Skip to content
فتنوں کے دور میں صحابہ کرام سے سچی عقیدت و محبت رکھنا
اور معیار حق سمجھنا ہی ہدایت یافتہ ہونے کی دلیل
مشیر آباد میں ایک روزہ تفہیم ختم نبوت ورکشاپ،
مولانا محمد عبدالقوی مولانا ارشد علی قاسمی اور دیگر علماء کے خطابات
حیدرآباد،19مئی(پریس نوٹ)
پریس نوٹ : مسجد حمزہ مشیر آباد میں ریاستی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ وآندھراپردیش کے زیر اہتمام مقامی یونٹ مجلس تحفظ ختم نبوت حلق مشیر آباد کی جانب سے ایک روزہ تفہیم ختم نبوت ورکشاپ منعقد ہوا ،اس میں اسلام کے بنیادی عقائد اور موجودہ دور کے گمراہ و باطل فتنوں سے متعلق عنوانات پر علماء کرام کے تربیتی خطابات ہوئے، اس موقع پر مولانا محمد عبدالقوی خازن مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا : ایک مسلمان کو جب اپنا صحیح عقیدہ معلوم نہ ہو تو وہ غلط اور گمراہ عقیدہ کو قبول کر لیتا ہے، اس لیے ہم اپنے نوجوانوں کو اسلام کی بنیادی عقیدوں کے بارے میں بتاتے اور سمجھاتے رہیں ،گمراہ اور باطل فتنوں سے بھی ہمیں قبل از وقت معلومات ہونی چاہیے، تاکہ ہم پہلے سے ہوشیار و چوکنا رہیں ،مولانا نے کہا: نبوت و رسالت کے بعد سب سے بڑا مقام و مرتبہ صحابیت کے شرف و اعجاز کا ہے ، ایک صحابی پر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی انوار و برکات والی نظر پڑ جانے کے بعد انھیں جو مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے،
ایسا مقام و مرتبہ 10 ہزار سال عبادت اور ریاضت کے بعد بھی کسی غیر صحابی کو حاصل نہیں ہو سکتا، جو نماز نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ادا کی گئی ہو، دنیا کی کوئی عبادت اس فضیلت کے برابر نہیں ہو سکتی، اہل سنت والجماعت کے تمام مکاتب فکر اور مسالک تمام صحابہ کرام سے یکساں عقیدت و محبت رکھتے ہیں ، اسلامی تاریخ میں گزشتہ اور موجودہ دور میں جتنے بھی گمراہ اور باطل فتنے پیدا ہوئے ان کے گمراہ ہونے اور دین حق سے دور ہونے کی بنیادی وجہ صحابہ کرام کے تعلق سے ان کی بدگمانی اور بد زبانی ہے اس لیے پہلے بھی اور اج کے دور میں بھی صحابہ کرام سے سچی عقیدت و محبت رکھنا اور انھیں معیار حق سمجھنا ہی ہدایت یافتہ ہونے کی دلیل اور نشانی ہے، مولانا محمد ارشد علی قاسمی سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت میں کہا :کوئی شخص اپنی محنت و کوشش سے نبی نہیں بن سکتا، نبی کا انتخاب خالص اللّٰہ تعالی کا اختیار ہے، آدمی اپنی عبادت وریاضت سے نیک صالح اور ولی تو بن سکتا ہے، لیکن نبی نہیں بن سکتا مولانا نے کہا :ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ،جن گمراہ اور باطل فتنوں نے کسی بھی پہلو سے اس عقیدہ کا انکار کیا مسلمانوں کے ایمانی ضمیر نے انھیں کبھی قبول نہیں کیا، چاہے وہ آج کے دور کے قادیانی ہوں، یا پہلے زمانہ میں جھوٹے مدعیان نبوت مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے ماننے والے ہوں، منکرین ختم نبوت کو مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے سے الگ اور جدا سمجھا
مولانا مفتی سید ابراہیم حسامی نے کہا: فتنوں کے اس دور میں ایک مسلمان کو وہ باتیں بھی معلوم ہونی چاہیے جس کی وجہ سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ،جیسے ایک مسلمان وضو کو توڑنے والی باتوں سے واقف ہوتا ہے اسی طرح اس کو نواقض اسلام سے بھی واقف ہونا چاہیے، مولانا سید وحید الدین قادری نے کہا: قادیانی ختم نبوت کا انکار کر تے ہیں، نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور گزشتہ انبیاء کرام کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، اس لیے انھیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا، مولانا عبدالرحمن وقار حسامی نے کہا: حضرت مہدی کے ظاہر ہونے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے پر ایمان رکھنا اہل سنت والجماعت کے عقائد میں سے ہیں، شکیل بن حنیف کے پیروکار ان باتوں کا انکار کرتے ہیں اور مسلمانوں میں گمراہی پھیلا رہے ہیں، مولانا مفتی عبدالستار قاسمی نے کہا :اسلام میں تصوف اور طریقت کا وہی تصور اور طریقہ معتبر ہے جو شریعت کے مطابق ہو کیوں کہ طریقت شریعت سے کوئی الگ چیز نہیں ہے، گوہر شاہی کے لوگ طریقت کے نام پر ایسے افکار و خیالات پیش کر رہے ہیں جو واضح طور پر قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہے،
مولانا انصار اللّٰہ قاسمی آرگنائزر مجلس تحفظ ختم نبوت نے کہا: اسلام کے بنیادی عقائد کو ماننے اور شریعت کے احکام پر عمل کرنے میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث کا حجت اور دلیل ہونا ایک واضح حقیقت ہے کیوں کہ خود قرآن مجید میں بار بار اللّٰہ تعالی کی اطاعت کے ساتھ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا ،احادیث کو حجّت مانے اور ان پر عمل کیے بغیر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت ہو ہی نہیں سکتی اس لیے خود کو اہل قران کہنے والا طبقہ حدیث کا نہیں خود قرآن مجید کا منکر ہے، آج کے دور میں جاوید احمد غامدی کے ذریعہ انکار حدیث کا فتنہ ایک نئے انداز اور اسلوب میں پیش کیا جا رہا ہے، مولانا مفتی عبدالمنعم فاروقی نے کہا : مقام نبوت سب سے اعلی مقام ہے، کوئی شخص کتنا ہی بڑا ولی اور بزرگ کیا کیوں نہ ہو وہ نبی اور پیغمبر تو بہت دور کی بات، کسی صحابی کے درجہ کو بھی نہیں پا سکتا ،اس لیے ولایت کو نبوت سے افضل قرار دینا ایک کفریہ عقیدہ ہے اور انبیاء کرام کی توہین ہے،
مولانا وجیہ الدین قاسمی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے کہا: شریعت میں بیمار پڑنے پر علاج کروانے کا حکم ہے، فیاض بن یاسین کا فتنہ علاج معالجہ کے سلسلہ میں اپنی گمراہ خیالات کو پھیلا رہا ہے اور علاج کروانے کو غلط ٹھہرا رہا ہے ،جو لوگ اس کے خیالات کو قبول کر رہے ہیں وہ ایمان اور جان دونوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، قبل ازیں قاری عبداللّٰہ کلیمی کی تلاوت سے ایک روزہ تفہیم ختم نبوت ورکشاپ کا آغاز ہوا ، حافظ عبدالعلیم رحمانی اور مولانا عبدالوہاب عمیر قاسمی نے ہدیہ نعت پیش کی، مولانا مفتی عبدالمجید قاسمی نے ورکشاپ کی کاروائی چلائی، حافظ سہیل الرحمن ،مفتی عبد الصبور قاسمی اور مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ مشیر آباد کے دیگر کارکنان نے انتظامات میں حصہ لیا۔
Post Views: 17