Skip to content
75سال کا خواب 75 دنوں کی تعبیر
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایران کے عوام نے اپنی خود مختاری کا استعمال کرکے محمد مصدق کو وزیر اعظم بنایا اور موصوف نے مغربی استعماریت سے نجات کا ایک سہانا خواب دیکھا۔ ان سے قبل ایران کا تیل برطانوی کنٹرول میں تھا اور اس کی تجارت میں سےایران کو بہت کم منافع ملتا تھا۔وزیر اعظم محمد مصدق نے 1951ء میں ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے ذریعے "اینگلو-ایرانی آئل کمپنی” یعنی موجودہBP)) کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس میں کیا غلط تھا ؟ اپنے قدرتی ذخائر کو دوسروں کے چنگل سے چھڑا کر اپنے اختیار میں لینا کیا کوئی جرم ہے؟ نہیں لیکن چونکہ یہ اقدام برطانوی مفادات کو نقصان پہنچانے والا تھا اور ایرانی تیل کی صنعت اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھی اس لیے برطانیہ نے شدید احتجاج کیا اور ایران پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں تاکہ ایران کی معیشت کمزور کیا جاسکے یعنی امریکہ جو کچھ اب کررہا ہے ماضی میں وہی غلیظ حرکت برطانیہ بھی کرچکا ہے۔ نام نہاد مہذب یعنی مغربی استعمار کی یہ قدیم روایت ہے۔ اس زمانے میں چونکہ امریکی حکومت (سی آئی اے) کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ مصدق کی حکومت کمزور ہو کر کہیں سوویت یونین (کمیونزم) کے قریب نہ چلی جائے۔ اس لیے ایک سیاسی و عسکری سازش رچی گئی ۔ اس میں امریکی (CIA) اور برطانوی (MI6) جیسی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیوں نے ایرانی فوج کے کچھ عناصر، سیاستدانوں اور شاہی دربار کے ساتھ مل کر ایک منتخبہ عوامی حکومت کو اقتدار سے ہٹاکر ملوکیت نافذ کردی ۔
یہ کمال منافقت ہے کہ افغانستان میں یہ لوگ جمہوری حکومت قائم کرنے کے بہانے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کردیتے ہیں جبکہ ایران میں اپنے کٹھ پتلی بادشاہ کو اقتدار پر فائز کرنے کی خاطر عوامی حکومت کا تختہ پلٹ دیاجاتاہے۔ شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو اقتدار سونپنے کی خاطرمحمد مصدق سے اقتدار چھین لیا گیا ۔اس طرح آزادی کی نیلم پری کے نقاب میں چھپا ہوا دیو استبداد ساری دنیا کے سامنے نمودار ہوگیا۔1951کے خواب کو
15سے 19 اگست 1953ء کے درمیان سی آئی اے کی مدد سے برپا کی جانے والی منظم بغاوت کے ذریعہ چکنا چور کردیا گیا۔ محمد مصدق کی حکومت گرا دی گئی اور انہیں گرفتار کر کے تا حیات قید کر دیا گیا یہاں تک کہ ان وفات گھرکے اندر نظر بندی کی حالت میں ہوئی ۔ مذکورہ بالا بغاوت نے ایران میں شاہ کی مطلق العنان حکومت کو مضبوطی سے قائم کیا اور عوام کی رائے سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم محمد مصدق کو 1953ء میں اقتدار سے محض تیل کی صنعت کو قومیانے اور مغربی طاقتوں، بالخصوص برطانیہ اور امریکہ کے مفادات کو چیلنج کرنے سبب ہٹایا گیا تھا۔ اس واقعے کو تاریخ میں آپریشن ایجیکس (Operation Ajax) کے نام سے جانا جاتا ہے اور مغرب کے سفاک حکمراں اس پر نادم ہونے کے بجائےفخر کرتےہیں۔ دنیا تواسے بھول گئی مگر ایرانی نہیں بھولے کیونکہ بقول شہید سید علی خامنہ ای ایرانی قوم اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو نہیں بھولتی بلکہ اس سے سبق سیکھتی ہے۔
محمد مصدق کے خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے سے روکنے کی خاطرمغرب نے اپنی ساری طاقت جھونک دی لیکن ایران کے غیور عوام اس سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ 75؍ دنوں سے جاری اس جنگ نے ساری دنیا میں ایرانی غلبہ کی منادی کردی ۔ اس خواب کے عملی تعبیر کاآغاز 1979؍ کے اسلامی انقلاب سے ہوا اور تکمیل علامہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ہوا۔ اس دوران شہادتوں اور قربانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری و ساری رہا یہاں تک اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور بالآخر نصرت خداوندی نے حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کردیا ۔ اس جنگ کی ابتداء تو ایران نہیں کی لیکن اس کا اختتام تو اسی کی شرائط پر ہوگا اور ایسا اسی فریق کے ساتھ ہوتا ہےجو معرکہ سرکر لیتا ہے۔ اس جنگ میں امریکہ کو تو شکست سے دوچار ہونا پڑا لیکن اسرائیل کا سیاسی اور سفارتی وجود ہی ختم ہوگیا۔ دنیا میں ایسے کئی ممالک موجود تو ہیں لیکن ان کو کوئی نہیں پوچھتا ، ان ممالک کی فہرست میں اسرائیل جیسی جوہری طاقت کا شمار کسی معجزے سے کم نہیں ہے لیکن ساری دنیا یہ دیکھ رہی ہے فی الحال اسرائیل اور اس کا وزیر اعظم دنیا کا سب سے ناپسندیدہ شخص ہےاور دیگر اقوام کے علاوہ خود یہودی اس پر لعنت ملامت کررہے ہیں۔
یہودیوں کی مخالفت کا آغاز ویسے تو یوروپ اور امریکہ سے ہوا مگر وہ چنگاری اسرائیل کے اندر بھی پہنچ گئی اور ان مخالفین نے صہیونیت سے دستبرداری اور نیتن یاہو سے ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے کھلے عام اسرائیل کا پرچم جلاکر اسے یو ٹیوب پر ڈال دیا تاکہ سند رہے ۔ اسرائیل کے خلاف عالمی ناراضی کاسبب ایران سے جنگ نہیں بلکہ غزہ پر مظالم ہے۔ جنگ سے ایک ہفتہ قبل امریکہ اور یورپ سمیت 58 ممالک میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جاچکا تھا ۔ مجموعی طور پر 61 فیصد شہریوں نے نیتن یاہو کی مخالفت کی، جو 2019 کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔سروے کرنے والے معروف ادارے گیلپ کے مطابق لوگوں نے نیتن یاہو کے فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کردار پر تنقید کی۔ان ممالک ایران سرفہرست تھا جہاں 98 فیصد شہریوں نے انہیں ناپسندیدہ قرار دیا، جبکہ یورپی ممالک میں بھی مخالفت کی شرح زیادہ رہی۔برطانیہ میں 52 فیصد اور امریک جیسے اسرائیلی حلیف میں بھی 42 فیصد افراد نے نیتن یاہو کو ناپسندیدہ بتایا تھا ۔
پاکستان میں بھی 49 فیصد لوگوں اسرائیلی وزیراعظم کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا۔اس کے برعکس آذربائیجان اور کینیا میں 58 فیصد جبکہ بھارت میں 50 فیصد افراد نے نیتن یاہو کی حمایت کی۔ اسی خمار میں مودی جی سروے کے تین چار دن بعد اسرائیل پہنچ گئے اور اپنی بھد پٹوالی ۔7؍ اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل فلسطین جنگ میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطینیوں کی جو نسل کشی کی اس کے سبب دنیا بھر لوگ اس سے نفرت کرنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران زبردست بمباری کرکے اس کی چولیں ہلادی تو کسی آنکھ میں آنسو کا ایک قطرہ بھی نہیں چھلکا ۔ لوگ توچاہتے تھے کہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑے اور سزا دے۔ اپنی غلطیوں پر نادم ہونے کے بجائے بنیامین نتن یاہو نے نہایت ڈھٹائی سے سی بی ایس پر الزام تراشی شروع کردی ۔ اس کا کہنا ہے کہ کئی ممالک جعلی پتوں (ایڈریس) کے ذریعے منظم انداز میں سوشل میڈیا کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اِس حکمت عملی کا مقصد امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت کو کمزور کرنا اور امریکہ، اسرائیل اتحاد کو نقصان پہنچانا ہے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپ اس نوعیت کا ٹیکسٹ میسج سُنتے ہیں کہ میں ٹیکساس (امریکہ) سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسرائیل کو سپورٹ کیا، لیکن اب میں اُن (اسرائیل) کے اقدامات سے سخت ناخوش ہوں اور اسرائیل کے خلاف ہو رہا ہوں۔‘ اس نے کہا ایسے پیغام پاکستان میں گڑھے جاتے ہیں ۔ نیتن یاہو نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا کے پھیلاؤ سے امریکہ کے اندر اسرائیل کی حمایت میں گراوٹ آئی ہے۔ مختلف ممالک نے اپنے مفاد کی خاطر، یہ امریکی عوام میں امریکہ، اسرائیل اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی اور اس حکمتِ عملی کو نہایت چالاکی سے بروئے کار لایا گیالیکن یہودی تو مکاری اور چالاکی میں کون جیت سکتاتھا۔اپنی شیخی بگھارتے ہوئے انہوں نےجمہوریت کا سہارا لیا لیکن دنیا جاتی ہے اسرائیل میں بدترین سینسر شپ ہے ۔وہی سب سے زیادہ صحافیوں کا قاتل ہے۔وہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان دراڑسے اس لیے پریشان ہیں کیونکہ انہیں ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے۔ انہوں دعویٰ تو کیا کہ وہ اسے ‘صفر’ پر لانا چاہتے ہیں لیکن یہ ناممکن ہے۔
غزہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے والے ایران کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ایران کے اندر دسمبر میں مغربی ممالک نے اپنے دلالوں کی مدد سے اسی طرح کا ہنگامہ برپا کیا کہ جیسے صدر مُرسی کے خلاف ہوا تھا لیکن ان احمقوں کو جب اپنے ناپاک عزائم میں کامیابی نہیں ملی تو انہوں مساجد پر حملہ شروع کردیا اور عام لوگوں کے علاوہ بڑی تعداد میں پولیس والوں کو نہ صرف زخمی بلکہ شہید بھی کردیا ۔ اس طرح ان کے ناپاک ارادے بے نقاب ہوگئے اورعوام کے اندر حکومت کے حوالے سے جو بے چینی تھی وہ بھی ختم ہوگئے اور یہ کہا جاسکتا ہے وہ سازش ناکام ہوگئی۔اس کے بعد جب جنگ کا آغاز ہوا تو ایران اسرائیل چھکے چھڑا دئیے اور امریکہ کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ۔آج دنیا سارے دانشور تصدیق کررہے ہیں کہ امریکہ کے خلاف یہ جنگ ایران جیت چکا ہے اور صدر ٹرمپ کوئی ایسا راستہ ڈھونڈنے پر مجبور ہیں کہ جس کے ذریعہ اپنا کھویا ہوا وقارکسی نہ کسی حد تک بچا سکیں ۔ کاش کے ٹرمپ نے عاصم واسطی کے ان اشعار پر عمل کیا ہوتا ؎
جنگ میں پیش نظر فتح کی دشواری رکھ چند اک لشکری تیموری و تاتاری رکھ
تجھ سے میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ امید نہ باندھ
خواب کے ساتھ مگر آنکھ میں بیداری رکھ
Post Views: 94