Skip to content
بنگال کے مسلمانوں پر بی جے پی کا قہر!
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
بنگال کے مسلمانوں پر بی جے پی حکومت کے ابتدائی بیانات اور اقدامات نے ایک بار پھر ہندوستانی مسلمانوں کے اندر بے چینی و اضطراب کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ یہ بے چینی محض سیاسی مخالفت یا جماعتی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں کے ان تلخ تجربات کی بنیاد پر ہے جنہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں خوف، عدم تحفظ اور غیر یقینی کیفیت کو جنم دیا۔ ہندوستان کا مسلمان گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل ایسے حالات کا سامنا کر رہا ہے جہاں اس کی مذہبی آزادی، سماجی شناخت، تہذیبی شعائر اور دینی ادارے مختلف انداز میں نشانے پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بنگال میں بی جے پی کی سیاسی طاقت بڑھی اور اقتدار کے آثار نمایاں ہوئے تو مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے اندر یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں بنگال بھی اتر پردیش، آسام اور مدھیہ پردیش جیسی صورت حال کی طرف نہ بڑھ جائے۔ یہ درست ہے کہ سیاست کبھی خلا میں کام نہیں کرتی بلکہ اس کے اثرات سماج کے ہر طبقے تک پہنچتے ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں تو صرف چہروں کی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ انتظامی مزاج، ترجیحات، قانون کے نفاذ کا انداز اور سماجی رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں حکومتوں کی پالیسیوں کا براہ راست اثر اقلیتوں کے احساسِ تحفظ پر پڑتا ہے۔ اگر حکومت کی زبان میں سختی، رویے میں تنگ نظری اور اقدامات میں امتیازی کیفیت محسوس ہونے لگے تو سب سے پہلے اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگتی ہیں۔ یہی کیفیت آج بنگال کے مسلمانوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ بنگال ایک ایسا خطہ رہا ہے جہاں صدیوں سے مذہبی ہم آہنگی، تہذیبی رواداری اور سماجی اشتراک کی مثالیں ملتی رہی ہیں۔ یہاں مسلمانوں نے نہ صرف اپنی دینی شناخت کو محفوظ رکھا بلکہ ادب و ثقافت، تعلیم اور سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ مغربی بنگال میں مسلمان ایک بڑی آبادی رکھتے ہیں اور دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک ان کی معاشی و تعلیمی اور سماجی موجودگی نمایاں ہے۔ ممتا بنرجی کے دور حکومت میں اگرچہ تمام مسائل ختم نہیں ہوئے تھے مگر مسلمانوں کو مجموعی طور پر یہ احساس ضرور تھا کہ ان کی عبادت گاہیں، مدارس اور مذہبی شعائر کسی براہ راست حکومتی نشانے پر نہیں ہیں۔ عیدین کے اجتماعات، قربانی، جلوس، مذہبی تقریبات اور اذان جیسے معاملات میں نسبتاً آزادی کا ماحول موجود تھا۔ لیکن جیسے ہی بی جے پی کی سیاسی طاقت بنگال میں مضبوط ہوئی مسلمانوں کے اندر خدشات نے جنم لینا شروع کر دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وہ تجربات ہیں جو دوسرے صوبوں میں مسلمانوں نے گزشتہ برسوں میں دیکھے۔ اتر پردیش میں ۲۰۱۷ کے بعد جس انداز میں بلڈوزر سیاست نے جنم لیا اس نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی۔ مختلف شہروں میں مساجد، مدارس، دکانوں اور گھروں پر کارروائیوں نے یہ تاثر پیدا کیا کہ قانون کا استعمال بعض اوقات مخصوص طبقے کے خلاف زیادہ سختی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ گیان واپی مسجد اور متھرا عیدگاہ جیسے معاملات نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ خوف پیدا کیا کہ تاریخی عبادت گاہیں بھی اب تنازعات کی زد میں آسکتی ہیں۔ یہی کیفیت آسام میں دیکھی گئی جہاں شہریت، زمین اور آبادی کے مسائل کو لے کر مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اب جب بنگال میں بھی نماز، لاؤڈ اسپیکر اور قربانی جیسے معاملات پر سخت بیانات سامنے آتے ہیں تو مسلمانوں کو یہ اندیشہ لاحق ہونا فطری ہے کہ کہیں ان کے مذہبی معاملات کو بھی سیاسی رنگ نہ دے دیا جائے۔ اگر راستوں پر نماز پڑھنے کے خلاف کارروائی کی بات کی جاتی ہے تو مسلمانوں کا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا حکومت عبادت کے متبادل انتظامات بھی فراہم کرے گی؟ اگر لاؤڈ اسپیکر کے اجازت نامے کی بات ہوتی ہے تو مسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قانون سب کے لیے یکساں ہوگا یا صرف مساجد کو نشانہ بنایا جائے گا؟ اگر قربانی کے حوالے سے وارننگ دی جاتی ہے تو مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے مذہبی شعائر کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہندوستان کا مسلمان صرف حکومتی فیصلوں سے پریشان نہیں بلکہ سماجی فضا میں بڑھتی ہوئی نفرت اور تقسیم سے بھی خوف زدہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں سوشل میڈیا، ٹی وی مباحثوں اور بعض سیاسی بیانات نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جس میں مسلمان کو اکثر مشکوک نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی اسے آبادی کے مسئلے سے جوڑا جاتا ہے، کبھی حب الوطنی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور کبھی اس کے مذہبی شعائر کو تنازع بنا دیا جاتا ہے۔ اس ماحول نے عام مسلمان کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ وہ خود کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں محسوس کرتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو صرف جذباتی ردعمل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ حکمت، بصیرت اور سیاسی شعور کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ صرف نعروں اور وقتی جذبات سے قومیں اپنے مسائل حل نہیں کرتیں بلکہ تعلیم، تنظیم، قانونی شعور اور سیاسی حکمت عملی سے اپنا مستقبل محفوظ بناتی ہیں۔ ہندوستانی مسلمان اگر واقعی اپنے وجود، شناخت اور حقوق کے تحفظ کے خواہاں ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ آج مسلمانوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ سیاسی طور پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی قیادت منتشر ہے، ان کے مسائل پر سنجیدہ منصوبہ بندی کم نظر آتی ہے اور اکثر جذباتی نعروں کو ہی کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں اشتعال انگیز بیانات اور وقتی ردعمل بہت تیزی سے مقبول ہو جاتے ہیں لیکن ان کے نتائج اکثر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان قانون کو سمجھے، آئینی حقوق سے واقف ہو، عدالتوں پر اعتماد رکھے اور جمہوری طریقوں سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر بی جے پی حکومت کو یکساں انداز میں دیکھنا بھی مکمل انصاف نہیں ہوگا۔ بعض اوقات انتظامی فیصلوں کو سیاسی یا مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کو جذباتی پروپیگنڈے سے بچ کر ہر معاملے کا سنجیدہ تجزیہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی قانون سب کے لیے ہے تو اسے صرف مسلم دشمنی قرار دینا درست نہیں لیکن اگر کسی قانون یا اقدام کا استعمال مخصوص طبقے کے خلاف زیادہ ہو رہا ہو تو اس پر آئینی اور قانونی طریقے سے آواز اٹھانا بھی ضروری ہے۔ مسلمانوں کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ تعلیم ہے۔ ایک تعلیم یافتہ قوم اپنے حقوق کو بہتر انداز میں سمجھتی اور حاصل کرتی ہے۔ افسوس کہ ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں مسلمان اب بھی تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاسی نعروں کا شکار جلد ہو جاتے ہیں۔ اگر مسلمان اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم، قانونی شعور، میڈیا اور جدید علوم سے آراستہ کریں تو ان کے خلاف نفرت کی سیاست اتنی آسان نہیں رہے گی۔ آج کے دور میں میڈیا، عدالت، بیوروکریسی اور تعلیمی اداروں میں مضبوط موجودگی ہی کسی قوم کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اپنے اخلاق و کردار پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ اسلام نے ہمیشہ صبر، حکمت، عدل اور حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے۔ اگر مسلمان اشتعال انگیزی، قانون شکنی یا جذباتی نعروں میں بہہ جائیں گے تو اس کا نقصان خود انہیں ہی ہوگا۔ مخالف قوتیں ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتی ہیں جنہیں بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خلاف مزید سختیاں کی جا سکیں۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے۔ کیونکہ ہندوستان کا آئین آج بھی مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔ عدالتیں آج بھی موجود ہیں، جمہوری ادارے کام کر رہے ہیں اور قانونی راستے کھلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ بعض فیصلوں پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مجموعی طور پر آئینی ڈھانچہ اب بھی اقلیتوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آئینی جد وجہد کو مضبوط کریں، انصاف کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں اور اپنے اندر ایسی قیادت پیدا کریں جو صرف جذباتی تقریروں کے بجائے عملی حکمت عملی پیش کرے۔
بنگال کی موجودہ صورت حال مسلمانوں کے لیے ایک آزمائش ضرور ہے لیکن یہ ان کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور سماجی طرز عمل پر غور کریں۔ اگر مسلمان صرف خوف اور مایوسی کا شکار ہو جائیں گے تو ان کے مسائل مزید بڑھیں گے۔ لیکن اگر وہ اتحاد، تعلیم، قانونی شعور اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو وہ ہر مشکل صورت حال کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں مسلمانوں نے انتہائی سخت حالات میں بھی اپنی دینی و تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھا ہے۔ لہٰذا! نفرت کے ماحول کو مزید ہوا دینے کے بجائے ملک میں انصاف، برابری اور آئینی اقدار کی بات کی جائے۔ حکومتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان کی طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔ اگر کسی طبقے کو مسلسل خوف اور عدم تحفظ میں مبتلا رکھا جائے گا تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف سیاسی نعروں یا وقتی جذبات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ مضبوط تعلیمی، سماجی اور قانونی بنیادیں ہی انہیں محفوظ مستقبل دے سکتی ہیں۔ بنگال کے مسلمانوں کے دلوں میں آج جو خوف پایا جا رہا ہے وہ محض ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ہندوستانی مسلمان کی نفسیاتی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ یہ محسوس کر رہا ہے کہ اس کی مذہبی شناخت اب سیاسی بحث کا موضوع بنتی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کو مزید خراب کرنے کے بجائے سنجیدگی، حکمت اور انصاف کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ اگر حکومتیں واقعی سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرے پر یقین رکھتی ہیں تو انہیں اپنے رویوں اور بیانات سے یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہوگا کہ ملک کا ہر شہری چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو، برابر کا ہندوستانی ہے اور اس کے مذہبی و آئینی حقوق مکمل طور پر محفوظ رہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
Post Views: 6