Skip to content
کاٹھ کی ہانڈی ناروے میں پھوٹی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مثل مشہور ہے’کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی ‘ ۔ بہت جلد پھوٹنا اس کا مقدر ہوتا ہے ۔ وہ اگر خاموشی سے باورچی خانے میں ٹوٹ جائے تو اس کا شور نہیں ہوتا لیکن چوراہے پر پھوٹنے کی نوبت آئے پوری دنیا میں ہنگامہ ہوجاتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ یہی ہوا ۔ ناروے میں ان کی ایک ویڈیو پچاس سال سے تعمیر کردہ جعلی شبیہ کو ساری دنیا کے سامنے پاش پاش کردیا۔ چھپن انچ کی چھاتی پچک گئی اور لال لال آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ ویسے آج یا کل ’ یہ تو ہونا ہی تھا ‘ کیونکہ کاٹھ کی ہانڈی چَڑْھنا سے مراد ’جھوٹ یا فریب کا کامیاب ہوجانا ہوتا ہے‘ اور پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’کاٹھ کی ہانْڈی ہَر بار نَہیں چَڑھتی‘ یعنی ’جعلسازی اور فریب بار بار نہیں چلتا ، ناپائیدار شے کا بار بار اعتبار نہیں ہوتا‘۔ اسماعیل میرٹھی ادب اطفال کے بہت بڑے شاعر تھے ۔ ’رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی ‘کس نے نہیں پڑھی لیکن ان کی رباعیات بھی بہت مشہور ہے اور ان میں سے ایک وزیر اعظم نریندر مودی پر صادق آتی ہے؎
کاٹھ کی ہنڈیا چڑھی کب بار بار
کھو دیا جھوٹے نے اپنا اعتبار
بات جھوٹی جو زباں پر لائے گا
سچ بھی اس کا جھوٹ سمجھا جائے گا
وزیر اعظم نریندر مودی چونکہ شاذو نادر ہی سچ بولتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے ورنہ پوری قوم کو غیر ملکی دوروں پر جانے سے منع کرنے کے فوراً بعد خود نہیں نکل کھڑے ہوتے۔ مودی جی کا یہ دورہ ماضی کے دریچوں میں لے جاتاہے ۔ اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد جب مودی جی پر آتش کا یہ شعر صادق آتا تھا ’’بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے۰۰۰یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا ‘۔ جوانی تو ویسے بھی دیوانی ہوتی ہے اور اس کے جوش میں وزیر اعظم نے جنوبی کوریا کےخطاب میں فرمایا تھا کہ، "پہلے لوگ ہندوستانی ہونے پر شرم محسوس کرتے تھے لیکن اب آپ کو ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے فخر ہوتا ہے۔ پچھلے سال بیرونِ ملک رہنے والے تمام ہندوستانیوں نے حکومت کے بدلنے کی امید کی تھی۔” یعنی انہوں نے قیادت سنبھالتے ہی صدیوں کی شرم کو فخر میں بدل دیا ۔ اس پر ٹوئٹر کی دنیا میں ہنگامہ مچ گیا ۔ لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کو ہندوستان کی توہین قرار دے کر ان پر ٹوٹ پڑے لیکن اب گیارہ سال بعد اس کے عادی ہوچکے ہیں اس لیے گودی میڈیا میں تو مکمل سناٹا پسرا ہوا ہے۔
اڈانی اور امبانی کا میڈیا بھلا مودی سے پنگا لینے کی جرأت کیسے کرسکتا ہے ؟ انہیں توسرکار کی سرپرستی میں کاروبار چلانا ہے اور وقت پڑنے پر گدھے کو باپ کہنے کی مثل مشہور ہی ہے پھر بھی ’آتا ہے یاد مجھ کو گذرا ہوا زمانہ ‘کی مصداق ماضی کے ردعمل کو دیکھ لینا مفید ہے۔ اس بیان کے اگلے دن ٹوئٹر پر ’مودی نے بھارت کی توہین کی‘ ٹرینڈ کرنے لگا تھا اوراس طرح کے بے شمار تبصرے ہوئے تھے ۔فہد نے ٹویٹ کیا، "اقبال نے ‘سارے جہاں سے اچھا…’ صرف 16 مئی 2014 کے بعد کے لیے لکھا تھا۔ بدقماش کانگریسیوں نے اس کا استعمال تحریکِ آزادی میں ہی کر لیا۔” اس شرمناک بیان پر سچت سیٹھ نے لکھاتھا، "اگرچہ ہمارے ملک میں گوڈسے، ساورکر، ہیڈگیوار، گولوالکر جیسے لوگ تھے لیکن پھر بھی مجھےہندوستانی ہونے پر شرم نہیں ہے۔” سچن نے مودی جی کو یادلایا تھا کہ "ایک بار جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے غیر ملکی سرزمین پر کانگریس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ اس بارے میں میں صرف ہندوستان میں ہی بات کروں گا۔” لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اگر گجرات کے بعداٹل جی کا مشورہ ’’راج دھرم کا پالن‘ کرتے تو منی پور نہ ہوتا ۔
ماضی کے ردعمل کا اعادہ سمجھاتا ہے جب غلامی آرہی تھی مگر چھائی نہ تھی اور اب کے زمانے میں کیا فرق ہے؟ کانگریس کے ترجمان نے ٹویٹ کیا تھا، "معاف کرنا بھگتو، تم نے بہت محنت کی، لیکن تمہارا چھوٹی سوچ والا گھٹیا لیڈر سچ کے ناقابلِ شکست رتھ کو نہیں روک سکتا۔”اسکوچی شاستری کا اعتراض تھا کہ ، "(وہ) پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے عوامی طور پر اعتراف کیا کہ وہ بھارتی ہونے پر شرمندہ ہیں۔ ہمیں مودی جی پر فخر ہے۔”جوگیندر راوت نے ٹویٹ کیاتھا "مودی پہلے وزیر اعظم ہیں جو غیر ملکی سرزمین پرہندوستانی ہونے پر شرم محسوس کر رہے ہیں۔ جو ہندوستانی ہیں انہیں ہمیشہ ہندوستانی ہونے پر فخر ہوتا ہے۔” یعنی ایک معنیٰ میں راوت نے وزیر اعظم کو غیر ہندی قرار دے دیا اور درست بھی ہے کیونکہ موصوف پہلے گجراتی اور پھر ہندوستانی ہیں ۔عام جنتا نامی صارف نے نہایت طنزیہ ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ، "مودی جی آپ وزیر اعظم ہوں یا نہ ہوں مجھے بھارتی ہونے پر فخر ہے ۔” اس کے باوجود بھگتوں نے مودی بھجن جاری رکھا تھا اور اب وہی ملک کی آواز بن چکا ہے۔
حالیہ دورے میں وزیر اعظم مودی سب سے پہلے متحدہ امارات کے دورے پر ابو ظبی پہنچے ۔ وہاں قدم رکھتے ہی ان کے ایکس اکاؤنٹ سے یہ پیغام نشر ہوا کہ وہ اپنے بھائی ایم بی زیڈ کے شکر گزار ہیں وہ ابوظبی ائرپورٹ پر ان کا استقبال کرنے آئے ۔ اس ٹویٹ کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد بن زائد ان کے استقبال کی خاطر ہوائی اڈے پر آئے لیکن بیچ میں ’بھائی‘ نے گڑبڑ کردی ۔ ’عرب کا مسلمان بھائی اور اپنے ملک کاقصائی‘ یہ دوغلی سیاست کب تک چلے گی؟ کیا وہاں کے مسلمان لباس سے پہچانے نہیں جاتے لیکن ’یہ مطلب کی یاری اور ایندھن کی مجبوری ہے‘ جس نےایک قصائی کو بھائی بنادیا ۔ مودی بھگتوں نے جب والہانہ انداز میں وزیر اعظم کو ایم بی زیڈ کے گلے پڑتے دیکھا ہوگا تو سوچ رہے ہوں گے کہ وہ بھائی ہے تو ہم کون ہیں؟ مودی جی ہم سے معانقہ تو دور مصافحہ تک نہیں کرتے اور مسلم حکمرانوں سے لپٹ جاتے ہیں ۔ یہاں ہندووں کو مسلمانوں سے ڈراتے ہیں ۔ ان سے منگل سوتر ، بھینس اور ٹونٹی تک کو خطرہ بتاتے ہیں اور باہر جاتے ہی ان کا رنگ روپ بدل جاتا ہے۔ وہاں تو وہ بالکل فرش راہ بن جاتے ہیں۔ یہ بدترین منافقت نہیں تو کیا ہے؟ ویسے اپنی ڈفلی اپنا راگ بجانے والے راندٔ درگاہ یو اے ای کے ساتھ جاکر مودی جی خود کو الگ تھلگ کرنے کی مہم جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔
مودی جی ابوظبی سے نیدرلینڈز پہنچے تو وہاں ڈچ وزیر اعظم روب ژیٹن نے یہ کہہ کر دھماکہ کردیا کہ ان کی حکومت اور یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کو مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار میں ملک کی صورتحال پر تشویش ہے۔ اس پر ہندوستانی فارن سیکرٹری سیبی جارج نے اسے صحافیوں کی ”کم فہمی‘‘ کو موردِ الزام ٹھہرا دیا ۔ ہندوستان کے اقلیتوں پر مظالم اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں پہلے مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر نشانہ بنایا جاتا تھا ان عیسائیوں کو تبدیلیٔ مذہب کا مافیا قرار دیا جارہا ہے اور اوپر سے منی پور کے فساد نے یوروپ اور امریکہ کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ڈچ وزیر اعظم نے ہندوستان کے اندر صحافتی آزادی پر بھی اپنی ناراضی ظاہر کی۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے حق نمک ادا کرتے ہوئے اس کی تردید کی مگر پچھلے ہی ہفتے معروف عالمی تنظیم جرنلٹس وداوٹ بارڈر کی رپورٹ میں ہندوستان کا 6؍ پائیدان نیچے کھسک کر 157؍ پر پہنچ جانے کو کیسے جھٹلایا جائے؟ فی الحال ہندوستان کی حالت نیپال ، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستان سے بھی خستہ ہوچکی ہے۔
اسی تناظر میں ڈچ اخبار دی فولکس کرانٹ کے ایک صحافی نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آخر مودی صحافیوں کے سوالات کے لیے دستیاب کیوں نہیں تھے؟ وہ شاید نہیں جانتا کہ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مودی نے صرف ایک بار 2019 میں ایک پریس کانفرنس کے اندرشرکت کی تھی۔ اپنی پارٹی ک ے دفتر میں بھی انہوں نے خود کسی سوال کا جواب نہیں دیا بلکہ انہیں امیت شاہ کی طرف موڑ دیا تھا۔وزیر اعظم کے دورے کا تیسرا ملک ناروے تھا جہاں صحافی ہیلے لِنگ نے سوال پوچھا تو مودی رکے بغیر کمرے سے باہر چلے گئے ۔اس کے بعد ہیلے لِنگ کو بدنام کرنے کے لیے غیر ملکی جاسوس بنایا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نےلکھا، ”میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یہ لکھنا پڑے گا، لیکن میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی جاسوس نہیں ہوں، نہ ہی کسی غیر ملکی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی ہوں۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے میرا سوال نہیں لیا، اور مجھے اس کی توقع بھی نہیں تھی۔ ناروے ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ بھارت 157ویں نمبر پر ہے۔ جن طاقتوں کے ساتھ ہم تعاون کرتے ہیں، ان سے سوال کرنا ہمارا کام ہے۔‘‘ مودی کی راہِ فرار نے لنگ کو ہیروئن بنادیا ۔ بی بی سی جیسے میڈیا ہاوس نے ان سے انٹرویو لیا نیز بزدلی اور دلیری کا انجام دنیا کے سامنے آگیا۔ مودی جی حریفوں کی زبان کاٹنےکے لیے دورے پر گئے مگر اپنے کان کٹوا کر لوٹ آئے۔ مودی جی کی نااہلی نے ملک کو شرمندہ کردیا۔
Post Views: 16