Skip to content
حقیقی مومن کے پانچ صفات
قرآن مجید کی روشنی میں
ازقلم: عبدالعزیز
فرمان خداوندی ہے:
’’سچے اہل ایمان تو و ہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکرسن کر لرز جاتے ہیں اورجب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں توان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اوروہ جو اپنے رب پراعتمادرکھتے ہیں، جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیاہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے ر ب کے پاس بڑے درجے ہیں،قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے‘‘۔(سورۃ الانفال۔ آیت:۴-۲)
قانونی زبان میں ہروہ شخص مومن ہے جو ان باتوں کازبان اقرار کرتاہے جن کاماننا ایمان لانے کے لئے ضروری ہے۔ جب تک کوئی آدمی ایمانیات میں سے کسی بات کاانکار نہیں کرتاقانونی زبان میںاسے مومن ہی سمجھاجاتاہے۔ لیکن حقیقی معنوںمیں صرف زبانی اقرار سے کام نہیں چلتا اسکے لئے دل و نگاہ کامومن ہونا بھی ضروری ہے۔زبان سے کہہ دیالاالہ تو کیاحاصل، قلب و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
پہلی صفت خشیت الٰہی:اس لئے پیش نظر آیت کریمہ میں حقیقی مومن کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں جن میںپہلی صفت ’’خشیت الٰہی‘‘ ہے جب ان کے سامنے اللہ کاذکر کیاجائے تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں، دلوں میںکپکپی طاری ہوجاتی ہے ، کھالیں ان کی پھڑپھڑانے لگتی ہیں، جسم سکڑنے لگتاہے، رنگ اڑجاتاہے، اللہ کی کبریائی اس کی قدرتوں کی بے پناہی اوراس کی جلالتِ قدر کاتصور کرکے دل پگھلنے لگتاہے، کبھی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اورکبھی دل کے احساسات آہوں کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں، راتوں کی نیند اچاٹ ہوجاتی ہے اورآہ سحرگاہی زندگی کامعمول بن جاتی ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ کسی بھی مومن کے سامنے آتاہے وہ فوراً سوچنے لگتاہے کہ اس سے متعلق میرے اللہ کاحکم کیاہے اوراگرکسی گوشے سے اس کی مخالفت سراٹھاتی ہے تو اس کادل چیخ اٹھتا ہے کہ خداوند ذوالجلال کی مخالفت بھی کی جاسکتی ہے؟جس کے جلال سے زمین کانپتی اور سمندر نایاب ہوجاتے ہیں جس کے غضب سے قوموں کاتختہ الٹ دیاجاتاہے۔ جس کی برہمی سے انسانوں پرپتھر برستے ہیں۔ کیااس کی نافرمانی اس آدمی سے ممکن ہے جسے واقعی اللہ کی کبریائی کا شعور حاصل ہے؟ آدمی گناہ پر دلیراسی وقت ہوتاہے جب وہ اللہ سے غافل ہوتاہے اوراس کے دل میںاللہ کے سوا غیراللہ کی حکومت یامحبت ہوتی ہے لیکن وہ شخص جسے اللہ کی کبریائی کاتصور حاصل ہے۔ وہ تو اپنے رب کی بڑائی، عظمت اورشان کا تصورکرکے کانپنے لگتاہے۔
حضرت حسنؓ کو کسی نے دیکھاکہ جب وہ نمازکے لئے وضوکرنے لگتے ہیں توان کارنگ اڑ نے لگتاہے اور جب وہ وضو کرکے نماز کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو رنگ ان کا پیلاپڑ جاتاہے۔ پوچھا کہ اس کاسبب کیاہے؟فرمایا: جب میں یہ سوچتاہوںکہ اپنے رب کے سامنے پیشی کے لئے جارہا ہوںتو اس کی عظمت کاتصور کرکے میرادل بے قابو ہوجاتاہے اورمیں سہم سہم جاتاہوں۔
دوسری صفت ایمان میںترقی:ایسے شخص کے سامنے جب قرآن کریم کی آیات اوراللہ کے احکام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو چونکہ اس کادل اللہ کے تصور اوراس کی محبت سے آباد ہوچکا ہے اوراس کی نافرمانی کے خوف سے دل دہل اٹھتاہے تووہ ان احکام کو سن کر لپکتا ہوا اس کی طرف بڑھتاہے اوراس میں دوسری صفت پیداہوجاتی ہے، وہ ہے ’’ایمان میںترقی‘‘ یعنی اس کے دل کی وہ کیفیت جو ایمان کانتیجہ ہے اس میں پہلے سے اضافہ ہوجاتاہے ۔ ایمان اگرایک پودا ہے تواس کے احکام اس کے برگ و بار ہیں۔ ایمان کاپودا جب برگ و بار نکالنے لگتاہے تو اس کامالک اوراس کاکاشت کار یقینا خوشی سے جھوم اٹھتاہے اوروہ اپنی فصل کو لہلہاتا ہوا دیکھ کرشادمان ہوجاتاہے۔
اللہ کی آیات کی حیثیت اللہ کے پیغاموں کی ہے۔ جو دل اللہ کی محبت سے سرشار ہے وہ جب اس کی آیات کوسنتاہے تو محسوس کرتاہے کہ میرے محبوب کاپیغام میرے نام آیا ہے۔ دنیا میںکون ساایسا محب ہے جو محبوب کے پیغام کو پاکرخوشی سے دیوانہ نہیںہوجاتا۔ ایک عاشق صادق کے لئے محبوب کا تصور ہی فرحت بخش ہوتاہے اسی تصور کے سہارے اس کی زندگی گزرتی ہے ، محبوب کامعمولی التفات اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھردیتاہے اوراگرکہیں محبوب کاکوئی سندیسہ یاکوئی محبت نامہ اسے وصول ہوجائے تو کوئی شخص اندازہ نہیں کرسکتا کہ اس کی دارفتگی کاعالم کیاہوگا۔ یہی کیفیت اس مومن کی ہے جو صرف اپنے اللہ سے لولگاچکا ہو۔
تیسری صفت توکل علی اللہ:اللہ کی محبت تصور جانا کی مانند نہیں کہ عاشق اس تصور کو لئے بیٹھا رہے بلکہ اس کی محبت زندگی کا ایک پیغام ہے۔ زندگی کاایک ضابطہ ہے، باطل کے خلاف ایک کشمکش ہے، ہر غلط بات کے خلاف ایک جہاد ہے ، ایک ایسا جہاد جس میںزندگی کے تمام وسائل جھونکنے پڑتے ہیں، ایک ایسی کشمکش جس میںبعض دفعہ ہرسہارا ٹوٹنے لگتاہے، ارادے جواب دینے لگتے ہیں، ایسے موقع پربھی مومن کبھی ہراساں اورسراسیمہ نہیں ہوتا کیوں کہ وہ اپنے رب کے سواکسی اورپر بھروسہ نہیں کرتا۔وہ جانتاہے کہ باقی ذرائع اوروسائل میری ضرورت ہیں مجھے انہیںفراہم کرناچاہئے، لیکن اگرکبھی وسائل جواب دے جائیںیانایاب ہوجائیںاور مقصد برابر پکارہاہو تو پھرایک مومن کے لئے اللہ پر بھروسہ ایک ایسی قوت بن جاتاہے جس کی موجودگی میںوہ کبھی مضمحل نہیں ہوتا۔ اگرکوئی بدوی برہنہ تلوار لے کرآنحضر ت ﷺ سے پوچھتا ہے کہ بتا اب تجھے مجھ سے کون بچاسکتاہے؟ تو اللہ پربھروسے کا یہ سب سے عظیم پیکر اوراسوۂ حسنہ بڑے اطمینان سے فرماتاہے ’’ اللہ‘‘۔ بدوی اس سے اس قدر مرعوب ہوتاہے کہ تلواراس کے ہاتھ سے گرجاتی ہے ۔ ایک مومن بلاوجہ کبھی خطرات میں داخل نہیںہوتا۔ لیکن جب خطرات میںداخل ہونا اعلائے کلمۃ الحق کے لئے ضروری ہوجائے یااللہ اور اس کے دین کی عزت وحرمت کی بقا کے لئے ضرورت بن جائے توپھر وہ بے خطر اس آگ میں کودجاتاہے کیوں کہ وہ جانتاہے کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے اورمجھے صرف اسی پربھروسہ کرناہے کیو ں کہ :
’کافر ہے تو شمشیر پر کرتاہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتاہے سپاہی‘
کافر وسائل جنگ پربھروسہ کرتاہے اورمومن اللہ پربھروسہ کرتاہے۔ وسائل کی فراہمی کے لئے ہرممکن کوشش کرتاہے لیکن ان پربھروسہ نہیں کرتا۔ وسائل ہوں توبھی اس کا بھروسہ اللہ ہی پرہوتاہے۔
چوتھی صفت اقامت صلٰوۃ:وہ مومن جس کے ایمان کااللہ کے یہاںاعتبار ہے اس کی ایک صفت ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ بھی ہے۔ یہ مستقل ایک صفت بھی ہے اورباقی صفات صفات کامقدمہ اورتمہید بھی۔ مومن کی جو صفت بھی مندرجہ بالا صفات میںسے وجود میںآتی ہے اس کا دار ومدار اقامت صلوٰۃ پر ہے۔ اقامت صلوٰۃ سے مراد صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ نماز کی اقامت ہے۔اقامت کے لفظی معنی’’کسی چیز کو سیدھا کرنے‘‘ کے ہوتے ہیں۔ مراداس سے یہ ہے کہ نمازپورے آداب اورشرائط کے ساتھ اس طرح بجالائی جائے جس طرح نبی کریم ﷺ فرماتے تھے ۔آپ کے عمل سے ہمیں نماز کے جن آداب وشرائط کاعلم ہواہے ان کی پابندی کے بغیراقامت صلوٰۃ کامفہوم وجود میں نہیں آتا۔اسی طرح قرآن وسنت میںنمازکے جو فوائد، آثار اوربرکات ذکر فرمائی گئی ہیں اگرنماز کی پابندی سے ان کاظہور نہیں ہوتا تو اس کامطلب یہ ہے کہ اقامت صلوٰۃ میںکمی ہے۔فقہی نگاہ سے تو اوقات مخصوصہ میں چند مخصوص اعمال کابجالانا نماز کہلاتاہے اورایسا کرنے والا نمازی کہلائے گا لیکن حقیقی نماز جس کی اقامت کاحکم دیاگیاہے اس کا تحقق اسی وقت ہوگاجب اس کے آثار اور فوائد نظر آئیںگے۔ مثلاً قرآن کریم کہتاہے :
ان الصلوٰۃ تنھیٰ عن الفحشاء والمنکر (بے شک نماز بے حیائی اورہر گناہ سے روکتی ہے)
اگرکوئی شخص نمازپڑھتاہے اورساتھ بے حیائی اورمنکرات کاارتکاب بھی کرتاہے تواس نے اقامت صلوٰۃ نہیںکی محض نمازکی مشق کی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میںفرمایاگیا۔ اقم الصلٰوۃ لذکری(میری یاد کے لئے نمازقائم کرو) اگرکوئی شخص نمازی ہونے کے باوجوداللہ کی یادسے غافل ہے جب وہ گناہ کرنے لگتاہے اسے اللہ کی یاد نہیں آتی۔ جب وہ ظلم کرنے لگتاہے تو اللہ کے خوف سے اس کاہاتھ نہیں کانپتا، جب وہ بے حیائی کاارتکاب کرتاہے تواسے اللہ سے شرم نہیں آتی۔ تواس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نماز محض فارمیلیٹی (رسمی)ہے حقیقت سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔ حقیقی نماز وہ ہے جوقرآن کریم کے بیان کردہ آثار و نتائج کی حامل ہو، یہی وہ نماز ہے جسے ’’رأس الصفات‘‘ کہاگیا ہے۔ پانچ وقت ایسی نمازکی ادائیگی نماز ی میں ان صفات کو پیداکرتی ہے جو ایمان کاتقاضاہیں اوراس سے وہ اسلامی زندگی وجود میں آتی ہے جیسی زندگی ایک مومن کی ہونی چاہئے۔
Mob:9831439068 E-mail:azizabdul03@gmail.com
Post Views: 37