Skip to content
پروفیسر سید عقیل ہاشمی کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ
🖊️ از قلم :ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
تمہید:- اُردو ادب کی تاریخ میں حیدرآباد دکن کو ایک منفرد مقام حاصل ہے یہ شہر تہذیبی علمی اور ادبی اعتبار سے ہمیشہ سے ہی گنگا جمنی کا علمبر دار رہا ہے صدیوں سے یہ سرزمین اُردوادب و فنون کا گہوارہ رہا ہے اور اُردو زبان و ادب کے لیے سر سبز وہ شاداب و زرخیز رہا ہے جہاں مختلف علوم و فنون کی آبیاری ہوتی رہی ہے مشہور و معروف صوفیا کرام اولیاء کرام عظیم شعراء نامور ادیبوں اور نقادوں کی سرزمین ہونے کے ناطے سے حیدرآباد دکن کے جدید دور میں بھی تیز رفتاری سے جدید علوم و فنون کی آبیاری گراں قدر خدمت انجام دے رہا ہے اس سلسلے میں عثمانیہ یونیورسٹی قابل تعریف ہے اس کے علاوہ مولانا ازاد اُردو نیشنل یونیورسٹی اور اُردو کے کئی عظیم کتب خانوں نے علمی ادبی شناخت کو مزید مستحکم کیا ہے حیدآبٖاد میں بہمنی دور عادل، شاہی دور، مغلیہ دور میں ایسی سرزمین ایسی ادبی شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے اُردو نثرو شاعری کو جہتیں عطا کی اسی فکر و ادبی روایت کی امین ڈاکٹر سیدعقیل ہاشمی خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے طویل عرصے تک شعبہ اُردو کی خدمت انجام دی ہے۔
*پروفیسرسید عقیل ہاشمی کا تعارف:- پروفیسر سید ہاشمی حیدرآباددکن کے اُردو زبان و ادب کے ممتاز محقق، نقاد،نعت گوشاعر ماہردکنی لسانیات ، ماہر لسانیات ،دانشور، ہیں ان کی ولادت 1940ء میں حیدرآباد میں ہوئی. ان کی علمی ادبی تحقیقی بصیرت کی وجہ سے ان کی خاص پہچان ہے پروفیسر
عقیل ہاشمی طویل عرصے تک عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ اُردو سے وابستہ رہے اور بحیثیت صدر شعبہ سے خدمت انجام دی انہیں دکنی اُردو ادب کا گہرا مطالعہ و مشاہدہ تھا اُردو ادب کی ترویج اور دکنی زبان ثقافت کے فروغ کے لیے ان کا اہم کردار رہا ہے۔ انہیں مختلف حکومتوں اور ادبی اداروں کی جانب سے انعامات و اعزازات سے نوازا گیا آج بھی علمی و ادبی محفلوں میں شاعروں میں ایک معتبر تحقیفی شخصیت کے طور پر مدعو کیے جاتے ہیں۔
*دکنی ادب اور لسانی تحقیق:-
اُردو ادب کی تاریخ میں دکنی ادب کو بنیادی اورا بتدائی اہمیت
حاصل ہے دکنی ادب وہ سر چشہ ہے. جہاں سے اُردو زبان میں اپنے ارتقائی سفر کا آغاز کیا ہے دکنی ادب کی تفہیم اس کے لسانی ساخت اور اس کی سرمائی ادب کی تحقیق میں متعداد اہل علم نے اہم خدمات انجام دی ہے ان میں پروفیسرسید عقیل ہاشمی کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے دکنی ادب اور لسانیت کے میدان میں گراں قدر تحقیقی کام انجام دیا ہے۔
*1- دکنی ادب کے متعلق نقطہ نظر :- پروفیسر سیدعقیل ہاشمی کے مطابق دکنی ادب اُردو زبان ادب کی ابتدائی شکل ہے جو جنوبی ہند میں پروان چڑھی ان کے نزدیک دکنی ادب صرف ایک علاقائی ادب نہیں بلکہ اُردو زبان و ادب کی اہم بنیاد ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دکنی متون کا مطالعہ کے بغیر اُردو زبان کی مکمل تاریخ کو سمجھنا ممکن نہیں دکنی ادب کے اہم شعراء نثر نگار وں کے کلام کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کی لسانی اور تہذیبی پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے ان کے نزدیک دکنی ادب میں مقام تفاوت ہندی روایات اور اسلامی تہذیب کا حسین امتزج پایا جاتا ہے۔
2- لسانی تحقیق میں خدمات :- پروفیسر سیدعقیل ہاشمی کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی لسانی تحقیق ہے انہوں نے اُردو زبان کی صوتیاتی( Phonetics ) )
صرفی(Morphology
(Syntox) نحوی
پہلوں پر گہرا ئی سےکام کیا ہے. خاص طور سے دکنی الفاظ محاورات اور اسالیب پر ان کی تحقیق نہایت اہم ہے۔ دکنی زبان میں فارسی عربی مقامی زبانوں جیسے تیلگو اور کنڑ کے اثرات نمایاں ہیں ان کے مطابق لسانی امتزاج اُردو کی وسعت ہمہ گیری کا سبب ہے۔
3- دکنی متون کی تحقیق و تدوین :- پروفیسر سیدعقیل ہاشمی نے قدیم دکنی متون کی تلاش تحقیق اور تدوین میں نمایاں کردار ادا کیا ہے انہوں نے نایاب مختطات کو جدید تحفظ کے اُصولوں کے میں مطابق مرتب کیا اور ان پر تنقیدی مقدمات تحریر کیے جس میں متون نئی نسل کے لیے قابل فہم ہو گئے. تنقیدی وہ تحقیق کی اسلوب میں پروفیسرسید عقیل ہاشمی کا اسلوب مدلل اور سائنسی بنیادوں تو پر قائم ہے و دعوے کے لیے شواہد پیش کرتے ہیں اور تقابلی مطالعہ اہمیت دیتے ہیں ان کی تحریروں میں صداقت کی جامعیت پائی جاتی ہے جو قاری کو موضوع کی گہرائی تک لے جاتی ہے. پروفیسر سیدعقیل ہاشمی نے دکنی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے دکنی ادب کو محض ماضی کا حصہ سمجھنے کے بجائے اسے زندہ روایت کے طور پر پیش کیا ہے انہوں نے جامعات اور تحقیقی اداروں میں دکنی ادب کے متعلق کو فروغ کیا ہے طلباء و طالبات وہ محفقین کو اس میدان میں تحقیق کی ترغیب دی اور چند نکات سے آگاہ کیا۔
1- دکنی ادب کو اُردو زبان کی بنیاد قرار دیا۔
2- لسانی تحقیق میں سائنسی اور تقابلی طریقہ کار بنایا.
3- اُردو زبان کے ارتقا میں دکنی زبان کی کردار کو اُجاگر کیا
پروفیسر سید عقیل ہاشمی کی ادبی خدمات زبان و ادب و لسان تحقیق کے میدان میں ان کے لسانی پہلوں کو بھی سائنسی بنیادوں پر واضح کیا ان کی کاوش آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی ہے اور اُردو تحقیق میں ان کا مقام بلند ہے.
* پروفیسر سیدعقیل ہاشمی کی تاریخی اہمیت :- تاریخ انسانی تہذیب و تمدن کا آئینہ ہوتی ہے اس آئینے میں مورخین دانشورو ں ادیبوں شعرا کا اہم کردار ہوتا ہے ان شخصیات میں پروفیسر سیدعقیل ہاشمی کا نام نمایاں ہے جنہوں نے اپنی علمی تحقیق بصیرت کی صلاحیت اور فکری گہرائی کے ذریعے تاریخ ادب اور سماج کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے ان کی تحریروں میں تاریخی شعور نمایاں طور پر جھلکتا ہے وہ تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسانی تجربات تہذیبی ارتقا اور سماجی تبدیلیوں کا عکاس قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک تاریخ سے سبق حاصل کرنا اور حال کو بہتر بنانے کے لیے ماضی کو سمجھنا نہایت ضروری ہوتا ہے.
پروفیسر سیدعقیل ہاشمی نے مختلف موضوعات پر گہرائی سے تحقیق کام انجام دیا ہے اُردو ادب تہذیب و ثقافت معاشرتی مسائل پر ان کی تحریریں اہمیت کی حامل ہیں ان کے مقالات مضامین میں گہرائی وسعت تنقیدی بصیرت پائی جاتی ہے جو محفقین اسکالرز کو معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے ان کے علمی دنیا کو متاثر کیا ہے سماج میں بھی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ان کی تحریروں میں نوجوان نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی اپنی تاریخ ثقافت اور اقدار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ان کا اسلوب سادہ مگر موثر ہے پیچیدہ موضوعات کو آسانی اور عام فہم انداز میں پیش کرنے کا ہنر ہے ان کی تنقید تعمیری ہوتی ہے جس میں اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے یہی ان کی تحریروں کو دیگر مصنفین سے ممتاز بناتا ہے۔
پروفیسر سیدعقیل ہاشمی کی تاریخی اہمیت اس بات پر مضمر ہے کہ انہوں نے ماضی کو حال سے جوڑنے کی کوشش کی انہوں نے تاریخ کو زندہ اور متحرک انداز میں پیش کیا ہے جس سے قاری نہ صرف واقعات سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ
اس کے پس منظر اور اثرات کو سمجھتا ہے ان کی تحریریں تاریخ شعور کو بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے. پروفیسرسید ہاشمی علمی ادبی شخصیت ہیں جن کی خدمت تاریخ ادب اور سماج کے لیے نہایت اہم ہے ان کی تحقیق کاوش اور فکری رہنمائی آنے والے نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے ان کی تاریخی اہمیت علمی دنیا میں یاد رکھی جائے گی.
*پروفیسر سید عقیل ہاشمی کی نعت گوئی:-
نعت گوئی اُردو ادب کی مقدس معتبر اور باوقار صنف ہے. جس میں حضور ﷺ کی مدح ثنا ءبیان کی جاتی ہے اس صنف میں کئی شعراء نے اپنے عقیدت محبت ادب اور روحانیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے اُردو ادب کے بہت سے شعراء انے نعت گوئی میں عقیدت کا اظہار کیا ہے۔
جن میں پروفیسرسید ہاشمی میں نعت گوئی کے ذریعے عشق رسول کی سیرت کو نہایت مقدس اور روحانی اسلوب میں پیش کیا ہے. پروفیسر سید عقیل ہاشمی کا رجحان نعت گوئی کی طرف بہت گہرا تھا بنیادی طور پر وہ ایک محفق اور محاظ ہیں ان کی نعتیہ شاعری ان کے باطنی شوق ذوق روحانی وباستگی کی عکاسی کرتی ہے ان کے نعتوں میں سادگی خلوص اور گہرے روحانی جذبات نمایاں ہیں جو حقیقت پر مبنی ہے. نہ گوئی کے میدان میں گراں قدر خدمت انجام دی ہے ان کی نعت گوئی روایت اور جدت کا ایک حسین امتزاج ہے جس میں فکری گہرائی ہے روحانی بلیدگی نمایاں طور پر نظر آتی روحانی شفافیت اور عقیدت مندی ان کے کلام میں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک باطنی واردات اور صداقت کا آئینہ دار ہے نعت گوئی ان کے ادب کی خاص خصوصیت ہے پھر مقدس فریضہ ہے جس کے لیے انہوں نے لفظوں کا انتخاب روحانی اسلوب میں کیا ہے ان کے کلام میں حضورﷺ کے سیرت طیٰبہ کے مختلف پہلوؤں کو نہایت احترام کے ساتھ روحانیت سے بھرپور اسلوب میں پیش کیا ہےقطعہ تاریخ کے یہ اشعار:
تنویر ہے عرفان کی مصباح تصوف
تفسیر ہے احسان کی مصباح تصوف
تاریخ طباعت یہ کہی خوب عقیل آج
تعلیم ہے ایمان کی مَصباح تصوف
پروفیسر سیدعقیل ہاشمی نعت گوئی میں زبان و بیان کی چاشنی لب و لہجہ نرم مہذب و متین ہے سچائی اور پرکیف انداز میں پیش کیا ہے پروفیسر ہاشمی کی شاعری میں تصوف و معرفت کا رنگ نظر آتا ہے ان کی 12 تصانیف منتجزیل ہیں.1- آیات پیغمبر نور اللہ 2- حرف صوت3- ظہور قدسی4- مصباح تصوف 5_ کلید معرفت 6- موج نظر7- متاع اقبال 8– سید محمد افتخار شاہ وطن 9_ فراز نو 10- بیاض نو. 11- پیغمبر ان حق12- کلیا ت صدیقی.
پروفیسر عقیل ہاشمی کی نعت گوئی کا اسلوب نہایت سادہ اور پر اثر ہے انتخاب الفاظ با معنی ہوتے ہیں عام فہم زبان کا استعمال کیا. ہوا ہے ان کے موضوعات اور فکری جہت ، عشق رسول اور عقیدت کا اظہار ، حضور کی سیرت کے مختلف پہلو، اُمت مسلمٰہ کے لیے رہنمائی ، اخلاقی اور روحانی اسلوب میں پیش کیا ہے ۔پروفیسرعقیل ہاشمی نے حضور کی ذات اقدس کو نہایت ادب و احترام اور بھرپور روحانیت سے پیش کیا ہے جو ان کی دینی تربیت کی علامت ہے ان کے نعت کے اشعار دیکھیے:
وہی ہے مرکز نبی وہی ہے چراغ حیات
نبی کا ذکر ہی دل کو سکون دیتا ہے ۔
در نبی پہ جھک جاۓ تو سر عقیدہ سے
وہی نصیب کا مالک وہی فلاح پاتا ہے
وہی دل ہے جو مدینے کی طلب رکھتا ہے
ورنہ ہر سانس تو دنیا میں بسر ہوتی ہے ۔
پروفیسر سیدعقیل ہاشمی نے عشق رسول کی گہرائی سے محبت اور تڑپ کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے اس رسول کا والٰہانہ اظہار محبت عقیدت جھلکتی ہے یہ محض الفاظ نہیں قلبی کیفیت ہے یہ شعر دیکھیے:
میرے لب پہ وقت نام محمد ہی رہے
یہی دولت ہے میری یہی پہچان ہے.
پروفیسرسید عقیل ہاشمی نے فکری اور روحانی محبت کا اظہار کیا ہے وہ اس فکری اور روحانی پہلو سے سیرت طیٰبہ کے مختلف پہلوؤں کو شعری قلب میں پیش کیا ہے یہ شعر دیکھئے:
جو روشنی ہے زمانے میں ان کے دم سے ہے
ہر ایک کمال حقیقت میں ان کے دم سے ہے۔
پروفیسر سیدعقیل ہاشمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو کائنات کی روشنی کا مرکز قرار دیا ہے۔ فنی مہارتوں اور شعری حسن کو مضبوط کیا ہے نعت گوئی اور امام احمد رضا خان بریلوی حفظ نائب احمد ندیم قاسمی سے سے موازنہ کریں تو پروفیسر سیدعقیل ہاشمی کا اسلوب سادہ جدید احساسات سے قریب تر نظر آتا ہے ان کی نعت گوئی میں کلاسکی رنگ کے ساتھ ساتھ شعور بھی موجود ہے۔
اختتام:-
پروفیسر سید عقیل ہاشمی اُردو ادب کے ممتاز محقق شاعر نقاد اور ماہر دکنیات ماہر لسانیات، کے دانشور ہیں حیدرآباد میں ان کی علمی ادبی تحقیقی بصیرت کی وجہ سے خاص پہچان ہے طویل عرصے تک عثمانیہ کے یونیورسٹی صدرشعبہ اُردو خدمت انجام دۓ ہیں. بالخصوص دکنیات اور ماہر لسانیات، اسلامی ادب کے حوالے سے ایک ممتاز محقق شاعر اور نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ان کی علمی ادبی خدمات کا دائرہ تحقیق و تدوین اور نعت گوئی اور تنقید تک پھیلا ہوا ہے ان کا سب سے دکنی شعرا کے کلام کو جدید تحقیق اُصولوں کے مطابق مرتب کیا جس سے اُردو کے قدیم لسانی سرمائے کی حفاظت ممکن ہوئی. پروفیسر عقیل ہاشمی کی پہچان قادر الکلام نعت گوئی شاعر کے طور پر بھی ہوتی ہے ان کے کلام میں فکری گہرائی اور عقیدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے عثمانیہ یونیورسٹی میں صدر شعبہ کی حیثیت (پی ایچ ڈی )کے نگراں کی حیثیت سے درجنوں سکالرز کے مقالات کی نگرانی کی ان کے زیر سایہ تیار ہونے والے
اُردو تحقیق میں اہم مانے جاتے ہیں ان کا ادبی سرمایہ اردو ادب کے لیے بہترین خزانہ ہے۔آج بھی انہیں ادبی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔
Post Views: 32