Skip to content
صحافت کا زوال یا ترجیحات کا بحران؟
ازقلم : شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
9716518126
shamsaghazrs@gmail.com
موجودہ دور میں جب دنیا تیزی سے اطلاعاتی انقلاب کے زیر اثر بدل رہی ہے، میڈیا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ میڈیا نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہے بلکہ یہ عوامی شعور کی تشکیل، رائے عامہ کی سمت متعین کرنے اور حکومتوں کو جوابدہ بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے اسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ مگر جب یہی ستون کمزور ہونے لگے، یا اپنی اصل ذمہ داریوں سے انحراف کرنے لگے، تو پورا جمہوری ڈھانچہ متزلزل ہو جاتا ہے۔ آج ہم ایک ایسے ہی دور سے گزر رہے ہیں جہاں میڈیا کے کردار، اس کی آزادی اور اس کی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حالیہ دنوں Reporters Without Borders کی جانب سے جاری ہونے والا ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026 خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت کو 157واں مقام حاصل ہوا ہے، جو نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں صحافتی آزادی کو کن چیلنجوں کا سامنا ہے۔ جب ہم اس درجہ بندی کا موازنہ اپنے پڑوسی ممالک سے کرتے ہیں تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ نیپال 87ویں، سری لنکا 134ویں، بھوٹان 150ویں، بنگلہ دیش 152ویں اور پاکستان 153ویں نمبر پر ہیں، جبکہ ہندوستان ان سب سے پیچھے 157ویں مقام پر کھڑا ہے۔ یہ صرف ایک عددی فرق نہیں بلکہ ایک فکری اور عملی بحران کی علامت ہے۔
یہ سوال فطری طور پر ذہن میں آتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا واقعی ہندوستان جیسے بڑے جمہوری ملک میں میڈیا کی آزادی محدود ہو رہی ہے؟ یا یہ صرف ایک بیرونی ادارے کی رائے ہے جسے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس درجہ بندی کو یکسر مسترد کرنا مسئلے سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ اس کے برعکس، ہمیں اس کے اسباب کو سمجھنے اور ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے ہمیں میڈیا کی موجودہ ترجیحات کا جائزہ لینا ہوگا۔ آج کا میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا، بڑی حد تک سنسنی خیزی اور تنازعات پر مبنی خبروں کو ترجیح دیتا ہے۔ ٹی وی ڈیبیٹس کا انداز دیکھ لیجیے، جہاں اکثر بحث کا محور یہ ہوتا ہے کہ کس سیاست دان نے کس کے بارے میں کیا کہا، اور اس پر دوسرا فریق کیا جواب دے رہا ہے۔ ان مباحثوں میں نہ تو سنجیدہ دلائل ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ ایک شور شرابے کا منظر پیش کرتے ہیں، جہاں ہر کوئی اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہمارا بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا میڈیا کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ صرف بیانات کا تبادلہ دکھائے؟ اگر ہم دیانتداری سے جواب دیں تو کہنا پڑے گا کہ بڑی حد تک ایسا ہی ہو رہا ہے۔ عوامی مسائل جیسے بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت، کسانوں کے مسائل اور مزدوروں کی مشکلات میڈیا کی ترجیحات میں ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر کبھی ان موضوعات پر بات بھی ہوتی ہے تو وہ عارضی اور سطحی ہوتی ہے، جس میں نہ تو گہرائی ہوتی ہے اور نہ ہی تسلسل۔
بے روزگاری کا مسئلہ لیجیے، جو آج کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب روزگار سے محروم ہیں۔ مگر میڈیا میں اس پر مستقل اور سنجیدہ بحث کا فقدان ہے۔ اس کے برعکس، سیاسی بیان بازی کو گھنٹوں نشر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مہنگائی، جس نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، میڈیا میں محض ایک وقتی خبر بن کر رہ جاتی ہے۔ نہ تو اس کے اسباب پر تفصیلی تجزیہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے حل پر کوئی بامعنی گفتگو ہوتی ہے۔
اس صورتحال کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم وجہ ریٹنگ (ٹی آر پی) کی دوڑ ہے۔ میڈیا ہاؤسز اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ کون سی خبر زیادہ دیکھی جائے گی اور کس سے زیادہ ناظرین حاصل ہوں گے۔ سنسنی خیز اور تنازعہ پر مبنی خبریں ناظرین کو زیادہ متوجہ کرتی ہیں، اس لیے انہیں بار بار نشر کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں صحافت کی بنیادی اقدار قربان ہو جاتی ہیں۔
دوسری بڑی وجہ میڈیا پر بڑھتا ہوا سیاسی اور کارپوریٹ دباؤ ہے۔ کئی میڈیا ادارے براہ راست یا بالواسطہ طور پر طاقتور حلقوں کے زیر اثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایسے موضوعات کو اٹھانے سے گریز کرتے ہیں جو ان کے مفادات کے خلاف ہوں۔ نتیجتاً، میڈیا ایک آزاد اور خودمختار ادارہ بننے کے بجائے ایک مخصوص بیانیہ پیش کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر اس صورتحال کو جنم دیتے ہیں جس کا عکس ہمیں عالمی درجہ بندی میں نظر آتا ہے۔ 157واں مقام صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ اگر میڈیا آزاد نہیں ہوگا، یا اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کرے گا، تو جمہوریت کمزور پڑ جائے گی۔
اس کے اثرات صرف میڈیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ جب عوام کو صحیح اور مکمل معلومات نہیں ملتیں تو ان کی رائے بھی متاثر ہوتی ہے۔ وہ ایسے فیصلے کرتے ہیں جو شاید مکمل معلومات کی بنیاد پر نہ ہوں۔ اس طرح جمہوریت کا بنیادی اصول، یعنی باخبر عوام، کمزور ہو جاتا ہے۔
تاہم، اس تاریک منظرنامے میں کچھ مثبت پہلو بھی موجود ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا نے کسی حد تک متبادل پلیٹ فارم فراہم کیے ہیں جہاں آزاد صحافی اور شہری رپورٹرز اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ کئی ایسے معاملات جو مرکزی میڈیا میں جگہ نہیں پاتے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔ مگر یہاں بھی احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور افواہوں کا پھیلاؤ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
لہٰذا، حل صرف میڈیا پر تنقید کرنے میں نہیں بلکہ ایک جامع اصلاحی عمل میں ہے۔ سب سے پہلے میڈیا اداروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا اصل کام عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور سچائی کو سامنے لانا ہے، نہ کہ صرف سنسنی خیزی پیدا کرنا۔ اس کے لیے ادارتی پالیسیوں میں تبدیلی، صحافیوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔
ساتھ ہی، حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ میڈیا کی آزادی کا احترام کریں اور ایسے قوانین اور اقدامات سے گریز کریں جو صحافت کو محدود کرتے ہوں۔ ایک آزاد میڈیا ہی حکومت کے لیے آئینہ ثابت ہوتا ہے، جو اس کی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور اسے بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
عوام کا کردار بھی اس پورے عمل میں انتہائی اہم ہے۔ جب تک ناظرین اور قارئین سنجیدہ اور معیاری صحافت کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک میڈیا بھی اپنی ترجیحات
تبدیل نہیں کرے گا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کیا دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں: سنسنی خیز بیانات یا حقیقی مسائل پر مبنی تجزیہ؟۔
ہندوستان کی 157ویں درجہ بندی کو ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ایک ایسا موقع جو ہمیں اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انہیں درست کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی ترجیحات کو درست کریں، تو ہم نہ صرف اپنی درجہ بندی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، باخبر اور متوازن جمہوری معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔
یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ یہ وقت یہ طے کرنے کا ہے کہ میڈیا کا اصل کردار کیا ہونا چاہیے۔ کیا وہ صرف بیانات کی جنگ دکھانے والا ایک پلیٹ فارم ہوگا، یا عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو دنیا کے سامنے لائے گا؟ اس سوال کا جواب ہی ہمارے مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔
Post Views: 27