Skip to content
تمل ناڈو میں غیر زعفرانی سنہرے دور کاآغاز
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مرکز میں پھر ایک بار بی جے پی کی ہار کے پیچھے مرکزی حکومت کے ذریعہ گورنر کے دفتر کا بیجا استعمال اہم وجہ ہے۔ اس نے تمل عوام کے عزت نفس کو ٹھیس پہنچا کر نادانستہ طور پر ٹی وی کے کا تعاون کیا۔ ہندوستان میں ایک وفاقی نظام رائج ہے مگر مودی سرکار اس کو ختم کرنے کے درپے ہے ، اس طرح کاجو الزام لگتا تھا اس پر خواتین کو ریزرویشن دینے سے قبل نئی حد بندی کے اعلان نے عوام کے اندر بداعتمادی پیدا کردی اور وہ بی جے پی کو اپنی تہذیب ثقافت کے علاوہ انفرادیت کے لیے خطرہ سمجھنے لگے ۔ اس میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس نے اپنے فرقہ پرستی کی حکمت عملی سے پوری کردی ۔ بی جے پی کی مقامی شاخ نے ایک مندر اور مسجد کے معاملے کو ایودھیا بنانے کی کوشش کی ۔ ویلور شہر کے اندر 1896 سے ایک مسجد قائم ہے اور اس میں نماز ادا کی جا رہی ہے لیکن اچانک ہندو منّانی یعنی جنوب کی وشو ہندو پریشد کے لوگوں نے بلاوجہ اسے ایشو بنا دیا ۔ اس پر ایک زبردست تنازع پیدا کرکے ’ہندو منّانی‘ نے دعویٰ کردیا کہ اس مسجد کی تعمیر بغیر اجازت کی گئی ہےجسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کےکارکنان نےیہ جھوٹا الزام لگا دیا کہ ایک گھر کو راتوں رات مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہندو منّانی کا اعتراض اس لیے تھا کہ مسجد سے 100 میٹر کے دائرے میں ہی تین مندر موجود ہیں، اور مسجد کے علاقے سے ہی مندر کے جلوس نکالے جائیں گے۔
یہ بات تو درست ہے مگر سوا سو سال سے یہ منادر اور مسجد ایک ساتھ قائم و دائم ہیں ایسے میں مسجد ہی کے راستے جلوس نکالنے کا اصرار ایک مذموم شرارت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس معاملے پر پولیس نے بھی کہہ دیا کہ یہ ایک تجارتی عمارت تھی جس کی از سر نو تعمیرکے بعد اس پر مسجد کا ایک بورڈ لگایا دیا گیا۔ اس طرح گویا ہندو منّانی کی ضلع کلکٹر کوپیش کی جانے والی عرضی کی تائید کردی گئی جس میں مسجد کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہونے کا عزم کیا گیا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کام اگر غیر قانونی ہوتا تو اسے روکنا کسی تنظیم کی نہیں بلکہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔ ہندو منانی کا اس بارے میں اتنا زیادہ مشتعل ہوجانا اس کی شرارت کا غماز تھا ۔ ویلور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش کنّن نے مسجد سے متعلق دستاویز کا انکار کیالیکن وہ کاغذات تو ان تین مندروں کے پاس بھی نہیں ہوں گے کیونکہ جب و ہ تعمیر ہوئی تو نہ وقف کا قانون تھا اور کاغذات بنائے جاتے تھے ۔ اس کے ساتھ راجیش کنن نے ریونیو ڈپارٹمنٹ دستاویزوں کی جانچ کرنے اور علاقے میں نظامِ قانون برقرار رکھنے کے لیے پولس کےمستعد ہونے کی یقین دہانی کی۔یہ اسی لیے ممکن ہوسکا کہ پولس کا محکمہ پر ڈی ایم کے تحت تھا۔ وہاں اگر بی جے پی یا اس کے کسی حلیف کی حکومت ہوتی تو کچھ اور ہی کھیل ہوتا۔
اس کام کے لیے وہ عدالت سے آرڈر بھی لے آئے مگر اسٹالن حکومت نے اس ناپاک کوشش کو ناکام کردیا۔ عوام کے دل میں اس تنازع کے سبب بی جے پی کے تئیں نفرت بڑھ گئی۔ اس دوران تمل ناڈو کی ایک پہاڑی پر واقع تھروپارنکونم درگاہ مسجد کا تنازع پیدا کیا گیا ۔ وہاں پر ہندو نے مسجد کے احاطے میں دیا جلانے پر اصرار کیا اور اس معاملے پر مدراس ہائیکورٹ نے دیا جلانے کی اجازت دے دی۔ مدراس ہائیکورٹ کی (مدورائی بینچ) کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن نے دسمبر 2025 میں فیصلہ دیا کہ تھروپارنکونم پہاڑی پر واقع قدیم پتھر کے چراغ (دیپا تھون) پر کارتھیکائی دیپم (دیا) جلانے کی قدیم رسم کو جاری رکھا جائے۔ عدالت نے اس مقام کو جہاں چراغ جلایا جاتا ہے، مندر کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے یہ رسم چلی آ رہی ہے۔ اس لیے یہ چراغ جلایا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ایک سال بعد 2026 میں اسی معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے نلی تھوپوکے علاقے میں، جو درگاہ کے قریب ہے، مسلمانوں کے روزانہ نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی۔ عدالت نے کہا کہ وہاں صرف عیدلفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر وہاں نماز پڑھی جا سکتی ہےیعنی اس کا استعمال عیدگاہ کے طور پر ہی ہوسکے گا ۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو اس نے بھی مدراس ہائیکورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف دیا جلانے کی اجازت جاری رہی بلکہ نماز پر عائد پابندی کو بھی برقرار رکھا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے عدلیہ کس طرح ہندو فرقہ پرستوں کا آلۂ کار بنا ہوا ہے۔اس تناظر میں بی جے پی کی حوصلہ شکنی ضروری تھی ۔ یہ کام انتخابی نتائج اور حکومت سازی میں ناکامی کے ذریعہ کیا گیا ۔ یہ معاملہ اسٹالن یا وجئے کے اقتدار میں آنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ان ساری چیزوں کا اثر یہ ہوا کہ ایم جی رام چندرن کے بعد پھر سے اس انتخاب میں تمل ناڈو کے اندر جوزف وجئے نام کے ایک فلمی ڈان کی آمد ہوئی ۔ اس نے بہت اتھل پتھل مچائی اور ڈی ایم کے سمیت کانگریس کو دھول چٹائی مگراس کے باوجود ڈی ایم کے دوسرے نمبر پر رہی۔بی جے پی کے طفیل اس کی حلیف اے آئی ڈی ایم کے پہلی بار تیسرے مقام پر کھسک گئی اور اب اس کے وجود پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کیونکہ اس جماعت کے ارکان اب مایوسی کے عالم میں ٹی وی کے کی جانب کشش محسوس کررہے ہیں۔
مذکورہ بالا اس خوف کا نتیجہ یہ نکلا کہ نتائج کے بعد بی جے پی ان سب کو اغوا کرکے پدوچیری کے ایک نہایت مہنگے ریسورٹ میں لے گئی ۔ ایسا کسی اور سیاسی جماعت کو نہیں کرنا پڑا۔ بی جے پی کی ایک سازش یہ بھی تھی کہ وجئے کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے جن ارکان اسمبلی کی ضرورت ہے وہ اے آئی ڈی ایم کے ذریعہ پوری کی جائے تاکہ وہ بلواسطہ وجئے کو اپنے قابو میں رکھ سکے اور اپنے اکلوتے رکن کو کسی اہم وزارت پر فائز کرکے یہ جعلی تاثر قائم کرسکے کہ اس نے تمل ناڈو میں بھی کمل کھلا دیا مگر وجئے نے وزیر اعظم کے تعاون کا ہاتھ جھٹک کر بی جے پی کے اس خواب کو مٹی میں ملا دیا۔ وجئے کے اس قدم نے ثابت کردیا کہ وہ کوئی موقع پرست اقتدار کا لالچی رہنما نہیں بلکہ اپنے اصول و نظریات کا پاسدار لمبی ریس کا گھوڑا ہے ورنہ دہلی کی پناہ میں ریاستی حکومت چلانے سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی تھی؟وجئے نے مودی کے بجائے راہل گاندھی کی جانب ہاتھ بڑھا کر ایک زبردست سیاسی خطرہ مول لیا ہے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کی پیشانی پر بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم ہونے کا ایسا کلنک لگتا جو کسی صورت نہیں دھُل پاتا۔
وجئے کی دعوت پر لبیک کہنا کانگریس کے سامنے ایک بہت بڑی آزمائش تھی کیونکہ اس کے نتیجے میں ڈی ایم کے کا ساتھ چھوڑنا ضروری تھا۔ پچھلا اسمبلی اور اور پارلیمانی انتخاب اس نے ڈی ایم کے ساتھ لڑا تھا ۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ڈی ایم کے کے انڈیا محاذ میں شامل ارکان پارلیمان کے دور ہونے کا خطرہ بھی اب حقیقت بن چکا ہے کیونکہ اس نے اسپیکر سے الگ بیٹھنے کے انتظام کی بابت لکھ دیا ہےاور یہ فطری ہے کیونکہ ایک زبردست انتخابی مہم کے بعد وہ ٹی وی کے کے مقابلے شکست دوچار ہوئی ہے اور اس کا ردعمل تو ضرور ہوگا۔ اپنے حامیوں کو بھی اعتماد رکھنے کا دباو ہوتا ہے ۔ موجودہ سیاست صرف اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ امکانات کا کھیل ہوتی ہے۔ اپنے نظریاتی مخالف کو اقتدار سے دور رکھنے کی خاطر کچھ اصول و ضوابط میں لچک پیدا کرنی پڑتی ہے۔
کانگریس پرڈ ی ایم کے کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا الزام لگانے والے بھول گئے کہ اگر یہ اقدام بروقت نہیں کیا جاتا تو دو امکانات تھے اول تو یہ کہ وجئے بحالتِ مجبوری انا ڈی ایم کی گود میں پکے ہوئے پھل کی مانند جاگرتے اور این ڈی اے کا حصہ بن جاتے ۔ ایسا کرنا اگر انہیں منظور نہ ہوتا کیونکہ پیری یار سوامی اور ڈاکٹر امبیڈکر کی نظریاتی روایت کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں تو سرکار ہی نہیں بناتے ۔ اس صورت میں ڈی ایم کے کو اے آئی ڈی ایم کے ساتھ مل کر حکومت سازی کرنی پڑتی ۔ ایسا کرنے کے نتیجے میں ڈی ایم کے کو این ڈی اے میں شامل ہونا پڑتا اور بی جے پی کی بلےّ بلےّ ہوجاتی۔ اس کو بیٹھے ایوان پارلیمان میں 22؍ارکانِ پارلیمان مل جاتے۔ ایسے میں کانگریس نے بلا جھجک اپنی حمایت کا اعلان کرکے دیگر جماعتوں کو بھی حوصلہ دیا ورنہ وہ سب تذبذب کا شکار رہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ آنا کانی کرنے والے گورنر ارلیکر کو مجبوراً وجئے کو بلانا پڑا۔ اس طرح کے فیصلوں میں تاخیر بڑا نقصان کردیتی ہے ۔
Post Views: 39