Skip to content
امریکہ کاوہ خطرناک خواب جو اس کی آنکھوں کا کانٹا بن گیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امام خمینی کا سب سے مشہور نعرہ ’مرگ امریکہ اور مرگ بر اسرائیل‘ تھایعنی امریکہ و اسرائیل مردہ باد ۔ یہ بہت سارے ممالک کے دل کی آواز تھی مگر وہ بیچارے اسے لگانے کی ہمت نہ کرتے تھے ۔ اس معاملہ جرأت مندی کے مظاہرے نے امریکہ سمیت اسرائیل کے ہوش اڑا دئیے ۔ امام خمینی کے دوسرے نعرہ ’لاشرقیہ لا غربیہ نے ‘ نے سوویت یونین اور انریکہ کو اس کے خلاف صف آرا ہونے پر مجبور کردیا۔اس وقت اسرائیل و امریکہ کاقلعہ قمع کرنے کا جو خواب دیکھا گیا تھا وہ اس جنگ میں جزوی طور پر سہی شرمندۂ تعبیر ہوگیا ۔ ایرانی خواب کے تعبیر کی ابتداء تو اسرائیل کے خاتمہ سے ہوتی ہے مگر اس کا اصل ہدف اسرائیل کا سرپرستِ اعلیٰ امریکہ ہے۔ ویسے امریکی بھی ایک خطرناک خواب سجائے بیٹھے ہیں جس اظہار ایران امریکہ جنگ سے قبل جرمنی کے شہر میونخ میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ببانگ دہل کیا۔ موصوف نے 14 فروری 2026 کو ایک ایسی تقریر کی جو اپنی پالیسی تجاویز سے زیادہ امریکی اشرافیہ کے ارادوں کا بے پردہ اعتراف ہے۔ ناٹو کے دفاعی اخراجات کا جائزہ لینے کے بجائے مغرب کے تہذیبی غلبے کے ان پانچ صدیوں میں ہونے والے زوال کی نوحہ خوانی کرنے بیٹھ گئے۔
مارکو روبیو اس غلبے کا ذکر فرما رہے تھے جو کولمبس سے شروع ہوا مگر ان کے مطابق 1945 کے ملبے یعنی دوسری جنگ عظیم میں دب گیا ۔ روبیو کے الفاظ میں ’’پانچ صدیوں تک، دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے پہلے، مغرب پھیلتا رہا — اس کے مبلغین، اس کے زائرین، اس کے فوجی، اس کے مہم جو اس کے ساحلوں سے نکل کر سمندروں کو عبور کرتے، نئے براعظموں میں آباد ہوتے، اور پوری دنیا میں پھیلی ہوئی وسیع سلطنتیں تعمیر کرتے رہےلیکن 1945 میں، کولمبس کے دور کے بعد پہلی بار، یہ سکڑنا شروع ہوا۔‘‘انہوں نے اس زوال کے ذمہ داروں کی بھی کھل کر نشاندہی کی اور بولے اس کے لیے ’’بے خدا کمیونسٹ انقلابات اور نوآبادیاتی نظام مخالف بغاوتیں مجرم ہیں ۔ انہوں نے دنیا کو بدل دیا اور نقشے کے وسیع حصوں پر سرخ ہتھوڑا اور درانتی لہرا دی۔ ‘‘ روبیو کے مطابق مغربی اعتماد، علاقے اور اخلاقی خود اعتمادی کا سمٹ جانا محض ایک جغرافیائی سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی سکڑاؤ تھا ۔
یہی بات صدر ٹرمپ بھی نہایت واضح انداز میں کہتے رہے ہیں۔ اپنی تقاریر اور بیانات میں وہ بارہا امریکہ کو ایسی قوم کے طور پر پیش کر تے ہیں جو’’اس زمین کے چہرے پر موجود سب سے غالب تہذیب” بننے کے لیے مقدر ہے۔ انجیلی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ چین کو ایک روحانی حریف کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مذہبی پہلو یہاں محض آرائش نہیں بلکہ نظریاتی بنیاد ہے۔ وہ چین کو ’’مشرق سے آنے والے بادشاہوں‘‘ کے آخری زمانے کے اتحاد کا حصہ قرار دیتے ہوئے روبیو نےمیونخ کی تقریرمیں ’’خدا پر ایمان‘‘،”مسیحی عقیدہ ”، اور بحرِ اوقیانوس کے پار لائی گئی ’’مقدس میراث‘‘ کے بار بار حوالہ تھا۔یہ دراصل ایک نظریۂ حیات کو سفارتی زبان میں منتقل کرنے کی کوشش تھی ۔ اس کا نتیجہ اس لیے تشویشناک ہے کیونکہ امریکہ یک قطبی نظام کے زوال کو مغرب کا تہذیبی زوال کہتا ہے جسے کمیونزم اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمے نے جنم دیا۔ مادی طاقت کی منتقلی کے طور پروہ حکمتِ عملی میں لچک کے لیے تو تیار ہے مگر اسٹریٹجک پسپائی قبول کرنے پر راضی نہیں ہے۔ان دونوں محاذوں پر ردِعمل مفاہمت نہیں بلکہ مزاحمت اور کشمکش ہے۔ ایران کی جنگ اسی کا شاخسانہ ہے۔
مارکو روبیو چونکہ یوروپی ممالک کے سربراہان مملکت سے خطاب فرما رہے تھے اس لیے انہوں نے یورپی رہنماوں کو احساس دلانے کی سعی کی کہ وہ ایک بڑے تہذیبی منصوبے کے “پیادہ سپاہی” ہیں۔ 2025 کی نیشنل سیکیورٹی سمِٹ میں واضح طور پر محاصرے کی خطرناک، مہنگی، اور سیاسی طور پر نقصان دہ ذمہ داریاں دوسروں کے سر منتقل کرتے ہوے، واشنگٹن نے ویٹو کا اختیار اور اعلیٰ درجے کے وسائل مثلاًمصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور میزائل دفاع اپنے پاس رکھنے کا عندیہ دیا ۔ یہ دراصل زوال کو تسلیم کیے بغیر یہ بالواسطہ بالادستی ہے قائم کرنے یا رکھنے کی شعوری حکمتِ عملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی پارلیمان کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کی سربراہ ماری آگنس اشٹراک- سمرمان نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں کی گئی تقریر کو ’’یورپ کے نام زہریلا محبت نامہ‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق روبیو کے خطاب میں تعاون سے زیادہ دوریاں نمایاں تھیں۔اشٹراک- سمرمان نے کہا کہ روبیو نے کانفرنس میں نرم لہجے کااستعمال ضرور کیا، لیکن ان کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہی رہا کہ ’’یورپ اپنا کام کرے اور امریکہ اپنا۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ روبیو کی تقریر میں نیٹو کے آرٹیکل پانچ، جمہوری اقدار اور یوکرین کے بارے میں واضح پوزیشن جیسے موضوعات کا فقدان تھا۔ موصوفہ نے روبیو کے میونخ کے بعد ہنگری اور سلوواکیہ کے دورے کو بھی ’’نیشنلسٹ یا قوم پرست قوتوں کے لیے اشارہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’قوم پرستی کا یہی زہر یورپ کو تقسیم کرتا ہے‘‘۔ قوم پرستی کے حوالےسے علامہ اقبال نے جو بات برسوں پہلے کہی تھی وہ یوروپ کی سمجھ میں اب آرہی ہے؎
اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے
تسخير ہے مقصود تجارت تو اسي سے
خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ روبیو کے مطابق فوجیں ’’مجرد تصورات کے لیے نہیں لڑتیں… وہ ایک طرزِ زندگی کے لیے لڑتی ہیں۔‘‘ یعنی معاملہ صرف وسائل پر غاصبانہ قبضے تک محدود نہیں ہے بلکہ جنگ اصل ہدف اپنا طرز حیات ایران پر تھوپنا ہے۔ یہ امریکہ کی ضرورت ہے کیونکہ ایران جس اسلامی طرز زندگی کی علامت ہے وہ مغرب کوتیزی سے اپنا گرویدہ کرتا جارہا ہے۔ ٹرمپ اور روبیو کے جس بیانیے مسیحی طرزِ زندگی کا ذکر ہے وہ اسلامی طرزِ حیات سے متصام ہے ۔اس کا اعتراف ’’تہذیبی تصادم ‘‘میں سیموئل فلپس ہٹنگٹن نے اپنی معروف تصنیف میں کیا تھا۔ اس کی ابتدا ویسے تو صلیبی جنگوں سے ہوئی تھی مگر عصرِ حاضر میں اسے کولمبس نے امریکہ میں شروع کیا تھا اور جسے یورپ اور امریکہ نے مل کر پوری دنیا تک پھیلایا تھا۔ اس نظریۂ حیات میں نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ محکوم اقوام کی جائز خودمختاری کا اظہار نہیں تھا؛ بلکہ خدا کے عطا کردہ فطری نظام پر لگایا گیا زخم تھا۔ چنانچہ مغرب کی تجدید منطقی طور پر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ 1945 کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کے خلاف ایک نئی نظریاتی، اور جہاں ضروری ہو مادی، مزاحمت کی جائے۔
روبیو کہتے ہیں کہ وہ خواب اب بھی زندہ ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے پر عزم ہیں ۔ کولمبس کےزمانے میں مغرب کی فوجیں صلیب، تاج اور تجارت کے امتزاج سے دوسری اقوام کو اپنا غلام بنایا کرتے تھے ۔ اب چونکہ شعوری طور پر اکیسویں صدی کی نوآبادیاتی حکمتِ عملی کے نظریاتی ڈھانچے کو مبلغین اور فاتحین ایمان اور پرچم کے بجائے ٹیرف، ٹیکنالوجی تک رسائی پر پابندیاں، اتحادی دباؤ، اور ’’یہودی-مسیحی تہذیب‘‘ کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہےتاکہ مغربی بالادستی بحال کی جائے ۔ اسی لیے ایران میں جنوری کے فسادات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایرانی ریال کی باقی ماندہ کمر توڑنے کے لیے ڈالر کا قحط پیدا کیا گیا تاکہ ایرانی کرنسی کی نرخ کھائی میں گرنے کے نتیجے میں عوام بے چین ہو کر باہر نکل آئیں گے ۔ کردستان کے راستے اسلحہ، سٹار لنک کمیونیکیشن ڈیوائسز اور ماسٹر ٹرینرز ایران بھیجنے کی کوشش ہوتی ہے۔
ایران کا ایک معمولی احتجاج راتوں رات یونہی سو سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل کر تھانوں، سرکاری املاک اور اہلکاروں کو بطورِ خاص مسلح افراد نشانہ بنانے نہیں لگا۔ ان کا خیال تھا کہ ملاؤں کا تختہ الٹنے کے لیے رضا شاہ پہلوی، نیتن یاہو اور ٹرمپ کھل کر امداد کی یقین دہانی کرارہے تھے ۔ اس دباو میں آکر ایرانی حکومت کو انٹرنیٹ بند کردینا پڑتا ہے۔ اس لیے میونخ کی تقریر محض انتباہ نہیں تھی۔ یہ ایک ارادے کا اعلان تھا۔ عالمی اکثریت کو اس کا جواب صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنی تہذیبی وقار اور اسٹریٹجک خودمختاری کے صبر آزما، منظم اظہار سے دینا چاہیے۔ مغرب کے منظم زوال کا دور لازماً مغرب کی نئی جنگوں کا دور نہیں بننا چاہیے۔ ایران نے اس چیلنج کا جواب کمال چابک دستی سے دیا ۔ اس کی 75؍ سالہ تاریخ کا احاطہ کسی ایک مضمون میں ممکن نہیں ہے مگراس جنگ سے پہلے تین ماہ کے اندر جو مکڑی کا جال بناگیا اس پر غائر نظر یوروپ کی دوغلی سیاست کو بے نقاب کرتا ہے۔ مغرب کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ خود کو جانوروں کا بہت بڑا دوست بتاتے ہیں ۔ کتوں سے تو بچوں سے زیادہ جان چھڑکتے ہیں لیکن جب کسی کو گولی مارنا ہوتو میڈیا کی مدد سے اسے پاگل مشہور کردیتے ہیں تاکہ گولی سے بھول دینا حق بجانب ہوجائے۔ ہندوستان کے سبزی خور تو بھیڑ کو بھی پہلے کتا بناکر پیش کرتے ہیں اور پھر پاگل قرار دے کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ۔
Post Views: 61