.76 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک خرچ کردیئے تو ایسا فضول خرچی کرنے والا اگر قناعت پسندی اور سادگی کا مشورہ دے تو کیا کیا جائے۔ ویسے ان دوروں کے باوجود آپریشن سیندور کے بعد اسرائیل کے علاوہ کوئی ہندوستان کے ساتھ نہیں آیا مگر جو فضول خرچی ہونی تھی ہوگئی۔ اسلام میانہ روی اور اعتدال کا درس دیتا ہے، ارشادقرآنی ہے: "کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔ اس کے برعکس بے جا، نمود و نمائش یا حرام کاموں میں مال برباد کرنے والوں کو شیطان کے بھائی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک سال کے سونے کے زیور خریدنے سے بھی منع کردیا ۔ سونے کا بھاو ویسے ہی ڈیڑھ روپئے فی تولہ ہوگیا ہے۔اس کے باوجود غریب لوگ کچھ نہ کچھ جوڑ توڑ کر سونے کا جگاڑ کرلیتے ہیں ۔ ہندووں کے یہاں سونے منگل سوتر سہاگ کی نشانی ہے۔
پارلیمانی انتخابی مہم میں خود وزیر اعظم نے ہندو عوام کو ڈرایا تھا کہ حزب اختلاف ان کے منگل سوتر چھین کر مسلمانوں کو تقسیم کردے گا اور اب وہ خود نئی نویلی دلہنوں کے سہاگ کی علامت چھین رہے ہیں۔ اس مشورے کی آڑ میں انہوں سونے پر ٹیکس بڑھاکر اسے مزید مہنگا کردیا ہے۔ سونے کی تجارت کرنے والے زیادہ تر بیوپاری بی جے پی کے حامی ہیں۔ اب اگر عوام نے سونا خریدنا بند کردیا تو وہ ایک سال تک کیا ہوا کھائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ وہ بیچارے بھول گئے تھے کہ ایسا کوئی سگا نہیں جس کو اس نے ٹھگا نہیں‘ اب وہ افسوس کررہے ہوں گے خود اپنی حماقت سے انہوں نے کس کو اقتدار پر فائز کردیا۔ اس کے علاوہ زیور بنانے والوں میں بہت بڑی تعدادبنگالی کاریگروں کی ہے۔ ان لوگوں نے پہلی بار اپنی ریاست میں ڈبل انجن سرکار بنوائی اور اس نے انہیں کو روند دیا ۔ قرآن پاک میں احسان فراموشی کو معاشرتی تنزلی اور اخلاقی پستی قرار دیاگیا ہے۔ سچا مومن وہی ہے جو اللہ کے احسانات کو یاد رکھے اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرے، کیونکہ محسن کشی (احسان فراموشی) ایمان کے منافی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا”۔
Post Views: 77