Skip to content
سوالوں سے فرار اور جمہوریت کا وقار: غیر ملکی دوروں پر وزیرِ اعظم مودی کی خاموشی
از قلم: اسماء جبین فلک
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ سوال پوچھنے اور جواب دینے کے اس رشتے کا نام ہے جس پر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد قائم رہتا ہے۔ دنیا کی ہر بڑی جمہوریت میں صحافت کو اقتدار کے دروازے پر دستک دینے کا حق حاصل ہوتا ہے، کیونکہ صحافی کا سوال دراصل عوام کی آواز ہوتا ہے۔ مگر جب اقتدار سوالوں سے خوفزدہ ہونے لگے، جب منتخب رہنما پریس کانفرنسوں سے گریز کرنے لگیں، تو پھر جمہوریت کی چمکتی ہوئی پیشانی پر خاموشی کا ایک سیاہ دھبہ ابھرنے لگتا ہے۔
حال ہی میں ناروے کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک غیر ملکی صحافی کے سوال نے عالمی بحث کا موضوع بنا دیا۔ ناروے کی صحافی ہیلا لنگ نے جب یہ پوچھا کہ “وزیرِ اعظم مودی دنیا کے سب سے آزاد پریس کے سوالوں کا جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟” تو یہ محض ایک سوال نہیں تھا بلکہ موجودہ بھارتی جمہوریت کے مزاج پر اٹھنے والا ایک عالمی استفسار تھا۔ اس سوال کے بعد وزیرِ اعظم خاموشی سے ہال سے باہر نکل گئے، مگر ان کی خاموشی وہیں نہیں رکی؛ وہ بین الاقوامی میڈیا، اخبارات اور سیاسی حلقوں میں گونجنے لگی۔
بھارتی میڈیا نے اس دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے یہ ضرور بتایا کہ تینتالیس برس بعد کوئی بھارتی وزیرِ اعظم ناروے پہنچا ہے، مگر یہ نہیں بتایا کہ جب 1983 میں اندرا گاندھی ناروے گئی تھیں تو انہوں نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی تھی، صحافیوں کے سوالات سنے تھے اور جواب بھی دیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان چار دہائیوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وزیرِ اعظم سوالوں کے سامنے آنے سے کتراتا دکھائی دیتا ہے؟
یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک طرزِ عمل بنتا جا رہا ہے۔ بیرونِ ملک دوروں میں پہلے سے طے کر لیا جاتا ہے کہ کوئی سوال و جواب نہیں ہوگا۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے سفارت کاری کے پروٹوکول میں اب یہ شرط بھی شامل کر دی گئی ہو کہ صحافی صرف تالیاں بجائیں گے، سوال نہیں کریں گے۔ اس سے زیادہ افسوسناک بات شاید یہ ہے کہ اظہارِ رائے اور پریس فریڈم پر فخر کرنے والے ممالک بھی اس خاموشی کو قبول کر لیتے ہیں۔
ناروے کے اخبارات نے اس رویے پر کھل کر تنقید کی۔ بعض نے وزیرِ اعظم مودی کو “چالاک مگر پریشان کن شخصیت” قرار دیا، تو بعض نے ان پر سیاسی شخصیت پرستی اور آزادیِ اظہار کو محدود کرنے کے الزامات دہرائے۔ یہ وہی ناروے ہے جو عالمی سطح پر صحافت کی آزادی میں پہلے نمبر پر شمار ہوتا ہے، جبکہ بھارت کی درجہ بندی مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ ایسے میں اگر ایک صحافی سوال پوچھ بیٹھتی ہے تو اس کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت اور ٹرولنگ کی مہم شروع ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ اسے وضاحت دینی پڑتی ہے کہ وہ کسی حکومت کی ایجنٹ نہیں بلکہ محض اپنا صحافتی فرض ادا کر رہی ہے۔
یہ منظر نیا نہیں۔ 2023 میں امریکہ کے دورے کے دوران جب وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی سبرینا صدیقی نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور آزادیِ اظہار پر سوال کیا تھا، تو سوال کے جواب سے زیادہ ان کی ذات اور مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا گیا۔ یہاں مسئلہ صرف ایک صحافی یا ایک سوال کا نہیں، بلکہ اس ذہنیت کا ہے جو سوال کو دشمنی سمجھنے لگی ہے۔
اقتدار کی اصل طاقت تنقید برداشت کرنے میں ہوتی ہے۔ ایک مضبوط رہنما وہ نہیں جو صرف جلسوں میں ہزاروں لوگوں سے خطاب کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک تنہا صحافی کے مشکل سوال کے سامنے بھی اعتماد سے کھڑا رہے۔ سوال سے فرار وقتی طور پر سیاسی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، مگر تاریخ اسے کمزوری کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ دنیا کی جمہوریتیں اپنی تقریروں سے نہیں بلکہ اپنی شفافیت سے بڑی بنتی ہیں۔
آج بھارت کے اندر جو منظرنامہ ابھر رہا ہے، وہ عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث ہے۔ اقلیتوں کے حقوق، میڈیا کی آزادی، بلڈوزر سیاست، انتخابی شفافیت اور نفرت انگیز بیانیوں پر دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب غیر ملکی صحافی سوال کرتے ہیں تو وہ محض کسی ایک حکومت سے نہیں بلکہ ایک پورے جمہوری دعوے سے جواب مانگ رہے ہوتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اصل سوالوں کا جواب دینے کے بجائے تہذیب کی قدامت، یوگا، “وشو گرو” اور ہزاروں سال پرانی تاریخ کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ یقیناً تہذیب پر فخر ہونا چاہیے، مگر ماضی کی عظمت حال کے سوالوں کا جواب نہیں بن سکتی۔ صحافی جب انسانی حقوق پر سوال کرے اور جواب میں صرف ثقافتی برتری کے نعرے سننے کو ملیں تو یہ مکالمہ نہیں بلکہ سوال سے فرار بن جاتا ہے۔
جمہوریت میں میڈیا اگر صرف تعریف کرے اور سوال نہ کرے تو پھر وہ صحافت نہیں رہتی، درباری قصیدہ خوانی بن جاتی ہے۔ جو قومیں سوال کرنے والوں کو غدار اور جواب مانگنے والوں کو دشمن سمجھنے لگتی ہیں، وہاں سچ آہستہ آہستہ خاموش کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے ایک آزاد صحافی کا سوال دراصل جمہوریت کے وقار کا امتحان ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم مودی کی سیاسی میراث صرف ان کے حامی طے نہیں کریں گے، بلکہ تاریخ بھی اپنا فیصلہ لکھے گی۔ تاریخ شاید یہ یاد رکھے کہ ایک ایسا رہنما، جس نے دنیا بھر میں بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا، اپنے دورِ اقتدار میں ایک بھی کھلی اور آزاد پریس کانفرنس نہ کر سکا۔ اور یہ سوال بھی تاریخ کے صفحات پر باقی رہے گا کہ آخر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا منتخب وزیرِ اعظم سوالوں سے اتنا خوفزدہ کیوں تھا؟
Post Views: 21