Skip to content
ظریفانہ: للن اور کلن کی عیدِ قرباں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن خان چودھری نے کلن کلکتوی سے کہا یار اچھا ہوا کہ پردھان جی کو اپنے پروچن کے دوران عیدالاضحیٰ کی یاد نہیں آئی ؟
کلن بولا اس عمر میں وہ بیچارے کیا کیا یاد رکھیں گے ؟ ان کو یاد دلانے والا عملہ عید کے موقع پر اجازت لے کر ایک پیغام نشر کروا دے گی ۔
ارے بھائی میرے جملے میں سب سے اہم لفظ پروچن یعنی نصیحت تھا جس کو تم نے پوری طرح نظر انداز کردیا ۔
اچھا ابھی قریب میں تو انہوں نے اپنے ’من کی بات کہی‘ نہیں ۔ مجھے ان کا ماہانہ پروچن بہت پسند ہے۔ میں اسے ضرور سنتا بلکہ دیکھتا ہوں ۔
للن بولا میں تمہارے صبرو ضبط کی داد دیتا ہوں ۔
یہ صبرو تحمل نہیں عقیدت و محبت کی بات ہے بھیا تم کس دنیا میں کھوئے ہوئے ہو ؟
یار کمال کی محبت ہے کیونکہ پیشہ ور بھگت بھی موبائل کو خاموش کرکے تقریر لگاتے ہیں اور ایک طرف ڈال دیتے ۔
کلن بولا بھائی اگر دیکھنا نہ ہو تو یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ؟ کوئی زبردستی ہے کیا؟؟
پاپی پیٹ کے لیے کرنا پڑتا ہے ۔ تمہارے پردھان کوناظرین اور ان بیروزگار کاکروچوں کو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے پیسہ چاہیے۔
یار بات اِدھر اُدھر کردیتے ہو یہ بتاو کہ تم وزیر اعظم کے کس پروچن کا تم ذکر کررہے تھے ۔
وہی جس میں انہوں نے سونا نہیں خریدنے ، پٹرول کم خرچ کرنے، کھاد کم استعمال کرنے اور غیر ملکی دورےسے احتراز کی نصیحت کی تھی ۔
یار یہ کیسے ہوسکتا ہے انتخاب سے قبل تو وہ حزب اختلاف پر ہندو خواتین کو منگل سوتر چھن جانے سے ڈرا رہے تھے ۔ اب سونے کے بغیر وہ کام کیسےہو گا؟
بھیا وہ الیکشن جیتنے سے پہلے کی ضرورت تھی اور یہ انتخاب جیتنے بعد کافریب ہے ۔
اس میں دھوکے کی کیا بات ہے؟ میری سمجھ میں نہیں آئی ۔
دیکھو شاید تم نہیں جانتے کہ سونے کے زیورات بنانے والے زیادہ تر کاریگر بنگالی ہیں۔ اب اگر ایک سال سونے زیور بکیں گے نہیں تو بنیں گے کیسے؟
کلن نے پوچھا تو کیا بنگالیوں کو بی جے پی کی کامیابی کا یہ انعام ملے گا؟ یار یہ تو بہت بڑا دھوکہ ہے ۔
لیکن اس سے بھی بڑا دھوکہ تو سونے کی دوکانوں کے مالکین سے ہوا جن کوتالالگانا پڑے گا ۔ ان بیچاروں نے نوٹ اور ووٹ دے کر کمل کھلایا تھا۔
اوراب فریب کھا گئے؟ کلن بولایار یہ تو نمک حرامی ہے ۔ بی جے پی کو ڈر نہیں لگتا کہ وہ اگلا الیکشن کیسے جیتے گی ؟
جی نہیں بی جے پی کو الیکشن میں کامیابی درج کرانے کے لیے گیانیش کمار کافی ہیں۔ وہ ہر بار کوئی نہ کوئی نئی تگڑم لگا کر کمل کھلا دیتے ہیں۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن تشہیر کی خاطر اور گودی میڈیا کا پیٹ بھرنے کے لیے دھن دولت تو چاہیے ناَ وہ کہاں سے آئے گا ؟؟
بھای دیکھو سرکار نے سونے پر درآمدی ٹیکس بڑھا دیا ہے۔
اس سے کیا ہوگا ٹیکس کا پیسہ تو براِ ہ است سرکاری خزانے میں چلا جائے گا ۔ بی جے پی کے پاس تھوڑی نا آئے گا؟
بھیا کلن تم بھی اوپر اوپر کی سوچتے ہو۔ تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ جب اندرون ملک ٹیکس کے سبب سوناباہر سے مہنگا ہوجاتا ہے تو اسمگلنگ ہونے لگتی ہے۔
اس سے بھی بی جے پی کا کیا فائدہ؟
اچھا تمہیں یاد ہے پچھلے دنوں اڈانی کی مندرا بندرگاہ پر تیس ہزار کروڈ کی منشیات پکڑی گئی تھی۔
یار تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم ایک موضوع چھوڑ کر دوسرے پر کود جاتے ہو ۔ سونے سے بھاگ کر منشیات پر پہنچ گئے۔
نہیں بھائی سونا بھی اسمگل ہوگا جیسے منشیات کی اسمگلنگ ہوتی ہے اور بی جے پی اسمگلرس سے کمیشن لے کر انہیں تحفظ فراہم کرے گی ۔
یار تم تو اتنے دور کی کوڑی لائے کہ غالب کا مگس والا شعر بھی اس کے سامنے بونا لگتا ہے۔
تم جو چاہو کہو مگر پردھان جی اس کو’ آپدا میں اوسر ‘مل گیا یعنی’مشکل میں موقع ‘ ہاتھ آگیا۔
جی ہاں مگر اس میں مشکل عوام کی ہے اور موقع سرکار کو مل رہا ہے۔
للن خوش ہوکر بولا ’بالکل صحیح پکڑے‘ ۔ ابھی تم مودی بھگتی میں پوری طرح اندھے نہیں ہوئے ہو۔ تھوڑا بہت عقل استعمال کرلیتے ہو۔
جی ہاں اور دوسروں کو ایندھن استعمال نہ کرکے میٹرو میں جانے کا مشورہ دینےوالاپردھان خودسو گاڑیوں کا قافلہ لے کر چلتاہے۔ اس کا کیا؟
بھیا وزیر اعظم کو تحفظ دینے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔
تو کیا مطلب ؟ انسان دوسروں کو وہ نصیحت کرے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ انہوں نے تو دوسروں کو غیر ملکی سفر کرنے سے بھی منع کردیا۔
ارے یاراگر ایسا ہے تو آن لائن کانفرنس کے ذریعہ غیر ملکی حکمرانوں سے بات کرلیتے وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی؟
بھیا گرمی کے زمانے میں اگر کسی کوسرکاری خرچ پر مفت میں سرد ممالک کی سیر کا موقع مل جائے تو اسے کون چھوڑے گا؟
یار اپنی سیر وتفریح کے لیے اپنی نصیحتوں کا جنازہ نکال دینا کہاں کی عقلمندی ہے؟
یہ عقلمندی نہ سہی مودی مندی ضرور ہے۔ انہوں نے نیدر لینڈ میں کہہ دیا ۔ بہت برا وقت آنے والا ہے یہ مشکلات کا عشرہ ہے۔
یار غضب ہوگیا ۔ پہلے تو پردھان جی’ اچھے دن آنے والے ہیں‘ کہتے تھے اب برے دنوں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔
ارے وہ پہلے خود کو’ ملک کا لکی بوائے‘ کہتے تھے اب نحوست کہہ رہے ہیں۔
یہ کب کہا؟ تم ان کے منہ میں اپنے الفاظ ٹھونس رہے ہو۔
جی نہیں وہ پچھلے دس سال سے وہ اقتدار پر فائز ہیں اس کے باوجود اس سنہری دور کومشکلات کا عشرہ کہہ دینا نحوست نہیں تو کیا ہے؟
یار یہ بتاو کہ انہوں نے کسانوں کو کم کھاد استعمال کرنے کا مشورہ کیوں دے دیا؟ اس سے کیا ہوگا؟؟
کچھ نہیں اناج کی پیداوار کم ہوجائے گی ، اور کیا؟
لیکن پھر پردھان جی اسیّ کروڈ مسکینوں کا پیٹ کیسے بھریں گے،ان کو پانچ کلو اناج کیسے دیں گے؟
امریکہ سے درآمد کرکے اور کیسے؟ پردھان جی نے ٹرمپ سے وعدہ کیا ہے کہ ٹریڈ ڈیفسیٹ کم کریں گےیعنی درآمدات کو بڑھائیں گے۔
لیکن اس میں تو وہاں کے کسانوں کا فائدہ ہوگا اور ہمارے کسان بیکار ہوجائیں گے۔
ہوتے رہیں گیانیش کمار کے ہوتے کیا فرق پڑتا ہے؟ ووٹ کسی کو بھی دو تو پرچی کمل کی کٹے گی۔
کلن پھنس گیا تو موضوع بدلتے ہوئے بولا یا ر تمہیں پتہ ہے سنگھ رہنما دتا ترےہوسابلے نے پچھلے دنوں کتنی اچھی بات کہی؟
ارے سنگھ رہنما کے منہ سے اچھی بات یعنی ’ راون کی زبان پر رامائن؟‘ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟؟
جی ہاں انہوں نے پاکستان کے ساتھ صرف سرکاری نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی رابطے کی تجویز پیش کی۔
پاکستان کے ساتھ سرکاری و عوامی رابطہ یار !کمال ہوگیا۔ تم تو اندر کی خبر لے آئے۔
یہ اندر کی خبر نہیں ہے۔ انہوں نے یہ سارے انکشافات قومی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے سامنے کیے اور اس نے تمام ذرائع ابلاغ تک پہنچا دئیے ۔
اچھا تب تو سنگھ پریوار ان کو نکال دے گا کیونکہ سنگھ کی نظر میں اس سے بڑی غداری کوئی اور نہیں ہوسکتی ۔
نہیں للن، آر ایس ایس کی ماں ہندو مہاسبھا تو آزادی سے قبل صوبہ سندھ اور متحدہ بنگال کے اندر مسلم لیگ کی حکومت میں شامل رہی ہے ۔
کلن بولا اسی لیے تو میں کہتا ہوں بی جے پی اتنی بری نہیں ہے جتنی تم سمجھتے ہو۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو اس نے ایس آئی آر کی آڑ میں لاکھوں مسلمانوں سےان کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا ۔
تم ہمیشہ سکےّ کا منفی پہلو دیکھتے ہو۔کیاتم بھول گئے کہ بی جے پی نے بابری مسجد بنانے والے ہمایوں کبیر کو ایک ہزار میں سے دو سو کروڈ پیشگی دے دئیے۔
ارے بھائی سمجھتے کیوں نہیں کہ وہ رشوت تو ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے دی گئی تھی۔
اچھا یہ بتاو کہ ممتا بنرجی ہار گئیں مگر ہمایوں کبیر دونوں حلقوں سے کیسے جیت گئے ؟
بی جے پی کی کرم فرمائی سے کیونکہ بی جے پی کو اس کی ضرورت ہے مگر ممتا کی نہیں ۔
یار سب چھوڑو وہ عید والی بات تو تم نے بتائی ہی نہیں بلاوجہ اِ دھر اُدھر ٹہلا رہے ہو عید والی بات بتاو مجھے نکلنا ہے ؟
بھیا دیکھو پردھان جی کو اصل میں زرِ مبادلہ کی فکر ستا رہی کیونکہ بہت جلد ڈالرکے مقابلے روپیہ سنچری مارنے والا ہے۔
تو اس کا عید سے کیا تعلق ؟
قربانی سے تو ہے جو بکرے اور بھینس مسلمان قربان کرکے کھاجاتےاگر وہ قربانی نہ کریں تو برآمد کرکےاس سے زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔
یار یہ کہہ دیتے تو کمال کا جبر ہوجاتا کیونکہ ہماری قربانی کو روک زر مبادلہ کمایا جائے اور پردھان جی غیر ملکی دورہ کرکے اسے دونوں ہاتھوں سے اڑائیں؟
ویسے پردھان جی کو معلوم ہے کہ وہ الٹے لٹک جائیں تب بھی مسلمان تو قربانی کریں گے اسی لیے انہوں نےیہ احمقانہ نصیحت نہیں کی۔
سمجھ گیا ۔ کلن بولا اب تو مان لو کہ انہوں نے یہ ٹھیک کام کیا ؟ ویسے چلو میں چلتا ہوں بکروں کو چارہ ڈالنا ہےکافی وقت ہوگیا۔ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔
اچھا بھائی کلن میری طرف سے پیشگی عید مبارک فرمائیں ۔ خدا حافظ۔
Post Views: 55