Skip to content
احتیاط یا مرعوبیت؟
اسلام کا متوازن مزاج
✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اسلام ایک متوازن، باوقار اور حقیقت پسند دین ہے، جو اپنے ماننے والوں کو نہ بے حکمت جذباتیت کی تعلیم دیتا ہے اور نہ خوف زدہ خاموشی کی۔ قرآن و سنّت کی روشنی میں مسلمان کی مطلوب صفت یہ ہے کہ وہ حکمت، صبر، بصیرت اور حسنِ تدبیر کے ساتھ حق پر قائم رہے، مگر باطل کے خوف، ظلم کے دباؤ اور حالات کی سختیوں کے سامنے اپنی دعوت، شناخت اور دینی وقار سے دستبردار نہ ہو۔
نبی کریمﷺ کی سیرتِ طیبہ اس توازن کا کامل نمونہ ہے۔ آپﷺ نے جہاں حالات کے مطابق حکمت، تدبر اور احتیاط سے کام لیا، وہیں حق کے اظہار، دعوتِ دین، شعائرِ اسلام اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا عظیم ترین کردار بھی پیش فرمایا۔ اسی لیے اسلام میں "احتیاط” کا مفہوم کبھی بھی بزدلی، مرعوبیت یا مسلسل پسپائی نہیں رہا، بلکہ اس کا مقصد حق کی حفاظت، دعوت کی بقاء اور اُمّت کی صحیح رہنمائی رہا ہے۔
آج کے پُرفتن دور میں، جب کہ ایک طرف اشتعال انگیزی اور بے اعتدالی کے رجحانات پائے جاتے ہیں اور دوسری طرف خوف، دباؤ اور مصلحت کے نام پر خاموشی اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، ایسے وقت میں اسلامی مزاج کے اس حقیقی توازن کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ زیرِ نظر تحریر اسی اہم نکتے کو واضح کرنے کی ایک کوشش ہے کہ اسلام حکمت اور جرأت، صبر اور استقامت، احتیاط اور حق گوئی!!! ان سب کے درمیان کس حسین اعتدال کا درس دیتا ہے۔
احتیاط یقیناً مطلوب ہے، اور حکمت بھی دینِ اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔ لیکن جب "احتیاط” کا مفہوم اس حد تک وسیع کردیا جائے کہ حق گوئی، دعوتِ دین، شعائرِ اسلام، اجتماعی جرأت اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہی محدود ہوجائے، تو پھر یہ احتیاط نہیں رہتی بلکہ کمزوری، مرعوبیت اور تدریجی پسپائی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اسلام کا مزاج صرف "بچاؤ” نہیں بلکہ "حق کے اظہار” کا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں ہمیں حکمت اور جرأت، دونوں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
ایک طرف نئے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دارِ ارقم کا محتاط اور حکیمانہ انتخاب ملتا ہے، تو دوسری طرف خانۂ کعبہ میں علانیہ تلاوتِ قرآن، صفا پہاڑی پر اعلانیہ دعوتِ حق، طائف میں سخت ترین مخالفت کے باوجود تبلیغِ دین، اور ظلم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کی عظیم مثالیں بھی سامنے آتی ہیں۔ گویا سیرتِ نبویﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حکمت کا مطلب خوف زدگی نہیں، اور احتیاط کا مطلب حق سے دستبرداری نہیں۔ مؤمن نہ بے حکمت جذباتیت اختیار کرتا ہے اور نہ ہی خوف و دباؤ کے سامنے خاموشی کو اپنا شعار بناتا ہے، بلکہ وہ حالات کو سمجھتے ہوئے بھی حق، دعوت اور دینی تشخص پر ثابت قدم رہتا ہے۔
دارِ ارقم کی حکمت کو دلیل بنا کر اگر ہر دور میں خاموشی، پسپائی اور مستقل دفاعی ذہنیت ہی اختیار کرلی جائے، تو پھر کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں:
* حضرت ابوبکرؓ نے خانۂ کعبہ میں اعلانیہ خطاب کیوں فرمایا؟
* حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں نے علانیہ عبادت کا آغاز کیوں کیا؟
* رسول اللّٰہﷺ نے مکّہ کے سرداروں کے شدید ظلم و مخالفت کے باوجود دعوتِ حق کو معطل کیوں نہ کیا؟
* اور قرآنِ مجید نے "حق چھپانے” والوں کی مذمت کیوں فرمائی؟
حقیقت یہ ہے کہ اسلام صرف جان بچانے کا نام نہیں، بلکہ دین کی حفاظت، حق کے اظہار اور باطل کے مقابلے میں استقامت کا بھی نام ہے۔ سیرتِ نبویﷺ ہمیں یہ توازن سکھاتی ہے کہ جہاں حکمت اور احتیاط ضروری ہیں، وہیں حق گوئی، دعوتِ دین اور دینی تشخص پر ثابت قدمی بھی ناگزیر ہے۔ تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب قومیں ضرورت سے زیادہ "احتیاط” کے نام پر مسلسل پیچھے ہٹنے لگتی ہیں، تو مخالفین کے مطالبات کم نہیں ہوتے بلکہ مزید بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ کمزوری کا اظہار اکثر ظلم کو روکنے کے بجائے اسے مزید جرأت دیتا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ شرپسند عناصر معمولی باتوں کو بھی بہانہ بنا لیتے ہیں، لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ہم اپنی دینی شناخت، شعائرِ اسلام، اجتماعی آواز، دعوتِ دین اور حق گوئی ہی کو محدود کرتے چلے جائیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ شرپسندوں کا مسئلہ اکثر ہمارے کسی ایک "عمل” سے نہیں، بلکہ ہمارے "وجود” اور دینی تشخص سے ہوتا ہے۔ اگر آج خوف یا دباؤ کے تحت ایک چیز چھوڑ دی جائے، تو کل دوسری چیز پر اعتراض ہوگا، پھر تیسری پر، یہاں تک کہ مسلمان کو مسلمان کی حیثیت سے جینے کے حق سے بھی محروم کرنے کی کوشش کی جانے لگے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ باطل کی مزاحمت صرف پسپائی سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ اکثر مزید بڑھ جاتی ہے۔
قرآنِ مجید بھی ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ باطل کے خوف سے حق کو محدود کردیا جائے یا دعوت و حق گوئی ترک کردی جائے۔ بلکہ قرآن تو اہلِ ایمان کی یہ صفت بیان کرتا ہے: "الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ”۔ "یہ وہ لوگ ہیں جو اللّٰہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں، اللّٰہ سے ڈرتے ہیں، اور اللّٰہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے”۔
اس لیے اسلام ہمیں نہ بے حکمت جذباتیت سکھاتا ہے اور نہ خوف زدہ خاموشی، بلکہ حکمت، استقامت، حق گوئی اور دینی وقار کے ساتھ جینے کا راستہ دکھاتا ہے۔
بلاشبہ اسلام جذباتی تصادم، بے مقصد اشتعال انگیزی اور غیر ضروری محاذ آرائی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا مزاج حکمت، اعتدال اور ذمّہ داری پر قائم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام یہ بھی نہیں سکھاتا کہ ظلم کے خوف سے حق کو چھپا لیا جائے، یا شرپسند عناصر کے دباؤ میں آکر دینی شعائر اور اسلامی تشخص کو محدود کردیا جائے۔ اسی طرح اسلام اس ذہنیت کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتا کہ انسان ہر وقت صرف ممکنہ "ردِّ عمل” کے خوف میں مبتلا ہوکر زندگی گزارے، یہاں تک کہ حق گوئی، دعوتِ دین اور دینی وقار ہی متاثر ہونے لگے۔ درحقیقت مطلوب راستہ یہ ہے کہ مسلمان حکمت اور بصیرت کے ساتھ زندگی گزارے، مگر خوف اور مرعوبیت کا شکار ہوئے بغیر۔ وہ نہ اشتعال انگیزی اختیار کرے اور نہ ہی دباؤ کے سامنے حق و صداقت سے دستبردار ہو۔
اصل اسلامی مزاج یہی متوازن طرزِ فکر ہے کہ:
* حکمت ہو، مگر خوف نہ ہو۔
* احتیاط ہو، مگر مرعوبیت نہ ہو۔
* صبر ہو، مگر بے حسی نہ ہو۔
* امن پسندی ہو، مگر بزدلی نہ ہو۔
* اور حق گوئی ہو، مگر فتنہ انگیزی نہ ہو۔
اسلام نہ بے لگام جذباتیت کی تعلیم دیتا ہے اور نہ خوف زدہ خاموشی کی، بلکہ وہ اعتدال، بصیرت، استقامت اور وقار کے ساتھ حق پر قائم رہنے کا درس دیتا ہے۔ صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں اسی متوازن اسلامی کردار کا بہترین نمونہ تھیں۔ وہ غیر ضروری تصادم اور اشتعال سے ہمیشہ گریز کرتے تھے، لیکن باطل کے سامنے جھکنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ ان کی زندگیوں میں حکمت بھی تھی اور جرأت بھی، صبر بھی تھا اور استقامت بھی۔ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے تھے، احتیاط بھی کرتے تھے، مگر خوف اور مرعوبیت کو کبھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتے تھے۔
آج اُمّتِ مسلمہ کو اسی متوازن اور معتدل فکر کی ضرورت ہے جس میں حالات کا صحیح ادراک بھی ہو، حکمت اور بصیرت بھی ہو، قانونی شعور بھی موجود ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دینی غیرت، اجتماعی حوصلہ، حق گوئی اور حق پر استقامت کی روح بھی زندہ رہے۔ مسلمان کا مطلوب کردار یہ ہے کہ وہ نہ جذباتی بے اعتدالی کا شکار ہو اور نہ خوف زدہ خاموشی کا، بلکہ حکمت، وقار اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے۔
کیونکہ اگر "احتیاط” کا انجام مسلسل خاموشی، خوف اور پسپائی کی صورت میں نکلنے لگے، تو پھر رفتہ رفتہ آنے والی نسلیں دین کو ایک خوف زدہ اور دباؤ کے تحت جینے والے مذہب کے طور پر دیکھنے لگیں گی۔ حالانکہ اسلام کمزوری اور مرعوبیت کا نہیں، بلکہ عزّت، حوصلہ، حکمت، صبر اور حق پر استقامت کا دین ہے۔ الغرض یہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو نہ اندھی جذباتیت کی راہ دکھاتا ہے اور نہ خوف زدہ مصلحت پرستی کی۔ بلکہ وہ ایک ایسا متوازن، باوقار اور باحکمت راستہ عطاء کرتا ہے جس میں حق پر استقامت بھی ہو، حالات کا شعور بھی، دعوت کا جذبہ بھی ہو اور حکمتِ عملی بھی۔ مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ نہ ظلم و باطل کے سامنے مرعوب ہو، نہ اشتعال اور بے اعتدالی کا شکار ہو، بلکہ وقار، صبر، بصیرت اور جرأت کے ساتھ دینِ حق کا عَلَم بلند رکھے۔
آج اُمّت کو سب سے زیادہ اسی شعوری توازن کی ضرورت ہے؛ ایسا توازن جو ہمیں یہ سکھائے کہ احتیاط اپنی جگہ ضروری ہے، مگر احتیاط کے نام پر حق گوئی، دینی غیرت، شعائرِ اسلام اور دعوتِ دین کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ جس اُمّت کے دلوں سے حق پر اعتماد، اظہارِ حق کا حوصلہ، اور باطل کے سامنے استقامت ختم ہوجائے، وہ رفتہ رفتہ اپنی فکری، دینی اور تہذیبی شناخت بھی کھونے لگتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم سیرتِ نبویﷺ اور اسوۂ صحابہؓ کی روشنی میں ایسا معتدل مزاج اختیار کریں جس میں حکمت ہو مگر بزدلی نہ ہو، صبر ہو مگر بے حسی نہ ہو، امن پسندی ہو مگر مرعوبیت نہ ہو، اور حق گوئی ہو مگر فتنہ انگیزی نہ ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو اُمّت کو عزّت، وقار، فکری استقلال اور اللّٰہ تعالیٰ کی نصرت سے ہمکنار کرسکتا ہے۔
🗓️ (21.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 24