Skip to content
علامہ اقبال کے اقوال زریں آب زر سے لکھے جانے کے قابل.
جامع مسجد عالیہ گن فاونڈری میں کتاب کے رسم اجرا کے جلسہ میں مفتی سید آصف الدین ندوی کا اظہار خیال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدرآباد،17مئی( الہلال میڈیا)
شاعر اسلام علامہ اقبال کی شاعری ساحری ہے،وہ فکر ونظر کے امام ہیں،ان کے دل دردمند، ان کی فکر ارجمند کی دنیا معترف ومداح ہے،نگاہ بلند ،سخن دلنواز وجاں پرسوزکا پیام مسجدوں کے منبر ومحراب سے ملت اسلامیہ کو سنایا گیاوہیں ایوان اقتدار میں ان کی گونج سنی گئی، اہل علم کے لئے ان کی شاعری توشہ فکر وعمل ہے وہیں اہل سیاست کے فکر وعمل کو جھجھوڑنے والی ہے۔ہماری تاریخ کی یہ ایک منفرد حقیقت ہے کہ جتنا اقبال کو پڑھا گیا سمجھا گیا اور سمجھایا گیا اتنا مشرقی دنیا کے کسی شاعر کو نہیں سمجھا گیا ،اس کی وجہ بالکل صاف ہے کہ قرآن مجید واحادیث نبویہ اور تاریخ اسلام ان کی فکر کا محورہے او ران کی شاعری کی بنیاد واصل ہے،ان خیالا ت کا اظہار مفتی سیدآصف الدین ندوی قاسمی ایم اے بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز قادر باغ حیدرآباد نے کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ گن فاونڈری میں بعد نماز عصرجناب انعام احمد موظف اسسٹنٹ رجسٹرار عثمانیہ یونیورسٹی کی ترتیب کردہ کتاب ’’ علامہ اقبال کے اقوال زریں، کڑوے مگر سچے ‘‘کے رسم اجرا کے بعد کیا، اور اپنے سلسلہ خطاب کہا کہ اقبال کی شاعری کو سمجھنے کےلئے علم وقابلیت کی ضرورت ہے اسی لئےاہل علم واصحاب نظر اور اکیڈیمیوں نے اقبال شناسی کا کام اعلی پیمانے پر کیا ہے،لیکن اقبال کے اقوال کو سمجھنے کے لئے کسی تشریح وتوضیح کی ضرورت نہیں ہے ایک عام اردو داں قاری بھی بآسانی ا س کو سمجھ سکتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک منفرد کام ہے،اقبال کےاشعار تو زبان زد عام وخاص ہیں،لیکن اقبال کے اقوال کا شاید یہ پہلا مجموعہ ہے،وہیں مرتب نے ان کو اردو کے ساتھ ساتھ رومن انگریزی میں بھی تیار کرکے اس کو غیر اردو داں طبقہ تک پہنچانے کی ایک کامیاب کو شش کی ہے۔قبل ازیں جناب انعام احمدنےاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ وہ نوجوان نسل اور اردو سے بابلد لوگوں تک ان کو پہچانا ان کی فکرہے۔اور یہ پہلی کوشش ہے۔آخری کوشش نہیں ہےاور تمام رفقائ کا شکریہ ادا کیا،جناب محمد عظمت اللہ صدیقی سکریٹری انتظامی کمیٹی نے کتاب کا تعارف کرواتےہوئے کہا کہ مرتب کی پیرانہ سالی وکمزوری کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہےکہ کام جب عزیزہوتا ہے تو عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر حبیب اشرف،جناب ا فتخار حسین فیض عام ٹرسٹ،ڈاکٹرمصطفی صدیقی،جناب محمد طاہرعلی،جناب محمد شبیر ،محمد ضیائ الدین محمود،محمد صادق علی ،شمس الدین ،جناب مظہر عابدی، جناب مسیح الدین ،جناب یونس خان،نصر اللہ خان ، محمد فیض الدین وغیرہ موجو د تھے،حافظ عبد الرحمن امام مسجد عالیہ کی قرات کلام پاک سے جلسہ کا آغاز عمل میں آیا۔رسم اجرا کے موقعہ پر تمام شرکائ میں کتاب تحفۃ پیش کی گئی،اور جو حضرات وخواتین اس کو نوجوان نسل تک پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ فون نمبر9052892115پر رابطہ کرکے حاصل کرسکتے ہیں۔ مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
Post Views: 91