Skip to content
آدابِ فرزندی اور عصرِ حاضر کا خاندانی بحران
ازقلم:محمد نجیب الدین، بگدل
یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائی کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی؟
ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یہ فکر انگیز شعر محض ایک ادبی سوال نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے بنیادی ڈھانچے پر ایک گہرا فکری سوال ہے۔ درحقیقت یہ انسانی تہذیب کے سب سے گہرے سوالات میں سے ایک ہے۔ یہ سوال ہمیں اس نکتے پر لے آتا ہے کہ انسان کی اصل تعمیر کس طرح ہوتی ہے؟ کردار کہاں سے جنم لیتا ہے؟ اور وہ کون سا خاندانی اور تربیتی نظام ہےجو ایک فرد کو اس درجے تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ اپنے والد حضرت ابراہیم کے حکم اور اللہ کے فیصلے کے سامنے اپنی ذات کو مکمل طور پر جھکا دیتا ہے۔
حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ محض ایک تاریخی یا مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانی کردار کی تشکیل کا ایک مکمل ماڈل ہے۔ یہاں ایک نوجوان صرف اطاعت نہیں کر رہا بلکہ ایک پوری تربیتی تاریخ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر یہ اطاعت پیدا کہاں سے ہوئی؟ کیا یہ صرف کسی ایک لمحے کی کیفیت تھی یا برسوں پر محیط ایک زندہ تربیت کا نتیجہ تھا؟
اگر اس واقعے کو غور سے دیکھا جائے تو اس کی بنیاد کسی ایک واقعے میں نہیں بلکہ ایک مکمل خاندانی نظام میں ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کا کردار، حضرت ہاجرہؑ کی استقامت، اور اسماعیلؑ کی پرورش—یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں ایمان صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ عمل، ماحول اور تعلق کے ذریعے شخصیت میں داخل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے سے جو بات کی، وہ کسی سخت حکم کی صورت میں نہیں بلکہ ایک مشاورت کے انداز میں تھی۔ یہ انداز ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خاندانی نظام کی بنیاد طاقت نہیں بلکہ اعتماد ہے۔ جب باپ اپنے بیٹے سے اعتماد کے ساتھ بات کرتا ہے تو بیٹا بھی اعتماد کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ یہی وہ فضا تھی جس میں اسماعیلؑ نے وہ تاریخی جواب دیا جو آج تک ادبِ فرزندی کی اعلیٰ ترین مثال سمجھا جاتا ہے۔
اگر ہم آج کے دور کو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے اس واقعے کے آئینے میں دیکھیں تو سب سے بڑا سوال یہی ابھرتا ہے کہ وہ ماحول کہاں گیا جہاں اطاعت محبت سے پیدا ہوتی تھی، اور کردار محض نصیحت سے نہیں بلکہ زندہ مثال سے بنتا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ خاندان موجود ہیں مگر خاندانی روح کمزور ہو چکی ہے۔ گھر اپنی ظاہری ساخت میں تو برقرار ہیں مگر ان کے اندر وہ تربیتی حرارت باقی نہیں رہی جو کسی زمانے میں شخصیت سازی کا اصل مرکز ہوا کرتی تھی۔
علامہ اقبال کے اسی فکری پس منظر کو سمجھتے ہوئے اگر آج کے معاشرے کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان نے زندگی کو آسان تو بنا لیا ہے مگر اپنے اندر کی دنیا کو مشکل بنا لیا ہے۔ آج والدین کی بڑی تعداد ایسے معاشی دباؤ میں ہے کہ ان کے پاس بچوں کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ صبح سے شام تک کی مصروفیات، نوکریاں، معاشی ذمہ داریاں اور زندگی کی دوڑ نے گھر کے اندر” تعلق“کو کمزور کر دیا ہے۔
بچہ اب باپ کے چہرے سے کم اور موبائل اسکرین سے زیادہ سیکھ رہا ہے۔ ماں کی گود کی کہانیوں کی جگہ یوٹیوب کے ویڈیوز نے لے لی ہے۔ وہ تربیت جو کبھی گفتگو، مشاہدے اور عملی زندگی سے منتقل ہوتی تھی، اب ڈیجیٹل مواد کے ذریعے منتقل ہو رہی ہے۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جس نے ”فیضانِ نظر“ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، کیونکہ نظر کا فیض صرف اس وقت منتقل ہوتا ہے جب سامنے زندہ کردار موجود ہو۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں کیے گئے سماجی مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ نوجوان نسل میں ذہنی دباؤ (stress)، بے چینی (anxiety) اور تنہائی (loneliness) کی شرح بڑھ رہی ہے۔ یہ صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی رجحان ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ شکایت عام ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان جذباتی فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ بچے جسمانی طور پر گھر میں موجود ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر ایک الگ دنیا میں رہتے ہیں۔
یہی کیفیت ہمارے اپنے معاشروں میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لیکن تربیت کا پہلو کمزور ہو رہا ہے۔ وہ امتحانات میں کامیاب ہو رہے ہیں مگر زندگی کے امتحان میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس معلومات تو زیادہ ہیں مگر فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور مقصد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس کی طرف اقبالؒ نے بہت پہلے اشارہ کر دیا تھا کہ جب علم سے روح نکل جائے تو وہ صرف مہارت رہ جاتی ہے، انسان سازی نہیں۔
اگر ہم موجودہ دور کے سب سے بڑے تربیتی چیلنج کو سمجھنا چاہیں تو وہ” اسکرین کلچر“ہے۔ آج ہر عمر کا فرد کسی نہ کسی اسکرین سے جڑا ہوا ہے۔ گھر کے اندر بیٹھے ہوئے بھی ہر شخص اپنی اپنی دنیا میں گم ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس نے خاندان کے اندر گفتگو کو کم اور خاموشی کو زیادہ کر دیا ہے۔ پہلے بچے سوال والدین سے پوچھتے تھے، اب سرچ انجن سے پوچھتے ہیں۔ پہلے تربیت چہرے سے ہوتی تھی، اب اسکرین سے ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر ترقی ہے مگر اس کے اندر ایک خاموش نقصان چھپا ہوا ہے، اور وہ ہے انسانی تعلق کی کمزوری۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ رجحان زیادہ واضح ہے کہ وہ جذباتی طور پر الگ تھلگ ہوتی جا رہی ہے۔ دوست زیادہ ہیں مگر تعلق کمزور ہے۔ رابطے زیادہ ہیں مگر قربت کم ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے جدید سماجیات میں “connected but alone” کہا جاتا ہے، یعنی بظاہر جڑے ہوئے مگر اندر سے تنہا۔ اسی تنہائی نے نوجوانوں کے رویوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات بڑے تنازعات میں بدل جاتے ہیں، برداشت کم ہوتی جا رہی ہے، اور فوری ردعمل (instant reaction) کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ تربیت کا وہ خاموش نظام، جو گھر کے اندر کام کرتا تھا، کمزور ہو چکا ہے۔
علامہ اقبالؒ جب ”مکتب کی کرامت “کی بات کرتے ہیں تو وہ صرف اسکول یا کالج کی بات نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ وہ اس پورے نظام کی بات کر رہے ہوتے ہیں جہاں علم کے ساتھ اخلاق، اور معلومات کے ساتھ کردار بھی سکھایا جاتا ہے۔ آج کا تعلیمی نظام بڑی حد تک امتحان، نمبر اور کیریئر تک محدود ہو چکا ہے۔ بچے یہ ضرور سیکھ رہے ہیں کہ نوکری کیسے حاصل کرنی ہے، مگر یہ کم سیکھ رہے ہیں کہ انسان کیسے بننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ایک طرف ماہر افراد بڑھ رہے ہیں مگر دوسری طرف اخلاقی بحران بھی بڑھ رہا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جس نے جدید انسان کو اندر سے غیر مطمئن کر دیا ہے۔ اس کے پاس وسائل ہیں مگر سکون نہیں، ترقی ہے مگر سمت نہیں۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے واقعے میں جو چیز سب سے نمایاں ہے وہ ” زندہ تعلق“ہے۔ وہاں باپ اور بیٹے کے درمیان فاصلہ نہیں بلکہ اعتماد ہے۔ مگر آج صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ گھروں میں جسم موجود ہیں مگر دل غائب ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ہر فرد الگ دنیا میں رہ رہا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے”فیضانِ نظر“ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ کیونکہ نظر کا فیض صرف اس وقت منتقل ہوتا ہے جب انسان انسان کے ساتھ جڑا ہو۔ جب بچہ اپنے والدین کو عمل میں دیکھتا ہے تو وہی کردار اس کی شخصیت میں منتقل ہوتا ہے۔ لیکن جب تعلق کمزور ہو جائے تو تربیت صرف نصیحت رہ جاتی ہے، اور نصیحت کبھی کردار نہیں بنا سکتی۔
اگر پورے منظرنامے کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ صرف ایک تاریخی یادگار نہیں رہتا بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی فلسفہ بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل تعمیر نصیحت سے نہیں بلکہ ماحول، کردار اور مسلسل مشاہدے سے ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے محمد اقبال نے ”فیضانِ نظر“ اور ”مکتب کی کرامت “کے الفاظ میں بیان کیا۔
آج کا سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ نظر کا فیض کمزور ہو گیا ہے اور مکتب کی کرامت محض ڈگری تک محدود ہو گئی ہے۔ گھر تربیت گاہ کے بجائے رہائش گاہ بن گئے ہیں، اور تعلیمی ادارے کردار سازی کے بجائے امتحانی نظام بن گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے پاس علم تو بڑھ رہا ہے مگر حکمت کم ہو رہی ہے، معلومات زیادہ ہیں مگر سمت کمزور ہے، اور ترقی زیادہ ہے مگر سکون کم ہے۔ اگر ہم معاشرتی سطح پر دیکھیں تو آج ہر جگہ ایک عجیب بےچینی محسوس ہوتی ہے۔ نوجوان اپنی شناخت تلاش کر رہے ہیں، والدین اپنے بوجھ میں الجھے ہوئے ہیں، اور خاندان ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے۔ دنیا بھر میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ جدید انسان “mentally connected but emotionally disconnected” ہو چکا ہے۔ یعنی وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے سب سے جڑا ہوا ہے مگر دل کے رشتوں میں کمزور ہو گیا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس نے خاندانی نظام کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کا ماڈل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خاندانی نظام کی بنیاد طاقت نہیں بلکہ اعتماد ہے۔ باپ کا کردار صرف حکم دینا نہیں بلکہ رہنمائی کرنا ہے، اور ماں کا کردار صرف پرورش نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر ہے۔ حضرت ہاجرہ نے جس یقین اور توکل کے ساتھ صحرا میں زندگی گزاری، وہی یقین ایک نئی نسل کی بنیاد بن گیا۔ حضرت اسماعیلؑ کی شخصیت اسی ماحول کا تسلسل تھی۔
اگر آج کے دور میں اصلاح ممکن ہے تو اس کا آغاز بھی گھر سے ہی ہوگا۔ اسکول سے پہلے گھر، نصاب سے پہلے ماحول، اور تعلیم سے پہلے تربیت۔ جب تک گھر میں ”فیضانِ نظر“ واپس نہیں آتا، کوئی بھی تعلیمی اصلاح مکمل نہیں ہو سکتی۔ والدین کو دوبارہ اپنا کردار سمجھنا ہوگا۔ وہ صرف کفیل نہیں بلکہ مربی ہیں۔ ان کی خاموشی بھی تربیت ہے اور ان کا عمل بھی تعلیم۔ بچے وہ نہیں سیکھتے جو انہیں کہا جاتا ہے، بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو وہ روز دیکھتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر تربیتی نظام کی بنیاد ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی ”مکتب کی کرامت “کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ علم کے ساتھ اخلاق، مہارت کے ساتھ انسانیت اور کامیابی کے ساتھ مقصدِ حیات کو شامل کرنا ہوگا۔ صرف نمبر اور ڈگری انسان نہیں بناتے، کردار انسان بناتا ہے۔
اگر ہم مجموعی طور پر اس پورے نظام کو سمجھیں تو حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ ہمیں ایک مکمل ماڈل دیتا ہے:
ایمان + کردار + ماحول + مشاہدہ = مثالی انسان
یہی وہ فارمولا ہے جو ہر دور میں درست رہا ہے اور آج بھی درست ہے۔
یاد رہے قومیں نہ عمارتوں سے بنتی ہیں، نہ ٹیکنالوجی سے، نہ وسائل سے، بلکہ زندہ کردار، مضبوط خاندانی نظام اور اخلاقی تربیت سے بنتی ہیں۔ جب ”فیضانِ نظر“ زندہ ہوتا ہے اور ”مکتب کی کرامت “موجود ہوتی ہے تو حضرت اسماعیلؑ جیسے کردار پیدا ہوتے ہیں، اور جب یہ دونوں کمزور پڑ جاتے ہیں تو ترقی کے باوجود معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ یہی اقبالؒ کا اصل پیغام ہے، اور یہی آج کے انسان کے لیے سب سے بڑا سوال بھی ہے—جو ہر گھر، ہر والدین اور ہر نسل کے سامنے ایک خاموش امتحان کی طرح موجود ہے۔
Post Views: 32