Skip to content
یوگی منتر: مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سڑک پر نماز بند کروادی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسی لیے اقتدار پر فائز ہوئے تھے؟ جی نہیں یوگی سرکار کا اہم ترین دعویٰ ریاست کو جرائم سے پاک کرنا تھا۔موصوف دس سال سے اقتدار کی زمامِ کار سنبھالے ہوئے ہیں اس کے باوجود آج بھی یومیہ پانچ انکاونٹر ہورہے ہیں ۔ حکومت اترپردیش میں ابھی حال میں اعتراف کیا کہ یوگی کی مدتِ کار میں جملہ 17,043 انکاونٹر ہوئے۔ انکاونٹر کے بارے میں پولس کا دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعہ گولی اسی وقت چلائی جاتی ہےجب ملزم فائر کرتاہے ۔ یوگی کی دھمکی تھی کہ مجرم پیشہ لوگ ریاست سے نکل جائیں ورنہ انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا؟ اب اگر ۹؍ سال کے بعد مجرم پولیس پر گولی چلاتے ہیں تو اس کے معنیٰ یہی ہیں کہ ان کے دل میں حکومت یا قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ مجرموں کو ڈرائیں کیونکہ یہ نہ صرف وزیر اعلیٰ بلکہ صوبائی وزیر داخلہ کی بھی ناکامی ہے ۔ اتفاق سے یہ دونوں عہدے ایک ہی فرد کے پاس ہیں۔ اپنی ناکامی کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی آئے دن یوگی ادیتیہ ناتھ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیتے رہتے ہیں۔
یوگی بابا نے فرمایاحکومت قانون کے مطابق چلے گی اور وہ سب پر یکساں طور پر نافذ ہوگا ۔ یہ اچھی بات ہے لیکن کیا ایسا ہورہا ہے؟ یوپی سڑکوں پر کہیں سڑک پر بھی نماز ہوتی ہوگی اس کو روک کر وزیر اعلیٰ اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں لیکن کیا یہ ضابطہ غیر جانبدارانہ طور پر کانوڈ یاترا پر بھی لاگو ہوتا ہے؟ وہ یاترا بھی تو سڑک پر چلتی ہے اور اس کے سبب مسافروں کو بے شمار مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ لوگ گاڑیاں توڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے ، اس کی سواریوں کو مارتے پیٹتے ہیں۔ دوکانیں بھی لوٹ لیتے ہیں اور پولیس پر بھی چڑھ دوڑتے ہیں۔ ایسا کوئی دنگا فساد نماز ی نہیں کرتے مگر ان پر پابندی لگائی جاتی ہے اور کانوڈیا یاتریوں پر وزیر اعلیٰ سمیت مختلف سیاسی رہنما پھول برساتے ہیں ۔ پولیس والے وردی میں ان کے پیر دباتے ہوئے ویڈیو بنوا کر تشہیر کرتے ہیں۔ کیا یہ خوشامد نہیں ہے۔ یوگی جیسے لوگوں کے لیے یہ تفریق و امتیاز قابلِ قدر ہے اور یہی سناتن دھرم کی بنیاد ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوے کم از کم غلط سلط دعویٰ سے گمراہ تو نہیں کرنا چاہیے ۔
ملک کی سڑکوں پر نماز اور کانوڈ یاترا کے علاوہ مظاہرے اور احتجاج بھی ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں اترپردیش کے نوئیڈا میں محنت کش اپنے معاشی استحصال کے خلاف سڑک پر آئے تو پہلے حکومت نے ان کو زدو کوب کیا اور پھر اغوا کرکے نامعلوم مقام پر لے گئی۔ گودی میڈیا کی ذریعہ انہیں نیپال کی جین زی سے متاثر بتایا گیا ۔ اس کے بعد بنگلہ دیشی درانداز بتایا گیا ۔یہاں تک کے پاکستان سے بھی تعلق جوڑ دیا گیا۔ وہ سب تو مسلمان نہیں تھے لیکن مظلوم تھے اور یوگی سرکار ظالم ہے اس لیے ان کو دشمن مانتی ہے۔ یوگی جس د ن متنازع بیان دیالکھنو میں 69؍ ہزار اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ زور پکڑ گیا اور اس کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر یوگی بابا کو یہ اشتعال انگیزی کرنی پڑی تاکہ لوگ اس میں الجھ گزشتہ ۸؍ سال سے جاری احتجاج کو بھول جائیں ۔ اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں امیدواراساتذہ نے چلچلاتی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کی دھوپ میں کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے یوپی کے وزیرِ تعلیم کی رہائش گاہ پر اپنے غم غصے کا اظہار کیا اور ان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ان مظاہرین نے چیف جسٹس کے ’کاکروچز‘ والے بیان کے خلاف بھی علامتی احتجاج درج کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ(ڈبل انجن) حکومت نے انہیں کیڑا سمجھ رکھا ہے ، اسی لیے وہ رینگ کر مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یوپی بیسک شکشا پریشد نے2018 میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس کے بعد سال 2019 میں 69 ہزار اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی کا امتحان کروایا گیا۔ اس بھرتی میں دیگر پسماندہ ذاتوں کی کیٹیگری کے لیے کل 18,598 اسامیاں تھیں، لیکن ان کا صرف 2,637 سیٹوں پر تقرر ہوا۔مظاہرین کا الزام ہے کہ دیگر پسماندہ ذاتوں کے امیدواروں کو 27% کی جگہ صرف 3.86% ہی ریزرویشن دیا گیا۔ اسی طرح درج شدہ پسماندہ امیدواروں کو 21% کی جگہ صرف 16.6% ہی ریزرویشن ملا۔ محفوظ طبقے کی اسامیاں دوسروں کو دے دینا بیسک ایجوکیشن رول 1981 اور ریزرویشن رول 1994 کے خلاف تھا ۔یہ کمال بے ایمانی ہے کہ اس ناانصافی کے باوجود پسماندہ طبقات کے ووٹ لے کر بی جے پی اقتدار میں آجاتی ہے کیونکہ ان کے رہنما کرسی کی لالچ میں اپنی لوگوں کی حمایت کا سودہ کردیتے ہیں ۔دلتوں کا نقصان حالانکہ بہت کم ہوا پھر بھی اگست 2021 کے اندر ہونے والے احتجاج میں بھیم آرمی کے صدر چندرشیکھر شامل ہوئے تھے۔بیروزگاری کے دباو میں یہ امیدوار مسلسل بھرتی کے مطالبہ کو لے کر وقتاً فوقتاً احتجاج کرتے رہے ہیں۔ اس معاملے کو لے کر کئی بار احتجاج ہوئے ہیں۔
حالیہ 18 مئی کے علاوہ، 22 اپریل اور 2 فروری کو امیدواروں نے احتجاج کیا تھا۔ پچھلے سال بھی 25 اکتوبر 2025 کو غصے میں امیدواروں نے وزیرِ تعلیم سندیپ سنگھ اور نائب وزیرِ اعلیٰ کیشو موریہ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا تھا اور زبردست نعرے بازی کی لیکن ’مردِ ناداں پر کلامِ نرم نازک بے اثر‘ کی مصداق سارا پانی ان چکنے گھڑوں کے اوپر سے بہہ گیا۔اس سے قبل بھی اگست، مئی 2025 میں احتجاج ہوئے۔ 2024 میں ستمبر، فروری اور جنوری میں مظاہرہ ہوا۔ نومبر 2023 اور 2021 میں دسمبر، اگست، جولائی، جون میں بھی سڑکوں پر آئے۔سرکار کی ایک چال یہ ہے کہ جب کسی معاملے میں اقرار یا انکار دونوں مشکل ہوجائےتو اسے پہلے عدالت میں لے جاکر لٹکا دواور سارا ٹھیکرا کورٹ پر پھوڑ دو۔یہ قضیہ بھی 2024 سے سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت اس کیس میں حکومت کی طرف سے پیروی نہیں کی جا رہی ہے۔ اس کی کل 31؍تاریخیں پڑ چکی ہیں۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس کیس میں حکومت اپنا وکیل مقرر کرکے پیروی کرے تاکہ معاملہ جلد حل ہو سکےلیکن جب حکومت کی نیت میں کھوٹ ہو تو یہ کیونکر ممکن ہے؟
69 ہزار اساتذہ بھرتی معاملے میں نیشنل کمیشن فار بیکورڈ کلاسز یعنی NCBC نے ریزرویشن قوانین پر عمل نہ ہونے پر یوپی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ ساتھ ہی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بیسک ایجوکیشن افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس طرح جب یوگی بابا پوری طرح گھِر گئے تو مسلمان اور سڑک پر نماز کا مدعا اٹھا کر اول فول بکنے لگے۔ یہ ان کا پرانا جال ہے مگر لوگ شاید اس بار ان کے جھانسے میں نہ آئیں ۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ تو اگست 2024 میں ہی 69000 اساتذہ بھرتی کی پوری لسٹ کو رد کرچکی ہے ۔ اس نے بیسک ایجوکیشن رول 1981 اور ریزرویشن رول 1994 پر عمل کرتے ہوئے 3 مہینے کے اندر نئی لسٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا لیکن یوگی پر عدالت میں بار بار پھٹکارکا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔انہوں نے یہ وعدہ تو کردیا کہ بہت جلد بھرتی نکلے گی لیکن وہ اپنے عہد کی پابندی کرنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔ یوپی حکومت نے آخری بار 2019 میں PRT یعنی پرائمری ٹیچر کے لیے 69,000 بھرتیاں نکالی تھیں۔ اس کے بعد بیسک ایجوکیشن محکمہ میں پرائمری سطح پر کوئی نئی اساتذہ بھرتی نہیں نکالی ۔ سیکنڈری ٹیچر کے لیے آخری بار 2022 میںصرف 3,539 عہدوں پر ملازمت دی گئی ۔
امسال فروری میں یوپی کے وزیرِ تعلیم سندیپ سنگھ نے بھرتی نکالنے سے انکارتو کرتے ہوئے کہا کہ ’پڑھانے کے لیے کافی اساتذہ موجود ہیں‘۔ اسمبلی میں جب سماجوادی پارٹی کے رکن انیل پردھان نے سوال کیا تو اس کے جواب میں یہ تحریری طور پر بتانا پڑا کہ اسکولوں میں اسسٹنٹ اساتذہ کے 46,944 عہدے خالی ہیں۔ ان عہدوں کے خالی ہونے کے باوجود اساتذہ کی کمی سے انکار تعجب خیز ہے ۔ اسے’جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے‘ کہتے ہیں۔ اساتذہ کی تحریک کے قائد دھننجے گپتا نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی پہل نہیں کر رہی ہے جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں صرف تاریخ پہ تاریخ پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق او بی سی کمیشن اور لکھنؤ ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں ہے۔ اس پر کچھ کرنے کے بجائےوزیر اعلیٰ فرماتے ہیں کہ مسلمان اگر انتظام نہیں کرسکتے تو اپنی آبادی کو قابو میں رکھیں ۔ اس ملک میں اسیّ کروڈ لوگوں کا گزارہ پانچ کلو مفت اناج پر ہورہا ہے اس کے باوجودجب موہن بھاگوت سے لے کر چندرا بابو تک نہ جانےکتنے لوگ آبادی کم کرنے کی نہیں بڑھانے کی ترغیب دیتے ہیں تو یوگی بابا کو کیوں چپ لگ جاتی ہے؟ مسلمانوں کو دوسرے راستے سے ٹھیک کرنے دھمکی دینے والے یوگی ایوانِ پارلیمان کے اندر اپنی جان کی گہار لگاتے ہوئےپھوٹ پھوٹ کر رو چکے ہیں ایسے میں جب وہ بڑی بڑی ہانکتے ہیں تو لوگ ڈرنے کے بجائے اس ویڈیو یاد کرکے ہنستے ہیں ۔
Post Views: 40