Skip to content
ظریفانہ: کاکروچ جنتا پارٹی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن نے کلن سے پوچھا بھیا اگر کوئی بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہے تو تمہیں کیسا لگے گا؟
یار وہ انسان ہوگا یا بھیڑیا۔ بیروزگاروں نے کےلیے ایسے گندے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے شرم نہیں آئے گی ؟
شرم کیوں آئے؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کاکروچ کی خوبی یہ ہے کہ وہ سخت ترین حالات میں بھی زندہ رہ لیتا ہے ۔
مجھے سب معلوم ہے۔ ان پڑھ گنوار سمجھ رکھا ہے کیا؟ لیکن لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں کاکروچ سے نجات پانا چاہتے ہیں ؟؟
ہاں بھائی یہ تو ہے۔ باورچی خانے میں کوئی کاکروچ آجائے تو ہماری خانساماں تک آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے۔
للن بولا وہی تو اور پھر اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟
میرا پوتا ’ہٹ اسپرے‘ کا کنستر لے کر ’شکتی مان ‘ کی طرح باورچی خانے میں داخل ہوتا ہے اور پیچھا کرکے اسے مارڈالتا ہے۔
اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ ہم سب تالیاں بجاتے ہیں اپنے پوتے جمن کوشاباشی دیتے ہیں ۔
یعنی کسی کاکروچ کے قتل کا افسوس نہیں ہوتا ۔ سب خوشیاں مناتے ہیں اور قاتل کو سراہتے ہیں ۔
یار تم تو جینیوں کی زبان بول رہے ہو لیکن جانتے ہو وہ لوگ بھی اپنے گھر کے کھٹمل، دیمک اور کاکروچ کے ساتھ یہی کرتے ہیں۔
اچھا تو تم چاہتے ہو کہ ملک کے بیروزگاروں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے؟
یار للن بات بنانے میں توتم پردھان جی سے بھی دو قدم آگے ہو ۔ میں کاکروچ کی بات کررہا ہوں اور تم بیروزگاروں کو لے آئے۔
لیکن یار یہ بتاو کہ کیا یہ سچائی نہیں ہے؟
ہر گز نہیں ہمیں ان سے ہمدردی ہونی چاہیے ۔ ہمارا استحصالی معاشی نظام ان کی بیروزگاری کے لیے ذمہ دار ہے۔ ہم اس کے مجرم ہیں۔
للن بولا یار تم نے بہت بڑی بات کہہ دی۔ میں تمہاری حساسیت کی داد دیتا ہوں ۔
یہ حساسیت نہیں للن انسا نیت ہے۔خود اپنے خاندان میں جب کوئی پڑھا لکھا بیروزگار نظر آجائے تو میں دل مسوس کے رہ جاتا ہوں۔
اچھا اگر کوئی بیروزگاروں کو کاکروچ کہہ دے تو اس کا کیا کیا جائے؟
میں تو کہتا ہوں کہ ایسے وحشی کے خلاف ہائی کورٹ میں ان نوجوانوں کی جانب سے ہتک عزت کا دعوی کردیا جائے۔
اور اگر وہ مسترد ہوجائے یعنی جج صاحب اس کو قابل اعتناء نہ سمجھیں تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟
ارے بھائی کیوں اتنا کرید رہے ہو۔ کیا ہائی کورٹ کا جج انسان نہیں ہے۔ وہ اس مقدمہ کو کیوں خارج کرے گا؟
بفرض محال اگر ایسا ہوجائے ، کیونکہ آج کل ہمارے عدلیہ کا حال ویسا بے مثال نہیں ہے جیسا تم کہہ رہے ہو۔
بھائی تب تو آخری امید سپریم کورٹ ہے۔ اس کے دروازے پر دستک دی جائے ۔
للن نے پوچھا اچھا ایک بات بتاو تم اپنے موبائل پر پردھان جی کے من کی بات کے علاوہ بھی کچھ دیکھتے ہو؟
جی ہاں یہ میرے لیے تفریح کا خزانہ ہے۔ میں اس پر لطیفے ، سیریل ، فلمیں وغیرہ بہت کچھ دیکھتا ہوں ۔ پرانے نغمے سنتا ہوں۔
اچھا کبھی کبھار خبریں بھی دیکھ لیا کرو کہ ملک میں کیا چل رہا ہے؟
ارے بھائی میڈیا میں جھوٹی خبروں کے انبار سے سچی خبر کو چھانٹنا جوئے شیر لانا ہے۔
تو کیا اس بہانے تم یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ ملک میں کیا چل رہا ہے؟
نہیں ایسی بات نہیں۔ میں ہر روز فون کرکے تمہارا دماغ اسی لیے چاٹتا ہوں کہ ملک کی اہم اور ضروری خبریں پا جاوں ۔
للن بولا زہے نصیب ۔ ذرہ نوازی کا شکریہ ۔ تو سنو آج کی سب سے بڑی خبر یہ ہے چیف جسٹس سوریہ کانت اپنے بیان سے مکر گئے۔
کیا ؟چیف جسٹس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ تو سیاستدانوں کا کام ہے۔ ویسے بھی ان کو الیکشن تھوڑی نا لڑنا ہے جو الزام لگائیں اور مکرجائیں ۔
جی ہاں وہ تو ہے لیکن انہوں نے بات ایسی کہی جو ان کے لیے وبالِ جان بن گئی۔
اچھا ایسا کیا کہہ دیا انہوں نے ؟ اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں ۔
ارے بھیا کل تم جلدی تھے اس لیے میرے بتانے سے قبل تم نے فون بند کردیا۔
اچھا خیر اب تو ہم لوگ فرصت میں بیٹھے ہیں ۔ ابھی بتاو کہ عزت مآب مائی لارڈ نے ایسا کیا کہہ دیا جو انہیں مکرنا پڑا؟
ارے بھائی کوئی بڑی بات نہیں وہ بولے ہمارے کچھ بیروزگار میڈیا میں چلے جاتے ہیں اور کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں ۔
تو اس میں کیا غلط ہے؟ پردھان جی نے خود بہار میں ریل بنانے والے نوجوانوں کی تعریف کرکے کہا تھا کہ وہ پیسے بھی کماتے ہیں ۔
یار تم بار بار پردھان جی کو بیچ میں لے آتے ہو ۔ مجھے اس سے بہت وحشت ہوتی ہے۔
وحشت کی کیابات ؟سوریہ کانت اور پردھان جی سنگھ پریوار کےہیں ۔
کلن پھنس گیا تو بولا مگر وہ کاکروچ والا کیا مسئلہ تھا جو تم بتاتے بتاتے کہیں اور نکل گئے ؟
بھیا تم جن بیروزگار نوجوانوں کی ہمدردی میں سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دینے جارہے تھے اسی کے چیف جسٹس نے انہیں کاکروچ کہہ دیا۔
یہ نہیں ہوسکتا ۔ کوئی سپریم کورٹ کا جج ایسی اہانت آمیز بات نہیں کہہ سکتا؟
ارے بھائی کیوں نہیں ہوسکتا۔ جو بات اندر ہے وہ زبان پر کیوں نہیں آسکتی ؟
یہ کیا کہہ رہے ہو للن ؟ تم کیا یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمارے چیف جسٹس کا دماغ اتنا گندا ہے؟ وہ اتنی بری بات سوچتے ہیں ؟؟
جی ہاں یہی کہہ رہا ہوں ۔ ان کا ذہن اتنا غلیظ اور اوچھا نہ ہوتا تو کبھی یہ نہیں بولتے ۔ یہ تو ان کے من کی بات ہے جو زبان پر آگئی ۔
کلن بولا یار میں نادم ہوں اپنے چیف جسٹس کے اس تبصرے پر ۔ مجھے سنگھ پریوار کے پروردہ چیف جسٹس سے یہ امید نہیں تھی ۔
یار سچ بتاوں مجھے کوئی حیرت نہیں ہے کیونکہ مجھے تو سنگھیوں سے یہی توقع ہے۔ ان کے سوا کوئی اور ایسی بات نہ سوچ سکتا ہے اور بول بھی نہیں سکتا۔
کلن پھر پھنس گیا تو بات بدلتے ہوئے بولا چھوڑو یار سوریہ کانت ہمارا کون سا رشتے دار لگتا ہے۔
ہمارا رشتے دار تو نہیں لگتا مگر ان کے اس بیان سے ایک نئی پارٹی عالمِ وجود میں آگئی۔
اچھا اس کا کیا نام ہے ؟
بھائی اس کانام کاکروچ جنتا پارٹی ہے۔
کلن بولا یار مجھے تو یہ ایک شگوفہ لگتا ہے ۔ کس بیوقوف نے یہ حماقت کی ؟
وہ مہاراشٹر کا رہنے والا ایک ہونہار نوجوان ابھیجیت دیپکے ہے۔ فی الحال وہ ہوسٹن میں ڈاکٹریٹ کررہا ہے۔
اچھا وہی ہیوسٹن جہاں جاکر وزیر اعظم نے ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ لگایا تھا ؟
جی ہاں لیکن وہ معمولی شگوفہ نہیں ہے۔ فی الحال انسٹا گرام پر اس پارٹی کے چالیس لاکھ فالوورز ہیں کیا سمجھے؟
یار چالیس لاکھ تو بہت بڑی تعداد ہے مگر پھر بھی انسٹاگرام پر تو ایک کلک میں انسان فولور بن جاتا ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
کیوں نہیں پڑتا ؟ اگر ایسا ہوتا تو حکومتِ ہند اس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ کہہ اکاونٹ بند کیوں کرواتی؟
کیا بکتے ہو للن ؟ کیا ہماری سرکار اس کاکروچ میرا مطلب سی جے پی سے ڈر گئی۔
اور نہیں تو کیا اس مقبولیت سے ڈر کر اس نے انسٹا گرام سے گہار لگائی کہ خدا کے لیے اس کو بند کرو ورنہ۰۰۰۰
ورنہ کیا ؟ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟
یہی کہ ہماری حکومت بلواسطہ یہ تسلیم کرلیا کہ ہماری قومی سلامتی کو کاکروچ جنتا پارٹی سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے؟
ہاں یار خود سرکار نے اکاونٹ بند کرواکر اس کی دلیل پیش کردی ۔
یار میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا امیت شاہ اس قدر کمزور ہوں گے کہ کاکروچ سے ڈر جائیں ۔ میں تو انہیں بہت بہادر سمجھتا تھا ۔
بھیا کلن یاد رکھو ۔ چمکتا جو نظر آتا ہے وہ سونا نہیں ہوتا ۔ امیت شاہ کی جڑیں اس نوجوانوں کی بیداری نے ہلا دیں اور پریشان ہوگئے ۔
اچھا تو خیر پابندی کے بعد کیا کاکروچ مرگیا؟
جی نہیں وہ ’کاکروچ از بیک ‘ کے نام سے ایک نیا ہینڈل جاری کرکے لوٹ آیا تو لوگ اس کو فولو کرنے لگے ۔
خیر انسٹا گرام سے کچھ نہیں ہوتا ؟
کیوں نہیں ہوتا ۔ موجودہ دور کی جین زی اسی طرح اپنے غم و غصے کا اظہار کرتی ہے اور اس کا اثر سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں سامنے آچکا ہے۔
جی ہاں لیکن یہ میسیج میسیج کھیلنے سے کیا ہوگا؟
بھیا اس کی ویب سائٹ پر دو لاکھ لوگوں نے رکنیت کی درخواست دے دی ہے۔ یہ ایک بڑے طوفان کا اشارہ ہے۔
کلن بولا تمہارا کیا مطلب ؟ کیا پردھان جی کے جھولا اٹھاکر جانے کے دن قریب آگئے ہیں ؟
مجھے ، انہیں اور سرکار کو تو یہی لگتا ہے ورنہ اس کو نظر انداز کردیا جاتا ۔
بھیا میں تو کاکروچ جنتا پارٹی کو سلام کرتا ہوں کہ جس کام کے لیے سنگھ پریوا ر نے سو سال لگائے وہ کام اس نے سو گھنٹوں میں کردیا ۔
Post Views: 28