Skip to content
عاشق ملت حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثیؒ کی خدمات ناقابل فراموش
آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے جلسہ تذکرہ محاسن سے علماء کرام کے خطابات
بنگلور، 17؍ مئی (پریس ریلیز): آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے زیر اہتمام دارالعلوم سبیل الرشاد کے احاطے میں ایک عظیم الشان ’’جلسہ تذکرہ محاسن‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ پروقار تقریب معروف علمی و ملّی شخصیت، عاشق ملت حضرت مولانا حکیم محمد عبد اللہ مغیثی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی عظیم خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اجلاس کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے صدر حضرت مولانا نوشاد عالم قاسمی نے فرمائی۔اجلاس میں ملک بھر سے ممتاز علماء کرام اور دانشوروں نے شرکت کی اور حضرت عاشقِ ملتؒ کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔مہمان خصوصی، جانشین عاشق ملت مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے کہا کہ حضرت عاشقِ ملت علیہ الرحمہ کی زندگی ایمان و عمل اور خدمتِ دین و انسانیت کا عملی نمونہ تھی۔ ان کی تمام خصوصیات کا احاطہ کرنا ممکن نہیں، لیکن دو باتیں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں: انہوں نے پوری زندگی ہر معاملے میں انتہائی احتیاط برتی اور ہر حال میں صابر و شاکر رہے۔ مفتی افتخار احمد قاسمی، صدر جمعیۃ علماء کرناٹک نے کہا کہ مولانا مغیثیؒ کی شخصیت ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے بہت بلند قامت تھی۔ ہم نے اپنے بزرگوں کو ان کا بے حد ادب و احترام کرتے دیکھا ہے، جو ان کی عظمت کی واضح دلیل ہے۔مولانا احمد ثمال سعودی رشادی، مہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ عاشقِ ملتؒ کی پوری زندگی ملتِ اسلامیہ کے لیے وقف تھی۔ انہوں نے اپنے خانوادے کی تربیت بھی اسی نہج پر کی۔ اس خاندان نے اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کیا، بلکہ دین اور علمِ دین کی اشاعت کے لیے اپنی بڑی بڑی جائیدادیں وقف کر دیں۔مولانا سید منظور رضا عابدی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں علم دین اور علماء کی عظمت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو عزت و بلندی عطا کرتا ہے جو اپنے علم کو نافع (مفید) بناتے ہیں۔ آج ہم مولانا مغیثیؒ کو اسی لیے یاد کر رہے ہیں کیونکہ ان کا علم بھی بلند تھا اور ان کا عمل و کردار بھی بے داغ تھا۔جلسے سے دیگر مقتدر شخصیات نے بھی خطاب کیا اور حضرت کے اوصاف بیان کیے۔مفتی عبدالغفار قاسمی نے مولانا کی بے شمار خوبیوں اور منفرد خصوصیات کا تذکرہ کیا۔مولانا فاروق اعظم حبان رحیمی نے مولانا کے پروقار اور پرکشش اندازِ زندگی کو واضح کیا۔شیخ حبیب الرحمن سلفی نے امت کے لیے مولانا کی فکرمندی اور دردمندانہ اندازِ خطاب کا ذکر کرتے ہوئے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔مولانا شیخ منیر احمد رشادی نے شہر بنگلور، بالخصوص دارالعلوم سبیل الرشاد اور حضرت حکیم الملت امیر شریعت کرناٹک مفتی اشرف علی باقویؒ کے ساتھ مولانا مغیثیؒ کے والہانہ تعلق اور محبت کو یاد کیا۔مولانا ظہیر الدین قادری نے اکابر کی زندگیوں سے سبق حاصل کر کے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی تلقین کی۔جناب عاصم سیٹھ افروز نے مولانا کی چھوٹوں پر شفقت اور ہر ایک کے ساتھ محبت آمیز برتاؤ کا تذکرہ کیا۔مولانا نوشاد عالم قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مولانا عبد اللہ مغیثی صاحب نے اپنے پیچھے نیک اولاد، علم دین کی ترویج اشاعت کے لئے ادارے اور ملت کے درد کا ایک عظیم سرمایہ چھوڑا ہے جو آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہوگا اور آپ کے لئے عظیم سرمایہ ٔآخرت بھی ہے۔اجلاس کا آغاز مولانا قاری امتیاز رشادی کی قرأتِ کلامِ پاک سے ہوا۔آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی معاون جنرل سکریٹری جناب سلیمان خان نے مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا اور خوبصورت انداز میں نظامت کے فرائض انجام دئے۔کونسل کے مرکزی رکن جناب فیاض شریف کے کلماتِ تشکر اور مولانا احمد ثمال کی رقت آمیز دعا پر یہ عظیم الشان اجلاس اختتام پذیر ہوا۔اس موقع پر ملی کونسل کرناٹک کے نائب صدر جناب عبید اللہ شریف، جنرل سکریٹری جناب سید شاہد احمد، معاون جنرل سکریٹری جناب سید مظہر قادری، خازن جناب محمد یوسف، اور ضلع بنگلور ملی کونسل کے صدر مولانا قاری محمد مظفر عمری شریک رہے۔ مزید برآں، ریاستی سکریٹریز مولانا اظہر ندوی، مولانا انیس ندوی، ضلعی خازن جناب نصر اللہ شریف آفتاب سمیت ریاستی و ضلعی اراکین، علماء کرام اور عوامِ ناس کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے محفل کو رونق بخشی۔
Post Views: 65