Skip to content
بھارت میں جین زی انقلاب کی دھمک: کیا ‘کوکروچ جنتا پارٹی’ روایتی سیاست کے لئے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے؟
(ڈگریوں کی بے توقیری اور نوجوانوں کا غصہ: نئے سیاسی زلزلے کی آہٹ)
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
——
بھارتی سیاست کے روایتی ایوانوں میں ان دنوں ایک نئی، غیر معمولی اور لرزہ خیز آہٹ محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ کسی پرانی سیاسی جماعت کے کھوکھلے نعروں کی گونج نہیں، بلکہ ملک کی سب سے باخبر، بے باک اور ڈیجیٹل دور کی پروردہ نسل، یعنی ‘جین زی’ (Gen Z) کے ابھرتے ہوئے انقلاب کی دھمک ہے۔ طویل عرصے تک سیاسی پنڈتوں کا یہ خام خیال رہا کہ یہ نسل محض سوشل میڈیا کی چکاچوند، ریلز اور میمز کی دنیا تک محدود ہے، اور اسے ملکی سیاست، معیشت یا زمینی حقائق سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ تاہم، حالیہ واقعات اور بالخصوص مئی 2026ء کے ہنگامہ خیز سیاسی منظرنامے نے اس بوسیدہ مفروضے کو یکسر غلط ثابت کر دیا ہے۔ بھارت کے نوجوان اب محض خاموش تماشائی یا غیر فعال ووٹر نہیں رہے؛ بلکہ وہ اپنے غصب شدہ حقوق، چھینے گئے روزگار اور تاریک کیے گئے مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک بے مثال، منظم اور طنزیہ تحریک کی شکل میں ابھرے ہیں، جس نے اقتدار کی غلام گردشوں میں محوِ خواب حکمرانوں کے لیے خطرے کی سب سے بڑی گھنٹی بجا دی ہے۔
اس خاموش مگر ہمہ گیر انقلاب کی سب سے نمایاں اور چشم کشا علامت ‘کوکروچ جنتا پارٹی’ کے نام سے ابھرنے والی ایک طوفانی آن لائن سیاسی تحریک ہے۔ اس انوکھی اور بظاہر مزاحیہ تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ کے ایک معزز جج نے اپنے ریمارکس میں مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ کوکروچ (لال بیگ) سے کر دیا۔ ایک ایسے نازک موڑ پر، جب ملک کے کروڑوں نوجوان بے روزگاری کی چکی میں بری طرح پس رہے ہوں، اس طرح کے غیر حساس ریمارکس نے ان کے رسنے والے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا۔ تاہم، اس ہائی ٹیک اور حاضر دماغ نسل نے سڑکوں پر روایتی ماتم کرنے یا آنسو بہانے کے بجائے، اس تلخ طنز کو ہی اپنا مہلک ترین ہتھیار بنا لیا۔ کوکروچ—جو اپنی بے پناہ قوتِ مدافعت، سخت جانی اور ہر طرح کے کٹھن و زہریلے حالات میں زندہ رہنے کی حیرت انگیز صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے—اسے نوجوانوں نے اپنی استقامت، بقا اور کمال درجے کی مزاحمت کی علامت کے طور پر سینے سے لگا لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر میمز، طنزیہ پوسٹس اور مختصر ویڈیوز کا ایک ایسا سیلاب آ گیا جس نے ریاستی کرپشن، بے روزگاری اور اربابِ اختیار کی سیاسی نااہلی کی سرِ عام دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔
نوجوانوں کے اس لاوے کے پھٹنے کی اصل وجوہات محض ایک جج کے ریمارکس تک محدود نہیں ہیں؛ اس غصے اور بے چینی کی جڑیں ان سنگین، تلخ اور خوفناک معاشی و سماجی حقائق میں پیوست ہیں جن کا سامنا آج کا بھارتی نوجوان ہر روز کر رہا ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی جانب سے جاری کردہ ‘انڈیا ایمپلائمنٹ رپورٹ 2024’ کے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کی کل بے روزگار آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 80 فیصد سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک اور الم ناک پہلو یہ ہے کہ ان بے روزگاروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ (سیکنڈری یا اس سے زائد تعلیم حاصل کرنے والے) نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جو 2000ء میں 35.2 فیصد سے بڑھ کر 2022ء میں 65.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ نوجوانوں نے اپنے والدین کی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹا کر اور برسوں کی کٹھن محنت کے بعد ڈگریاں تو حاصل کر لیں، لیکن مارکیٹ میں ان کے لیے باعزت روزگار کے مواقع یا تو سرے سے ناپید ہیں، یا پھر انہیں انتہائی معمولی اور غیر محفوظ ملازمتوں پر گزارا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ جب حکومتِ وقت ان سلگتے مسائل کا سنجیدہ مداوا کرنے کے بجائے انہیں نظرانداز کرتی ہے یا ان کا مذاق اڑاتی ہے، تو نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونا ایک ناگزیر امر بن جاتا ہے۔
معاشی استحصال اور بے روزگاری کے اس عفریت کے ساتھ ساتھ، تعلیمی نظام کی زبوں حالی اور مسابقتی امتحانات کے پرچوں کا آئے روز منڈی میں فروخت ہونا اس نسل کے لیے ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس نے ان کے اعصاب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مئی 2026ء میں منعقد ہونے والے میڈیکل کے انتہائی اہم داخلہ امتحان ‘نیٹ یو جی’ (NEET-UG) کے پرچے لیک ہونے اور امتحان کی اچانک منسوخی نے لاکھوں ذہین طلبہ اور ان کے والدین کی برسوں کی ریاضت اور خوابوں کو ایک لمحے میں چکنا چور کر دیا۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی اس مجرمانہ غفلت اور سنگین ناکامی نے پورے امتحانی نظام کی ساکھ اور شفافیت پر ایک گہرا سیاہ سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ حالات کی اس سنگینی کو بھانپتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی برملا اس جین زی نسل پر زور دیا کہ اگر اس ملک میں پیپر لیک مافیا کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو انہیں نیپال اور بنگلہ دیش کے طلبہ کی طرز پر سڑکوں پر نکل کر ایک فیصلہ کن اور وسیع عوامی تحریک برپا کرنی ہوگی۔ پے در پے صدمات اور ناانصافیاں نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ پختہ احساس بیدار کر رہی ہیں کہ موجودہ بوسیدہ نظام میں ان کی خداداد صلاحیتوں اور میرٹ کی کوئی اہمیت نہیں، اور مافیا کے گٹھ جوڑ نے ایمانداری کا مکمل طور پر گلا گھونٹ دیا ہے۔
اس پس منظر میں جب ہم ‘کوکروچ جنتا پارٹی’ کے ورچوئل مگر کاٹ دار منشور کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ محض کوئی تفریحی سرگرمی نہیں، بلکہ موجودہ فرسودہ، استحصالی اور منافقانہ سیاسی نظام پر ایک انتہائی گہرا اور کاری وار ہے۔ اس طنزیہ منشور میں نوجوانوں نے کمال دانشمندی اور سیاسی بصیرت کے ساتھ ان تمام حساس موضوعات کو بے نقاب کیا ہے جن پر بات کرتے ہوئے روایتی میڈیا کے لب سل جاتے ہیں اور نام نہاد بڑی سیاسی جماعتیں کتراتی ہیں۔ انتخابات کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات، کارپوریٹ میڈیا اور حکومتی ایوانوں کا ناپاک گٹھ جوڑ، اور خاص طور پر ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی منافع بخش سرکاری عہدوں پر تعیناتی جیسے پیچیدہ موضوعات پر اس طنزیہ جماعت نے جو بے باکانہ موقف اپنایا ہے، وہ اس نسل کی غیر معمولی سیاسی پختگی اور حالاتِ حاضرہ پر ان کی عقابی نظر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز (CSDS) اور ‘لوک نیتی’ کی مستند تحقیقی رپورٹس بھی اس زمینی حقیقت کی بھرپور تصدیق کرتی ہیں کہ روایتی مفروضوں کے بالکل برعکس، بھارتی نوجوانوں میں سیاسی شعور، ملکی مسائل کی گہری سمجھ بوجھ اور انتخابی سیاست میں عملی دلچسپی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔
یہ ابھرتی ہوئی سیاسی بیداری اور بغاوت محض سوشل میڈیا کے ٹرینڈز یا ہیش ٹیگز تک محدود نہیں، بلکہ اب اس کے براہِ راست اور زبردست اثرات ملک کے بیلٹ باکس پر بھی مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ 2024ء کے عام انتخابات کے دوران ہی 1.82 کروڑ نئے اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں کی متحرک شمولیت نے یہ واضح پیغام دے دیا تھا کہ یہ نسل اپنا حقِ رائے دہی پوری طاقت کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے میدان میں اتر چکی ہے۔ اسی تسلسل میں، 2026ء کے ریاستی اسمبلی انتخابات (بالخصوص تامل ناڈو، مغربی بنگال، کیرالہ، پڈوچیری اور آسام) میں نوجوان ووٹرز محض ایک شماریاتی ہندسہ نہیں، بلکہ ایک انتہائی طاقتور اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، تامل ناڈو کی انتخابی بساط پر جین زی ووٹرز کل ووٹر بیس کا تقریباً 19 فیصد (یعنی ایک کروڑ سے زائد) حصہ بن چکے ہیں، جسے سیاسی مبصرین نے ‘ٹو جی فیکٹر’ (2G Factor) کا نام دے کر انتخابات کی سمت طے کرنے والا اہم ترین عنصر قرار دیا ہے۔ اسی طرح آسام میں 18 سے 39 سال کی عمر کے افراد سب سے بڑا ووٹنگ بلاک بن چکے ہیں، جبکہ مغربی بنگال میں 18 سے 29 سال کے ووٹرز کی تعداد 1.37 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ہوش ربا اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اب یہ نوجوان کھوکھلے وعدوں، جذباتی تقاریر یا مذہب اور ذات پات کے فرسودہ نعروں کے سحر میں گرفتار ہونے والے نہیں ہیں؛ بلکہ وہ اپنے ہر ایک قیمتی ووٹ کے بدلے ٹھوس معاشی پالیسیوں، روزگار کی ضمانت، اعلیٰ معیارِ تعلیم اور بے داغ طرزِ حکمرانی کا دو ٹوک مطالبہ کر رہے ہیں۔
لبِ لباب یہ ہے کہ ‘کوکروچ جنتا پارٹی’ کے طنزیہ مگر پرہجوم بینر تلے جمع ہونے والا یہ فکری اور نظریاتی طوفان درحقیقت بھارتی معاشرے میں آنے والے ایک بہت بڑے سیاسی زلزلے کا پیش خیمہ ہے۔ یہ تاریخ کا سبق اور وقت کی واضح علامت ہے کہ جب کسی ملک کی سب سے بڑی، توانا اور باشعور آبادی کو تسلسل کے ساتھ دیوار سے لگا دیا جائے، ان کی ڈگریوں کو ردی کے ٹکڑوں میں بدل دیا جائے، روزگار کے مواقع چھین لیے جائیں اور ان کی خون پسینے کی محنت کو پیپر لیک کرنے والے مافیا کی منڈی میں کوڑیوں کے بھاؤ نیلام کر دیا جائے، تو وہ زیادہ دیر تک خاموش اور بے بس نہیں بیٹھتے۔ جین زی نسل نے سڑکوں پر پتھراؤ یا پرتشدد احتجاج کے بجائے جدید، کاٹ دار اور ڈیجیٹل طنز کا جو اختراعی راستہ اپنایا ہے، وہ مقتدر حلقوں کے لیے روایتی بغاوتوں سے بھی کہیں زیادہ تباہ کن ہے، کیونکہ اس فکری یلغار کو لاٹھی چارج یا طاقت کے زور پر کچلا نہیں جا سکتا۔ موجودہ استحصالی سیاسی نظام، موروثی سیاست کی علمبردار جماعتوں اور عوام سے کٹے ہوئے حکمرانوں کے لیے یہ صورتحال خطرے کی حتمی گھنٹی ہے۔ اگر انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور نوجوانوں کے اس ابلتے ہوئے غصے، بے روزگاری کے کینسر اور تعلیمی نظام کی تباہی کا فوری، ٹھوس اور سنجیدہ حل نہ نکالا، تو یہ ‘کوکروچ انقلاب’ آنے والے انتخابات میں بیلٹ باکس کے ذریعے ایک ایسا خاموش مگر فیصلہ کن وار کرے گا جس کی گونج دہائیوں تک بھارتی سیاست کے در و دیوار ہلاتی رہے گی۔
Post Views: 36