Skip to content
المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں عیسائیت کے موضوع پر سال رواں پہلا سمپوزیم
حیدرآباد ،20مئی(پریس نوٹ)المعہد العالی الاسلامی کے شعبۂ مطالعۂ مذاہب کے زیر اہتمام یکم ذوالحجہ 1447ھ مطابق 19 مئی 2026 بروز منگل بعد نماز مغرب دارالتربیہ میں ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور علمی سمپوزیم بعنوان "عیسائی دنیا کے مظالم، دسیسہ کاریاں اور ریشہ دوانیاں” منعقد کیا گیا، اس علمی نشست کا مقصد طلبہ میں تحقیقی ذوق، تنقیدی مطالعہ اور عالمی تہذیب ومذاہب کے تاریخی وفکری پہلوؤں سے واقفیت پیدا کرنا تھا، اجلاس کی صدارت اس مضمون کے استاذ مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی معتمد شعبۂ ثقافت نے کی جب کہ اساتذۂ معہد، فضلاء اور طلبہ کی کثیر تعداد شریک رہی۔
پروگرام کا آغاز یحی سعید کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس کے بعد محمد عمار نے نعت پیش کی، اور پھر محمد امیر نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کاروائی کو آگے بڑھایا، طلبۂ مطالعۂ مذاہب نے اپنے تحقیقی وتجزیاتی مقالات کے اہم نکات محاضرہ کے انداز میں پیش کیے، محمد عمر نے "کیتھولک فرقے کے پروٹسٹنٹ پر مظالم: مذہبی تعصب کی ایک خونیں تاریخ” کے عنوان کے تحت یورپ میں فرقہ وارانہ کشمکش، کلیسائی جبر اور مذہبی انتہاپسندی کے مختلف مظاہر کو تاریخی حوالوں کے ساتھ بیان کیا، محمد حذیفہ نے "سامراجیت: عہد بہ عہد استحصالی قوتوں کا ارتقائی سفر” کے موضوع پر استعماری طاقتوں کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، شیخ محمد عبد الصمد نے "جنگ اور عیسائی مذہب: مذہبی عقائد اور عسکری کارروائیوں کا باہمی تعلق” کے عنوان کے تحت مذہبی جنگوں، کلیسائی سیاست اور جنگی نظریات پر روشنی ڈالی جب کہ خواجہ معین الدین نے "صلیبی جنگیں: مذہبی جنون اور سیاسی عزائم کی داستان” پیش کرتے ہوئے عالم اسلام پر صلیبی حملوں کے گہرے اثرات کا تجزیہ کیا۔
اسی سلسلے میں محمد یحییٰ سعید خان نے "بائبل ایک نظر میں: تدوین، اختلافات اور بنیادی تعلیمات کا جائزہ” کے عنوان کے تحت بائبل کی تاریخی تدوین، اس کے نسخوں اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو نہایت سلیقے سے بیان کیا، محمد حسین نے "عیسائی مشنری تحریکیں: تبلیغ کے پردے میں تہذیبی وفکری یلغار” کے موضوع پر مشنری اداروں کی سرگرمیوں، ان کے تعلیمی وسماجی طریقۂ کار اور مختلف ممالک میں ان کے اثرات کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا، محمد حضور نے "گلوبلائزیشن: مغربی تہذیب کے عالمی تسلط کا جدید ہتھیار” کے عنوان کے تحت جدید عالمی نظام، میڈیا، معیشت اور ثقافتی یلغار کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا جب کہ شیخ محمد امیر نے "عیسائی دنیا میں غلامی کا تصور: تاریخ، استحصال اور انسانی المیہ” کے عنوان سے غلامی کی تاریخی شکلوں اور نوآبادیاتی قوتوں کے کردار پر گفتگو کی۔
سمپوزیم کے آخری علمی مقالے میں محمد مصطفیٰ نے "عیسائیت اور لبرل ازم: جدید مغربی فکر کے مذہبی وسماجی اثرات” کے عنوان کے تحت لبرل ازم، سیکولرزم، مذہبی آزادی اور مغربی معاشرتی اقدار کے عیسائی دنیا پر مرتب ہونے والے اثرات کا مدلل جائزہ پیش کیا، تمام طلبہ نے اپنے موضوعات پر مضبوط علمی گرفت، وقیع مطالعہ اور شاندار انداز پیشکش کا مظاہرہ کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا، اس علمی نشست نے نہ صرف طلبہ کی تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ حاضرین کو بھی مختلف تاریخی، مذہبی اور تہذیبی مباحث پر سنجیدہ غور وفکر کا موقع فراہم کیا۔
اخیر میں معہد کے مؤقر اساتذہ مولانا مجیب الرحمٰن قاسمی، مولانا مفتی شاہد علی قاسمی اور مولانا مفتی اشرف علی قاسمی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے طلبہ کی محنت، تحقیقی اسلوب اور فکری توازن کو سراہا اور انہیں مطالعہ میں توازن، وسعت نظر اور علمی دیانت کو ملحوظ رکھنے کی نصیحت کی، اپنے صدارتی خطاب میں مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نے مطالعۂ مذاہب کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علمی دنیا میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تاریخ، تہذیب اور مذاہب کا عمیق اور منصفانہ مطالعہ ناگزیر ہے، دعا اور کلماتِ تشکر کے ساتھ یہ بامقصد اور یادگار علمی مناقشہ اختتام پذیر ہوا۔
اس موقع پر مولانا محمد انظر قاسمی، مولانا محمد ارشد قاسمی اور مولانا جہانگیر عالم رحمانی وغیرہ بھی موجود تھے۔
Post Views: 22