Skip to content
ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ کے بغیر جانور فروخت کرنے والوں کے خلاف ہی کاروائی ضروری
بیو پاریوں کے بجائے خریدار قریش برادری کو پولیس ہراسانی کی مذمت -پولیس ہے تو پھر گاورکھشکوں کی کیا ضرورت ہے? مولانا جعفر پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد 12 مئی (راست )امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشا نےجامع مسجد دارالشفاء میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوۓ عازمین حج کو مبارکباددی اور دعا کی کہ اللہ تعالی سب کو حج مبرور سے مشرف فرمائے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات یہ ہیں کہ مالدار لوگ گھروں میں ہیں اور پریشان ہیں اور جو پریشان ہیں وہ حج کے سفر میں ہیں انہوں نے حدیث شریف کی روشنی میں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر وعید
فرمائی ہے کہ "جس کے پاس مال و دولت ہو اور وہ حج کو جانے کی استطاعت بھی رکھتا ہو اس کے باوجود اگر وہ حج نہ کرے تو وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرے ” – مولانا جعفر پاشاہ نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے عید الضحی سےقبل قریش برادری اور مویشی لانے والے خریداروں کو پریشان کرنے کے واقعات کی سخت مذمت کی اور کہا کہ حکومت کی تبدیلی سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو یہ امید تھی کہ ریاست امن و امان کا گہوارہ بنے گی لیکن کانگریس حکومت کے دور میں مسلمانوں کو کافی مایوسی ہاتھ آ رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بالخصوص پولیس کو چاہیے کہ وہ عید الضحی کے موقع پر جہاں جانور فروخت ہوتے ہیں ،جانور فروخت کرنے والوں کو ہی پابند بنایا جائے کہ وہ ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ کے بغیر جانور فروخت نہ کریں اور اگر کوئی بیوپاری ڈاکٹر کے سرٹیفیکیٹ کے بغیر جانور فروخت کرتا ہے تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے اور مختلف مقامات پر پولیس کے چیک پوسٹ قائم کرنے کے بجائے جہاں پر جانور فروخت ہو رہے ہیں وہیں پر چیک پوسٹ قائم کیے جائیں اور جو عناصر گاؤ رکھشک کے نام پر غنڈہ گردی کر رہے ہیں ان پر کڑی نظر رکھی جائے مولانا نے کہا کہ جب باضابطہ چیک پوسٹ بھی قائم کر دیے جاتے ہیں تو پھر یہ گاورکھشکوں کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟مولانا جعفر پاشاہ نے کمشنر پولیس اور دیگر اعلی عہد یداران سے کہا کہ سب سے پہلے جن لوگوں کو گاؤ رکھکشوں کے نام پر شناختی کارڈ دیے گئے ہیں ان کے شناختی کارڈ کو منسوخ کر دیا جائے اس کے علاوہ سابق سے لے کر اب تک جن لوگوں کو گاؤ رکھشک کےنام کے جو شناختی کارڈ دیے گئے ہیں ان افراد کے نام اور ان کی مصروفیات اور ان کے رہائشی پتوں سے صحافت کو واقف کروایا جائے تاکہ صحافت کے ذریعے عوام یہ جان سکیں کہ گاورکھشک کے نام پر جن لوگوں نے اب تک غنڈہ گردی کی ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور نہ صرف جانوروں کو لانے والوں پر ظلم و ستم کیا ہے بلکہ بعض واقعات میں پولیس عہدیداروں پر بھی حملہ کیا ہے، ان عناصر سے سب لوگ واقف ہو سکیں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ پولیس کے عہد یداران ہر سال کہتے ہیں کہ کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں رہے گی لیکن اس کے باوجود بڑے جانوروں کو دیہاتوں سے شہر لانے والے قریش برادری اور جانور لانے والوں کو نہ صرف خوفزدہ کیا جا رہا ہے بلکہ زبردستی طور پر جانوروں کو گاڑیوں سے اتار کر جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے یہ لاقانونیت نہیں تو پھر کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ہوتا ہے اور محکمہ پولیس خاموش تماشائی بنا رہتا ہے سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے وو ٹ تو حاصل کرتی ہیں لیکن پھر اقتدار حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں اور ان کے مسائل سے منہ پھیر لیا جاتا ہے مولانا نے کہا کہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ظلم سے چلنے والی حکومتیں دیر پائیں نہیں رہتیں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ چیف منسٹر کے پاس وزارت داخلہ کا بھی قلمدان ہے اس لیے اس سلسلے میں چیف منسٹر کو از خود دلچسپی لینا اور آنے والے دنوں میں لاقانونیت کے ممکنہ مزیدواقعات کو روکنا ضروری ہو گیا ہے مولانا جعفر پاشا نے شادیوں کے موقع پر ہونے والی خرافات پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ کے مواقع پر اللہ اور رسول کے احکام کی خلاف ورزی ہو رہی ہے شادیوں کے موقع پر نوشہ کا فنکشن ہالس کودیر سے آنا، اور پھر گانا بجانا اور آتش بازی کے بعد عین صبح کے وقت تک دیگرخرافات میں مصروف رہنا بڑا ہی افسوسناک ہے ایسی شادیوں میں ہم کس طرح اللہ کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں ایسی شادیوں پر اللہ کی رحمت کے بجائے لعنت ہی ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ شادی بیاہ کے موقع پر نمازوں سے غفلت عظیم گناہ ہے خوشی کے مواقعوں پر نمازیں چھوڑ دی جا رہی ہیں جب ہم اللہ اور رسول کا نام بھی لیں اور اللہ اور رسول کے احکام کی نافرمانی کریں اس کے بعد ہم کس طرح سے بخشش اور جنت کی امید رکھ سکتے ہیں مولانا نے قربانی دینے والے مرد و خواتین کو تلقین کی کہ وہ ذی الحجہ کی 29 تاریخ( اتوار 17 مئی 2026ء) کو مغرب سے قبل اپنے بال اور ناخن ترش والے یہ عمل اگرچہ کے مستحب ہے لیکن اس پر ہم عمل کر کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں
Post Views: 22