Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
احکامِ قربانی کا عاقلانہ تجزیہ
اثر خامہ:
مفتی شیخ محمود الرحمن قاسمی گنٹوری
خادم۔ مدرسہ دارالعلوم محمودیہ کالا تالاب گنٹور آندھراپردیش
الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، ونشھد أن سیدنا ومولانا محمدًا عبدہ ورسولہ، صلی اللہ علیہ وعلى آلہ وأصحابہ أجمعین، أما بعد:
فإن أعظم ما یتقرب بہ العبد إلى ربہ بعد الإیمان بہ، هو الامتثال لأوامرہ، والتسلیم لأحکامہ، وإن خفیَت حکمُہا عن العقول، وقصرت عن إدراک أسرارہا الأفہام۔
قربانی محض ایک مذہبی روایت یا جانور کے خون بہانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اطاعتِ الٰہی، ایثارِ نفس اور اس جذبۂ ابراہیمی کی ابدی یادگار ہے جس نے تاریخِ انسانی کو بندگی کا قرینہ سکھایا۔ عقلِ سلیم جب احکامِ قربانی کا غائر مطالعہ کرتی ہے، تو اسے اس کے پسِ پردہ ایک ایسا ہمہ گیر نظامِ حیات متحرک نظر آتا ہے جو بیک وقت روحانی بالیدگی، معاشی استحکام اور سماجی عدل کا ضامن ہے۔ یہ عبادت انسان کو مادیت کے تنگ حصار سے نکال کر ایثار کی اس معراج پر کھڑا کرتی ہے جہاں "خون اور گوشت” ثانوی ہو جاتے ہیں اور "تقویٰ” مقصودِ اصلی ٹھہرتا ہے۔ زیرِ نظر تجزئیے میں ہم قربانی کے احکام کو حکمت، معاشی نفع بخشی اور انسانی فلاح کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کریں گے۔
عقلی و روحانی تناظر:
قربانی کا پہلا اور بنیادی سبق "خودی” کو خدا کے سپرد کرنا ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ جس رب نے زندگی اور مال عطا کیا، اس کی رضا کے لیے اس مال کا ایک حصہ خوش دلی سے قربان کیا جائے۔ قرآنِ کریم نے واضح فرمایا کہ اللہ کو جانور کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں کا تقویٰ دیکھتا ہے۔ یہ عمل انسان کے اندر سے حرص، طمع اور بخل جیسی باطنی بیماریوں کا قلع قمع کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات کی ہر شے کا اصل مالک اللہ ہے، اور بندہ محض ایک امانت دار ہے۔
معاشی تحریک اور گردشِ دولت:
اگر معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عید الاضحیٰ مسلم دنیا میں ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ گلہ بانی (Livestock) کی صنعت کو اس سے جو جلا ملتی ہے، اس کی مثال کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتی۔ دیہی علاقوں کے غریب کسانوں اور چرواہوں سے لے کر شہر کے ٹرانسپورٹرز، قصابوں، چمڑے کی صنعت کے ورکرز اور خوراک کی فراہمی سے جڑے لاکھوں خاندانوں کا رزق اس ایک عبادت سے وابستہ ہے۔ یہ دولت کے ارتکاز کو توڑنے اور اسے معاشرے کے نچلے طبقے تک منتقل کرنے کا ایک خودکار اور مؤثر فطری ذریعہ ہے۔
سماجی مساوات اور پروٹین کی فراہمی:
اسلام نے قربانی کے گوشت کی تقسیم کا جو ضابطہ (تین حصے) مقرر کیا ہے، وہ سماجی ہمدردی کا شاہکار ہے۔ آج کے دور میں جہاں مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کے لیے گوشت جیسی بنیادی غذائی ضرورت کو ناممکن بنا دیا ہے، وہاں قربانی ان محروم طبقوں تک اعلیٰ درجے کی پروٹین پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ عمل معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خلیج کو کم کرتا ہے اور امیر و غریب کو ایک دسترخوان پر جمع کر کے اخوت و محبت کی فضا قائم کرتا ہے۔
ادارتی فلاح اور اجتماعی فائدہ:
قربانی کے جانوروں کی کھالیں ایک ایسا عظیم صدقہ ہیں جو ہسپتالوں، یتیم خانوں اور مدارس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہزاروں فلاحی ادارے سال بھر کا بجٹ انھی کھالوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے ترتیب دیتے ہیں۔ یوں ایک جانور کی قربانی محض ایک گھرانے کی عبادت نہیں رہتی، بلکہ ایک وسیع تر انسانی خدمت کے منصوبے کا حصہ بن جاتی ہے
قربانی اور مادہ پرستی
قربانی اسلام کے ان شعائرِ عظیمہ میں سے ہے جو بندۂ مومن کی اطاعت، ایثار اور تسلیم و رضا کی روشن علامت ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ قربانی کے ایام محدود اور متعین ہیں، یعنی دس، گیارہ اور بارہ ذی الحجہ—یہ وہ مبارک دن ہیں جن میں اس عبادت کو ادا کرنا مشروع اور لازم ہے۔
لیکن افسوس کہ ہم ایک ایسے پُرفتن دور سے گزر رہے ہیں جہاں دین کے مسلّمات اور اس کے بنیادی ارکان تک کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض مادہ پرست ذہنیت کے حامل افراد نے یہاں تک کہہ دیا کہ قربانی محض ایک بے فائدہ عمل اور دولت کا ضیاع ہے (العیاذ باللہ)، اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سے قوم کا لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں روپیہ ناحق ضائع ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراضات دراصل اس ذہن کی پیداوار ہیں جو ہر چیز کو نفع و نقصان کے مادی پیمانوں سے ناپنے کا عادی ہو چکا ہے۔
اسی مناسبت سے ایک لطیف حکایت یاد آتی ہے: ایک تاجر مزاج شخص نے کہا کہ تاجر ذہن رکھنے والوں کو ہر سمت صرف سرمایہ ہی گردش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک تاجر جب نزع کے عالم میں تھا تو فرشتوں نے اس سے سوال کیا: "بتاؤ، تمہیں جنت میں لے جایا جائے یا جہنم میں؟” اس نے جواب دیا: "جہاں چار پیسے کا زیادہ فائدہ ہو، وہیں لے جاؤ!”
یہ حکایت دراصل اس مادہ پرستانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے جس میں ہر عمل کی قدر و قیمت محض مالی منفعت سے متعین کی جاتی ہے، حالانکہ قربانی کا اصل مقصد مال خرچ کرنا نہیں بلکہ دل کو اللہ کی محبت میں فنا کرنا اور اپنی خواہشات کو اس کے حکم کے سامنے قربان کر دینا ہے۔
فلسفہ قربانی
قربانی محض ایک مالی عبادت یا ظاہری رسم نہیں، بلکہ یہ در حقیقت ایک عظیم الشان یادگار ہے – ایک ایسی یادگار جو اطاعت تسلیم و رضا اور عشقِ الٰہی کی بے مثال داستان اپنے اندر سموئےہوئے ہے۔ یہ یادگار ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی سب سے قیمتی متاع، اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی قربان کرنے میں ذرہ برابر تردد نہ کیا۔
افسوس کہ بعض نادان لوگ اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں اور قربانی کو محض مال کا ضیاع سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ اگر وہ قرآن کریم کی تعلیمات پر غور کریں تو حقیقت ان پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس واقعہ کو ذکر فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا: اپنے بیٹے کو ذبح کرو!
اب ذرا ٹھہر کر سوچیے یہ حکم کس قدر عظیم امتحان تھا؟ ایک باپ کے لیے اپنے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں ذبح کرنا! حالانکہ قرآن کریم یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ کسی بے گناہ انسان کا قتل کتنا بڑا جرم ہے:
مَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا (سورة النساء: 93)
ترجمہ: جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
یہاں ایک نہایت لطیف اور عمیق نکتہ پوشیدہ ہے: ایک طرف قتل ناحق کی سخت ترین مذمت اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا اپنے خلیل کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا اصل مقصد کسی جان کو ضائع کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات، جذبات اور محبتوں کو قربان کر دینا ہے۔
چنانچہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس حکم کی تعمیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم جذبۂ اطاعت کو قیامت تک کے لیے ایک یادگار بنا دیا اور ایک دنبہ بھیج کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا۔
لہٰذا قربانی دراصل اس اعلان کا نام ہے کہ: "اے اللہ! ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ سب تیرا ہے، اور اگر تو حکم دے تو ہم اپنی سب سے عزیز چیز بھی تیری راہ میں قربان کرنے کو تیار ہیں۔”
پس جو لوگ اسے محض مالی نقصان سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت اس کے روحانی ایمانی اور اخلاقی پہلوؤں سے ناواقف ہیں۔
قربانی مال کا ضیاع نہیں، بلکہ ایمان کی بقا، محبت الٰہی کا اظہار، اور سنت ابراہیمی کی تجدید ہے۔
مزید برآن شریعت اسلامیہ نے تو حالتِ جہاد میں بھی انسانیت کے اصولوں کو پامال نہیں ہونے دیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ دشمنوں کے بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔ غور کیجیے! جب میدانِ جنگ جیسی سنگین حالت میں بھی ایک نابالغ بچے کے قتل کی اجازت نہیں تو عام حالات میں کسی معصوم جان کو نقصان پہنچانا کس قدر قبیح اور خلاف انسانیت ہوگا۔
اسی بنا پر اگر عقلِ محض کی میزان پر اس مسئلہ کو پرکھا جائے تو یہ بات بظاہر ناقابل فہم محسوس ہوتی ہے کہ ایک باپ کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنے ہی بیٹے کو قربان کر دے۔ عقل حیران رہ جاتی ہے، دل ٹھٹھک جاتا ہے، اور انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر اس معصوم کا کیا قصور؟
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں بندگی اور عبدیت کا اصل جوہر نمایاں ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم ملا تو انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ : اے اللہ! جس بیٹے کو میں نے دعاؤں اور آرزوؤں کے بعد پایا، اس کا کیا جرم ہے؟ اور اگر کوئی خطا بھی ہے تو اس کے ازالے کا یہی طریقہ کیوں؟
نہیں! انہوں نے کوئی سوال نہ کیا، اس لیے کہ جہاں حکم الٰہی آ جائے وہاں سود و زیاں کے پیمانے ختم ہو جاتے ہیں۔ وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا؛ راحت ہے یا تکلیف – بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ حکمِ خداوندی کیا ہے؟”
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ فرمایا: يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى (سورة الصافات (102)
ترجمہ: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، پس تم اپنی رائے بتاؤ۔”
یہ بھی غور طلب ہے کہ انہوں نے حکم سناتے ہوئے جبر کا انداز اختیار نہیں کیا، بلکہ بیٹے کی رائے دریافت فرمائی – یہ تربیت کا اعلیٰ ترین اسلوب ہے۔
ادھر بیٹا بھی کوئی عام بیٹا نہ تھا؛ وہ خلیل اللہ کا فرزند تھا، وہ ہستی جس کی نسل سے آگے چل کر سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم تشريف لانے والے تھے۔ اس نے بھی پلٹ کر یہ نہیں پوچھا کہ: ابا جان! میرا قصور کیا ہے؟ میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے؟”
بلکہ اس نے کامل اطاعت اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کیا:
يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ 103-102 :سورة الصافات(
ترجمہ: اے میرے محترم ابا جان! آپ کو جو حکمِ الٰہی دیا گیا ہے، اسے بلا تردد پورا فرما دیجیے؛ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر و استقامت اختیار کرنے والوں میں سے پائیں گے۔”
یہی وہ مقام ہے جہاں قربانی کا حقیقی فلسفہ آشکار ہوتا ہے: یہ محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، اپنی خواہشات اپنی محبتوں اور اپنے جذبات کو اللہ کے حکم کے تابع کر دینے کا نام ہے۔
حرفِ آخر
حاصلِ کلام یہ ہے کہ قربانی کو اگر محض ایک رسم یا مالی خرچ سمجھا جائے تو یہ اس کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ قربانی ایک ہمہ جہت عبادت ہے جو انسان کے ظاہر و باطن، انفرادی و اجتماعی اور روحانی و معاشی تمام پہلوؤں کو سنوارتی ہے۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ:
اللہ کی رضا کے سامنے ہر شے ہیچ ہے،
بندگی کا تقاضا سوال نہیں بلکہ تسلیم ہے،
اور کامیابی کا راز اپنے نفس کو خدا کے حکم کے تابع کرنے میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کی روح کو سمجھیں، اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اتاریں، اور اس عظیم سنت کو محض ایک رسم کے طور پر نہیں بلکہ ایک شعور، ایک جذبہ اور ایک مشن کے طور پر زندہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی طرح کامل اطاعت، بے مثال صبر، اور سچی قربانی کا جذبہ نصیب فرمائے، اور ہماری اس حقیر سی قربانی کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
Post Views: 12