Skip to content
واٹس ایپ یونیورسٹی:جھوٹ اور پروپیگنڈے کی عالمی درس گاہ
(ایک ایسی عالمی دانش گاہ، جہاں دانش کی ضرورت ہی نہیں)
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
——-
آئیے! آج آپ کو ایک ایسی انوکھی دانش گاہ کی سیر کرواتے ہیں، جس کا نام یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے ریکارڈ میں ہے نہ کسی جغرافیائی نقشے پر۔ جہاں نہ اینٹوں سے بنا کوئی کیمپس ہے اور نہ ہی فیس کی ادائیگی کے لیے لگی طویل قطاریں۔ اس کے باوجود، حیرت انگیز طور پر پچاس کروڑ سے زائد تشنگانِ علم روزانہ یہاں زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں۔ یہاں ، ڈگریوں کی صداقت پر کسی کو شبہہ نہیں ہوتا؛ کیونکہ یہ کسی وائس چانسلر کے قلمی دستخط سے نہیں، بلکہ "براہِ کرم آگے بھیجیں” (Forward) کی ڈیجیٹل مہر سے جاری ہوتی ہیں۔
جی ہاں! خیر مقدم ہے، بھارت کی شہرہ آفاق "واٹس ایپ یونیورسٹی” میں! جہاں ہر فارورڈ پیغام ایک بصیرت افروز لیکچر ہے، ہر خاندانی گروپ ایک الگ فیکلٹی، اور ہر من گھڑت افسانہ ایک مسلمہ تحقیقی مقالہ۔
ابھی پچھلے ہی سال کی بات ہے، اس ڈیجیٹل یونیورسٹی کی ساکھ کو ایک غیر متوقع جھٹکا لگا۔ ہوا یوں کہ سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کے دوران دوٹوک فرما دیا کہ "واٹس ایپ یونیورسٹی کے علم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں”۔ جج صاحبان اپنے زعم میں سمجھے ہوں گے کہ انہوں نے اس پروپیگنڈے کی جڑ کاٹ دی ہے، مگر یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران یعنی اینڈرائیڈ فون کے مالکان نے اس فیصلے کو ایک نئے کورس "عدلیہ کو کیسے نظرانداز کریں” کا افتتاحی لکچر سمجھ کر آگے بڑھا دیا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ عدالت کا یہی ریمارک خود واٹس ایپ کے گروپوں میں سب سے پہلے وائرل ہو کر گردش کر رہا تھا۔
اس درس گاہ کی طاقت اس کا سادہ ہونا ہے۔ یہ ٹی وی اسٹوڈیوز کی طرح چیختی نہیں اور نہ ہی ٹویٹر کی طرح بحثوں میں الجھتی ہے۔ یہ تو آپ کی جیب میں چھپا وہ خاموش منبر ہے جہاں سے آپ کے پھوپھا، پڑوسی یا محلے کے نیتا، بغیر کسی دلیل کے، ایک کلک سے آپ کی سوچ بدل دیتے ہیں۔ اور جب یہ پیغام کسی قریبی رشتے دار کی طرف سے آئے، تو دماغ کا وہ حصہ جسے نفسیات میں”تصدیقی تعصب”کہتے ہیں، فوراً بیدار ہو کر کہتا ہے: "ارے، گھر کے بندے نے بھیجا ہے، بالکل سچ ہوگا!”
اگر آپ سوچتے ہیں کہ یہ محض بے ضرر ٹائم پاس ہے تو ذرا اس یونیورسٹی کے نصاب پر نظر ڈالیے۔ اس میں تین طرح کے کورسز پیش کیے جاتے ہیں۔ پہلا، مس انفارمیشن (Misinformation) یعنی وہ غلط معلومات جو غلطی سے پھیل جائیں، جیسے دعا کی وہ من گھڑت پوسٹ جسے پھیلانے سے ظاہری طور پر جنت میں داخلے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ دوسرا، ڈس انفارمیشن (Disinformation) یعنی وہ زہر جو جان بوجھ کر پھیلایا جائے، جیسے انتخابات سے پہلے کسی امیدوار کے خلاف بنائی گئی جعلی جنسی اسکینڈل کی ویڈیو۔ اور تیسرا، سب سے خطرناک، میل انفارمیشن (Malinformation) جس میں اصلی مواد کو جان بوجھ کر غلط سیاق و سباق میں ڈال کر زہریلا بنایا جاتا ہے، مثلاً 15 سال پرانی کسی فرقہ وارانہ فساد کی فوٹیج کو آج کا بتا کر پیش کرنا تاکہ حالیہ فسادات کا جواز تیار کیا جا سکے۔ واٹس ایپ یونیورسٹی کا کمال یہ ہے کہ وہ یہ تینوں کورسز بیک وقت، مفت، اور بغیر کسی داخلہ امتحان کے کرواتی ہے۔ انفارمیشن ڈس آرڈر کی ماہر کلیئر وارڈل (Claire Wardle) اس پر تبصرہ کرتی ہیں: "ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں معلومات کا ہتھیار بن جانا جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔”
اب آپ پوچھیں گے کہ آخر یہ یونیورسٹی چلتی کیسے ہے؟ اس کا جواب معاشیات کی ایک ایسی شاخ میں پوشیدہ ہے جسے توجہ کی معیشت (attention economy) کہا جاتا ہے۔ یہ معیشت کا وہ ماڈل ہے جس میں آپ کا غصہ، آپ کا خوف، اور آپ کا ٹائم سب کرنسیاں ہیں۔ میٹا (META) نامی کمپنی، جو اس پورے کیمپس کی مالک ہے، کا پورا منافع اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنی دیر تک اسکرین پر جمے رہے۔ 2025 میں اس کمپنی نے 201 ارب ڈالر کمائے اور اس میں سے 196.2 ارب ڈالر یعنی 98 فیصد، صرف اشتہارات سے آئے۔ اور اشتہارات کی قیمت تبھی بڑھتی ہے جب آپ انھیں دیکھیں، اور آپ انھیں دیکھتے تب ہیں جب کوئی سنسنی خیز، غصہ دلانے والی، یا ہوش ربا چیز آپ کو روکے رکھے۔ چنانچہ الگورتھم نامی ڈین نے یہ فارمولا نکال لیا: "جھوٹ جتنا بھیانک ہوگا، پھیلاؤ اتنا ہی تیز ہوگا، اور منافع اتنا ہی زیادہ ہوگا۔”
یہ کوئی سازشی نظریہ نہیں بلکہ خود کمپنی کے سابق ملازمین کی زبانی بیان کردہ حقیقت ہے۔ 2026 میں برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (BBC) کی ایک دستاویزی فلم انسائیڈ دی ریج مشین (Inside the Rage Machine) کے لیے ایک درجن سے زیادہ وسل بلورز (whistleblowers) نے پردہ فاش کیا کہ میٹا اور ٹک ٹاک کے اعلیٰ افسران نے جان بوجھ کر نفرت انگیز مواد کو پھیلنے دیا۔ میٹا کے سینئر محقق میٹ موٹل (Matt Motyl) نے بتایا کہ انسٹاگرام ریلز کو 2020 میں بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے لانچ کیا گیا اور جب ملازمین نے بتایا کہ ریلز پر غنڈہ گردی میں 75 فیصد، نفرت انگیز تقاریر میں 19 فیصد، اور تشدد پر اکسانے میں 7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، تو مینجمنٹ نے کندھے اچکا دیے کیونکہ "اسٹاک کی قیمت پہلے ہی نیچے تھی” اور صارفین کو جوڑے رکھنے کے لیے کچھ بھی کرنا ضروری تھا۔ واٹس ایپ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی معاشی ترجیحات اس سے صاف ظاہر ہوتی ہیں: اخلاقیات کا شعبہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے، جب کہ سنسنی کا شعبہ منافعے کی چوٹی پر۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی؛ یہ درس گاہ صرف لکچر دینے پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ اپنے طلبہ سے عملی مظاہرہ بھی کرواتی ہے۔ اور اس کے پریکٹیکل میں سب سے زیادہ نمبر "ہجومی تشدد” کے مضمون میں ملتے ہیں۔ پچھلے دو سالوں (2025 اور 2026) کے دوران، بچہ چوری کی جھوٹی افواہوں نے 20 بے قصور لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
‘رائٹرز انسٹی ٹیوٹ’ کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2025 بتاتی ہے کہ 53 فیصد بھرتیوں کے نزدیک واٹس ایپ فیک نیوز کا سب سے بڑا گڑھ ہے، اور یہ تعداد دنیا کے 48 ملکوں میں سب سے زیادہ ہے۔ تریپورہ میں تو حالت یہ ہو گئی کہ حکومت کو مجبوراً 48 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ اور واٹس ایپ بلاک کرنا پڑا، یعنی کیمپس پر تالا ہی لٹکا دیا گیا۔ بنگلورو کا وہ واقعہ کون بھول سکتا ہے جہاں ‘400 بچہ چوروں کے گینگ’ کی افواہ نے ایک لاچار مہاجر مزدور کی بلی لے لی۔ ہجوم نے اسے چور سمجھا اور مار مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ ہے اس یونیورسٹی کا وہ ‘فیلڈ ورک’ جہاں داخلہ لینے والے طلبہ ڈگری پانے سے پہلے ہی قاتل بن جاتے ہیں۔
لیکن ٹھہریے! اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے، تو آپ نے اس درس گاہ کا شعبۂ سیاست نہیں دیکھا۔ 2024 کے انتخابات میں بی جے پی نے اس شعبے کو باقاعدہ ایک انتخابی ہتھیار بنا دیا۔ 50 لاکھ سے زیادہ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے روزگار، مہنگائی اور ترقی جیسے بنیادی اور ضروری مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا گیا، اور ووٹرز کو "مذہبی شناخت”، "مستقبل کا خوف” اور "سیاسی وفاداری” کے اسباق رٹائے گئے۔
جب ایک عام شہری معیشت اور حقوق کو بھول کر یہ دیکھنے لگے کہ سامنے والا کس برادری یا مذہب کا ہے، تو یہ اس ڈیجیٹل لیبارٹری کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ان واٹس ایپ گروپس میں ایک جھوٹ کو اتنی بار فارورڈ کیا جاتا ہے کہ وہ سب سے بڑا سچ بن جاتا ہے، اور اگر آپ نے اس پر ذرا سا بھی شک کیا، تو اگلا سوال آپ ہی کی وفاداری اور وطن پرستی پر اٹھا دیا جائے گا۔
یاد رکھیے! ڈیجیٹل جہالت کا یہ شاہکار کوئی خالصتاً بھارتی ایجاد نہیں ہے، بلکہ اس ‘واٹس ایپ یونیورسٹی’ کے کئی بین الاقوامی کیمپس بھی سرگرمِ عمل ہیں، جہاں کے پروفیسر اور ایڈمنز بھی کچھ کم خطرناک نہیں۔
دور دراز برازیل کی مثال لیجیے؛ جہاں سال 2018 کے صدارتی انتخابات کے دوران جائیر بولسونارو (Jair Bolsonaro) کے حامیوں نے واٹس ایپ کو من گھڑت اور جعلی خبروں کی ایک ایسی ہولناک فیکٹری میں تبدیل کر دیا تھا، جسے وہاں کے امیر ترین تاجروں نے کثیر ملین ڈالر کی خفیہ فنڈنگ فراہم کی تھی، اور جس نے پورے برازیلی انتخابی عمل کو زہر آلود کر کے رکھ دیا۔ برازیل کی ‘فیڈرل یونیورسٹی آف ریو ڈی جنیرو’ (Federal University of Rio de Janeiro) کے ‘نیٹ لیب’ (NetLab) سے وابستہ محققین نے اس گھناؤنے کھیل کو "جمہوریت کے خلاف شراکتی گمراہ کن پروپیگنڈے کا مستقل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر” قرار دیا۔
میانمار (برما) میں تو یہ المیہ اس سے بھی کہیں آگے نکل گیا۔ اقوامِ متحدہ کے ‘آزادانہ تحقیقاتی میکنزم’ (Independent Investigative Mechanism for Myanmar) نے سال 2024 کی اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ وہاں کی فوجی آمریت نے 2017 میں روہنگیا مسلمانوں کے لرزہ خیز قتلِ عام سے قبل، فیس بک پر درجنوں جعلی صفحات (Pages) کے ذریعے ایک منظم اور مربوط نفرت انگیزی پھیلائی تھی—بالکل اسی طرح جیسے کسی باقاعدہ یونیورسٹی کا کوئی مخصوص شعبہ کسی نسل کشی کے لیے لٹریچر تیار کرتا ہے۔ بعد ازاں، مظلوم روہنگیا پناہ گزینوں نے فیس بک (Meta) کے خلاف 150 ارب ڈالر کا تاریخی ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا؛ گویا یونیورسٹی انتظامیہ کو ان کے جرائم کے معاوضے کا بل تھما دیا گیا ہو، حالانکہ یہ سوشل میڈیا کمپنیاں ایسے اربوں ڈالر کے ہرجانوں کو محض اپنی ‘آپریشنل لاگت’ (Operational Cost) کا ایک معمولی حصہ سمجھتی ہیں۔
تو کیا اس عظیم الشان، خود ساختہ یونیورسٹی کو ہمیشہ کے لیے مقفل کیا جا سکتا ہے؟ اس سنگین معمے پر بحث کرنے والے اکثر دانشور یا تو ‘ڈیجیٹل خواندگی’ (Digital Literacy) کا راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں، یعنی طلبہ کو پلائے گئے جھوٹ کے نشے کو اتارنے کے لیے سچ کی کڑوی گولیاں کھلانے کی سفارش کرتے ہیں، یا پھر حکومتِ وقت سے یہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس زہریلے ادارے کے خلاف کوئی سخت تادیبی کارروائی کرے۔
لیکن یہاں قانون اور ٹیکنالوجی کا ایک مضحکہ خیز معمہ آڑے آتا ہے: واٹس ایپ دراصل ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ (End-to-End Encryption) کے ایک ایسے ناقابلِ تسخیر لوہے کے دروازے میں بند ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے جلیل القدر پروفیسر صاحبان کے لکچرز کو کوئی بھی تیسرا شخص باہر کھڑا ہو کر سن نہیں سکتا۔ اب اگر حکومت اس بند دروازے کو توڑنے کی ذرا سی بھی کوشش کرے، تو سب سے پہلے ‘پرائیویسی’ (Privacy) کا ایک عالمگیر شور مچ جاتا ہے؛ گویا کسی ایک شخص کے سر کا درد دور کرنے کے لیے اس کا پورا سر ہی قلم کرنے کا مضحکہ خیز نسخہ تجویز کیا جائے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ روایتی صحافت سے وابستہ حضرات بھی اسی کیمپس کے ایک کونے میں اپنی ‘فیکٹ چیکنگ’ (Fact-Checking) کی چھوٹی چھوٹی دکانیں سجا کر بیٹھ گئے ہیں، جو افواہوں کے اس منہ زور سمندر میں سچائی کی چھوٹی چھوٹی کشتیاں چلانے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس یونیورسٹی میں جھوٹ کی رفتار جس تیزی سے وائرل ہوتی ہے، اس کے آگے سچ کی یہ سست رفتار کشتیاں ہمیشہ تاخیر سے ساحل پر پہنچتی ہیں؛ اور جب تک سچائی کا یہ سراغ ملتا ہے، تب تک واٹس ایپ یونیورسٹی کا ‘کانووکیشن’ (Convocation) بھی ہو چکا ہوتا ہے اور معاشرے میں جہالت کی اسناد بھی تقسیم ہو چکی ہوتی ہیں۔
خیر ابھی تو شروعات ہے، آگے کا منظر اور بھی خطرناک ہے۔ بہت جلد مصنوعی ذہانت (AI) سے بنی ایسی آڈیو کلپس آپ کے واٹس ایپ پر آئے گی، جس میں کسی بڑے لیڈر کی بالکل اصلی آواز میں نفرت پھیلانے کی اپیل ہوگی۔ نہ آپ اسے فرضی ثابت کر سکیں گے، نہ ہی کوئی اس کا سراغ لگا پائے گا۔ ڈیجیٹل فرانزک کے بین الاقوامی ماہر اور برکلے یونیورسٹی کے پروفیسر ہانی فرید(Hany Farid)کہتے ہیں: "ہم اس مقام پر آ گئے ہیں جہاں اصلی اور نقلی آواز کا فرق مٹ چکا ہے، اور یہ چیز جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔” تب یہ یونیورسٹی ‘ایڈوانسڈ ڈیپ فیک اسٹڈیز’ میں پی ایچ ڈی کروانے لگے گی اور اس کا الحاق سیدھا AI کی لیبارٹریوں سے ہو جائے گا۔
آخر میں، اس پوری کہانی کا نچوڑ یہی ہے کہ قومیں جھوٹ سے اتنی تباہ نہیں ہوتیں، جتنا اس اندھے یقین سے ہوتی ہیں کہ "گھر کے بندے نے بھیجا ہے تو سچ ہی ہوگا”۔ واٹس ایپ یونیورسٹی نے سکھا دیا ہے کہ جھوٹ اب صرف ایک افواہ نہیں، بلکہ سیاسی فائدے، نوٹوں کی کمائی اور ہجومی غصے کا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔
چنانچہ اگلی بار جب آپ کی جیب میں رکھا فون وائبریٹ ہو اور اس کی اسکرین پر ‘فارورڈڈ’ کا نشان چمک رہا ہو، تو اپنی کالج کی ڈگریوں پر اترانے کے بجائے، ایک لمحے کو اس پیغام کی صداقت پر شک ضرور کر لیجیے۔ کیا معلوم کہ یہ آپ کی عقل و شعور کا اگلا امتحانی پرچہ ہو؟ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی نسل کشیاں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ واٹس ایپ جیسے پروپیگنڈے کے خاموش لٹریچر سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ پیغام آپ کا اگلا امتحانی پرچہ ہے جہاں تاریخ آپ کو دیکھ رہی ہے۔ اس یونیورسٹی میں آپ کا ایک ‘فارورڈ’محض ایک کلک نہیں، بلکہ کسی مجرم کی بندوق کی گولی بن سکتا ہے، جس کا انجام کسی معصوم کی ناگہانی موت بھی ہو سکتی ہے۔
===================
Post Views: 35