Skip to content
اسکرین بمقابلہ زمین: بھارتی انتخابات کی ان کہی داستان
(ڈیجیٹل شور اور پولنگ بوتھ کا سکوت: 2026ء کے انتخابی نتائج کا تجزیہ)
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
4 مئی 2026ء کو جب پانچ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی اسمبلی نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوا، تو سیاسی تجزیہ نگاروں کو ایک بار پھر اس پرانی الجھن کا سامنا کرنا پڑا جو ڈیجیٹل عہد میں جمہوریت کا سب سے بڑا معمہ بن چکی ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی نے 206 نشستوں کے ساتھ تاریخی فتح حاصل کی اور ترنمول کانگریس کی پندرہ سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا، جبکہ 2021ء کے انتخابات میں پارٹی کو صرف 77 نشستیں ملی تھیں۔ آسام میں پارٹی نے مسلسل تیسری بار کامیابی کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ کیرالا میں کانگریس کی قیادت میں یو ڈی ایف نے 102 نشستوں کے ساتھ دس سالہ بائیں محاذ کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ تمل ناڈو میں اداکار وجے کی ‘تملگا ویٹری کژگم’ (ٹی وی کے) نے اپنے پہلے ہی انتخاب میں 108 نشستوں کے ساتھ ریاست کی سیاسی بساط الٹ کر رکھ دی، اور پڈوچیری میں این ڈی اے نے اپنی برتری برقرار رکھی۔ لیکن جس چیز نے سب سے زیادہ توجہ کھینچی، وہ سوشل میڈیا کے شور اور پولنگ بوتھ کی خاموشی کے درمیان پائی جانے والی وہ عمیق خلیج تھی جسے سمجھے بغیر 2026ء کے ان نتائج کی اصل نوعیت کو سمجھنا ممکن نہیں۔
اس خلیج کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے بھارت کی ڈیجیٹل حقیقت کو اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔ 2026ء کے اوائل تک ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 1.03 بلین (ایک ارب تین کروڑ) سے تجاوز کر چکی تھی، جو چین کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی آن لائن آبادی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی تعداد بھی متاثر کن ہے: واٹس ایپ کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 535 ملین ہے، یوٹیوب کے اشتہاری صارفین کی تعداد 467 ملین ہے، جبکہ فیس بک کے 679 ملین اور انسٹاگرام کے 517 ملین صارف اکاؤنٹس بھارت میں موجود ہیں۔ لیکن یہ اعداد و شمار اپنے اندر ایک تلخ حقیقت بھی چھپائے ہوئے ہیں: ‘ایم ایکس ایم انڈیا’ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی صرف 43.9 فیصد آبادی سوشل میڈیا پر موجود ہے، جبکہ عالمی اوسط 68.7 فیصد ہے۔ مزید برآں، 440 ملین بھارتی اب بھی انٹرنیٹ کی دنیا سے باہر ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی سیاسی گفتگو بھارت کے اس وسیع تر عوامی مزاج کی نمائندگی نہیں کرتی جو زمینی سطح پر موجود ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ‘ایکو چیمبر’ (Echo Chamber) اور ‘فلٹر ببل’ (Filter Bubble) کی اصطلاحات محض علمی مباحث سے نکل کر انتخابی تجزیے کا عملی حصہ بن جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم صارف کو وہی مواد دکھاتے ہیں جس سے وہ پہلے سے متفق ہے یا جس پر وہ ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ یوں ہر صارف آہستہ آہستہ اپنی ہی سوچ کے ایک ایسے ‘گونج کمرے’ میں قید ہو جاتا ہے جہاں مخالف آوازیں بمشکل سنائی دیتی ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے 2025ء کے مطالعے کے مطابق، بھارت میں سروے کیے گئے 65 فیصد افراد نے جعلی خبروں اور من گھڑت معلومات کو ایک "انتہائی سنگین مسئلہ” قرار دیا، جو عالمی سطح پر بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ پلیٹ فارمز کے ڈیزائن نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ برطانیہ کے ‘آف کام’ کے 2026ء کے سروے کے مطابق، فعال طور پر پوسٹ کرنے، شیئر کرنے یا تبصرہ کرنے والوں کی تعداد 2024ء کے 61 فیصد سے کم ہو کر 49 فیصد رہ گئی تھی۔ لوگ تیزی سے غیر فعال صارف بنتے جا رہے ہیں؛ وہ دیکھتے ہیں، اسکرول کرتے ہیں، مگر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے۔ اور یہ خاموشی سیاسی تجزیے کے لیے ایک مہلک اندھا دھبہ (Blind Spot) ثابت ہوتی ہے۔
یہی خاموشی 2026ء کے اسمبلی انتخابات کا سب سے بڑا تجزیاتی چیلنج بن کر ابھری۔ جب ‘ایکسس مائی انڈیا’ نامی پولنگ ایجنسی نے مغربی بنگال کے انتخابات کے بعد اپنے ایگزٹ پول کے اعداد و شمار جاری کرنے سے انکار کر دیا، تو پورے سیاسی حلقے میں ہلچل مچ گئی۔ ایجنسی کے بانی پردیپ گپتا نے صاف الفاظ میں کہا کہ 70 فیصد جواب دہندگان نے اپنے ووٹ کی ترجیح بتانے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے کوئی بھی نمونہ (Sample) شماریاتی طور پر نمائندہ نہیں رہا تھا۔ انہوں نے اسے "خوف کا ماحول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدم جوابی کی یہ شرح تاریخی معیار سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ محض بے اعتنائی نہیں تھی، بلکہ دانستہ خاموشی تھی۔ ماہرین نے اسے ‘خاموش ووٹر کا مظہر’ (Silent Voter Phenomenon) قرار دیا؛ یعنی وہ ووٹر جو بڑی تعداد میں ووٹ تو ڈالتا ہے مگر اپنی سیاسی ترجیح ظاہر نہیں کرتا IMC۔ یہ خاموشی کسی ایک ریاست تک محدود نہیں تھی۔ آسام میں اپوزیشن لیڈر دیبرتا سائکیہ نے علی الاعلان کہا کہ لوگ بی جے پی کے کارندوں کے ڈر سے خاموش ہیں اور اپنی اصل رائے چھپا رہے ہیں۔ 1974ء میں جرمن سیاسی سائنس دان ایلزبتھ نوئل نیومن نے ‘اسپائرل آف سائیلنس’ (Spiral of Silence) کا جو نظریہ پیش کیا تھا، وہ 2026ء کے بھارت میں زندہ حقیقت بن چکا تھا، جہاں لوگ اس خوف سے اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے کہ کہیں وہ اکثریت سے الگ دکھائی نہ دیں اور سماجی تنہائی کا شکار نہ ہو جائیں۔
اس خاموشی کے پیچھے ایک اور اہم عنصر کارفرما تھا جسے سوشل میڈیا کے شور میں سننا مشکل ہے: یعنی براہِ راست فائدہ منتقلی یا ڈی بی ٹی (Direct Benefit Transfer) کی اسکیموں کا خاموش مگر گہرا اثر۔ مارچ 2026ء میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گوہاٹی میں ‘پی ایم کسان اسکیم’ کی 22ویں قسط جاری کی، جس کے تحت 9.32 کروڑ سے زائد کسانوں کو 18,640 کروڑ روپے براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے، جن میں 2.15 کروڑ خاتون کسان بھی شامل ہیں۔ اس اسکیم کے آغاز سے لے کر اب تک 4.27 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم براہِ راست کسانوں تک پہنچائی جا چکی ہے۔ ڈی بی ٹی کے نفاذ سے حکومت کو اب تک 4,31,138 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے، جو 5.87 کروڑ ڈپلیکیٹ اور جعلی راشن کارڈز، 4.23 کروڑ ڈپلیکیٹ اور غیر فعال ایل پی جی کنکشنز، اور 1.26 کروڑ جعلی جاب کارڈز کے خاتمے سے ممکن ہوئی۔ آسام میں بی جے پی کی انتخابی مہم کا مرکز "اورونودوئی” نامی ڈی بی ٹی اسکیم تھی، جس کے تحت 40 لاکھ مستحق خواتین کو ماہانہ 1,250 روپے براہِ راست ان کے کھاتوں میں ملتے ہیں۔ جب کسی گھر کا چولہا، راشن اور روزمرہ کی ضروریات حکومت کی ان اسکیموں سے جڑ جائیں، تو سوشل میڈیا پر چلنے والے غصے کا وزن خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی مجبوری نہیں بلکہ زمینی جمہوریت کی ٹھوس حقیقت ہے۔
اسی زمینی حقیقت کا اگلا باب بی جے پی کی تنظیمی مشینری ہے، جو ڈیجیٹل شور کے برعکس خاموشی سے مگر انتہائی موثر طریقے سے کام کرتی ہے۔ 2026ء کے اسمبلی انتخابات سے پہلے آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے "بوتھ وجے ابھیان” کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کیا، جس کے تحت وہ خود جالوکباری حلقے کے بوتھ نمبر 32 کے رہائشیوں سے ملے اور زمینی سطح پر پارٹی کی رسائی کو مضبوط کیا۔ یہ طاقت صرف جسمانی موجودگی تک محدود نہیں تھی۔ سوشل میڈیا نے بھی اپنا کردار ادا کیا، لیکن اس کا اصل کردار شور مچانے سے زیادہ خاموش ووٹر کو نشانہ بنانا تھا۔ 2026ء کے انتخابات میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سیاسی ابلاغ، بیانیہ سازی اور ووٹروں کو متحرک کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکے تھے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو سیاسی مباحث میں شامل کیا، پسماندہ آوازوں کو پلیٹ فارم دیا، اور بعض معاملات میں ریاستی جوابدہی پر دباؤ بھی بڑھایا۔ لیکن مسئلہ سوشل میڈیا کی موجودگی کا نہیں بلکہ اس کی حد کا ہے۔ جب ہم سوشل میڈیا کے شور کو پورے ملک کی آواز سمجھ لیتے ہیں، تو ہم 440 ملین ایسے شہریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو انٹرنیٹ کی دنیا سے باہر ہیں، اور ان صارفین میں سے بھی ان کروڑوں لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو سیاسی مواد کے بجائے تفریح، کھیل یا مذہب سے جڑے موضوعات دیکھتے ہیں۔
مگر 2026ء کے ان انتخابات نے جمہوریت کے لیے ایک نئے اور زیادہ خطرناک چیلنج کو بھی بے نقاب کیا: یعنی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ‘ڈیپ فیک’ (Deepfake) اور گمراہ کن مواد کا سیلاب۔ جنوری سے اپریل 2026ء کے درمیان کم از کم 19 مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز آسام، مغربی بنگال، کیرالا اور تمل ناڈو کے انتخابات کے دوران وسیع پیمانے پر گردش کرتی پائی گئیں، جن میں سے بیشتر پر ضروری لیبلنگ موجود نہیں تھی۔ فروری 2026ء میں مرکزی حکومت نے آئی ٹی انٹرمیڈیری رولز میں ترامیم نافذ کیں، جن کے تحت مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد پر واضح لیبل لگانا لازمی قرار دیا گیا تھا، اور یہ ترامیم 20 فروری 2026ء سے نافذ العمل ہوئیں۔ لیکن عملی طور پر ان قوانین کی تعمیل بری طرح ناکام رہی۔ آسام میں بی جے پی نے ایک ایسی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کی جس میں وزیرِ اعلیٰ سرما کو داڑھی اور ٹوپیاں پہنے افراد کی تصاویر پر گولی چلاتے دکھایا گیا تھا؛ یہ ویڈیو شدید تنقید کے بعد حذف کر دی گئی۔ ان سنگین خلاف ورزیوں کے پیشِ نظر الیکشن کمیشن نے اپریل 2026ء میں تمام سیاسی جماعتوں کو سختی سے تنبیہ کی کہ کسی بھی غیر قانونی مواد کو اس کے بارے میں علم ہونے کے تین گھنٹے کے اندر ہٹایا جائے۔ 15 مارچ 2026ء سے لے کر اب تک 11,000 سے زائد غیر قانونی سوشل میڈیا پوسٹوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی تھی، لیکن ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ غلط معلومات کے اس سمندر میں محض ایک قطرہ ہے جس نے ووٹروں کو گھیر رکھا ہے۔
2026ء کے اسمبلی انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بھارت جیسی وسیع، متنوع اور کثیر لسانی جمہوریت کا ووٹر کسی ایک ہیش ٹیگ میں قید نہیں ہوتا۔ وہ گھر، جیب، عقیدے، امید اور خوف کے پیچیدہ سنگم سے اپنا فیصلہ بناتا ہے؛ ایک ایسا فیصلہ جو اکثر پولنگ بوتھ کے پردے کے پیچھے خاموشی سے جنم لیتا ہے۔ جب پولنگ ایجنسیاں 70 فیصد خاموشی کی وجہ سے ایگزٹ پول جاری کرنے سے معذور ہوں، جب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن ویڈیوز حقیقت اور فسانے کے درمیان فرق کو دھندلا دیں، اور جب الیکشن کمیشن کو 11,000 سے زائد غیر قانونی پوسٹوں کے خلاف کارروائی کرنی پڑے، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جمہوریت کا سب سے بڑا امتحان سوشل میڈیا کے شور اور پولنگ بوتھ کی خاموشی کے درمیان فرق کو سمجھنا ہے۔
سوشل میڈیا سیاست کا تھرما میٹر ضرور ہے، لیکن تھرما میٹر سے پورے جسم کا علاج طے نہیں ہوتا۔ بھارتی جمہوریت کی اصل کہانی ٹائم لائن پر نہیں بلکہ زمین پر لکھی جا رہی ہے، اور اسے پڑھنے کے لیے ہمیں اپنی اسکرینوں سے نظریں ہٹا کر پولنگ بوتھ کی اس قطار میں کھڑے خاموش ووٹر کو سننا ہوگا جس کی آواز کسی ہیش ٹیگ میں قید نہیں ہوتی۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے پیو ریسرچ سینٹر کے 2023ء کے اس سروے نے بھی واضح کیا تھا جس میں تقریباً 80 فیصد بھارتیوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا تھا، جن میں 55 فیصد ایسے تھے جن کی رائے "انتہائی مثبت” تھی۔ یہ ایک ایسی خاموش مگر فیصلہ کن اکثریت ہے جسے سوشل میڈیا کا شور اکثر چھپا دیتا ہے، لیکن پولنگ بوتھ کا آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
Post Views: 45