Skip to content
عشرہ ذوالحجہ ہے بخشش کا یہ استعارہ
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماہ محترم یعنی ماہ ذوالحجہ ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے اور اس کے ابتدائی چند دن گزر بھی چکے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ماہ محترم کو دیگر مہینوں پر ایک خاص فضیلت عطا کی ہے ، ماہ محترم کے ابتدائی دس دن تو اپنی خصوصی فضیلت کی وجہ سے دیگر ایام پر ممتاز مقام رکھتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے ان دس دنوں میں حج کے اہم ارکان وافعال کو جمع کردیا ہے، حجاج کرام ان ایام میں مناسک حج ادا کرتے ہیں،ماہ محترم اسلامی کیلنڈر کا بارھواں مہینہ ہے ،یہ اشہر حرم یعنی حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے ، حج کے ارکان کی ادائیگی کی وجہ سے اسے اشہر حج بھی کہا جاتا ہے ، ماہ محترم کی عظمت وبزرگی کے لئے اس کا اشہر حرم میں ہونا ہی کافی تھا مگر قرآن مجید میں اس کی عظمت وبزرگی کو الگ سے ذکر کیا ہے ،ارشاد ہے : وَالْفَجْرِ 0 وَلَیَالٍ عَشْرٍ ( الفجر:۲،۱) قسم ہے فجر کے وقت کی اور دس را توں کی،جمہور علماء کے نزدیک اس سے مراد عشرہ ذوالحجہ ہے بلکہ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر ابن جریر ؒ دونوں ہی نے تقریبا تمام مفسرین کا اجماع نقل کیا ہے کہ اس سے عشرہ ذوالحجہ کی دس راتیں مراد ہیں( تفسیر ابن کثیر : ۵۳۵/۴)، اللہ تعالیٰ نے عشرہ ذوالحجہ کے دن اور رات دونوں ہی میں انتہائی فضیلت رکھی ہے ،جو شخص بھی اس عشرہ کے دنوں اور راتوں میں عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دیگر دنوں اور راتوں کی عبادتوں کے مقابلہ میں زیادہ ثواب عطا فرماتے ہیں ، ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کوبندوں کی جانب سے عشرہ ذوالحجہ میں کی جانے والی عبادتیں دوسرے دنوں کی عبادتوں سے زیادہ پسند ہیں،عشرہ ذوالحجہ کی عبادتیں اور ان میں کئے جانے والے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک جہاد فی سبیل اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں ،سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ( عشرہ ذوالحجہ کے) ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو ( بندوں کے) نیک عمل بہت پسند ہیں،پوچھا گیا کہ(یا رسول اللہؐ ! کیا) جہاد فی سبیل اللہ سے(بھی) زیادہ( ان دنوں کے نیک عمل) پسند ہیں؟ تو( جواب میں) آپؐ نے ارشاد فرمایا: ہاں! سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور (ان میں سے) کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے( یعنی شہید ہوجائے)( مسند احمد:۱۹۶۸) ،عشرہ ذوالحجہ کے دنوں اور راتوں کی عبادتوں کی فضیلت اور اس کے اجر و ثواب کو بتاتے ہوئے رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: عبادت کئے جانے والے دنوں میں عشرہ ذوالحجہ سے زیادہ کوئی دن محبوب نہیں ہے (کیونکہ اللہ تعالیٰ ) ان دنوں میں ایک دن کا روزہ ( رکھنے والے کو ایک) سال کے روزوں کے برابر (ثواب دیتا)ہے اور اس کی ایک رات کے قیام (کا ثواب ایک) سال کے قیام کے برابر (ثواب رکھاگیا) ہے بلکہ ایک دوسری حدیث مبارکہ میں ہے کہ ان دس دنوں میں روزہ رکھنے کا ثواب ایک سال کے روزوں کے برابر اور ان دنوں کی راتوں میں قیام کرنے سے شب قدر میں قیام کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے (مشکوۃ: ۱/۱۷۹) ، ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہؐ کا معمول ذکر کیا گیا ہے کہ کان النبیؐ یصوم تسع ذی الحجہ ویوم عاشوراء وثلاثۃ من کل شھر (مسند احمد: ۵/۲۷۱) رسول اللہؐ ذوالحجہ کے نو دن ،عاشوراء کے دن اور ہر مہینہ تین دن روزہ رکھا کرتے تھے، عشرہ ذوالحجہ کے روزوں میں بھی نویں تاریخ کا روزہ جسے ’’صوم عرفہ‘‘ بھی کہتے ہیں اپنے اندر بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے ، اسی دن حجاج کرام حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کرتے ہیں ، اس دن سے زیادہ کسی دن بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں فرماتے ،اس دن بندوں سے قریب ہوتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان (میرے بندوں) نے کیا ارادہ کیا ہے؟ (وہ یقینا مغفرت کا ارادہ رکھتے ہیں تو فرشتوں کو گواہ بناکر اعلان مغفرت فرماتے ہیں) (مسلم: ۱۳۴۸)، رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن روزہ رکھنے والے سے خوش ہو کر اس کے ایک سال کے گناہ معاف فرماتے ہیں ، عرفہ کے دن روزہ رکھنے والے کے لئے ایک سال کے گناہوں کی معافی کا مژدہ سناتے ہوئے آپؐ نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ گزشتہ اور آئندہ (دو) سالوں کے (گناہوں) کا کفارہ ہوگا( مسلم: ۱۱۶۲)،مگر یاد رکھیں کہ یوم عرفہ کا روزہ حاجیوں کے لئے نہیں ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی صورت میں قوت کم ہوگی اور مناسک حج کی ادائیگی اور وقوف عرفہ میں حرج ہوگا ۔
عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت اور اس کے دنوں اور راتوں میں کثرت سے عبادت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے خاص کر دن میں روزہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ اجر وثواب اور گناہوں کی معافی کی بشارت دی گئی ہے اس کے علاوہ تکبیر وتہلیل اور ذکر وشکر کی بھی ترغیب دی گئی ہے کہ بندے ان دنوں میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں کیونکہ ان دنوں میں کثرت ذکر محبوب ترین عمل ہے ،قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْ أَیَّامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ (الحج:۲۷) معلوم دنوں میں اللہ کو یاد کریں،معلوم دنوں سے کونسے دن مراد ہیں اس بارے سیدنا علی مرتضیؓ ،سیدنا ابن عباسؓ اور دیگر فرماتے ہیں کہ اس سے عشرہ ذوالحجہ مراد ہیں(البحر المحیط : ۶/ ۲۳۸) ، اس آیت مبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے اہل علم فرماتے ہیں کہ عشرہ ذوالحجہ میں جہاں ایک طرف روزہ رکھنا مستحب ہے وہیں دوسری طرف کثرت سے ذکر واذکار کرنا بھی مستحب اور باعث اجر وثواب ہے ،ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہؐ نے عشرہ ذوالحجہ میں ذکر واذکار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک ان دس دنوں میں نیک عمل کرنا جس قدر محبوب ہے اتنا دوسرے دنوں میں محبوب نہیں ہے اس لئے تم ان دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ ،اللہ اکبر اور الحمد للہ کہا کرو( مسند احمد: ۵۴۴۶) ، سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ اور سیدنا ابوہریرہؓ ذوالحجہ کے دس دنوں میں بازار کی طرف نکل جاتے تھے اور بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے چناچہ ان سے تکبیر سن کر لوگ بھی تکبیر کہا کرتے تھے،اسی لئے اہل علم فرماتے ہیں کہ عشرہ ذوالحجہ میں چلتے پھرتے ،اٹھتے بیٹھتے کثرت سے تکبیر وتہلیل کہتے رہنا چاہئے ،اہل علم یہ بھی فرماتے ہیں کہ ذوالحجہ کے دس دنوں میں ان کلمات کا ورد کرنا بھی بہتر ہے جن کے پڑھنے پر احادیث مبارکہ میں بیش بہا اجر وثواب کی خوشخبری سنائی گئی ہے، ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہؐ کا ارشاد ہے کہ پاکی آدھا ایمان ہے،الحمد للہ میزان(ترازو) کو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ ،الحمد للہ آسمان وزمین کے درمیانی خلا کو بھر دیتا ہے(مسلم:) اور ایک حدیث مبارکہ میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: دو کلمے اللہ کو بہت پسند ہیں،زبان پر بہت ہلکے ہیں ،میزان(عمل) میں بہت بھاری ہیں ،وہ دونوں کلمے یہ ہیں،سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم(بخاری:۶۴۰۴)،ایک اور حدیث مبارکہ ہے جس میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو یہ چار کلمے بہت پسند ہیں(۱) سبحان اللہ(۲) والحمد للہ(۳) ولا الہ الا اللہ (۴) واللہ اکبر، آگے حدیث میں ہے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی ابتداء کریں کوئی حرج نہیں ہے (مسلم: ۲۱۳۷) ایک حدیث مبارکہ میں آپؐ نے مذکورہ کلمات کو دنیا وما فہھا سے بہتر بتایا ہے(مسلم: ۲۶۹۵)، ایک موقع پررسول اللہ ؐ نے صحابہؓ سے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنی زبان سے دس بار یہ دعا پڑھے: ’’لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ،لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر‘‘ تو اس دعا کے پڑھنے والے کو سیدنا اسماعیلؑ کی اولاد سے چار غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب حاصل ہوگا(مشکوۃ: ۲۳۹۵) ایک موقع پر آپؐ نے صحابہؓ نے ارشاد فرمایا :کیا تم میں کوئی ہر دن ایک ہزار نیکیاں کر سکتا ہے؟ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا ہم میں کوئی ہر دن ہزار نیکیاں کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: جو شخص سبحان اللہ سو مرتبہ پڑھتا ہے اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور یا ہزار خطائیں مٹائی جاتی ہیں(مسلم: ۲۶۹۸)۔
عشرہ ذوالحجہ میں روزہ رکھنا اور کثرت سے تہلیل وتکبیر کہنا مستحب ہے وہیں ایام تشریق یعنی نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرویں ذوالحجہ کی عصر تک ان پانچ دنوں میں ہر فرض نماز کے بعد تکبیر تشریق کہنے کی فضیلت آئی ہے،ابن شہاب زہریؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ ایام تشریق میں تکبیر پڑھتے تھے،سیدنا عمر فاروقؓ نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرویں ذوالحجہ کی نماز عصر تک تکبیر تشریق پڑھتے تھے اوی اسی طرح سیدنا علی مرتضیؓ بھی پڑھا کرتے تھے( مصنف ابن ابی شیبہ :۲/۱۶۵) اس لئے علماء نے احادیث اور اثار صحابہؓ کی روشنی میں ہر فرض نماز کے بعد تکبیر تشریق کہنے کو واجب کہا ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ تکبیر تشریق ہر فرض نماز جس میں جمعہ بھی شامل ہے کے بعد مرد ،عورت،مقیم ،مسافر،حاجی وغیر حاجی ،تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے والے پر ایک مرتبہ واجب ہے ،مسبوق یعنی جس کی ایک یا اس سے زائد رکعتیں چھوٹ گئی ہیں کے لئے بقیہ نماز سے فراغت پر تکبیر کہنا واجب ہے ،اہل علم نے نماز عید الاضحی کے بعد تکبیر تشریق کہنے کو واجب قرار نہیں دیا ہے البتہ اگر پڑھ لی جائے جیسا کہ معمول ہے تو باعث ثواب ہے ،( حاشیہ رد المحتار علی الدرالمختار ۲/۱۷۹)،تکبیر تشریق کے متعلق علماء فرماتے ہیں کہ فرض نماز کے فوراً بعد کہنا چاہئے ،اگر کوئی سلام کے بعد تکبیر کہنا بھول جائے تو خلاف نماز کوئی کام نہیں کیا ہے تو یاد آنے پر پڑھنا چاہئے ،راجح قول کے مطابق صرف ایک مرتبہ کہنا سنت ہے اور ایک سے زائد خلاف سنت ہے،تکبیرات تشریق یہ ہیں: اللہ اکبر اللہ اکبر ،لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ،اللہ اکبر وللہ الحمد۔
عشرہ ذوالحجہ اور خاص طور سے عرفہ کے دن دعاؤں کا خاص اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ یہ دعاؤں کے قبولیت کے خاص دن ہیں ،ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں ہوتی ہے اور مانگنے والے بندے رحمت الٰہی سے نوازے جاتے ہیں ،رسول اللہؐ نے خاص طور سے عرفہ کے دن کی دعا کو بہترین دعا فرمایا ہے اور دعا کے الفاظ بھی بتلائے ہیں ،آپؐ نے ارشاد فرمایا: سب سے بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور سب سے افضل دعا (الفاظ کے اعتبار سے) جو میں اور مجھ سے پہلے انبیاءؑ نے کی ہے وہ یہ ہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ،لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر( ترمذی: ۳۵۸۵)،اس حدیث مبارکہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یوم عرفہ ایسا خاص دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بندوں کی جانب متوجہ ہوتی ہےاور الفاظ حدیث سےیہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ توحید اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کو پانے کا یہ خاص موقع ہے تا کہ بندے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تقرب حاصل کر سکیں ،خوش نصیب ہیں وہ بندے جو اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں اور تکبیر وتہلیل ،صوم صلوۃ اور ذکر ودعا کے ذریعہ تقرب الٰہی حاصل کرتے ہیں اور اپنی بخشش کا سامان پیدا کرتے ہیں ،کسی شاعر نے خوب کہا ہے ؎
موسم حج ہے ،فضیلت ہے جس کی بڑی
یہ عشرہ ذوالحجہ ہے ،یہ نیکی کی گھڑی
یہی وہ دن ہیں جن کی قسم رب نے اُٹھائی ہے
مسلماں کے لئے ہے یہ رحمت کی گھڑیاں آئی
یہاں بندہ مومن کرے ذکر الٰہی
خدا کی رضا کے لئے ہو سچی گواہی
دعا،توبہ،نیکی کا یہ موسم ہے پیا را
عشرہ ذوالحجہ ہے،بخشش کا یہ استعارہ
Post Views: 12