Skip to content
جمعہ نامہ: ترے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: ’’کہو! خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے ، حکومت دے اور جس سے چاہے ، چھین لے‘‘ ۔ اس آیت کریمہ کا شانِ نزول غزوۂ احزاب ہے۔ غزوۂ بدر اور اور احد کے بعد مشرکین مکہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ ’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘۔ وہ تنہا اسلام کی بیخ کنی نہیں کرسکتے اس لیے تمام قبائل کو ساتھ لے کر ایک متحدہ لشکر تشکیل دیا گیا تاکہ یکبارگی حملہ کرکے اسلام کے پھلتے پھولتے پودے کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’۰۰انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں‘‘۔ اس معرکہ حق و باطل کے وقت خوف، سردی اور بھوک سے مسلمانوں کا برا حال تھا، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے۔ اس وقت حضرت سلمان فارسیؓ نے تحفظ کی خاطر خندق کھولنے کا مشورہ دیا جس کو نبی کریم ﷺ نے قبول فرمالیا اور مختلف لوگوں کو کھودنے کے لیے قطعات زمین تقسیم کردئیے نیز اپنے حصے پر کدال چلانے لگے۔ اس دوران ایک چٹان آڑے آگئی تو صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ سے رجوع کیا۔
نبی کریم ﷺ کو اس وقت خندق کی کھدائی کے دوران فارس و روم اور یمن کے محلات دکھائے گئے۔ آپﷺ نے ایک ایک کرکے فرمایا کہ فارس و روم جیسی سُپر پاور سمیت یمن کو مسلمان فتح کریں گے یعنی ان ملکوں میں اسلامی حکومت قائم ہوگی ۔ نبی کریم ﷺ کی بشارتوں پر منافقین کو یقین نہیں تھا، کہ مستقبل اسلام کا ہے اور حق کا بول بالا ہو کر رہے گا۔ وہ اس بات کو لے کر مسلمانوں کا مذاق اڑانے لگے کہ ایک طرف جہاں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ، روم و فارس پر فتح کیا معنیٰ؟ مسلمانوں کے پاس تو ڈھنگ کا مال و اسباب بھی نہیں تو ایسے میں یہ فتوحات کیونکر ممکن ہو سکتی ہیں؟ وہ دنیا پرست لوگ انقلابات زمانہ اورقوموں کے عروج و زوال کی تاریخ سے ناواقفِ حال تھے۔ انہیں نہیں پتہ تھا کہ قوم نوح اور عاد و ثمود جیسی طاقتور قومیں کیسے ملیا میٹ کردی گئیں۔ ظاہری شان و شوکت کے پرستار یہ نہیں جانتے کہ دنیا کی ساری طاقتیں اور حکومتیں سب ایک ذات پاک کے قبضہ قدرت میں ہیں۔وہ بلا شبہ غریبوں اور فقیروں کو تخت و تاج کا مالک بنانے پر قادر ہے۔ یہ خندق کھودنے والےمستقبل میں عراق اور یمن کے حاکم ہوسکتے ہیں ۔ وہاں پر حکمرانی کرنے والے نمرود کی مانند ذلیل ہوکر مرسکتے ہیں اور فرعون کی طرح رسوا ہوکر غرقاب کیے جاسکتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں افغانستان کا یکے بعد دیگرے سوپر پاورس سوویت یونین اور امریکہ کو پسپا کرنا نیز ایران کے ذریعہ جوہری اسلحہ سے لیس اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو پسپا ہونا ناقابلِ یقین حقائق ہیں ۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا؎
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اس آیت کے اگلے حصے میں فرمانِ قرآنی ہے:’’(تو ) جسے چاہے ، عزّت بخشے اور جس کو چاہے ، ذلیل کر دے ۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے ۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ‘‘۔کمزور ایمان والے عزت و سرخروئی کے لیے کفر کی پناہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا:’’کیا کافروں کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ عزت تو ساری اللہ ہی کے لیے ہے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ عزیز ہے اور وہ جس کو چاہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ذلیل کردیتا ہے۔ اسی طرح ارشادِ باری تعالٰی ہے:’’اللہ کی ہے عزت (بالذات ) اور اس کے رسول (ﷺ) کی (بواسطہ تعلق مع اللہ کے ) اور مسلمانوں کی (بواسطہ تعلق مع اللہ والرسول کے )لیکن منافقین نہیں جانتے "۔یہاں پر دعائیہ اسلوب سکھایا گیا ہے کہ مسلمانو اس طرح دعا مانگوتو ہم تمہیں بےمثال سلطنت عطا کریں گے۔ یہ دعا عنقریب دنیا کےکایا پلٹ کی خوشخبری تھی۔ اس کے نتیجے میں بےسروسامان مسلمانوں کو عزت و سلطنت کا مالک بننا تھا۔ ظالم حکمرانوں کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ذلت کے گڑھے میں گرنا تھا ۔ دنیا کے نقشے پر فی الحال اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی ذلت و رسوائی کے سمندر میں غوطہ زن ہیں۔
نیتن یاہو فی الحال دنیا کے سب سے ناپسندیدہ شخصیت ہے۔ لوگ اس جنگی مجرم سے سخت نفرت کرتے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے خود اپنے آپ کو مذاق بنا رکھا ہے۔ ان کی کسی بات پر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ ان کی دھمکیاں بے سود اور امن کی پیشکش بے معنیٰ ہوکر رہ گئی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی جب نیدر لینڈ جاتے ہیں ان سے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والےمظالم کے حوالے اعتراض کیا جاتا ہے۔ حکومتِ ہند کی جانب اس کی تردید بھی ایک لطیفہ بن کر رہ جاتی ہے کیونکہ گجرات ، منی پور، مساجد اور گرجا گھروں پر حملے ایک زندہ حقیقت بن چکے ہیں ۔ وہاں سے منہ چھپا کر موصوف ناروے پہنچتے ہیں تو وہاں صحافتی آزادی انہیں اپنے چنگل میں جکڑ لیتی ہے۔ ہیلی لنگ کے سوال پر وہ راہِ فرار اختیار کرکے عالمی رسوائی کی علامت بن جاتے ہیں ۔ ناروے کا اخبارایک کارٹوں میں انہیں سپیرا بناکر پیش کرکے اور پٹرول کے پائپ کو ناگ کی طرح ان کے سامنے سجا دیتا ہے۔ ناروے آزادیٔ صحافت کی فہرست میں پہلے اور ہندوستان 157ویں پر پاکستان و بنگلہ دیش سے بھی نیچے ہے۔ ایسے میں کون یہاں پریس کی آزادی دفاع کرسکتا ہے۔ یہ ذلت و رسوائی دنیا کی سب سے عظیم ، وسیع ترین اور نہایت اسمارٹ ممالک کے حکمرانوں کا مقدر بنی ہوئی ہے ۔ ان میں سے ایک کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے کی فوج سب سے طاقتور اور تیسرا مکاری و عیاری میں سب سے آگے نکلا ہواہے۔ اس کے باوجود یہ ساری چیزیں کسی کام نہ آئیں۔ کوئی چالاکی کارگرنہیں ہوئی کیونکہ عزت کا سرچشمہ خدائے واحد کی ذاتِ والا صفات ہے اور وہ جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے ۔ وہ اس پر قادر ہے اور یہ تریمورتی اس کی گواہی دے رہی ہے۔ ایسے لوگوں پر شبینہ ادیب کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں
ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں ابھی تو شہرت نئی نئی ہے
Post Views: 98