Skip to content
اورنگ زیب عالمگیرؒ (28؍ذی قعدہ کے حوالے سے)
ازقلم:محمدیوسف رحیم بیدری ،
بیدر،کرناٹک

اورنگ زیب عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کا 28؍ذی القعدہ1118ھ کو احمدنگر (مہاراشٹر) میں انتقال ہوا۔ 89؍سال کی عمرپائی (ہجری سال کے مطابق91سال)اوران کی وصیت کے مطابق انہیں مہاراشٹر ہی کے خلدآباد (ضلع اورنگ آباد )میں دفن کیاگیا۔ وہ سادگی کاپیکر ،دیندار بادشاہ تھے۔ ان کاعدل وانصاف مشہورتھا۔ اورنگ زیب کے بارے میں تاریخی کتب میں لکھاہے کہ وہ 31؍جولائی 1658ء کو تخت نشین ہوئے اور اپنی وفات 3؍مارچ 1707ء ( 4؍مارچ 1707ء بھی درج ہے) تک برسرکار رہے۔حکومت کے جملہ سال 49 بنتے ہیں (کہیں پر 51؍سال لکھاہے۔ شاید ہجری سال کے حساب سے حکمرانی کی معیاد 51سال تک پہنچ رہی ہوگی)اورنگ زیب عالمگیر کانام محی الدین تھا۔ ان کے والد شاہجہاں نے انہیں عالمگیر کے خطاب سے نوازا تھا۔
دنیا کی چوتھائی GDP ہندوستان میں :۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں غیرملکی حکومتوں (بیرون ممالک) سے خوش گوار تعلقات تھے۔ اورنگ زیب کے دورمیں ہندوستان سونے کی چڑیاتھا۔ دنیا کی GDPکا ایک چوتھائی (پچیس فیصد)حصہ ہندوستان کی دین تھا۔اس وقت انگلستان (برطانیہ) دوفیصد GDPاپنے ہاں رکھتاتھا۔
عالمگیر اورنگ زیب ایک ادیب :۔ اورنگ زیب دراصل بادشاہ ہونے کے حوالے سے سارے عالم میں معروف ہیں تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک ادیب بھی تھے اور ایسے اسلامی ادیب کہ ان کے لکھے ہوئے خطوط ’’رقعات عالمگیری‘‘ کے نام سے مرتب کئے گئے ۔مغلیہ سلطنت کانظام چلانے کے لئے فتاویٰ کامجموعہ تصنیف کیاگیاجسے ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کہاجاتاہے۔ فتاویٰ عالمگیری فقہ اسلامی میں آج بھی ایک ممتاز مقام کے حامل فتاویٰ ہیں۔ اتنا ہی نہیں ان کی دختر زیب النساء مخفیؔ بھی شاعرہ تھیں۔ والداسلامی ادیب اور دختر شاعرہ ۔ اس وراثت کے سلسلے کی طرف بھی نئی نسل کوغور کرناچاہیے ۔ان کابھائی داراشکوہ بھی ادیب تھا۔ مفکر بھی کہاجاتاہے۔
بیوروکریسی میں ہندو ؤں کافیصد:۔ اورنگ زیب کے تخت نشین ہونے کے بعد شاہی بیوروکریسی میں ہندوؤں کی تعداد کاسوال پید اہواتو اورنگ زیب کی بصیرت نے اس تعداد میں اضافہ کومنظور کیا۔ 1679ء سے 1707ء (اورنگ زیب کی وفات تک) اورنگ زیب کے راج میں ہندوعہدے داروں کی تعداد میں نصف اضافہ ہوا۔ جو مغل اشرافیہ کا31.6%بتایاجاتاہے۔ اوریہ مغل دور کا سب سے زیادہ فیصد ہے۔
بادشاہت کااسلامی تصور :۔ مورخ کیتھرین براؤن نے اورنگ زیب کے طرز ِ حکومت کو بادشاہت کا اسلامی تصور جیسے نام سے یادکیاہے ۔ بادشاہت کی معیاد کے دوران اورنگ زیب نے
کیا بند کیااور کیا رہنے دِیا ۔ جو چیزیں ختم کردیں ، اس تعلق سے لکھاہے کہ اورنگ زیب نے اپنے آباء کے سیکولر نقطہ ء نظر کو نکار ا۔ اورنگ زیب نے سلطنت کے انتظام وانصرام میں اپنے آباء خصوصاً بابر ، جہانگیر اور والد شاہ جہاں کے برخلاف طریقہ اختیارکیا۔ سکوں (Coin)پر قرآنی آیات لکھنے کاطریقہ بندکیا۔ انھوں نے زرتشتی تہوار نوروزمنانے پر پابندی عائد کردی ۔صوفی سرمد کاشانی کاسرقلم کرنے کاحکم دیا۔ مخصوص مسلمانوں کے خلاف ظلم وستم روارکھے۔ غیرمسلموں کی طرز کے لباس پہننے والے مسلمانوں کو سزاد ی گئی۔ ریاستی اخراجات کوپور اکرنے کے لئے لینڈ ٹیکس میں اضافہ کیاگیا جس سے ہندوجاٹ متاثر ہوئے ۔
یہ کام اورنگ زیب نے کئے :۔ کہاجاتاہے کہ اورنگ زیب نے اپنے دور حکومت میں اسلام کو غالب طاقت بنانے کی سعی کی۔اسلام قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ موسیقی پر مکمل پابندی عائد نہیں کی۔ انھوں نے کئی سوفقہا کے کام کو سامنے رکھ کر حنفی قانون کومرتب کیا جسے فتاویٰ عالمگیری کی شکل میں آج بھی دیکھاجاسکتاہے۔ غیرمسلم رعایا پر جزیہ نافذ کیا تاہم برہمنوں ، عورتوں، بچوں ، بزرگوں ، معذوروں ، بے روزگاروں ، بیماروں اور پاگلوں کو اس سے ہمیشہ کے لئے مستثنیٰ قرار دیاگیا۔ مندروں اور مساجد کے لئے زمین کی گرانٹ جاری کی اور عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کے لئے فنڈ ز جاری کئے۔اورنگ زیب نے مندروں اور گردواروں کو رقم عطا کی اور نئے مندر بھی تعمیر کیے گئے۔ ایٹن 110مندروں کو تباہ کرنے کادعویٰ کرتاہے ۔ دیگر ذرائع کا کہناہے کہ اورنگ زیب نے اس سے کہیں زیادہ مندر تعمیر کئے اور جو مندر تباہ کئے گئے اس کے پیچھے مذہبی تعصب نہیں بلکہ سیاسی انتقام تھا۔ ایسا ہی ایک واقعہ گولکنڈہ کی جامع مسجد کی مسماری کابھی ہے۔وہاں کے حکمران نے ریاست کی آمدنی چھپانے کے لئے وہ جامع مسجد تعمیر کی تھی۔اورنگ زیب نے قطب الدین بختیار کاکیؒ جیسے صوفی بزرگوں کی درگاہوںکی سرپرستی کی اور شاہی مقبروں کوبرقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اورنگ زیب نے 1659اور 1662ء میں شریف خاندان کے لیے رقم اور تحائف کے ساتھ مکہ میں سفارتی مشن بھیجا۔ اور دوبارہ 1662ء اور 1672ء میں مکہ اورمدینہ میں تقسیم کرنے کے لیے خیرات بھی بھیجی۔اپنی اہلیہ دلراس بانو بیگم کامقبرہ بنام بی بی کامقبرہ اورنگ زیب نے تعمیر کیا۔
روس کے ساتھ اورنگ زیب کے تعلقات :۔ روسی زار پیٹر عظیم نے اورنگ زیب سے تجارتی تعلقات بڑھانے کی درخواست کی۔ 1696ء میں اورنگ زیب نے سفیر سیمون مالینکی کااستقبال کیااور اسے آزاد تجارت کرنے کی اجازت دی۔ سورت، برہان پور ، آگرہ ، دہلی اور دیگرشہراس تجارت میں شامل رہے۔
بیٹے کی بغاوت :۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ مغل بادشاہ اورنگ زیب نے اپنے بھائی داراشکوہ سے جنگ کی اور اپنے والد کوبھی قید کیا لیکن یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایک موقع پر اورنگ زیب کے پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیوں میں سے تیسرے فرزند اکبر نے چند مسلم منصب داروں کے ساتھ مغل دربارترک کردیا اور دکن آکر مسلم باغیوںکاخود کوکمانڈر قرار دیا۔ اسی لئے اورنگ زیب کو اورنگ آباد منتقل ہونا پڑااورفرزند کی بغاوت کے سبب دکن فتح کرنے کے لئے کمان سنبھالی۔ تمام باغی شکست سے دوچار ہوئے ۔ بیٹا اکبر مراٹھوں کاسردار سمبھاجی کے پاس بھاگ کھڑا ہو۔ پھروہاں بھی تعاقب کیاگیا۔ کہتے ہیں اکبرنے فارس چلے جانا مناسب سمجھا جہاں سے اس کی واپسی نہیں ہوسکی۔
اولیائے کرام سے اورنگ زیب کی وابستگی :۔ اورنگ زیب ہندوستان جیسے وسیع وعریض ملک کاشہنشاہ تھا۔ اس کی اجازت کے بغیر کچھ ہونا ناممکن تھا۔ اور اس نے تقریبا ً نوے سال کی عمرتک حکومت کی اور آخری وقتوں میں جو کچھ وصیت اپنے تعلق سے کی اس وصیت پر بھی عمل کیاگیا۔ اس میں یہ بھی شامل تھاکہ اس کی میت کو سادگی کے ساتھ دفن کیاجائے یعنی تدفین کے بعد قبر پر مقبرہ تعمیر نہ کیاجائے ۔ اس زمانے میں بادشاہوں کے مقبر ے بنائے جاتے تھے، لیکن وہ کام مجھے منظور نہیں ۔ اسی طرح دفن کے لئے زمین کی بھی نشاندہی اغلب ہے کہ خود اورنگ زیب نے کی ہوگی۔ لہٰذ ا ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی سیدھی سادی مزارحضرت نظام الدین اولیاء دہلوی کے شاگرد اور صوفی بزرگ حضرت شیخ برہان الدین غریب ؔ کے مزار کے صحن( خلد آباد، مہاراشٹر)میں واقع ہے۔اور اپنے اندر بے انتہا کشش رکھتی ہے کہ ہندوستان جیسی عظیم سلطنت کاشہنشاہ اورنگ زیب کسی شاندار مقبرے کے بجائے کھلے آسمان کے تلے خاک اوڑھے سورہاہے۔اور کہہ رہاہے کہ جانااسی مٹی میں ہے جس مٹی سے انسان کو اللہ نے بنایاہے۔دنیا کو اچھی طرح پتہ ہو کہ آخر کار اس دنیا میں اللہ کانام باقی رہنا ہے( اور اللہ کے چاہنے والوں کابھی)اورآئندہ بھی یہی کچھ ہوتارہے گا۔
Post Views: 15