Skip to content
فارغین مدارس عصری تعلیم کی طرف بھی توجہ دیں: مولانا خالد سیف رحمانی
المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں مدارس اور جدید تعلیم پر دو روزہ قومی سیمینار

اس وقت مدارس میں بڑی ضرورت ہے کہ طلبہ اسلامی علوم کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تاکہ وہ موجودہ فتنوں کا مقابلہ کرسکیں، اس کے ساتھ ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ فارغین مدارس کا معاصر مضامین سے واقف ہوں، ہمارے یہاں المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں ابھی زیر تعلیم طلبہ میں تقریباً بیس فیصد طلبہ نے میٹرک، پلس ٹو یا گریجویشن کر رکھا ہے، مدارس کے اصول وضوابط کا لحاظ کرتے ہوئے عصری تعلیم کے لیے ممکنہ شکلیں نکالنا وقت کا تقاضا ہے، ان خیالات کا اظہار فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا (دہلی) کے زیر اہتمام اور المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے اشتراک عمل سے 16- 17 مئی 2026ء کو "مدارس اسلامیہ: دینی و عصری علوم کا امتزاج اور جدید تعلیمی پالیسی” کے عنوان پر منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایسے اسلامک اسکول قائم کرنا جہاں مدارس کے لازمی مضامین بھی ضم کرلئے جائیں بہت سے مسائل کا حل پیش کر پائے گا، ورنہ ہم ملک میں اجنبی ہوتے جائیں گے، اس سیمینار میں معہد کے مؤقر اساتذہ، فضلاء اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر چار مقالات پیش کیے گئے، سب سے پہلے مولانا محمد عمر عابدین قاسمی مدنی نائب ناظم المعہد نے "قومی تعلیمی پالیسی اور مدارس” پر گفتگو کرتے ہوئے موجودہ تعلیمی پالیسی کے مدارس پر ممکنہ سنگین اثرات، کچھ مثبت مواقع اور چیلنجز کا تجزیہ پیش کیا اور مدارس کو قانونی، نصابی اور تکنیکی سطح پر مضبوط ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسرے مقالہ نگار تھے علمی دنیا کے معروف اسکالر پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی سابق صدر واستاذ شعبۂ اسلامیات، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، جنہوں نے "مدارس میں عصری علوم کا امتزاج: شرعی اور فکری بنیادیں” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام میں علم کی بنیاد انسانیت کی نافعیت پر رکھی گئی ہے؛ اس لیے مدارس کو دینی علوم کی مرکزیت برقرار رکھتے ہوئے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہوگیا، مدارس میں تعلیمی دورانیہ اور سرٹیفکیٹ کے ناموں میں یکسانیت کی ضرورت ہے۔

دوسری نشست میں پہلا پریزنٹیشن میر محمود علی صاحب کا تھا، جس کا عنوان تھا "طلبہ مدارس کے لیے کیریئر گائیڈنس اور اسکل ڈیولپمنٹ”، انہوں نے طلبہ کو انگریزی، ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن اسکلز اور لیڈرشپ جیسی مہارتوں سے آراستہ ہونے کی تلقین کی۔
آخری مقالہ مولانا مفتی شاہد علی قاسمی معتمد تعلیم المعہد نے "مدارس کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل” کے عنوان سے پیش کیا جس میں انہوں نے داخلی انتظام وانصرام، مالی شفافیت، تدریسی معیار اور سماجی رابطوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، اور طلبۂ مدارس کو شرعی علوم میں مہارت کے ساتھ پیشہ ورانہ مہارتوں سے واقف ہونے کی بھی تلقین کی۔

سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس اگر اپنی دینی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے عصری شعور اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ مستقبل میں ملت کی مؤثر قیادت کر سکتے ہیں۔
سیمینار کی پہلی نشست کی صدارت حضرت مولانا رحمانی نے فرمائی جب کہ دوسری نشست کی صدارت حضرت مولانا مفتی اشرف علی قاسمی استاذ تفسیر وفقہ اسلامی المعہد نے کی، پہلی نشست کی نظامت ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی معتمد شعبۂ ثقافت نے کی، اور موضوعات کا جامع تعارف پیش کیا، جب کہ تلاوت مولوی ملحان متعلم معہد نے کی، دوسری نشست کی نظامت مولانا محمد ارشد قاسمی استاذ معہد نے کی جب کہ تلاوت کی سعادت مولوی امام الدین نے حاصل کی۔
Post Views: 235