Skip to content
عرسِ شاہ جی اور فیضانِ روحانیت
(5 ذی الحجہ 123 ویں یومِ عرس پر خاص)
ازقلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری
عرسِ قطب الاقطاب حاجی شاہ جی محمد شیر میاں رحمتہ الله علیہ روحانیت، محبت، وفا، نسبت اور اہلِ الله سے عقیدت کے اُس روشن باب کا عنوان ہے جس نے برصغیر کی سر زمین کو صدیوں تک نورِ معرفت سے منور رکھا۔ جب بھی اولیائے کاملین کے تذکرے ہوتے ہیں تو اُن پاکیزہ نفوس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں عشقِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ اور خدمتِ خلق میں گزار دیں۔ انہی درخشندہ ہستیوں میں ایک عظیم نام حضور حاجی شاہ جی محمد شیر میاں رحمۃ الله علیہ کا بھی ہے جن کا فیضان آج بھی دلوں کو گرما رہا ہے، عقیدت مندوں کے قلوب کو سکون بخش رہا ہے اور راہِ طریقت کے مسافروں کو منزلِ معرفت کی طرف بلا رہا ہے۔
ضلع پیلی بھیت کی وہ مقدس سر زمین آج بھی اُن قدموں کی خوشبو سے معطر ہے جہاں ایک مردِ کامل نے اپنی نگاہِ ولایت سے ہزاروں بھٹکے ہوئے دلوں کو خدا سے جوڑا۔ آپ رحمۃ الله علیہ نہ صرف صاحبِ کرامت بزرگ تھے بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے سچے پیکر، سنتِ رسول ﷺ کے پابند، شریعت کے محافظ اور طریقت کے روشن چراغ تھے۔ آپ کی پوری زندگی اخلاص، محبت، تقویٰ، حلم، عاجزی اور روحانی تربیت کا حسین نمونہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کا فیضان ختم نہیں ہوا بلکہ آج بھی عرسِ شاہ جی کے موقع پر لاکھوں دل محبت و عقیدت کے ساتھ آستانہ عالیہ پر حاضر ہوکر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ اولیاءِ کرام کی زندگیاں واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایمان و یقین کی عملی تفسیریں ہوتی ہیں۔ حضور شاہ جی محمد شیر میاں رحمۃ الله علیہ کی حیاتِ مبارکہ بھی اسی حقیقت کا روشن استعارہ ہے۔ آپ نے اپنے مریدین اور وابستگان کو ہمیشہ محبت، ادب، اخلاص اور نسبتِ اہلِ سنت کا درس دیا۔ آپ کے نزدیک ولایت کا اصل معیار ظاہری کرامتیں نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ اتباع شریعت اور ادبِ اولیاء تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا تعلق امام احمد رضا خان قادری رحمۃ الله علیہ سے انتہائی محبت و عقیدت پر مبنی تھا۔ آپ نہ صرف سرکارِ اعلیٰ حضرت سے محبت فرماتے تھے بلکہ اپنے مریدین کو بھی اسی نسبتِ عشق سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ صوفیائے کرام کی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جہاں ایک ولی کامل نے دوسرے ولیِ خدا کی عظمت کا اعتراف کرکے اپنی روحانی دیانت کا ثبوت دیا۔ حضور شاہ جی محمد شیر میاں رحمۃ الله علیہ کا وہ مشہور واقعہ بھی اسی حقیقت کی روشن مثال ہے جب شاہ میر خاں صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ بظاہر تو یہ ایک عام واقعہ محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ روحانیت کی بلند ترین سچائیوں میں سے ایک سچائی کا مظہر ہے۔ آپ نے چند لمحے مراقبے کی کیفیت میں رہنے کے بعد فرمایا کہ تمہارا حصہ میرے یہاں نہیں بریلی جاؤ بڑے مولوی صاحب یعنی سرکار اعلیٰ حضرت کے یہاں تمہارا حصہ ہے۔ یہ جملہ صرف ایک ہدایت نہیں تھا بلکہ یہ روحانی امانتوں کی تقسیم کا اعلان تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاءِ کاملین اپنی ذات کی تشہیر نہیں کرتے بلکہ جہاں جس کا روحانی فیضان مقدر ہوتا ہے اُسے وہیں بھیج دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تصوف کی اصل روح سامنے آتی ہے۔ حقیقی صوفی وہی ہے جو اپنی ذات کو مٹاکر صرف حق اور اہلِ حق کی بات کرے۔ حضور شاہ جی رحمۃ الله علیہ نے یہ ثابت کردیا کہ ولایت انا پرستی یا شخصیت پرستی کا نام نہیں بلکہ اخلاص اور حق شناسی کا نام ہے۔ آپ نے اپنے عمل سے یہ تعلیم دی کہ جو لوگ اہلِ حق سے محبت کرتے ہیں دراصل وہی الله والوں کے سچے ماننے والے ہیں۔ اسی لیے آپ نے فرمایا: جو اُن کا مرید وہ میرا مرید، جو میرا مرید وہ اُن کا مرید، جو اُن کا نہیں وہ میرا نہیں۔ یہ الفاظ بظاہر مختصر ہیں مگر اپنے اندر عقیدت، وفاداری، روحانی اتحاد اور مسلکی استقامت کا ایک مکمل سمندر رکھتے ہیں۔
آج کے دور میں جبکہ نفسا نفسی، مادہ پرستی اور فرقہ وارانہ تعصبات نے لوگوں کے دلوں کو تقسیم کردیا ہے ایسے وقت میں اولیاءِ کاملین کی تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہیں۔ عرسِ شاہ جی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ انسان اپنے دل کو محبت، ادب اور اخلاص سے آباد کرے۔ اہلِ الله کی بارگاہیں نفرتوں کی نہیں بلکہ محبتوں کی تقسیم گاہیں ہوتی ہیں۔ وہاں امیر و غریب، چھوٹا و بڑا، عالم و جاہل سب ایک ہی صف میں بیٹھ کر فیضانِ روحانیت حاصل کرتے ہیں۔ یہی اسلام کا اصل حسن ہے اور یہی صوفیاء کی تعلیمات کا مرکزی نقطہ ہے۔ عرس دراصل وصال کی خوشی کا نام ہے۔ یہ اُس لمحے کی یاد ہے جب ایک عاشقِ حقیقی اپنے محبوبِ حقیقی سے جاملتا ہے۔ اولیاءِ کرام کی ظاہری زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر اُن کا روحانی فیضان جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی اُن کے مزارات پر حاضری دینے والوں کے دل بدل جاتے ہیں، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور روح کو ایک عجیب سکون محسوس ہوتا ہے۔ آستانہ عالیہ پیلی بھیت شریف بھی انہی روحانی مراکز میں سے ایک ہے جہاں آج بھی محبت و عقیدت کے چراغ روشن ہیں۔ عرسِ شاہ جی کے مبارک ایام میں جب عاشقانِ اولیاء درود و سلام کی صداؤں، ذکر و اذکار کی محفلوں، نعت و منقبت کی خوشبوؤں اور دعا و مناجات کی نورانی ساعتوں میں شریک ہوتے ہیں تو گویا روحانیت کا ایک سمندر موجزن ہو جاتا ہے۔ یہ محفلیں انسان کو دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلاتی ہیں اور یاد دلاتی ہیں کہ اصل کامیابی الله اور اُس کے رسول ﷺ کی رضا میں ہے۔ اولیاءِ کرام کی زندگیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ دنیاوی شان و شوکت عارضی ہے مگر محبتِ رسول ﷺ اور خدمتِ دین ہمیشہ باقی رہنے والی دولت ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عرس کو صرف رسم و رواج تک محدود نہ رکھیں بلکہ اولیاءِ کرام کی حقیقی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ اگر ہم حضور شاہ جی محمد شیر میاں رحمۃ الله علیہ سے سچی محبت رکھتے ہیں تو ہمیں اُن کے کردار، اخلاص، عاجزی، عشقِ رسول ﷺ اور ادبِ اہلِ سنت کو بھی اپنانا ہوگا۔ یہی اُن کے عرس کا اصل پیغام ہے اور یہی اُن کے فیضان کا تقاضا ہے۔ الله تعالیٰ حضور حاجی شاہ جی محمد شیر میاں رحمۃ الله علیہ کے فیوض و برکات سے امتِ مسلمہ کو مالامال فرمائے، ہمیں اولیاءِ کاملین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور فرمائے اور ہمیں اُن خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں فرمایا گیا کہ جو اُن کا نہیں وہ میرا نہیں۔ واقعی یہی جملہ محبت، وفاداری اور نسبتِ اہلِ حق کا وہ عظیم اعلان ہے جو رہتی دنیا تک عاشقانِ اولیاء کے دلوں میں گونجتا رہے گا۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 105