Skip to content
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار، نو اہم نکات شامل
دبئی ،22مئی(ایجنسیز) ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز تر ہو چکی ہیں۔ باوثوق ذرائع نے ایران اور امریکہ کے درمیان رضامندی کی صورت میں متوقع معاہدے کا ایک مسودہ بے نقاب کیا ہے۔
ذرائع نے آج جمعہ کے روز العربیہ/الحدث کو بتایا ہے کہ اس مسودے میں 9 نکات شامل کیے گئے ہیں جن میں تمام محاذوں پر فوری، جامع اور غیر مشروط جنگ بندی شامل ہے۔
مسودے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کی فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔ اس کے علاوہ مسودے میں فوجی کارروائیاں روکنے اور میڈیا وار یعنی تشہیری جنگ کو بھی بند کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔
مسودے میں دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحر عمان میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا بھی اس مسودے کا حصہ ہے۔
اس مسودے میں نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار قائم کرنے کی بات بھی شامل کی گئی ہے۔
ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ معطل شدہ مسائل پر مذاکرات کا آغاز 7 دنوں کے اندر کر دیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے شرائط کی پابندی کے بدلے میں امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا عمل شروع ہو گا۔
اس معاہدے میں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی توثیق بھی کی گئی ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ابتدائی معاہدہ دونوں فریقین کی جانب سے باضابطہ اعلان کے فوراً بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔
دوسری جانب ایک پاکستانی ذریعہ نے العربیہ/الحدث کو بتایا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے جاری رابطوں میں محتاط امید پرستی کا عنصر نمایاں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کا کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اختلافات کو کم کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ دونوں فریقین کے مطالبات کی سطح بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یورینیم اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر اختلافات کو کم کرنے کے لیے رابطے مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا سب سے بڑا مرکز اب بھی یہی رہا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے معاملے سے کیسے نمٹا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے بڑے مسائل پر بات چیت کے لیے طویل وقت درکار ہے۔
علاوہ ازیں، انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے چین پر بہت زیادہ بھروسہ کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ تہران نے رواں ہفتے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی لیکن اس کے مندرجات کے بارے میں جو کچھ علانتی طور پر کہا گیا، وہ انھی نکات کا اعادہ تھا جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد تمام ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی واگزاری شامل ہے۔
جبکہ پاکستانی ثالث نے چند روز قبل اس تجویز پر امریکی جواب تہران کے حوالے کر دیا تھا، جس کے بارے میں ایران نے گذشتہ روز اعلان کیا ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی دو دن قبل ایرانی دارالحکومت پہنچے تھے اور وہ اب بھی وہاں موجود ہیں، جہاں انہوں نے آج ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوسری بار ملاقات کی ہے۔
Post Views: 23